شاہ سلمان کا ایران کے خلاف امریکا کی حکمت عملی کا خیر مقدم

0
785

سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے ایران کے خلاف امریکا کی پُرعزم اور دُور اندیش حکمت عملی کو خیر مقدم کیا۔
سعودی فرماں روا نے واشنگٹن کی اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر عالمی امن کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کی خواہش کو باور کرایا۔
اس سے قبل سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے اعلان کردہ حکمت عملی کو بھرپور انداز سے سراہا تھا۔
مملکت کی جانب سے جاری بیان میں ٹرمپ کے ویژن ، امریکا کے حلیفوں کے ساتھ مل کر ان کے کام کرنے اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ ان چیلنجوں میں خطے میں ایران کی دشمنانہ پالیسیاں سرفہرست ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران کے حوالے سے اپنی نئی تزویراتی پالیسی کے اعلان کے موقع پر کہا کہ انہیں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے معاہدے میں ایران کی جانب سے عمل درامد پر یقین نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کانگریس کے ساتھ مل کر معاہدے کو تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ہم اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر ایران کی ’تباہ کن‘ سرگرمیوں کا مقابلہ جاری رکھیں گے۔ دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کے لیے ہم ایران پر مزید پابندیاں لگائیں گے، ایران کے میزائل پروگرام کے مسئلے سے نمٹتے ہوئے پڑوسی ممالک کو لاحق خطرات کا سد باب کریں گے اور ایران کو کسی قیمت پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اجازت نہیں دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی نئی تزویراتی حکمت عملی نافذ العمل ہونے جا رہی ہے جس کا آغاز پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کرنے اور اس پر پابندیاں عائد کرنے سے کیا جائے گا۔ پاسداران انقلاب ’بدعنوان‘ سپریم لیڈر کی نمائندہ فورس ہے اور سپریم لیڈر تمام توانائیاں انارکی پھیلانے پر صرف کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں ںے وزارت خزانہ کو پاسدارن انقلاب اور اس کے ماتحت اداروں پر پابندیوں کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا سمجھوتا کیا جانا چاہیے جس میں امریکی مفادات کا تحفظ زیادہ بڑے پیمانے پر کیا گیا ہو۔
وہائیٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ملائیت پر مبنی نظام کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران آمرانہ نظام کے تحت چل رہا ہے جو پوری دنیا میں انارکی پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔ یہ نظام دنیا بھر میں امریکیوں پر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث رہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY