سید عابد رضوی، ریڈیو پاکستان کے زریں عہد کے گواہ بارگاہ پروردگار میں حاضر ہو گئے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون
ریڈیو پاکستان کے عروج اور زریں عہد کے ماہر نشریات سید عابد رضوی بارہ اکتوبر دوہزار چوبیس کو اس دار فانی سے دار البقا کی طرف لوٹ گئے۔ پروردگار انکی مغفرت فرمائے۔ وہ بہت قابل وتجربہ کار براڈ کاسٹرا، سماجی کارکن ،شاعر اور ہمہ جہت شخصیت تھے۔
سید عابد رضوی 14 اپریل 1938ء میں کوئٹہ میں ایک معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ عابد رضوی نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ ہی سے صاصل کی۔ 1962ء میں بلوچستان یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور انیس سو پنسٹھ میں ریڈیو پاکستان میں بطور پروڈیوسر ملازمت کا آغاز کیا۔
وہ سینئر پروڈیوسر، پروگرام منیجر اور پھر اسٹیشن ڈائریکٹر کوئٹہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سید عابد رضوی ریڈیو پاکستان پرطویل خدمات کے بعداگرچہ 1998ء میں ملازمت سے سبکدوش ہو گئےلیکن 1998ء سے 2005ء تک پروگرام ایڈوائزر کی حیثیت سے ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں خدمات انجام دیں۔ ریڈیو کے ساتھ ساتھ انھوں نے تقریباََ 25 سال تک پاکستان ٹیلی وژن کے مختلف ادبی، مذہبی، سماجی اور تفریحی پروگراموں میں بحیثیت میزبان بھی شرکت کی
سیدعابد رضوی نے ریڈیو پاکستان پر اپنی خدمات کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کے ادبی حلقوں میں بھی اپنی خدمات جاری رکھیں اور وہ نہ صرف ادبی تنظیم ” قلم قبیلہ ” کے 15 برس تک جنرل سیکریٹری رہے بلکہ سہ ماہی میگزین “قلم قبیلہ” کوئٹہ کے مدیر بھی تھے
غزلیں ،نظمیں، قصائد، خاص طور پر سانیٹ ( چودہ مصرعوں کی غزل ) کہنے میں نام کمایا
سید عابد رضوی تحت الفظ مرثیہ پڑھنے میں مقبول تھے ۔
سید عابد رضوی کی ایک غزل کے دو شعر
ایک کاغذ کا سفینہ ، ایک شیشے کی ردا
یوں بھی پہنچے ہیں سر منزل کئی اہل وفا
ان گئے برسوں میں عابد جب پکارا ہے اسے
لوٹ کر آتی رہی ہے اک فقط اپنی صدا
پروردگار انکی مغفرت فرمائے اور جوار معصومین میں جگہ دے۔ کاش ریڈیو پاکستان کے ارباب بست و کشاد ریڈیو کے ایسے نایاب اور سرو قد لوگوں کے نام اور نشرہاتی کارنامے کہیں محفوظ کر سکتا کہ اس بے بصر دور کے کتنے ہی ریڈیو کے ایسے لوگ ہونگے جنکو ان عظیم نشریاتی شخصیات کے نام بھی معلوم نہ ہونگے

SHARE

LEAVE A REPLY