اُردو شاعری کا ولیم شیکسپیرشاعرِآخرالزماں حضرتِ جوش ملیح آبادی

0
861

“آؤ پھر جوش کو دے کر لقبِ شاہِ سخن
دل و دینِ سخن،جانِ ہنر تازہ کریں”

ملیح آباد کا نام آئے تو زہن میں آموں کے باغات کوئل کی کوک کی آواز بازگشت کرنے لگتی ہے۔آندھرا پردیش کے بعد سب سے بڑی پیداوار آموں کی ملیح آباد میں ہوتی ہے،ملیح آباد کو آموں کی سرزمین کہاجاتا ہے ۔ملیح آباد ،لکھنو سے جانبِ مغرب لکھنو ہر دوئی روڈ پر پچیس کلومیڑ کی دوری پر ملیح آباد ہے یہ ہرا بھرا زرخیز علاقہ ہے ،جہاں کوئی بڑی ندی یا پہاڑ نہیں ہے تا حدِ نظر آموں کے باغات اپنی دلکشی اور ہریالی سے ماحول کو خوش گوار اور تازہ بناتے رہتے ہیں ۔اور یہی باغات ملیح آباد کے باشندوں کا زریعہ ماش ہیں ۔جوش ملیح آبادی کے بزرگ آزادقبائل کی وادی تیراہ سے ترکِ سکونت کرکے ملیح آباد تک پہنچے تھے ۔جو ش صا حب کا تعلق آفریدی پٹھانوں کے قبیلے سے ہے ۔ملیح آباد میں آفریدیوں کی آمد سے قبل مواضعات میں دوسرے قبیلے کے پٹھان بھی آباد ہوچکے تھے ۔ملیح آباد28میڑ سطح دریا سے بلندی پرواقع ہے ۔ملیح آباد کی مقامی زبان ہندی اور اُردو ہے ، ملیح آباد کے لوگ اپنے آموں کے معیار او ر مقدار پر فخر کرتے ہیں ۔ملیح آباد جیسی خوبصورت زرخیز زمین پر شاعرِ انقلاب جضرتِ جوش ملیح آبادی کی جنم بھونی ہے ۔اور کرہ ارض پر جب تک ملیح آباد قائم و دائم ہے جوش صاحب کا نام ضرور آئے گا۔امانی گنج کے میدان میں جوش صاحب نے اپنا شاندار گھر “قصرِ سحر”تعمیر کروایا ۔جو ش صاحب کی فقط دو اولادیں تھیں بیٹے سجاد حیدر ،اور بیٹی سعیدہ بیگم ۔
حضرتِ جوش ملیح آبادی شاعرِ انقلاب عظیم شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی جنکا اصل حقیقی نام شبیر حسن خان پانچ دسمبر 1897ء ملیح آباد کے ایک آفریدی پختون نواب گھرانے میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد بشیر احمد خاں بشیر بھی شاعر تھے اور دادا نواب احمد خاں بھی شاعر تھے اسکے علاوہ اِنکے پردادا فقیر محمد خاں بھی صاحبِ دیوان شاعر تھے ۔دو سوتیلے چچا بھی شاعرتھے،بڑی پھو پھی ،بڑی بہن اور بڑے بھائی جان بھی شاعرتھے ،جن کے ماموں جان بھی شاعر اُردو اور فارسی کے اشعار گھر کے لوگ ایک دوسرے کو سناتے ہوں ،لکھنوکے نامور شاعر وں کا گھر میں آتے جاتے ہوں،ہر تیسرے چوتھے ماہ گھر میں مشاعرے ہوتے ہوں،جو شعرا کے دیوانوں پتنگ اور گولیوں سے کھیل کر پروان چڑھا ہو،جس کی ماں رات میں فارسی زبان میں لوریاں دے کر جسے سلاتی ہو وہ شعر نہیں تو کیا کہے گا ۔جوش ملیح آبادی کا تعلق فاٹا کے پشتون قبیلے کے ایک ادبی دانشور گھرانے سے تھا ۔مغلوں کے آخری دور میں جوش صاحب کے آباؤ اجدادنے یوپی میں مستقل سکونت اختیار کی جہاں اِس گھرانے کی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آئیں اُردو زبان کے عشق میں گرفتار ہوگئے ۔شاعری ،نثر نگاری اُردو زبان کی ترقی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔آپ کے خاندان کی خواتین شاعرات بھی تھیں۔