شامی فوج کی حلب کے نزدیک داعش کے خلاف نئی مہم

0
148

شامی فوج نے شمالی شہر حلب کے شمال مغرب میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف نئی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اسی علاقے میں ترکی کی حمایت سے شامی باغیوں کی داعش کے خلاف ایک اور جنگی مہم بھی جاری ہے۔
شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے داعش کے جنگجوؤں کو گذشتہ دو ہفتے کے دوران الباب شہر کی جانب پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔اس علاقے میں ترک فوجی بھی ٹینکوں کے ساتھ موجود ہیں اور اس کی حمایت سے شامی باغی الگ سے الباب پر قبضے کی کوشش کررہے ہیں۔اگر شامی فوج بھی اس جانب پیش قدمی کرتی ہے تو ان کے درمیان محاذ آرائی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
ترکی نے گذشتہ سال اگست میں شام کے سرحدی علاقے میں داعش اور شامی کرد جنگجوؤں کے خلاف مہم شروع کی تھی۔اس کا مقصد سرحدی علاقوں کو ان دونوں گروپوں سے پاک کرنا تھا کیونکہ ترکی انھیں اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ خیال کرتا ہے۔
شامی فوج کی جنرل کمان کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج اور اس کے اتحادیوں نے داعش سے تیس سے زیادہ دیہات اور قصبوں کا قبضہ واپس لے لیا ہے اور حلب اور الباب کے درمیان شاہراہ کے سولہ کلومیٹر حصے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
شامی فوج کے ایک ترجمان نے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”اس کامیابی سے حلب شہر کے آس پاس کا علاقہ وسیع ہوگیا ہے اور یہ داعش کے خلاف نئی کارروائیوں کا بھی نقطہ آغاز ہے۔فوج شہریوں کے تحفظ اور شامی عرب جمہوریہ کی علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے”

SHARE

LEAVE A REPLY