کھانا بنانے کے لیے مٹی کی ہر سائز کی ہانڈیاں تھیں جنہیں دھو کر پیندے کو دو بارہ مٹی سے لیپا جاتا ۔مٹی کے علاوہ مس یا تانبے کے بڑے دیگچے دیگچیاں بھی موجود تھیں جنہیں کچھ عرصہ گذرنے کے بعد قلعی کروایا جاتا تو برتن چمک اٹھتے ۔پشاور شہر میں پورا ایک بازار مسگراں بازار کے نام سے موسوم ہے کوہاٹ میں مٹی کے گھڑے اورمٹکے رکھنے کارواج تھا تو اس کے برعکس پشاور میں مس کے چمکتے دمکتے گھڑے اورمٹکے رکھے ہوتے جنکے گلے میں موتیا وچنبیلی کے ہار پڑے ہوتے ان کی بھینی بھینی خوشبو سحر طاری کئے رکھتی پلاسٹک اورسٹیل کے برتنوں کا نام ونشان بھی نہ تھا کھانے پینے کے لئے تام چینی اورمہنگے وسستے دونوں قسم کے چینی کے برتن استعمال ہوتے برتن ٹوٹ جاتے تو ٹانکا لگوا لیا جاتا ہماری گلی کے نکڑ پر جو قلعی گر تھا وہی ٹانکا لگانے کا کام بھی کرتا تھا ہوٹل کی چینکوں پر خدا جھوٹ نہ بلوائے تو درجنوں ٹانکے لگے ہوتے پشاور میں اندرون شہر شاید اب بھی ایسی چینکیں نظر آجائیںآگ جلانے کے پھونکنی کااستعمال کرتے ۔سرخ سرخ انگارے اور اس سے اڑتی چنگاریاں میں دیر تک چنگاریوں کے اس جلتے بجھتے کھیل کو تکا کرتی ۔گرمی کے موسم میں گھر کی چھت یا ڈیوڑھی میں مٹی کے بنے ہوئے تنور میں ٹپھا ٹھپ روٹیاں لگائی جاتیں سرخ سرخ خمیری روٹیاں دیکھنے اورکھانے سے تعلق رکھتی ہیں اب تو خیر گیس کے تنور آگئے وقت کےبدلاو نے تنور کی روٹیوں کی روایت کو نہیں بدلا آج بھی صوبہ سرحد میں گھر کے تنور کی روٹی شوق سے پکائی اورکھای جاتی ہے خصوصا”ہمارے شہرکوہاٹ میں ۔

جب کہ اس کے برعکس پشاور میں بازار سے روٹی لانے کا رواج ہے ۔روٹیاں بازار سے لانے کے لئے گھر سے صاف ستھرا دسترخوان لے کر جاتے ۔سودا سلف لانے کے لیے موٹے مضبوط کپڑے کے تھیلے گھر سے لے کر نکلتے آج اس جدید دور میں یہ حال ہے ردی اخبار میں روٹیاں اور پلاسٹک کے شاپرز میں گرم گرم سالن وکھانے پینے کی اشیاء لائی جاتی لاکھ سمجھایے مگر چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی ۔
سردیوں میں کمروں اوردالان (دالان میں لکڑی کے تختے ہابستے لگے ہوتے رات کو گرا دیتے تو دالان بھی کمرے کی شکل اختیار کر لیتے )میں روی یعنی کپاس کی بنی موٹی موٹی رضائیاں ہوتیں کمروں میں نوار سے بنے اصلی لکڑی کے بڑے بڑے پلنگ اور باہر بان سے بنی چار پایاں ہوتیں جو استعمال سے ڈھیلی پڑ جاتیں تو ادوائن کھینچ کر چارپائی کس لی جاتی
گرمی کے موسم میں عصر کے بعد صحن میں ترتیب سے چارپائییاں لگا دی جاتیں ٹیبل فین یا پیڈسٹل فین ایسے رکھا جاتا کہ تمام لوگوں کو ہوالگے مگر جب تک وہ گھوم کر آتا تو ۔۔۔۔اففف
مجھے نانا کے ساتھ چھت پر سوناپسندتھا تاروں کی چھاؤں میں کھلے آسمان تلے جہاں بےشمار تارے جھلمل جھلمل کر رہے ہوتے جنہیں اکثر ہم گننے کی ناکام کوشش کرتے کرتے جانے کب نیند کی وادی میں اتر جاتے
چاند ۔۔۔۔۔چاند کے ساتھ تو پرانی دوستی ہے میں چھت پر چلتی دیکھو چاند میرے ساتھ ساتھ چلتا ہے میں دوڑ لگا دیتی دیکھو یہ میرے ساتھ دوڑ رہا ہے میں سب کو متوجہ کرتی ۔سب ہنس دیتے ۔بادل کیسی شکلیں اختیار کرلیتے ۔کبھی ہاتھی کبھی بھالو کبھی کوئی بابا اور چاند کبھی اپنے حسین مکھڑے پر سرمئ نقاب پہننے لیتا اور کچھ دیر بعد اس قید سے نکلتا تو روپہلی کرنوں سے چھت بھرجاتی میں بستر کی سفید چادر پربچھی چاندنی پر ہاتھ پھیر تی اور خوشی وسرشاری کے عالم میں نرم نرم تکیے میں منہ چھپا لیتی ۔تکیہ جو پھپھو اماں مرغی کے پروں کو جمع کرکے بھرتیں ۔اب کئ دفعہ چن ون سے تکیے خریدے مگر گردن کو آرام نہیں ملتا )