جوش کی دادی بیگم نواب محمد احمد خاں ،مرزا غالب کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ۔اِس طرح جوش کو شاعر ی ورثے میں ملی تھی ۔”1914″ء میں سینٹ پیٹر ز کالج آگرہ سے سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کرنے کے کچھ وقت عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے میں صرف کیا اور پھر چھ ماہ سنسکرت تمدن سے متعلقہ امور کو سمجھنے میں ٹیگور یونیورسٹی میں گزارے والد کی وفات “1916”ء میں ہوئی شروع میں جوش صاحب نے شعر و شاعری کی سخن وری کے ساتھ ساتھ انگریزی دقیق ادب اور فارسی ادب کے مضامین اُردو میں ترجمے کئے ۔
“ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے کا عتاب تیرا”
لیکن جوش صرف شاعر ہی نہیں تھے ایک ہشت پہلو شخصیت تھے ۔جہاں اُنہیں شاعری پر زبردست کمال حاصل تھا ۔وہیں نثر پر بھی اُنہیں ا دراک تھا ۔اُن کی نثر اپنی مثال آپ ہے ۔جوش کا تعلق فلم اور صحافت سے بھی رہا ” کلیم”جوش صاحب نے دہلی سے ایک ادبی رسالہ شائع کیا تھا لیکن مالی مشکلات کے سبب جاری رہ نہ سکا ۔بعد میں ” آج کل”کے بھارت سرکاری رسالے کے مدیر بنائے گئے تھے لیکن یہاں بھی زیادہ دنوں تک ٹک کر رہ نہ سکے ،نظام حیدرآباد کے دارالترجمہ میں تھے عثمانیہ یونیورسٹی میں تراجم کی نگرانی کے فرائض جو ش صاحب کے تھے۔یکایک نظام کے خلاف ہی نظم لکھ دی جوش کو وہاں سے نکالا گیا ۔بعد میں بھارت سرکار کے مدیر ہوئے پھر “1955”میں پاکستان کوچ کر گئے ۔پاکستان میں بھی اُن کی وابستگی ترقی اُردو بورڈ میں رہی لیکن اختلافات کے سبب وہاں سے بھی سبکدوش ہونا پڑا۔جوش صاحب نے فلمی دنیا میں بھی قدم رکھا اور “1943”سے “1948”کے درمیان متعدد فلموں کے گانے اور مکالمات لکھے ۔
جوش کی شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں ۔
روح ادب،شاعر کی راتیں ،نقش ونگار،شعلہ اور شبنم ،فکرو نشاط،جنون و حکمت،حرف و حکایت،آیات ونغمات،عرش و فرش ،رامش و رنگ ،سنبل و سلاسل،سیف و سبو،سرودو سروش،سموم و صبا،طلوع فکر،الہام و افکار،موحد و مفکر،نجوم و جواہر،جوش کے سو شعر،پیغمبرِ اسلام،جوش کے مرثیے ۔

جوش کے اُستاد ۔
اُن کے اساتذ ہ میں جناب مرزا ہادی رسویٰ،جناب مولانا قدرت اﷲبیگ، جناب مولانا نیاز علی خان ملیح آبادی،اور جناب مولانا طاہر شامل ہیں ۔
جوش نے کالم نگاری بھی کی وہ روز نامہ جنگ سے منسلک ہوئے اور “علم و فکر”کے عنوان سے کالم لکھے اُن کا اولین کالم 1962کو شایع ہوا ۔جوش کی طویل ترین نظم حرفِ آخر ہے جوش کی شاعری اُردو ادب کی آبرو ہے ۔جو ش صاحب نے از خود اپنے آپ کو حافظ شیراز کہا ہے ۔
آرہی ہے صدائے ھاتف غیب
جوش ھمتائے حافظ شیراز
جوش صاحب کی نثری کتابوں کے نام یہ ہیں ۔
مقالاتِ زریں ،اوراقِ سحر،اِرشادات،
