پاناما لیکس کیس میں شریف خاندان کے کاروبارپر سوالات

0
473

پاناما لیکس کیس کی سماعت میںشریف خاندان کے کاروباراور رقم کی منتقلی پر سوالات اٹھائے گئے، جسٹس عظمت سعید نے سوال کیا کہ بتایا جائے جدہ اسٹیل مل کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟ جدہ سے رقم لندن کیسے منتقل کی گئی ؟

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں پیش کئے گئے ضمنی جواب اور تقاریر میں تضاد ہے جبکہ جسٹس کھوسہ نے سوال کیا کہ 12 ملین درہم کی رقم کیسے قطر منتقل کی گئی ، بیان حلفی اور معاہدے پر طارق شفیع کے دستخط میں کوئی یکسانیت نہیں ۔

پاناما لیکس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ہوئی، سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نےکہا کہ رقوم کی منتقلی کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں،وزیر اعظم کے بیانات کے بعد وہ صادق اور امین نہیں رہے،وزیر اعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب ،قطر اور دبئی میں کاروبار کے لئے رقم موجود نہیں تھی،وزیر اعظم نہ ایماندار اور نہ ہی سچ بولنے والے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ بیان حلفی اور معاہدے کے دستخط میں تضاد ہے ، یہ نہیں کہنا چاہتا کہ طارق شفیع کےدستخط شہباز شریف نے کئے۔

جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ 12 ملین درہم کی رقم طارق شفیع نے قطر کیسے منتقل کی؟ رقم انہیں ملنے کی دستاویزات موجود نہیں۔

سماعت دوران نعیم بخاری نے جسٹس عظمت سے مخالفت ہوکر کہا کہ لگتا ہے آپ آج مجھ پر غصہ کریں گے جس پر جسٹس عظمت سعید نے جواب دیا کہ آپ اپنے کیس پر توجہ دیں، خوشامد نہ کریں۔

وزیراعظم نوازشریف ، ان کے بچوں کے خلاف منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری کے الزامات اورپاناما لیکس میں سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے کی ۔حامد خان کے کیس لڑنے سے انکار کے بعد تحریک انصاف کی نئی لیگل ٹیم عدالت میں پیش ہوئی۔

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کےصاحبزادےکااین ٹی این ہی نہیں ہے،مریم نواز وزیر اعظم کی زیر کفالت ہیں اور وہ لندن فلیٹس کی بینیفشل اونر ہیں، وزیر اعظم کو یہ بات گوشواروں میں پیش کرنی چاہیے تھی ۔

ان کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے موقف سے مختلف ہے،نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے،نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگارہا،نیب چیئرمین کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے،اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیا۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نےاپریل1980 میں 33 ملین درہم میں فیکٹری فروخت کرنےکا بتایا، شیئرز کے فروخت کا معاہدہ وزیر اعظم کی ذہنی اختراع ہے جبکہ دبئی میں فیکٹری کب بنائی گئی یہ نہیں بتایا گیا۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آچکا ہے،نعیم بخاری آپ دوبارہ بھی کوشش کریں۔

نعیم بخاری نے کہاکہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے مؤقف سے مختلف ہے،وزیر اعظم کو یہ بات گوشواروں میں پیش کرنی چاہیے تھی۔

انہو ں نے اپنے دلائل میں کہا کہ کہ مریم نواز وزیر اعظم کی زیر کفالت ہیں اور وہ لندن فلیٹس کی بینیفشل اونر ہیں جبکہ وزیراعظم نوازشریف کےصاحبزادےکااین ٹی این ہی نہیں ہے۔

سماعت کے موقع پر وکیل جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ساری باتیں عدالت میں ہونگی توکمیشن کے لیے کیابچے گا؟اسد منظور بٹ نےدرخواست کی کہ عدالت فریقین کو حکم دے، وہ کیس کو مختصر کریں ۔

نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت میں سیاسی گفتگو کر نے نہیں آیا؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر ہونے والی تلخ کلامی پر معافی طلب کی اور کہا کہ انہیںاس عدالت پر مکمل یقین ہے۔

اس موقع پر طارق اسد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ میڈیا میں حامد خان سے متعلق بہت باتیں آئی ہیں،تبصروں سے کیس پر اثر پڑے گا،میڈیا کو کیس پر تبصروں سے روکا جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان سے متعلق میڈیا میں باتوں سے ان کے قد کاٹھ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ پاناما لیکس پر میڈیا ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان بہت سینئر اور اہل قانون دان ہیں،قانون پرکتب لکھ چکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY