لہو لہو پارہ چنار۔ سید اکمل حسین۔ 17ویں آخری قسط

1
2124

آخری قسط ۔۔۔۔۔۔۔۔سید اکمل حسین

ویسے تو پاکستان میں بہت سی موسمی جشن منائے جاتے ہیں خاص کر پاکستانی صوبے پنجاب کے شہر لاہور میں جشن بسنت یعنی بہار کی آمد کو بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے؛ بسنت کا تہوار خوشی سے منایا جاتا تھا؛ اس کی تیاریاں کئی ہفتوں قبل ہی شروع کر دی جاتی ہیں رنگ برنگی پتنگیں جنہیں پنجاب میں گڈیاں بھی کہاجاتا ہے، دکانوں میں سجی نظر آتی ہیں خالی جگہوں پر لکڑی کے ستون گاڑ کر مانجھا یعنی کانچ لگی ڈور تیار کی جاتی ہیں؛ بسنتی رنگ کے ہیئر پن تیار کئے جاتے، بسنت والے دن صبح سے ہی گھروں کی چھتوں اور دالانوں سے پتنگ اڑانے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا جن کے گھروں میں ایسی سہولتیں نہ ہوتیں وہ کھلے پارکوں، میدانوں اور باغات وغیرہ میں ٹولیاں بناکر پتنگ بازی کا مقابلہ کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ پاراچنار کے مختلف مقامات پر ایرانی نئے سال کا جشن شایان شان طریقے سے منایا جاتا ہے اور ہزاروں افراد کی موجودگی میں پرچم کشائی کی جاتی ہے؛ پاراچنار کے علاقوں زیڑان، شبلان، عملکوٹ، ٹپرے اور دیگر گاؤں میں واقع علی زیارت میں ایرانی نئے سال کے موقع پر جشن نوروز منایا جاتا ہے، جس میں سب سے بڑی تقریب زیڑان میں حضرت علی علیہ السلام کے زیارت میں منعقد ہوتی ہے اورہزاروں افراد حصہ لیتے ہیں؛ پاراچنار میں ایرانی نئے سال کا جشن بھر پور طریقے سے منایا جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے ہیں اور خصوصی دعوتوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔نیز، پاکستان میں قائم ایرانی کلچرال ہاوسز میں بھی نوروز تہوار سے متعلق مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

بعض تاریخ نویس افغان حکمرانوں کے کرتوت پارہ چنار کے کھاتے میں ڈالنے پہ بضد کیوں نظر آتے ہیں
اس کاآپ اندازہ ان چند سطور میں کریں! تاریخ گواہ ہے کہ افغان بادشاہ اور انکے بیٹے اور داماد و رشتہ دار خود انگریزوں کی گود میں بیٹھتے رہے، کبھی پشاور و پنجاب سے سکھ رنجیت سنگھ کے ساتھ مل کر کابل پر حملہ آور ہوتے ہیں اور کبھی ایرانیوں کے ساتھ مل کر ہرات و قندھار تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ کبھی روس کے ہمنوا ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اورکبھی امریکی چھتری کے سائے تلے بیٹھ جاتے ہیں مگر تاریخ نویس افغان حکمرانوں کے کرتوت قبائل کے کھاتے میں ڈالنے پہ بضد نظر آتے ہیں۔
افغان جنگ 80-1878 ختم ہوئی تو وادئ کرم میں افغانستان کا کوئی گورنر نہیں رہا۔ 26 دسمبر 1878 کو میجر جنرل رابرٹس نے وادئ کرم کے تمام قبائل سے خطاب کیا اور چلتے بنے۔ خطاب میں مذہبی معاملات اور سماجی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے علاوہ ایک مولوی کو برطانوی راج کے خلاف اکسانے پر علاقہ بدر اور دوسرے کو گرفتار کرنے کی خبر دی۔ انگریز جنرل کے تقریر سے لگتا ہے کہ وادئ کرم کے طوری۔بنگش سمیت منگل، مقبل، زازی پاڑہ چمکنی سارے قبائل موجود تھے، طوری۔بنگش قبائل کا خاص ذکر ہے جنہوں احمد زئی میں موجود افغان گورنر کی چھاؤنی جلائی۔ اس تقریر کے بعد جنرل رابرٹس خوست کی طرف گئے اور وادئ میں کوئی مداخلت نہ کرنے کی پالیسی اپناتے ہوئے وادئ کرم کو آزاد چھوڑ دیا۔