جوش کی تصانیف میں روحَ ادب ،آوازہ حق،شاعری کی راتیں ،عر ش و فرش ،عروسِ ادب ،عرفانیات جوس،محرا ب و مضراب،دیوان جوش شامل ہیں ۔نثری مجموعوں میں مقالات جوش،اوراقِ زریں ،جذباتِ فطرت ،اشارات ،مقالات جوش،مکالمات جوش اور خود نوشت سوانح عمری ،یادوں کی بارات حضرتِ جوش کی خود نوشت یادوں کی بارات ایک اِیسی شہرہ آفاق کتاب ہے کہ ہندو پاک کے ادبی ،سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست واویلا مچا تھا ۔یہ حقیقت ہے کہ جوش صاحب کو اِن کی خود نوشت کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہوئی کافی باتیں متنازع بنی ادبی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچی رہی اخبارات میں حمایت اور مخالفت میں کالم لکھے گئے ۔نثر نگاروں نے کتابیں لکھیں موضوعِ بحث حضرتِ جوش کی یادوں کی بارات تھی ۔یادوں کی بارات “1972”کراچی سے شایع ہوئی تھی ۔اِس طرح سے وہ دس برسوں تک تنازعات میں گھر ے رہے اور اِس کے باعث اُنہیں بے حد دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا حکومت کے عتاب کا نشانہ بنے رہے ۔لیکن کوئی اِس سے اِنکار نہیں کرسکتا کہ جوش صاحب عظیم شاعراور نثر نگار تھے ۔یادوں کی بارات جوش صاحب کی یادگار آب بیتی اور تاریخ سازعہد کی تہذیبی زندگی کا دلکش مرقع ہے ۔پڑھنے والے کو گنگا اور جمنا اور سر زمینِ دکن کے قدیم وجدید معاصر کی خوشنما جھلکیاں نظر آئیں گی ۔جو ش صاحب نے اپنے ایامِ طفلی و جوانی کی خوشحال طبقوں کی سماجی قدروں پر اُن طبقوں کے سوچنے اور محسوس کرنے کے انداز اُن کے عقیدوں اوروہموں پر ،اُن کے شوق اور مشغلوں پر اُن کے تہواروں ،تقریبوں پر اُن کے رہن سہن اور رسم و رواج پر روز مرہ کے واقعات کے حوالے سے بڑے دلچسپ تبصرے کئے ہیں ۔یادوں کی بارات جوش صاحب کے ستر سال کے تجربوں اورمشاہدوں کی برات ہے ۔اِس بارات میں فکر و نشاط کی شہنائیاں بجتی ہیں ۔جنون اور حکمت کے زمزے گونجتے ہیں ۔رامش اور رنگ کی محفلیں سجتی ہیں ۔لالہ رُخوں کے لب و عارض کی دل نشیں حکایتیں بیان ہوتی ہیں ۔یارانِ میکدہ کی محبتوں اور بے مہر یوں کے قصے سنائے جاتے ہیں ۔اَربابِ ثروت و سیاست کی ننگ حوصلگیوں کے تذکرے چھڑتے ہیں ۔شاعرِ امروز و فردا کی یادوں کا قافلہ کبھی کہکشاں سے ہوکر گزرتا ہے اور کبھی بحرِظلمات سے،لیکن مسرت کی خیرہ سامانیوں سے اُن کے ایمان اور یقین میں کوئی فرق نہیں آتا ۔اور نہ طوفانِ حوادث کی تیر گیوں سے اُن کے پائے صداقت ڈگمگا تے ہیں ۔اُن کا کاروانِ حیات خرد کی مشعل لئے اور انسان دوستی کا رجز بڑھتا اور آگے بڑھتا جاتا ہے ۔اگر آپ چاہتے ہیں جوش صاحب سے ملاقات ہوجائے تو ایک بار ضرور یادوں کی بارات کا مطالعہ کریں آپ اور جوش صاحب آمنے سامنے ہونگے ۔حضرتِ جوش نے 9 برس کی عمر میں کیا خوب کہا تھا ۔
” شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ میرا فن خاندانی ہے ”
لیکن تلخ حقیقت یہ ہے جوش صاحب کی یادوں کی بارات جوش صاحب کو راس نہیں آسکی اِسی لئے اُنہوں نے کہا کہ اِس قوم میں کسی صاحبِ قلم کی کوئی گنجائش نہیں ہے ہر ادیب اور شاعر کو چاہیے کہ وہ خودکشی فرما لے کیا کوئی شاعر ادیب لوگوں کی فرمائش پر اُنکی مرضی کے مطابق لکھے گا پسند نا پسند کا خیال رکھے گا ۔عام طور پر جوش صاحب شاعرِانقلاب مشہور ہیں جیسا کہ وہ خود اعلان کرتے ہیں کہ
