ہم نے گزشتہ قسط میں بات اس پر ختم کی تھی کہ بچوں کی تربیت آپ شیر خواری سے لیکر ابتدائی عمر کے چند سالوں تک کرلیں تو کرلیں ۔اس کے بعد آپ چاہے اپنے دیس میں ہوں یا پردیس میں ان کو“پیر پریشر“ یا ہم عمروں کے اثر سے بچا نہیں سکتے؟ رہا ماحول وہ وہاں بھی آپ منتخب کرسکتے ہیں اور دیار غیر میں بھی؟آ پ کو میری یہ بات سمجھ میں شاید نہ آئے ؟ وہ یہ ہے کہ وہاں تو روایتی ماحول ہے دیارِ غیر میں وہ کیسے ملے گا ؟ وہ اس طرح کہ بندوں کی اپنی منصوبہ بندی اور ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اپنی ہے؟ اب دیار غیرمیں بھی اس کے کرم و فضل سے تمام بڑے شہروں میں محلے کہ محلے ہیں جن میں کہ مسلمانوں کی کثرت ہے اور چھوٹے سے چھوٹے شہروں کی یہ حالت کہ قطب جنوبی پربھی آبادی موجود ہے جس کی آبادی دوہزار سے زائد ہے وہاں بھی الحمد للہ مسلمان موجود اور وہ پچھلے کئی برسوں سے مسجد بنا نے میں مصروف ہیں؟ بس کرنا یہ ہے کہ اپنی رہائش کے لیے ایسے علاقوں کوتر جیح دیں جہاں مسلمان رہتے ہوں تاکہ انہیں اسلامی ماحول مل سکے؟ کیونکہ مسلمان جہاں کہیں بھی جاتاہے وہ حضور (ص)کی سنت مطابق سب سے پہلے مسجد بنا نے کی سوچتا ہے۔ پھر فرقہ پرستی بھی باعث رحمت ہے کہ پہلے سب ایک مسجد میں نماز پڑھتے ہیں پھر اپنے فرقے کےمطابق مساجد الگ بنا نا چاہتے ہیں۔ لہذا وہ خود بخود بڑھتی جاتی ہیں۔پھر انکے اطراف میں مسلمان آباد ی بتد ریج بڑھتی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے لوگ جب یہاں آتے ہیں تو ان کی سوچ بھی بدل جاتی ہے اور وہ خود کو مسلمان ظاہر کر تے ہوئے شر ماتے ہیں اور ان علاقوں میں رہنا چاہتے ہیں جہاں مقامی لوگ رہنا پسند کرتے ہیں ۔ کیوں؟ اس کی بہت سی وجو ہات ہیں؟ پہلی وجہ تو وہ اخلاقی پستی ہے جو ہم میں ہر جگہ موجود ہے؟ یعنی جہاں بھی وہ جائیں ساتھ لیکر آتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی اور مذہب کی عبادت گاہ میں کوئی جانا چاہے تو وہ بڑی خوشی کے ساتھ ایک ایک ایک چیزدکھا ئے گا ہر ایک رسم کے بارے میں بتائے گا خاطر مدارات بھی کرے گا؟ مگر ہماری مساجد میں کوئی دیکھنا بھی چاہے تو کوئی اچھا تاثر اسے نہیں ملے گا ۔ کیونکہ جب وہ کار پارکنگ میں جائے گا تو گاڑیاں بے تربیت ملیں گے اور پتہ چل جا ئے گا کہ یہ لوگ کسی قانوں کے پابند نہیں ہیں؟ جبکہ باقی شہر میں ہم ہر جگہ قوانین کی پابندی کرتے ہیں کیونکہ وہاں سزا بھی اور غلط پارکنگ بھی جر مانہ بھی ا ور کار اٹھوابھی دی جاتی ہے جس کا خرچہ مالک کو بھرنا پڑتا ہے۔ اس قبیح عادت کی وجہ سے نتیجہ یہ ہے کہ پہلے لوگ عبادت گاہ ہونے کی وجہ سے خوشی خوشی اہل محلہ کو مسجد بنا نے کی اجا زتِ دیدیتے تھے؟ مگر اب وہ محتاط ہوگئے ہیں اورمسجد کے لیے اجازت ملنا مشکل ہوگئی ہے۔ کیونکہ مسلمانو ں کا شیوہ یہ ہے کہ وہ وقت کی پابندی کسرِ شان سمجھتے ہیں لہذا بھاگتے ہوئے آتے ہیں اور مسجد کے اطراف میں کسی کے بھی سائڈ پارک وے میں گاڑی کھڑی کر کے نماز شامل ہوجا تے ہیں۔اور اسی پر ہی بس نہیں بلکہ باہر نکل کر یا تو گپ شپ کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں یا ان سے خریدو فروخت کرنے چلے جاتے ہیں جو وہاں پر سامان فروخت کرنے آجاتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارا کردار تو بہت معیاری ہونا چاہیے کیونکہ تنظیم ، وقت کی پابندی ، دوسروں کا احترام اورا نکو ترجیح دیناا سلام کے رہنما اصول ہیں۔
اگر آپ یہاں آکرنیت بدل لیں گے یا پہلے ہی ہجرت ا سلام کے لیے کریں گے؟ توآپ اسلامی اخلاق سے مرصع ہونے کی وجہ سے نمایاں نظر آئیں گے۔ اور لوگ آپ سے متاثر ہونگے اسی میں آپ کی بھی عافیت ہے اور آ پ کی آنے والی نسلوں کی بھی اور ثواب کے بھی ہر فعل میں مستحق ہونگے۔ مگرایک بات ذہن میں رکھ لیجئے کہ میں نے جو مشورہ دیا تھا کہ اچھے ماحول میں بیٹھیں اور اپنے بچو ں ساتھ لیکر جائیں اس طرح آپ بھی اچھے ماحول سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟ یاد رکھئے کہ دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں اچھے لوگ نہ ہوں۔ بس ان کو ڈھونڈنا شرط ہے۔ اس لیے کہ وہ خود کو ظاہر نہیں کرتے دکان نہیں لگاتے۔ صرف اللہ سے ملانے کے راستے دکھاتے ہیں کیونکہ وہ اس پر خود بھی عامل ہوتے ہیں۔ اگر آآپ ایک عطار کی دکان بیٹھے ہوں تو جب بھی باہر نکلیں گے تو کپڑوں میں خوشبو بس جانے کی وجہ سے آپ کو خود محسوس ہو یانہ ہوبرابر سے گزرنے والوں کو ضرور خوشبو محسوس ہوگی۔ وہ پوچھیں گے کہ کونسا عطر لگا یا ہوا۔ تونیکوکاروں کی صحبت میں بیٹھنا اس لیے بے ریا عبادت سے بہترہے۔آپ چاہیں کے بغیر مشقت یہاں یا وہاں اپنے بچوں کو برے ماحول سے بچا سکیں یہ قطعی ناممکن ہے اس کے سب سے بڑے دشمن تو انٹرنیٹ ہیں جن کا جال دنیا بھر میں پھیلا ہوا کہ چند سیکنڈ میں وہ ہر بات معلوم کر لیتے ہیں؟ آج کے بچے اس سے بچ ہی نہیں سکتے کہ اس کاا ستعمال اس دور میں لازمی ہے پھر ۔دوسرے ہر بچے کی فطرت یہ ہے کہ جس بات کو منع کریں وہ ضرور کرتا ہے۔اس کا توڑ یہ ہوسکتاہے کہ اس کا بھی جائز استعمال اسے پہلے ہی سکھادیں۔ کیونکہ اسی میں قر آن اور دوسریا ا سلامی چیز بھی اتنی دیر میں مل جاتی ہیں۔ اگر بچے میں نیک و بد کی تمیز پہلے سے پیدا کردی جائے تو اس نئی ایجاد کے نقصان سے وہ بچ جا ئے گا اور اس سے فائیدہ اٹھائے گا۔ باقی آئندہ