گندمک میں سرنڈر کے زخم ابھی تازہ تھے کہ امیر عبدالرحمن نے ڈیورنڈ لائن ایگریمنٹ پر دستخط کردیئے اور ایک انگریز کو مکمل اختیار دیا کہ وہ جہاں سے گزرے وہاں ہندوستان اور افغانستان کا بارڈر ہو گا۔ امیر عبدالرحمن کی شیعہ دشمنی اتنی شدید تھی کہ ڈیورنڈ لائن پر کرم کو دم خنزیر کہا کرتے تھے اور خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے کہ دم ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔

اب وادئ کرم مکمل آزاد ریاست بن چکی تھی اور طوری۔بنگش قبائل نے حکومت کرنے کے لئے اپنے دو گورنر منتخب کئے جو ایک سید، جناب سید گل بادشاہ صاحب اور ایک میاں مرید جناب محمد نور خان صاحب تھے۔

وادئ کرم کی حالت ایک جنگل کی طرح تھی، جہاں ہر طرف لاقانونیت تھی۔ طوری قبائل آپس میں بھی لڑ رہے تھے اور ارد گرد بسے سنی قبائل بھی وادئی کرم پر حملہ آور ہوئے۔ طوری قبائل بھی ٹل اور کوہاٹ تک دیگر قبائل پر حملے کرتے رہے۔ لامتناہی جنگوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اور سرور خان المعروف “چکئی” سنی قبائیل کو اکٹھا کرکے لوئر وادئ پر حملے کرکے طوری بنگش قبائل کے علاقوں پر قبضہ کرکے اپر کرم کی طرف بڑھ رہے تھے۔

چکئی سرور خان نے عیاری سے پہلے چنارک پر قبضہ کیا اور خوست میں گورنر کے بھائی کو ہٹانے کے مشن پر چلے، وہاں کامیاب ہوکر کابل پہنچے تو اپنے آپ کو کنگ میکر سمجھنے لگے۔
پن چکی (ژرندی گڑئ) چلانے والے جو اجرتی قاتل اور پیشہ ور ڈاکو و رہزن بن گئے تھے۔ اہل سنت پشتون قبائل ان ڈاکوؤں کے گرد جمع ہوئے اور لوئر کرم سے طوری بنگش قبائل کو بےدخل کر کے وہاں گورنر بن گئے۔ انگریزوں نے مصلحت (ڈیوائڈ اینڈ رول) کے تحت آنکھیں بند کیں جبکہ چکئی سرور خان مشن کے پیچھے افغان حکمران عبدالرحمن خان بھی تھے جو وادئ کرم کو واپس کابل کے زیر تسلط لانے کے خواہشمند ہو چکے تھے۔

افغانستان کے جتنے بھی مسائل اور ناکامیاں ہیں ان کے ذمہ دار اس کی نااہل لیڈرشپ اور سیاسی ہٹ دھرمیاں ہیں
سوال اُٹھتا ہے کہ ایسے حالات میں آفریدی قبائل یا وزیر و محسود قبائل اور طوری بنگش قبائل کے پاس کیا آپشن دستیاب تھے؟ وادئ کرم کے افغانستان کے ساتھ حالات گونر اعظم خان سے پہلے بھی ٹھیک نہیں تھے جس کی کئی وجوہات ہیں لیکن یہاں سے وادئ کرم کی افغانستان سے علیحدگی اور ہندوستان میں شامل ہونے کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ اس میں
قبائلیوں کو دوش دینا زیادتی ہے بلکہ افغانستان کے جتنے بھی مسائل اور ناکامیاں ہیں ان کے ذمہ دار اس کی نااہل لیڈرشپ اور سیاسی ہٹ دھرمیاں ہیں۔

وادئ کرم 1901 سے 2018 تک کرم ایجنسی تھی۔ 1901 سے پہلے وادی کرم کبھی افغانستان تو کبھی ہندوستان کے زیر تسلط رہا اور کبھی شورش کی وجہ سے آزاد حیثیت میں بھی کام چلتا رہا۔ انگریزوں نے وادئ کرم میں طوری لیوی (طوری ملیشیا) کی بنیاد رکھی تو اس سے پہلے خیبر رائفلز میں آفریدی قبائل، وزیرستان سکاؤٹس میں وزیر اور محسود قبائل، اسی طرح باجوڑ اور مہمند میں ملیشیا کھڑے کر دیئے تھے اور سب قبائل ملیشیا میں بھرتی ہو کر انگریزوں کے ساتھ شانہ بشانہ لڑتے رہے اور آج بھی وہ سب ملیشیا قائم و دائم ہیں اور سب قبائل بھی۔ صرف طوری ملیشیا یا کرم ملیشیا کو مورد الزام ٹھہراتے رہنا تاریخی بددیانتی ہے، جس کا ازالہ نہایت ضروری ہے۔ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے سے تاریخ نہیں بدلتی۔ قلم کار اور لکھاری اگر تاریخ کے دسترخوان پر حرامخوری شروع کریں تو اقوام کی حالت وہی ہوتی ہے، جو پشتون قوم کی ہے۔