“کام ہے میراتغیر ،نام ہے میرا شباب
میرا نعرہ انقلاب وانقلاب وانقلاب”
یہ بات صیح ہے کہ وہ شاعرِ بغاوت ہیں ،انقلاب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک نظام کو بدل کر دوسرا نظام لانا جہاں انصاف کی حکمرانی ہو،جوش کی شاعری میں کسی نئے نظام کا پیغام نہیں البتہ اِس میں کئی طرح کی بغاوتیں پورے طمطراق کے ساتھ پائی جاتی ہیں ۔
ؒ خصوصیات شاعری
پہلی خصوصیت اُن کی فطری مورثی شاعرانہ صلاحیت ہے ۔وہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس میں کئی پشتوں سے شعر گوئی کا چرچا تھا ۔یہ شاعرانہ مزاج ،صلاحیت اُنہے وراثت میں ملی تھی ۔
اسلوبِ بیان کی روانی
اُن کی شاعری میں بے پناہ روانی اور سلاست ہے ۔الفاظ کا ایک دریا سا اُمنڈتا اور شور مچاتا اُن کی ہر نظم میں آتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔اُن کا زخیرہ الفاظ اِتنا وسیع ہے کہ پوری اُردو شاعر ی میں غالباََنظیر اکبر آبادی اور اَنیس لکھنوی کے سوا کسی شاعر اِس معاملے میں حضرتِ جوش کی ٹکر کا نہیں مثلاََ
“برجھیاں ،بھالے ،کمانیں ،تیر ،تلواریں ،کٹار
بیر قیں ،پرچم ،علم ،گھوڑے قطار اندر قطار”
علمِ بیان کا استعمال
جوش کی نظموں میں نئی نئی اور پے درپے تشبہیوں اور استعاروں کا ایک ایسا برجستہ بے ساختہ استعمال ہے کہ پڑھنے والا اُن کے الفاظ کی گھن گرج کے علاوہ اِن تشبہیوں اور استعاروں کے طلسم میں گرفتار ہوکر رہ جاتا ہے ۔مثال کے طور پر
“بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے ،توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں
تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑرہی ہیں تدبیریں ”
وزن اورقافیے کی پابندی
حضرتِ جوش چاہے کتنی ہی بغاوتیں کرلیں اُن کا ہر شعر شاعری کے تمام اُصولوں کے مطابق ہوتا ہے جو کہ اُردو شاعری میں رائج ہیں ۔اِسی لئے وہ الفاظ کی کثرت و قدرت اور وزن قافیہ کی پابندی کے زریعے قاری یا سامع کے ذہن پر چھا جاتے ہیں ۔اور پورے زور اور وضاحت سے اپنے دل کی بات کہہ دیتے ہیں ۔عکسِ کلام درج زیل ہے ۔
“کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے ،گونج رہی ہیں تکبیریں
اُکتاہوئے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑرہے ہیں زنجیریں”
نرم عاشقانہ شاعری
ؓ ؓبغاوت کی دھوم دھام اور آگ ،بجلی ،موت ،آندھی ،جیسے الفاظ کے علاوہ جضرتِ جوش نے عشقیہ واردات بھی بڑی خوبی اور لطافت سے بیان کی ہے ۔اُستاد کے کلام میں بے پناہ روانی پائی جاتی ہے ۔مثلاََ
“سر پہ ترے رہیں سدا پھولوں کے تاج فصلِ گل
روح کو مست کردیا تیری ہوائے مست نے
جاکے ،نسیم جاں ستاں ،کہنا یہ بزمِ حسن میں
بھیجا ہے نغمہ و سلام جوش سحر پر مست نے
کل چونک کر اُس نے ، بقا ضائے خمار
