مجھے نا انصافیوں کے خلاف بولنے کی وجہ سے گولی ماری گئی اور تقریباً قتل کر دیا گیا: ملالہ

0
939

نوبیل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسفزئی نے اقوامِ متحدہ میں اپنی یادگار تقریر کی دسویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ “میں نے اپنے بچپن کے دو سال طالبان کی دہشت گردی میں گزارے۔ اپنے گھر سے بے گھر ہوئی اور اسکول جانے پر پابندی لگا دی گئی کیوں کہ میں ایک لڑکی تھی۔ مجھے ناانصافیوں کے خلاف بولنے پر گولی ماری گئی اور تقریباً قتل کردیا گیا۔”

وہ بدھ کو نائیجیریا میں اقوامِ متحدہ ہاؤس میں اپنے اعزاز میں دی جانے والی ایک تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔اس تقریب میں اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل آمنہ محمد نے لڑکیوں کی تعلیم کے سرگرم کارکنوں کے ساتھ شرکت کی۔

12 جولائی ملالہ کی سالگرہ کا دن بھی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ “میں اپنی سالگرہ نائیجیریا میں لڑکیوں کے ساتھ منا رہی ہوں۔ ایک ایسی روایت جو میں نے دس برس پہلے شروع کی تھی۔”

اقوامِ متحدہ 12 جولائی کو ملالہ ڈے مناتی ہے جس کا مقصد 2013 کےاس دن کو منانا ہے جب ملالہ نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ “تعلیم ہی واحد حل ہے۔ سرحدوں، ثقافتوں،اور نسلوں سے ماورا۔”

ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے ملالہ کا تعارف کراتے ہوئے تمام لڑکیوں کے لیے مساوی اورمعیاری تعلیم تک رسائی کے ہدف کو حاصل کرنے میں ہونے والی پیش رفت اور اس میں درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔

آمنہ محمد نے کہا کہ “ملالہ نے سرحدوں، ثقافتوں، نسلوں کو عبور کیا ہے۔ ان کے پیغام اور جذبے نے دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ “میں وہ دن کبھی نہیں بھولوں گی جب 10 سال قبل وہ اقوامِ متحدہ میں آئی تھیں۔ ایک نوجوان لڑکی جس نے وہاں پوڈیم پر دنیا کے سامنے ایک مضبوط اور واضح آواز میں اعلان کیا تھا کہ ایک بچہ، ایک استاد، ایک کتاب، ایک قلم دنیا کو بدل سکتا ہے۔”

SHARE

LEAVE A REPLY