چند دن پہلے مجھے انسٹاگرام پر ایک لڑکی کا میسج موصول ہوا، اُس نے لکھا عُزیر بھائی میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ آپ ایک ویڈیو بناکر میری کہانی کو لوگوں تک پہنچایں ، اگر آپ ایسا کریں گے تو میں اپنی آخری سانس تک آپ کے لیے دعاگو رہوں گی ۔
میں نے اُسے رپلائی کیا کہ وہ اپنی کہانی مجھے لکھ کر بھیج دے ، میں اُسے پڑھ کر دیکھوں گا اور اگر مجھے لگے گا کہ اس میں کوئی خاص بات ہے تو میں ضرور اسے اپنے ویڈیو کا حصہ بناؤں گا ۔
دو دن بعد اُس لڑکی نے اپنی کہانی اور کچھ تصاویر مجھے ان بکس میں بھیج دیں ، اس لڑکی کی تصاویر دیکھ کر اور کہانی پڑھ کر میں شدید کرب میں مبتلا ہوگیا ۔ میں نے اس سے کہا کیا تم ایک منٹ کے لیے مجھے ویڈیو کال کرسکتی ہو ؟
میں صرف اس کہانی کو آپ تک پہنچانے سے پہلے اس کے مرکزی کردار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا ۔ اس لڑکی نے انسٹاگرام پر مجھے ویڈیو کال کی اور جونہی میں نے اس کا چہرہ دیکھا میرے پاس کہنے کے لیے کچھ نہ بچا تھا ، الفاظ کو اکثر میرے اردگرد گھومتے ہیں میرا ساتھ چھوڑ کر جاچکے تھے ، یہ چند سیکنڈ کی کال تھی جس میں میں ایک لفظ بھی نہ بول سکا مگر اُس لڑکی نے روتے ہوئے مجھے صرف اتنا کہا ، عُزیر بھائی اب تو آپ نے مجھے دیکھ لیا ہے اب تو آپ میری کہانی پر ویڈیو بناو گے ناں ؟ لوگ آپ کی بات بہت غور سے سنتے ہیں آپ بولو گے تو میرا مقصد پورا ہوجائے گا ، یہ کہہ کر اُس نے کال بند کردی ۔
میں نے اسے لکھا ، اے دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی میری پیاری بہن ، میں ضرور تیری کہانی کو دنیا تک پہنچاؤں گا ،