سحری کے قریب لگتا بستر پر کسی نے چھڑکاؤ کیا ہے ہلکی ہلکی اوس اور خنکی
مصیبت تو اس دن ہوتی جب اچانک بارش آجاتی جلدی چارپائیوں کو اندر کرتے چھت والی چارپائیوں کو رسی سے باندھ کر جنگلے سے سیدھاصحن میں اتارا جاتا جہاں پکڑنے کے لئے ایک اور بندہ کھڑا ہوتا ۔میں ڈیڈی (نانا جنہیں سب ڈیڈی کہتے جو سب کے ڈیڈی تھے )کے ساتھ چھت پر سووں یا نیچے خالہ کے ساتھ یہ میرا فرض اولین تھا کہ جاکر ڈیڈی کو جگاوں۔وہ جاگ بھی جاتے تو آنکھیں بند رکھتے جب تک کہ میں جا کر آواز نہ دوں ۔ڈیڈی میری آواز پرمسکرا کر اٹھ جاتے ان کا یہ ماننا تھا کہ جب وہ میراچہرہ دیکھ کر اٹھتے ہیں تو انکے مطب پر سارادن مریضوں کا رش رہتا ہے ۔سارا دن خوش باش گزرتا ہے کبھی نہ جگا پاتی تو سارا دن ان کا موڈ خراب رہتا اس طرح نیا چاند دیکھنے پر بھی یہی معمول تھا یہ نہیں کہ وہ کوئی توہم پرست انسان تھے وہ بہت پرہیزگار وصاحب مطالعہ شخص تھے تصوف سے بھی گہرا شغف اور پہنچان رکھتے تھے افتخار گیلانی (بے نظیر بھٹو کے وزیر قانون )کے والد اورشہر کے سرکردہ شخصیات سے دوستی تھی جامہ زیب و خوش لباس تھے سوٹڈ بوٹڈ سردیوں میں چترالی چغہ اور گرمیوں لکیر دار نائٹ ڈریس زیب تن کرتے جنگ کوہستان، انجام، نوائے وقت یہ صبح آتے
یہ چار پانچ اخبار صبح آتے شام کو حریت کراچی یہ شام کا اخبار تھا آتا۔فخر ماترے اس کے ایڈیٹر تھے اور کیاخوب اخبار تھا ڈیڈی تمام اخبارات کا مطالعہ محدب عدسہ آنکھوں کے آگے رکھ کر پڑھتے ۔اب کہانیوں کی کتابوں کے علاوہ اخبار بھی پڑھنے لگی ہراخبار میں بچوں کے لئےہفتہ وار الگ صفحہ ہوتا
یہ صدر ایوب خان کا دور حکومت تھا صدر ایوب خاتون اول کی بجاے اپنی بیٹی کو غیرملکی دوروں پر ساتھ لے کر جاتے ۔غیر ملکی سربراہان بھی تواتر سے پاکستان آتے ملکہ الزبتھ، شہزادی این ایران کے رضا شاہ پہلوی انکی حسین بیوی فرح دیبا وغیرہ وغیرہ ان کے دوروں کی حسین تصاویر خاص طور پر مجھے بھاتی تھیں اور میں بار بارانہیں دیکھتی اور دل نہ بھرتا ہاں امریکہ کے جان ایف کینیڈی اور انکی سمارٹ سی بیوی جیکولین اورپھر کینڈی کا بہیمانہ قتل جیکولین کا بیوہ ہونا اخبار مہینوں ان خبروں سے بھرے رہے ایک اور دلچسپ اہم واقعہ یاد آ گیا غالبا” امریکہ کے صدر نکسن کراچی کے دورے پر تھے کہ سڑک کے کنارے کھڑے ساربان اوراس کا اونٹ پسند آگیا بشیر ساربان راتوں رات مشہور ہوگئے بعد ازاں وہ صدر امریکہ کی خصوصی دعوت پر امریکہ پر بلوائے گئے ۔تو اب اخبار بینی میری وقت گزاری اوردل چسپی کا مرکز تھا۔اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو پر بی بی سی کی نشریات اہتمام سے سنی جاتی ۔دن کے اوقات میں خالائیں ریڈیو سے خواتین کے مخصوص پروگرام اورفرمائشی گیت سنا کرتیں ۔ایک پروگرام جس کا ہفتہ بھر انتظار ہوتا پشاور ریڈیو سے “قہوہ خانہ”تھا اس میں خالہ بی جان کاکرداراورٹھیٹ پشاوری محاورے سننے سے تعلق رکھتے ۔میری امی کو ریڈیو آزاد کشمیر پسند تھا رات کو اختتام پر ایک ترانہ بجتا بہت اداس کر دینے والا امی اکثر رو دیتیں ایک بول مجھے یاد رہ گیا
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن
پتہ نہیں کشمیریوں کی دعائیں کب باریاب ہونگی اور کب انہیں یہ جنت ارضی نصیب ہو گی
نصرت نسیم













