کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟ چوتھی قسط

1
1185

کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟ چوتھی قسط
کیا یہ سب وزیر اطلاعات اور سیکرٹری اطلاعات کی منظوری سے ہو رہی ہے؟

تحقیقاتی رپورٹ۔ وقائع نگار اور مقامی چشم دید لوگوں کے بیانات پر مبنی

مرتب، حافظ نثار محمد۔لاہور

گزشتہ یعنی دوسری قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایسے حالات میں لاہور ریڈیو کا مالیاتی یعنی اکاونٹ کا شعبہ لگ بھگ بے بس ہو چکا ہے اور مالی تنگی کے ساتھ مہنگائی کے اس دور میں کس کو اپنی نوکری عزیز نہیں ہو گی
ایسے میں مبینہ طور پر ایک خبر یہ بھی ہے کہ موجودہ ڈی جی کے اپنے بزنس کے مفادات بھی ہیں اور یہ بزنس لاہور میں ہے تو لاہور میں ممکنہ طور پر اسٹیشن ڈائریکٹر کے کمرے کو ڈی جی کے لاہور کیمپ آفس میں تبدیل کر دیا جائے گا

اس نکتے کو آگے بڑھانے سے قبل ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کی حالت زار کا تذکرہ کہ اب تین ماہ ہو چکے کہ اپنی جوانیاں ادارے کو دینے والے یہ لوگ بڑھاپے میں ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ خاص طور پر ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر فنانس کی عدم توجہی، ہٹ دھرمی اور بدانتظامی کی وجہ سے روز بروز مشکلات کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں صرف ریڈیو انتظامیہ ہی نہیں بلکہ وزارت اطلاعات بھی پنشنرز کے مسلے کو سنجیدگی سے حل کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ ریڈیو کا صدر دفتر روزانہ اپنے ترجمانوں کی فوج کے ذریعے مختلف افواہیں پھیلاتا ہے اور اب اس میں ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی یونین کے قائدین بھی شریک ہو گئے ہیں جو اپنے ادارے کے سربراہ کو خوش کرنے کے لیئے انکی شان میں قصیدے پڑھتے اور انکی مبینہ کامیابیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنے بیانات میں یہ کریڈٹ لیتے ہیں کہ ملازمین کی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ پنشنرز کی پنشن کی ادائیگی کے مسائل حل کروانے میں یونین کا بہت بڑا عمل دخل ہے جب کہ حقیقت حال ایسی نہیں جیسی بتائی جا رہی ہے

میرے بارے میں عالمی اخبار کے مدیر اعلی سے بہت سے لوگوں نے پوچھا ہے کہ یہ تحقیقاتی رپورٹ لکھنے والا فرد کون ہے اور اسکا ریڈیو سے خاص طور پر لاہور ریڈیو سے کیا تعلق ہے اور اسکی ان معلومات کو کس حد تک مصدقہ سمجھا جائے

میں حافظ نثار محمد اپنی نوجوانی میں بزرگ اور بڑے صحافی ظہور عالم شہید کے اخبار جاوداں اور قمر اجنالوی کی سربراہی میں کام کرتا رہا ہوں اور ان ہی دنوں میں ریڈیو پاکستان لاہور میں دینی مذہبی پروگراموں میں شرکت بھی کرتا تھا جہاں اسوقت اظہار کاظمی اور چوہدری بشیر جیسے جید ماہرین نشریات موجودتھے اور یہی زمانہ لاہور جیسے تاریخی ریڈیو کے انتہائی عروج کا زمانہ تھا۔ میرے پروگرام کے پرڈیوسر ظہیر صدیقی مرحوم تھے اور پروگرام مینجر اکرم بٹ صاحب

