پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 11 کان کنوں کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی ہے جس کے بعد داعش کی پاکستان میں موجودگی اور ملک میں دہشت گردی کے نئے خطرات سے متعلق کئی سوالات اور خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔
داعش کی جانب سے بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی پر حالیہ حملہ ایسے حالات میں کیا گیا جب شدت پسند تنظیم کو افغانستان میں افغان طالبان کے ساتھ محاذ آرائی کے علاوہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بھی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی ماہرین ہزارہ کمیونٹی پر حملے کو داعش کی جانب سے پاکستان میں دوبارہ فعال ہونے کی کوششوں سے جوڑ رہے ہیں۔
وزیرِاعظم عمران خان نے بھی نو جنوری کو کوئٹہ میں کان کنوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور پہلے لشکرِ جھنگوی کا حصہ تھے اور بعد میں یہ داعش کا حصہ بن گئے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ گروہ کافی کمزور ہو چکا ہے جب کہ ان کے بچ جانے والے 35 سے 40 افراد کا تعاقب جاری ہے۔
مگر شدت پسند تنظیموں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش پاکستان میں 2019 کے اواخر سے دوبارہ فعال ہونے کی کوششیں کر رہی ہے۔
پاکستان میں داعش کے وجود میں آنے کے بعد ان خطرات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ شدت پسند گروہ پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کے ذریعے فرقہ وارانہ دہشت گردی کر سکتا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ہزارہ کمیونٹی کے کان کنوں کے قتل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داعش اب ان کارروائیوں میں تیزی لانا چاہتی ہے۔
اگست میں داعش کی جانب سے پشتو زبان میں جاری ایک مبینہ اعلامیے میں کراچی، حیدرآباد، لاہور اور راولپنڈی سمیت ملک کے بڑے شہروں کے علاوہ بلوچستان، گلگت بلتستان اور نگر کے علاقوں کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا تھا جو فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سوئیڈن میں مقیم محقق عبدالسید کا کہنا ہے کہ داعش بلوچستان میں پہلے ہی سے فعال لشکرِ جھنگوی اور دیگر شیعہ مخالف شدت پسند گروپوں میں اپنے لیے فعال افرادی قوت ڈھونڈ رہی ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیف اللہ کرد کی سربراہی میں لشکرِ جھنگوی بلوچستان کے کافی اراکین اگست میں تحریکِ طالبان پاکستان کا حصہ بن چکے ہیں مگر ہو سکتا ہے کہ لشکرِ جھنگوی کے باقی ماندہ اراکین نے داعش پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی ہو جس کی سربراہی تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق رہنما داؤد محسود کر رہے ہیں۔