انگڑائی جو لی ،ٹوٹ گیا رات کا ہار
اور سرخ ہتھیلوں سے آنکھیں جو ملیں
ڈوروں سے ابل بڑی دو دھاری تلوار ”
منظر نگاری
مختلف قدرتی مناظرِ فطرت کو بھی حضرتِ جوش نے بڑی مہارت ،لگن ،خوبصورتی ،فہم سے روانی بیان کی ہے ۔مثلاََ صبح سویرے سویرے کا منظر دیکھئے ۔انگریزی شاعر ناول نگار جان ملٹن نے جو اپنی شاعری میں منظر نگاری کی ہے وہ ماند پڑجاتی ہے حضرتِ جوش کے قلم کی روانی میں بھیگے اِن اشعار میں ۔
نظر جھکائے عروسِ فطرت جبیں سے زلفیں ہٹارہی ہے
سحر کا تارا ہے زلزلے میں ،افق کی لوتھر تھرا رہی ہے
طیور ،بزمِ سحر کے مطرب ،لچکتی شاخوں پہ گا رہی ہے
نسیمِ فردوس کی سہیلی گلوں کو جھولا جھلا رہی ہے
شلو کا پہنے ہوئے گلابی ،گلاب کی پنکھڑی چمن میں
رنگی ہوئی سرخ اوڑھنی کا ہوا میں پلو سکھا رہی ہے
دیہات کی منظر کشی کا حسین شاہکار
دوپہر ،بازار کا دن ،گاؤں کی خلقت کا شور
خون کی پیاسی شعاعیں ،روح فرسا لو کا زور
آگ کی رو ، کارو بار زندگی کا پیچ و تاب
تند شعلے ،سرخ زرے ،گر م جھونکے آفتاب
شور ،ہلچل ،غلغلہ ،ہیجان ،لو ،گرمی ،غبار
بیل ،گھوڑے ،بکریاں ،بھیڑیں قطار اندر قطار
مکھیوں کی بھنبھنا ہٹ ،گڑ کی بو ،مرچوں دھانس
خربوزے ،آلو ،کھلی ،گہیوں،کدو ،تربوز ،گھانس
حضرتِ جوش نے اپنے دور کے نوجوانوں کی اضطرابی اور پریشانی بھی بڑی وضاحت سے جا بجا بیان کی ہے ۔
“کیا شیخ ،ملے گا گلفشانی کرکے
توہین مزاج نوجوانی کر کے
تو آتش دوزخ سے ڈراتا ہے انہیں
جو آگ کو پی جاتے ہیں پانی کر کے ”
؁یہ بھی حقیقت ہے 1956 ء میں جو ش صاحب نے ہندوستان چھوڑا تو دونوں ملکوں یعنی پورے برصغیر میں جو ش کا ڈنکا بجتا تھا ۔برصغیر میں ایک ہزار برس سے بس روایت کے تحت اُردو ،فارسی شاعری ہورہی تھی جوش صاحب کا کلام اِس روایت کی تصدیق کرتا ہے اور اِسی پر اپنی بنیا د قائم کئے ہوئے ہے ۔اگر چہ جوش نے غزل کم کہی اور نظم اور ربائی کی طرف زیادہ توجہ دی ،لیکن اُن کی نظم گوئی سے بھی ہزار سالہ عجمی روایت کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑی ۔یہ بھی ایک تشریح طلب مسلہ ہے بظاہر جوش کا غزل کے بجائے نظم کہنا اُس وقت کے نئے نقادوں کے منشاء کے عین مطابق تھا بلکہ موضوعات سے بھی عصری تقاضوں کو پو را کر رہے تھے ۔جیسے مزدور کی تعریف ،مناظر ،فطرت کی عکاسی ،عقل پسندی کی تبلیغ ،سرمایہ داروں کے خلاف غم و غصہ کا اظہار ،مذہب اور ملا کی تضحیک ۔اکثر نقاد اور جدید مزاج کے دعویدار فروعی الزامات لگاتے نظر آتے ہیں دراصل یہ لوگ جوش کی اول دن سے شاعری کے خلاف ایک محاز بنائے ہوئے ہیں پھر اُن کی بے باک شخصیت حقیقت پسندی نے جوش صاحب کو با کمال بنا دیا ۔جوش نظم نگاری کے باوجود غزل کے شاعر اُستاد ہیں ۔اِسی وجہہ سے اُن کی نظم گوئی کے بھی شدید مخالف تھے کیونکہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں نظم کا معیار بدل رہا تھا جس میں ترقی پسند شاعر اور حلقہ اربابِ ذوق والے شاعر برابر کے شریک تھے جوش صاحب کا زمانہ سیاسی بیداری اور انگریزوں کے خلاف جدو جہد کا زمانہ تھا ۔