بس یہیں سے لاہور ریڈیو سے محبت ہوئی اور آج اسکی حالت دیکھ کر دھاڑیں مار کے رونے کو جی چاہتا ہے اس لیئے اگر کسی بھی قاری یا ریڈیو پاکستان کے افسر اعلیٰ کے دماغ میں یہ بات ہے کہ میں کوئی فرضی آدمی ہوں تو وہ یہ خام خیال اپنے دماغ سے نکال دے ، میرے ذرائع آج بھی لاہور ریڈیو میں موجود ہیں اور میں خود اس عمر میں بھی سفر کرکے لاہور ریڈیو میں جا کر پہلی منزل پر کمروں کی تعمیر کے حوالے سے تباہی دیکھ کر آیا ہوں جہاں مجھے پہلے یہ بتایا گیا کہ نئے ڈی جی چوہدری طاہر حسن ان کمروں میں ٹریننگ سنٹر کھولنا چاہتے ہیں اور پھر بتایا گیا کہ یہاں ریڈیو کی آمدنی بڑھانے کے لیئے کال سینٹر کھولا جائے گا کیونکہ انکے اپنے بزنس دیگر شعبوں کے علاوہ کال سینٹرز کے بھی ہیں جن میں انکے ایک بھائی ڈاکٹر طارق بھی شامل ہیں اور انکے دوست ایک سینٹر بھی جنکا نام ریڈیو راولپنڈی کی عمارت اور زمین خریدنے کے سلسلے میں سامنے آ رہا ہے اور یہ سینٹر انکے بزنس میں پارٹنر بھی ہیں

یہ چند معلومات اپنے بارے میں مجھے اس لیئے لکھنی پڑی ہیں کہ عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ ، قیام پاکستان کا لاہور ریڈیو اعلان کرنے والی تاریخی شخصیت مصطفیٰ علی ھمدانی کے بیٹے، جو خود بھی عالمی سطح کے ماہر نشریات ہونے کے علاوہ ریڈیو پاکستان کے کتنے ہی اسٹیشن ڈائریکٹروں کے استاد بھی ہیں کہ انکو ریڈیو اکیڈمی میں اولیں تربیت دے چکے ہیں انکا مجھ سے تقاضہ تھا کہ میں اپنے مصدقہ ذرائع سے معلومات حاصل کروں اور ان معلومات کو رپورٹس کی شکل میں عالمی اخبار میں شائع کیا جائے اور ان رپورٹس کو وزارت اطلاعات، وزیر اعظم ہاوس اور آئی ایس پی آر میں بھی پہنچایا جائے تا کہ حکام تک درست صورت حال اور اسکی وجوہات پہنچ سکیں

ریڈیو کے پنشنرز کی صورت حال جو ابتر ہوتی جا رہی ہے اسکی وجہ مالیاتی کمی نہیں بلکہ مالیاتی بدانتظامی اور بدعنوانی ہے، اگر مسلہ پیسے کی کمی کا ہوتا تو لاکھوں روپے اسلام آباد میں انگلش چینل کے اسٹوڈیو بنانے پر خرچ نہ ہوتے، لاہور میں نورجہاں اآدیٹوریم کو ختم کر کے وہاں نام نہاد پوڈ کاسٹ اسٹوڈیو پر رقم خرچ نہ ہوتی، لاکھوں روپے لاہور ریڈیو میں کال سینٹر یا اکیڈمی بنانے کے لیئے سات آٹھ کمروں کی آرائش مرمت اور تزئین نو پر خرچ نہ کیئے جاتے۔ اسکے علاوہ بھی کتنے ہی غیر نشریاتی اخراجات صرف ڈیجیٹل تبدیلی کے نام پر کیئے جا رہے ہیں، اس لیئے یہ پیسے کی کمی نہیں بلکہ مالی بد انتظامی میں جس میں وزارت اطلاعات کے اعلی لوگ بھی شامل ہیں

ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کی بات ذرا طویل ہو گئی کہ یہ بھی ریڈیو کی تباہی کے شاخسانے کی ایک دلیل ہے کہ مسلہ پیسے کا نہیں بدانتظامی اور بدعنوانی ہے جو اس معاشرے کے ہر شعبے کی نس نس میں سرایت کر گئی ہے۔ مجھے ریڈیو کے پنشنرز کا زیادہ خیال اس لیئے بھی ہے کہ میں خود ایک پنشنر ہوں اور پنشنرز کی مشکلات اور مسائل بخوبی جانتا ہوں

مجھے آج کی اس قسط میں لاہور ریڈیو کے ان بلند قد سربراہوں کا ذکر کرنا تھا جنہوں نے اس تاریخی مرکز کو عروج دیا اور تہذیب و لسان و بیان کا مرکز بنایا ، لاہور کے تباہ شدہ سنٹرل پروڈکشن کا ذکر کرنا تھا جہاں کبھی سارا دن ساز و آواز کا راج تھا لیکن اآج اسکے درودیوار سے وحشت ٹپکتی ہے کہ اس آواز خزانہ کی عمارت کو اے پی پی کو کرائے پر دیکر اس عمارت کے صوتی اور عالمی خزانے کو خدا جانے کہاں ضائع کر دیا گیا ہے۔ ان ماہرین نشریات کا ذکر کرنا تھا جنہوں نے سینٹرل پروڈکشن کو قومی ورثے کی حیثیت دلوانے کے لیئے دن رات محنت کی

