تاریکی میں ڈوبا ہوا بند دماغ اور مرا ہوا دل رکھنے والے سوچ اور سوال سے نفرت کرتے ہیں ، اختلاف رائے برداشت کرنا تو بہت دور کی بات ہے یہ مخالف رائے کو سننا بھی پسند نہیں کرتے ، یاد رہے کنویں کا مینڈک کنوئیں میں نہیں رہتا اُس کی سوچ کنوئیں میں رہتی ہے ، سینکڑوں سال پرانی سنی سنائی باتوں کو زندگی کا مقصد سمجھنے والوں کے سامنے حقیقت بے لباس ہوکر بھی آجائے تو اُسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں
یہ مرنے سے ہہلے مر جانے والے وہ انسان نما کیڑے مکوڑے ہیں جو علم و حکمت اور تحقیق و جستجو سے نفرت کرتے ہیں ، بیمار اور لاعلاج مرض میں مبتلا معاشروں میں یہ اکثر پارسائی کے لبادوں میں نظر آتے ہیں ، ان کے خیالات سے رسنے والا جہالت کا لیس دار مادہ ان کی زبانوں سے خارج ہوتا ہے اور یہ اکثر اپنی کہی ہوئی باتوں کو چاٹ لیتے ہیں کیونکہ یہ جو کہتے ہیں خود بھی اُس پر عمل نہیں کرتے
ان کے قول و فُعل میں بڑا واضح تضاد ہوتا ہے ، دنیا کی ریس میں ان کا شمار اُن بھونکنے والے کتوں میں ہوتا ہے ، جو بھونکتے غیروں پر ہیں مگر کاٹتے اپنوں کو ہیں ، یہ اپنی پہچان کو چھپا نہیں سکتے اس لیے یہ کسی بھی رنگ نسل یا لباس میں ہوں پہچانے جاتے ہیں ، ایسے لوگ بدکردار معاشروں کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں
تحریر : عُزیررشید