معاشرے میں پھیلے ہوئے معاشی اور مذہبی استحصال ،بے ایمانی ،نفرت کا زمانہ تھا ۔جوش آفتاب بن کر جگمگا رہے تھے ۔جوش کو پیام بھی دینا تھا اور بغاوت کے لئے آمادہ بھی کرنا تھا ۔ریا کاریوں کا پردہ بھی چاک کرنا تھا اپنے علیحدہ منفرد لب و لہجہ کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے ۔جوش جنگِ عظیم اول سے لیکر جنگِ عظیم دوئم اور ملک کی آزادی کی تمام سیاسی ،معاشی اور اخلاقی بد حالی کے عینی شاہد تھے ۔حضرتِ جوش صاحب کے مرثیے اُردو ادب کا خزانہ ہیں ۔
”کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوحِ بشر کے تارے ہیں حُسین
ہر قوم پُکارے گی ہمارے ہیں حُسین”
ایک مرثیہ میں امام حُسین کی شان میں جو اشعار کہے ہیں اُن میں اور معرکہ دشتِ کربلا میں جذبہ شوق ایک قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے ۔جو ش صاحب نے امام حُسین کو صاحبِ مزاجِ نبوت ،وارثِ ضمیر رسالت،خلوتی شاہد قدرت ،فخرِمشیت ،کاروانِ عزم کا رہبر،مینارہ عظمت،دلیل اور شرافت اورروحِ انقلاب کا پرور دگار جیسے القاب سے یاد کیا ہے ۔بعض اشعار کی والہانہ وارفتگی ،جوش صاحب کے مخصوص لب و لہجے اور پُر جوش اندازِ بیان کے ساتھ معنی خیز اشارے بھی کرتی ہے مثلاْ
ہاں وہ حُسین جس کا ابد آشنا ثبات
کہتا ہے گاہ گاہ حکیموں سے بھی یہ بات
یعنی درون پردہ صد رنگ کائنات
اک کارساز ذہن ہے اک کارساز زات
مردانگی کے طور کا تنہا کلیم ہے
تو سینہ حیات کا قلبِ سلیم ہے
حُسین اور اِنقلاب میں جو عزمِ حُسین اور روحِ انقلاب میں کارفرما ہے جوش صاحب نے اِسی حُسینی عزم اور انقلابی روح کو ایک بار پھر آواز دی ہے ۔
پھر حق ہے آفتاب لبِ بام اے حُسین
پھر بزمِ آب و گل میں کہرام اے حُسین
پھر زندگی ہے سُست و سبک گام اے حُسین
پھر حریت ہے موردِالزام اے حُسین
جوش صاحب رباعی کے اِیسے شاعر تھے جو فراق سے پہلے پورے طمطراق کے ساتھ میدان میں اُترے تھے فراق بعد میں اکھاڑے میں اُترے ۔جوش صاحب میدانِ نظم کے شہسوار تھے ۔جو ش صاحب نے کروڑوں انسانوں کی نمائندگی کی ہے اُن کے جذبات ،احساسات ،خواہشات کی ترجمانی کی ہے ۔گزرتے زمانوں میں ہر زمانہ دھند لا جائے گا لیکن جو ش صاحب کی شاعری لہلاہاتی رہے گی ۔اُردوزبان کی لغت کی ترتیب ہو یا سخن جو ش صاحب کا دامن سے کوئی نکال نہیں سکتا ۔حُسین اور انقلاب نے آپ کو شاعرِ انقلاب بنادیا ۔برٹش راج سے آزادی پر مضامین لکھے ،نظمیں لکھیں لوگوں میں انقلاب کے جذبات اُبھرے اُس وقت انگریزی سرکار میں سیاسی کارکن جوش کی نظمیں پڑھتے تھے ۔آزادی کی تحریکوں میں جوش صاحب کی شاعری کے ڈنکے بجے ۔ستر کی دہائی میں جوش صاحب کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگئے 1978 ء میں ایک متنازع انٹر ویو کی وجہ سے زرائع ابلاغ سے بلیک لسٹ کردیا گیا یہاں تک کہ نصاب سے بھی خارج کردیا گیا ۔