آواز اور تصویر کی دنیا کے دوستو ! آج اس ویڈیو کی وساطت سے میں اپنا وعدہ پورا کرنے جارہا ہوں اور آج بھی اسے کہنے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے مگر سوچنے کے لیے بہت کچھ ہے ، آپ بھی سنو گے تو بہت سوچو گے ، اگر یہ سچی کہانی آپ کے دل پر دستک دے تو جو مجھ سے نہ کیا جا سکا وہ آپ کہہ دینا ، کمنٹس میں لکھ دینا ، وہ آپ سب کے کمنٹس ضرور پڑھے گی ، یہ ہے اُس پیاری سی لڑکی کی مختصر سی کہانی ، جسے تھوڑی سی ترمیم کرنے کے بعد اُسی کے الفاظ میں میں آپ تک پہنچا رہا ہوں ۔
عُزیر بھائی میرا نام فاطمہ ہے اور میں سیالکوٹ شہر کی رہنے والی ہوں ، میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں اور آج کا دن میری زندگی کا ایک بہت اہم دن ہے کیونکہ آج میری سالگرہ ہے ، آج سے پورے 26 سال پہلے میں ایک بہت شریف اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئی جہاں اولاد کی زندگی کے زیادہ تر فیصلے اس کے ماں باپ ہی کرتے ہیں ۔ میرے والد ایک عالم اور حافظ قرآن تھے اور اُن کی خواہش پر میں نے بھی بہت چھوٹی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا تھا ، اُس کے بعد میٹرک کا امتحان پرایئوٹ طالب علم کی حثیت سے دیا اور فرسٹ ڈویژن میں اچھے نمبروں کے ساتھ پاس ہوگئی ، میٹرک کے فوری بعد میرے والد نے اپنے چھوٹے بھائی یعنی میرے چچا کے اکلوتے بیٹے امجد سے میری منگنی کی رسم ادا کردی ، اور یہ فیصلہ ہوا کہ شادی دو سال بعد کی جائے گی ، میں آگے پڑھنے کی خواہش مند تھی اور میرے والد نے میری اس خواہش کو پورا کرتے ہوئے مجھے گھر کے قریب ایک گرلز کالج میں داخل کروادیا ، میں پڑھنے میں بہت لایق تھی فرسٹ ایر میں بہت اچھے نمبروں کے ساتھ پاس ہوئی ، میں اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھی جسے کالج میں پڑھنے کی اجازت ملی تھی ، مگر میرے چچا اور اُن کے بیٹے یعنی میرے منگیتر کو میرا کالج جانا پسند نہیں تھا ، میرے چچا میرے والد سے کہتے تھے لڑکی کو پڑھا کر کیا کرو گے آخر تو اس کی شادی ہوجانی ہے ۔
مگر میرے والد مجھے پڑھانا چاہتے تھے وہ ہر روز مجھے اپنے سکوٹر پر کالج چھوڑنے جاتے اور پھر لینے آتے ، یہ میری زندگی کے سب سے خوشگوار دن تھے ، اُن دنوں میں ایف اے کے امتحانات کی تیاری کررہی تھی جب ایک دن میرے والد بہت پریشانی کے عالم میں گھر داخل ہوئے ، انہوں نے آتے ہی میری والدہ سے کہا کہ میں نے فاطمہ کی امجد کے ساتھ منگنی توڑ دی ہے ، تم ان لوگوں کو ان کی انگوٹھی واپس کردو ۔
میرے والد نے بتایا کہ لڑکا نشہ کرتا ہے اور آوارہ لوگوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے ، آج تو اس نے حد ہی کردی ، شراب پی کر آیا اور سب کے سامنے میرے ساتھ ہی بدتمیزی سے پیش آیا ، ہم ایسے شخص کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرسکتے ۔
مجھے اپنی منگنی کے ٹوٹنے کا نہ تو کوئی دکھ تھا اور نہ ہی کوئی خوشی ، میری ساری توجہ تو پڑھائی پر تھی اور میں اپنے ایف اے کے امتحانات کی تیاری میں مصروف تھی ، جب وہ منحوس دن آیا جس نے میری زندگی ہی بدل کر رکھ دی ۔
اُس دن میرے والد اور والدہ گھر پر نہیں تھے اور ہمارے ایک رشتہ دار کی فوتگی میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے ، جب اچانک دروازے پر بڑی زور کی دستک ہوئی ، میں اور میری بوڑھی دادی گھر میں اکیلے تھے ، میں نے دروازہ کھولا تو سامنے میرے چچا کا بیٹا میرا سابقہ منگیتر امجد کھڑا تھا ، اس کے منہ سے عجیب سی بدبو آرہی تھی ، اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھسیٹتا ہوا میرے کمرے میں لے گیا ، اس نے میرے والدین کو گالیاں دینا شروع کردیں کہ تم لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی ہمیں رشتے سے انکار کرنے کی ، وہ مسلسل میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کررہا تھا اور میں شور مچا رہی تھی ، میرا شور سن کر میری دادی جاگ گئی اور مجھے آواز دیتی ہوئی میرے کمرے کی طرف آنے لگی ، تبھی اس شخص نے اپنی جیکٹ کی جیب سے ایک بوتل نکالی جو تیزاب سے بھری ہوئی تھی ، اس نے کہا اب دیکھتا ہوں کون تم سے شادی کرئے گا یہ کہہ کر اس نے تیزاب میرے چہرے پر پھینک دیا اور خود وہاں سے بھاگ گیا ، مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس نے میرے چہرے پر تیزاب پھینکا ہے مگر جب وہ میرے چہرے پر گرا تو مجھے لگا میرا چہرہ پگھل کر گررہا ہے ، میں بے ہوش ہوگئی ، جب میری آنکھ کھلی اور ہوش میں آئی تو میں ہسپتال میں تھی ، میری ماں نے میرا ہاتھ پکڑ رکھا تھا وہ رو رہی تھی ، مجھے شدید درد ہورہا تھا میں پھر بے ہوش ہوگئی ، عُزیر بھائی وہ دن ہے اور آج کا دن ہے اس درد کی مجھے عادت پڑچکی ہے ، کئی آپریشن ہوئے کئی مراحل سے گزری مگر چہرہ اب کسی کو دکھانے کے لایق نہیں ہے ، پولیس نے امجد کو پکڑنے کے لیے کئی جگہ چھاپے مارے مگر وہ اس کے بعد کسی کو نظر نہ آیا ، بعد میں پتہ چلا کہ وہ ملک چھوڑ کر دبئی فرار ہوگیا ہے ، کچھ عرصہ بعد میرے چچا اور ان کی فیملی بھی اپنا گھربار اور کاروبار بیچ کر دبئی چلے گئے ، میرے والد اس دکھ کو برداشت نہ کرسکے ان پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ اس واقعہ کے چھ ماہ بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے ، میری دادی بہت روتی تھی آخر وہ بھی چلی گئی اور اب اس دنیا میں میری ماں اور میں اکیلے رہتے ہیں ، میں نے کچھ دن ایک سکول میں بطور ٹیچر کام کیا مگر بچے مجھے دیکھ کر ڈر جاتے تھے اس لیے میں نے پڑھانا بھی چھوڑ دیا ، اس واقعہ کو چھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے ، آج کل میں آن لاین کام کرتی ہوں ، مختلف کھانے پکاتی ہوں اور ہوم ڈلیوری سروس کے ذریعے لوگ منگوا لیتے ہیں ، میرے ماموں اور والدہ اس کام میں میری مدد کرتے ہیں ، ہمارے گھر میں سب کچھ ہے مگر آینہ نہیں ہے ، میرا چہرہ جل کر بہت بھیانک ہوچکا ہے ۔
میری عمر کی لڑکیاں خواب دیکھتی ہیں مگر مجھے خواب میں بھی چیخیں سنائی دیتی ہیں ، میں خواب میں بھی خود کو دیکھ لوں تو ڈر جاتی ہوں حقیقت تو خواب سے بھی زیادہ خوفناک ہے ۔
میں نے آپ کو اپنی پرانی اور نئی تصویریں بھیجی ہیں ، میں بہت خوبصورت تھی مگر اب بہت بدصورت ہوں ، اپنے چہرے کو ہر وقت ڈھانپ کر رکھتی ہوں لوگ دیکھتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں ۔
عُزیر بھائی لوگ کہتے ہیں میرے ہاتھ میں ذایقہ ہے ، کھانا بناتی ہوں تو سب بہت پسند کرتے ہیں ، میرے خواب مرچکے ہیں مگر میں ابھی زندہ ہوں ، میرے دل میں بدلہ لینے یا کبھی بھی اس شخص کو سزا دلوانے کا خیال نہیں آیا میں اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ چکی ہوں ۔
عُزیر بھائی آپ تو کہتے ہیں اچھا کرو تو اچھا ہوتا ہے ، میں نے تو کبھی کسی کا بُرا نہیں کیا پھر میرے ساتھ اتنا برا کیوں ہوا ، آپ کہتے ہو برا وقت گزر جاتا ہے اچھا وقت ضرور آتا ہے مگر میرا اچھا وقت تو آنے سے ہہلے ہی گزر گیا ، اور برا وقت بالکل میرے چہرے کی طرح ہے جو ہر وقت میرے ساتھ ہی رہتا ہے ۔
عُزیر بھائی مجھے خدا سے ملنے کا بہت شوق ہے جب اس سے ملوں گی تو ضرور پوچھوں گی آخر میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا ، میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ، میرا کیا قصور تھا ، مجھے کس جرم کی سزا ملی ؟
محلے کے بچے مجھے چڑیل کہتے ہیں اور ہمارے گھر آنے سے بھی ڈرتے ہیں ، عُزیر بھائی آپ نے تو مجھے دیکھا ہے کیا آپ کو بھی میں چڑیل لگتی ہوں ؟
مجھے کسی بھی قسم کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی میرے دل میں کسی چیز کی کوئی خواہش ہے ، مجھے بس امید اور زندگی سے بھری آپ کی باتیں اور آواز اچھی لگتی ہے ، اس چڑیل کی صرف ایک خواہش ہے اور وہ یہ کہ آپ میری کہانی دنیا کو سنایئں ، شاید آپ کی آواز سن کر مردوں کے اس بے رحم معاشرے میں میرے جیسی کوئی اور لڑکی چڑیل بننے سے بچ جائے ، اگر آپ میری آواز بنیں گے تو میں اپنی آخری سانس تک آپ کے لیے دعاگو رہوں گی ۔
فقط ایک چڑیل

SHARE

1 COMMENT

  1. یہ اس سرمایہ دارانہ پدرسری نظام کا المناک قصہ ہے، اس طرح کے کتنے ساری لڑکیاں اس ظلم کا شکار ہیں ـ اس بچی کی کہانی اس دنیا کی تمام مظلوم بچیوں کی کہانی ہے ـ یہ بچی بہت خوبصورت ہے اس کی اندر کی خوبصورتی نے دل موہ لیا ہے ـ کیا ہی اچھا ھو کہ اس ملک میں خواتین کے لیے حفاظت کا کوئ نظام ہو ـقانون ھو اس پر عمل ہو ـ اس کا ایک جملہ ـ مجھے خدا سے ملنا ہے “اف “

LEAVE A REPLY