 لاہور کے تباہ شدہ سنٹرل پروڈکشن کا ذکر بھی ہوگا

خیر ابھی اس ضمن میں بہت سی اقساط آنی ہیں اور ان تمام باتوں کو ضرور منکشف کیا جائے گا کہ ریڈیو لاہور اور ریڈیو پاکستان سے محبت کا یہی تقاضہ ہے

جس زمانے میں مجھے لاہور ریڈیو جانے کی سعادت ملتی تھی ان دنوں ایک دبلے پتلے جوان کو ڈیوٹی روم میں دیکھتا تھا جنکا نام گلزار عثمانی تھا آج سوشل میڈیا پر انکی پوسٹ دیکھی تو انکا چہرہ نظروں میں گھوم گیا۔ ہائے وہ کیا زمانہ تھا کہ ادھر پروگرام کرنے والا پروگرام ختم کر کے اسٹوڈیو سے باہر آیا اور اُدھر ڈیوٹی افسر نے دستخط کروا کے اسے چیک دے دیا اور آج کام کرنے والے کو مہینوں پیسے نہیں ملتے لیکن افسران اعلی کی عیاشیوں میں کسی قسم کی کمی نہیں، یہی حال حکومت کا ہے اور حکومت کے اداروں کا بھی

گلزار عثمانی

بھائی گلزار عثمانی کی پوسٹ میری اس بات کی دلیل کے حق میں ہے مسلہ پیسے کی کمی کا نہیں نا حکومت کی سطح پر اور نہ ہی ریڈیو پاکستان کی سطح پر

کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم نے وفاقی حکومت کے مختلف محکموں کے 17سے21 گریڈ کے افسران کے لئے %150 الاؤنس کا اعلان کیا تھا مگر وزیر خزانہ کو لگا کہ یہ اعلان غلط ،ہوا لہزا جب اس پر عمل نہ ہوا تو ان افسران نے احتجاج کیا جس پر وزیر موصوف نے %100 الاؤنس کا فیصلہ سنا دیا کیونکہ موجودہ ملکی مالی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔پھر بھی یہ الاؤنس ہر ماہ ملے گا۔۔لیکن حیرانی تو تب ہوئی جب 11,جنوری کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس نے AGPR کے 1سے21گریڈ تک کے ملازمین کے لئے ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر اعزازیہ دینے کا آرڈر جاری کردیا اور اس کے لئے 6کروڈ 16لاکھ سے زیادہ کی رقم بھی مخصوص کردی حالانکہ موجودہ ملکی مالی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔۔دوسری طرف ریڈیو پاکستان جیسے اہم ادارے۔کے ملازمین اور پینشنرز کواپنی تنخواہ اور پینشن کے لئے گزشتہ کئی ماہ سے ہر طرح کی کوشش کے باوجود پریشان کیا جارہا ہے۔۔۔ہر محکمے میں تنخواہ اور پینشن ہر ماہ کی پہلی تاریخ تک مل جاتی ہے لیکن ریڈیو پاکستان کے ملازمین اور خصوصا” پینشنرز کو اس حوالے سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔۔۔ان کو دسمبر کی تنخواہ اور پینشن آج 11جنوری تک نہیں مل سکی۔ سوال ،یہ ہے کہ یہ امتیازی سلوک آخر کب تک جاری رہے گا؟؟

بھائی گلزار عثمانی یہ سلوک اسوقت تک جاری رہے گا جب ہمارے اپنے دشمن دوستوں کے نام پر ہمارے درمیان ہیں اور جب تک ہمیں سچ کہنے کا، ظالم سے نفرت کرنے کا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا شعور نہیں آئے گا

اگلی یعنی پانچویں قسط میں انشااللہ ضرور بات ہو گی ریڈیو لاہور کے بلند قد سربراہوں کی اور سنٹرل پروڈکشن کی حالت زار کی

SHARE

1 COMMENT

  1. داستانِ خونچکاں -قوم کی آواز- ریڈیو پاکستان زبان زدِعام

LEAVE A REPLY