22فروری 1982 ء جو ش صاحب نے 83 سال کی عمر میں اِس دنیا سے پردہ کر لیا ،اسلام آباد میں ہی آپ کو سپردِ خاک کیا گیا ۔جوش صاحب انقلابی شاعر تھے اُن کا شمار اُردو کی اُن قد آور شخصیات میں ہوتا ہے جن کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا ۔اُنہوں نے انقلابی نظموں کے زریعے شعورِ لافانی دیا ۔جوش صاحب کی شاعری انقلابی اور انسان دوست شاعری ہے ۔جوش صاحب نے جدو جہدِ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا ۔جوش صاحب اِیسے شاعر تھے جن کے کلام سے لوگوں کے زہنوں کو ایک نئی جلا ملی۔جوش صاحب کی تمام عمر حق اور سچ کی لڑائی لڑتے گزری ۔سچ لکھنے کی پاداش میں تنقید ،طعنے اُن کے لہجے کو دھیما نہ کر سکے ۔وہ صدائے حق و بہادری تھے پوری زندگی حق اور سچ کی ترویج میں گزری ۔آپ نے انجمن ترقی اُردو کرا چی ،اور دارالترجمہ (حیدرآباددکن)بیش بہا خدمات انجام دیں ،جوش صاحب مرثیہ نگاری کے آفتاب نہیں بلکہ نظم اور غزل میں بھی اپنا کوئی ثانی نہیں چھوڑا اُس میدا ن میں بھی مہتاب تھے۔اُنہوں نے اپنی شاعری کا جو خزانہ چھوڑا وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں سخن ور ہمیشہ اِس چشمہِ جوش سے فیض یاب ہوتے رہیں گے ۔قلم بھی سُوگوار ہوجاتا ہے ،کلیجہ منہ کو آجاتا ہے جب اَمانی گنج کے میداں کا زکر آجاتا ہے ۔سُرور ملیح آبادی اور منا بھائی ملیح آبادی یہ محبتوں اور خلوص کی چاشنی والے جوش ملیح آبادی صاحب کے خاندان کے لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں ملیح آباد کی زمین اور خدو خال پر جو معلومات فراہم کی ہم تہہ دل سے مشکور و ممنون ہیں اِن ملیح آباد کے فرزندوں کے جنکی محبت اور خلوص نے ہمیں یہ استقامت دی کہ یہ عظیم تحریر پایہ تکمیل تک پہنچی ۔ہم شبہہ حضرتِ جوش ملیح آبادی کے لاڈلے نواسے فروخ جمال صاحب کے خلوص اور محبت کو بھلایا نہیں جا سکتا جنہوں نے ہمیں بیش بہا معلومات فراہم کی فروخ جمال اسلام آباد میں پی ٹی وی کے پروڈیوسر رہے ہیں اور اسلام آباد میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں اپنے نانا جان کا زکر آئے تو آبدیدہ ہوجاتے ہیں فروخ جمال صاحب کی شکل و صورت کے خدو خال حضرت جوش کی عکاسی کرتے ہیں ۔تاریخَ ادب پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں ۔ حضرت جوش ملیح آبادی کے کلام کا مطالعہ رکھے ہوئے ہیں ۔

اے ملیح آباد کے رنگین گلستا ں الوداع
الوداع اے سر زمین صبح خنداں الوداع
الوداع اے کشور شیر و شبستاں الوداع
الوداع اے جلوہ گاہ حسن جاناں الوداع
تیرے گھر سے ایک زندہ لاش اُٹھ جانے کو ہے
آگلے مل لیں کہ آوازِجرس آنے کو ہے
آم کے باغوں میں جب برسات ہوگی پر خروش
میری فرقت میں لہو روئے گی چشم مے فروش
رس کی بوندیں جب اُڑا دیں گی گلستانوں کے ہوش
کنج رنگیں میں پکاریں گی ہوائیں جوش جوش
سن کے میرا نام موسم غمزادہ ہوجائے گا
ایک محشر سا گلستاں میں بپا ہوجائے گا

تحریر
آفتاب احمد
کراچی پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY