بابا رحمتےحسین نقی سے معافی مانگے،انور عباس انور

0
956

جسٹس میاں ثاقب نثار نے فرمایا تھا کہ وہ بابا رحمتے ہے لہذا بابا رحمتے کی عزت کرنی چاہیے ۔
لیکن گذشتہ روز اسی بابا رحمتے نے اس ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوریت کی بحالی اور استحکام کے لیے اپنے قلم کی روشنائی سے ہر آئین دشمن کے منہ سے جھاگ چھڑوانے والے قافلے کے اہم رکن حسین نقی کے ساتھ جس قسم کا سلوک کیا، جو انداز اور جس قسم کے جملے کہے وہ لائق مذمت ہیں ۔
حسین نقی نے اس ملک میں جمہوریت، آئین اور قانون کی بساط لپیٹے کے لیے شب خون مارنے والوں کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے خون اس ملک، جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کی آبیاری کی ہے۔
بابا رحمتے ،ان کے رفقائے کار اور انکے ادارے نے جن آمروں کے تلوے چاٹے اور اپنی ” دو ٹکے کی نوکری ” پکی کرنے کے لیے آمروں کی زیر جامہ مالش تک کرنے کی مشق کی حسین نقی نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کی ہے ۔اپنے قلم سے انہیں للکارا ۔ آزادی اظہار رائے اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ساری زندگی وقف کیے رکھی ۔بابا رحمتے اس کی تضحیک اس لیے کرتا ہے کہ ان کے ایک پیٹی بند بھائی کو نوکری چھوڑنی پڑی ۔
بابا رحمتے حقائق کو جاننے کی کوشش کرتا تو صورتحال مختلف ہوتی ۔ عزت سب کو پیاری ہوتی ہے اس ملک کے بہی خواہوں کو بابا رحمتے کا طرز عمل سے دکھ ہوا ہے ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار حسین نقی سے اور ساری صحافی برادری سے بھری عدالت میں معافی مانگ کر حسین نقی کی عزت و وقار اور احترام کو اپنے عمل سے ثابت کرے ۔

انور عباس انور

SHARE

LEAVE A REPLY