سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف نااہلی کی درخواست مسترد کردی۔

0
93

عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کی نااہلی کے حوالے سے کیس کا فیصلہ سنادیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔

عمران خان پر نیازی سروسز لمیٹڈ نام کی آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنے جبکہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین پرآف شور کمپنی چھپانے کا الزام تھا۔

مقدمے میں عمران خان اور جہانگیر ترین کوآئین کےآرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل کرنے کی استدعاکی گئی ۔

فیصلے کے وقت سپریم کورٹ کا کورٹ روم نمبر ایک کھچا کھچ بھرا ہوا تھااوردرخواست گزار حنیف عباسی، وزیراطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سمیت ن لیگ کے متعدد رہنما عدالت موجود تھے۔

عمران خان اور جہانگیر ترین سپریم کورٹ موجود نہیں تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کراچی کے دورے کے باعث نہیں آئے، تاہم فواد چودھری اور فردوس عاشق اعوان سمیت تحریک انصاف کے کئی رہنما عدالت میں موجود تھے۔

مسلم لیگ ن کے حنیف عباسی نے آف شور کمپنی چھپانے، بنی گالا کی جائیداد کی خریداری کی شفاف منی ٹریل نہ ہونے پر نااہلی کی درخواست دائر کی تھی۔

مقدمہ 405دن تک چلا، جس کی 50سماعتوں میں 101گھنٹے کی عدالتی کارروائی ہوئی، جس کے دوران تقریباً 7ہزار دستاویزات پیش کی گئیں۔

گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3 رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر الگ الگ درخواستوں پر سماعت کی۔

کیس کی آخری سماعت میں چیف جسٹس نے آبزرویشن دی تھی کہ عمران خان نے لندن فلیٹ ظاہر کیا لیکن کبھی آف شور کمپنی ڈکلیئر نہیں کی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں اثاثے اور آف شور کمپنیاں ظاہر نہ کرنے سمیت بیرون ملک سے حاصل ہونے والے مبینہ فنڈز سے پارٹی چلانے کے الزامات پر مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔

اس کیس میں عمران خان کے مقدمے کی پیروی نعیم بخاری، جہانگیر ترین کی سکندر مہمند جبکہ حنیف عباسی کی وکیل اکرم شیخ کر رہے تھے

SHARE

LEAVE A REPLY