جب سے پشتون اس علاقے میں آباد ہیں طوری بنگش قبائل بھی وادئ کرم پر قابض ہیں اور تین سو سال سے مسلکی تعصب کا نشانہ بنتے آ رہے ہیں۔ اکثر مؤرخین نے انہیں
رافضی جیسے الفاظ کے ساتھ تاریخ میں یاد کیا کرکے تعصب برتا ہے جبکہ اہل سنت قبائل پانچ سو سال سے وادئ کرم کے اہل تشیع آبادی کو کافر سمجھ کر قتل کرکے ثواب دارین حاصل کرنے کے چکر میں ایک دوسرے پہ سبقت لینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مگر اس میں بہت سے اور بھی بہت سے عوامل بھی شامل ہیں خاص کر علاقائی اثر رسوخ اور حکومتی احکام کا اثر رسوخ مگر حکومت امن و امان رکھنے مین ناکام ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اگر کچھ فہم و فراست سے کام کیا جائے تو ان معلات کو آسانی سے حل کیا جا سکتا تھا ۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

سولہویں قسط ,,,سید اکمل حسین

سماجی کارکن کے مطابق ’پاڑہ چمکنی سے پاڑہ چنار کو نشانہ بنایا گیا۔ پاڑہ چمکنی بلندی پر واقع ہے اور وہاں سے پاڑہ چنار پر بھاری اسلحے سے فائرنگ کی گئی جس سے بچے اور خواتین بھی زخمی ہوئے۔‘ پاڑہ چنار کے نواحی علاقے کے رہائشی میاں خیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس جنگ کے دوران بڑے ہتھیار بھی استعمال ہوتے رہے۔ یہ دو قبائل کی جنگ نہیں بلکہ دو ملکوں کی جنگ لگ رہی تھی جس میں راکٹ لانچر، میزائل، بڑی بندوقیں سب کچھ استعمال ہوتا رہا‘۔
ان الزامات پر جب ضلع کرم میں حکام سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی جواب نہیں ملا تاہم علاقے سے حکومتی اتحاد کے رکنِ قومی اسمبلی انجینیئر حمید حسن کا کہنا ہے کہ ’افغانستان سے متصل ضلع کرّم ایک حساس علاقہ ہے اور جب علاقے کے مسائل حل نہیں کیے جاتے تو سازشیں کرنے والوں کو مواقع ملتے ہیں۔‘

’حالیہ واقعہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ یہ زمین کا تنازعہ تھا مگر بدقسمتی سے فرقہ واریت کی جنگ میں بدل گیا جس کے بعد پورے علاقے میں دونوں فرقوں کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف مورچہ
زن ہو گئے جبکہ افغانستان سے بھی مداخلت ہوتی رہی تھی کیونکہ پاکستان اور افغانستان میں ا یک دوسرے کے رشتہ دار قبائل موجود ہوتے ہیں۔‘

حمید حسن کہتے ہیں کہ ’حالیہ تصادم کا تو کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ سب کچھ طے تھا صرف عملدر آمد ہونا تھا، وہ تو ہوا نہیں مگر معاملہ ایک جنگ میں تبدیل ہو گیا۔‘
ان کے مطابق ’زمین کا ایسا تنازعہ فرقہ واریت میں بدلنے میں چند منٹ لگتے ہیں۔ جب تنازعہ شروع ہوتا ہے تو اس وقت ہی کچھ شرپسند لوگ فعال ہوجاتے ہیں۔ علاقوں اور مساجد میں اعلانات شروع ہو جاتے ہیں۔ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، افواہیں پھیلائی جاتی ہیں اور لوگوں کو اپنے اپنے فرقے کے نام پر بلایا جاتا ہے‘۔

رکن قومی اسمبلی کے مطابق ’بوشہرہ والے تصادم میں بھی یہ ہی ہوا جب زمین کا تنازعہ معاہدے کے مطابق حل نہ ہوا اور زمین گلاب ملی خیل کے حوالے نہ کی گی تو پھر یہ تنازعہ بوشہرہ سے بڑھتے ہوئے مختلف مقامات تک جا پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ پہلے ہی زمین کے تنازعہ کو حل کرتی تو کبھی بھی ایسے نہ ہوتا۔
اس تنازعے کا حل کیا ہے؟
کرّم کی سماجی تنظیم ریفارم کمیٹی کے سربراہ عطا اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جرگوں کے فیصلوں اور ان کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد نہ کروانا اس تنازعے کے بار بار سر اٹھانے کی وجہ بن رہا ہے۔

ان کے مطابق ’ہر کچھ عرصے کے بعد زمین کے تنازعات کو فرقہ واریت کا رنگ دیا جاتا ہے جس کے بعد جرگے ہوتے ہیں، معاہدے ہوتے ہیں مگر ان معاہدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے حالانکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان معاہدوں پر عمل کروائے اور حق داروں کو حق دلائے مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو پھر سازشیں بھی ہوتی ہیں اور مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔‘
اس وقت علاقے میں انتہائی خوف کا سماں ہے۔ اپر کرم اور لوئر کرم کے درمیان لوگوں کی آمدورفت تقریباً معطل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کہ آج اپر کرم کے ایک گاؤں سے کچھ افراد ایک قافلے کی شکل میں جا رہے تھے کہ ان کے راستے میں بھی کچھ افراد نکل آئے۔ قافلے کے ساتھ سکیورٹی تھی اس لیے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
’سات افراد کے قتل کے بعد ضلع کرم کے تعلیمی ادارے مکمل بند ہیں اور امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس بھی بند ہے۔‘
محمد جمیل کے مطابق اس وقت علاقے میں جگہ جگہ پولیس اور کرم ملیشیا کے اہلکار تعینات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل میں تنازعات کو حل نہ کرنا شیعہ سنی تصادم کی بنیاد بن جاتا ہے۔ ’حالیہ تصادم میں مقامی عام لوگوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ زمین کا تنازعہ اب فرقہ وارانہ تصادم کی شکل اختیار کرلے گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کو اس بارے میں اندازہ نہ ہو؟‘
امن کمیٹی کے رکن ملک محمود علی جان کے مطابق کرّم میں اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیاں صرف زمین کا ایک یہی تنازعہ نہیں ہے کم از کم پانچ دیگر اور بڑے تنازعات بھی موجود ہیں جن پر بڑی لڑائیاں ہو چکی ہیں۔ان میں پیوار اور گیڈو تنازعہ، کنج علی زئی اور مقبل تنازعہ، بالش خیل اور پراچکنی تنازعہ، حمزہ خیل اور شورکو بنگش تنازعہ اور نور حسین اور بوشہرہ تنازعہ شامل ہیں۔
امن کمیٹی کے رکن کے مطابق ان سب تنازعات کو بھی حل نہ کیا گیا تو گلاب ملی خیل اور مدگی گے تنازعہ کی طرح یہ تنازعات بھی کسی وقت بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ضلع کرم میں مقیم قبائل علاقوں اور فرقوں کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔ اپر کرم کے علاقے تری مینگل میں اکثریت کا تعلق اہلسنت مکتبہ فکر سے ہے جبکہ پیواڑ میں مقیم افراد کا تعلق اہل تشیع برادری سے ہے۔ اسی طرح غوز گڑھی میں آباد قبیلے کا تعلق اہلسنت جبکہ کونج علیزئی میں مقیم قبیلے کا تعلق اہل تشیع برادری سے ہے

………………………..

پندرہویں قسط۔۔۔سید اکمل حسین

پارہ چنار میں اطلاعات کے مطابق بچوں میں وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور شفانہ خانہ بھر چکے ہیں اور علاج کے لئے ادویات کی قلت ہے اور علاقہ کے افراد نے اور شفانہ خانہ کی انتظامیہ کی جانب سے ادویات کی فراہمی کی اپیل کی جا رہی ہے مگر اس کام میں پارہ چنار جانے والی زمینی رستہ بند ہونے کی بنا پر اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا صرف ہوئی راستے کے ذرائع سے یہ اپیل کو پورا کرنے کی کوشیش کی جا رہی ہے ۔۔۔۔

پوسٹ گریجویٹ کالج پاراچنار کے سربراہ، پروفیسر جمیل کاظمی اس دور کو یاد کرتے ہیں کہ جب کرم میں شیعہ اور سنی بھائی بھائی بن کر رہتے تھے۔ وہ افسوس کے ساتھ کہتے ہیں، ’جہاں چھوٹی چھوٹی لڑائیوں میں دونوں فرقوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا وہیں سازشی عناصر ان دونوں کے درمیان دراڑیں پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے‘۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے کرم کی امن کمیٹی کے رکن ملک محمود علی جان نے وضاحت کی کہ ضلع میں اراضی پر تنازعات اکثر ہوتے رہتے تھے اور اسی وجہ سے حکومت نے گزشتہ سال یہاں لینڈ کمیشن قائم کیا تھا۔
وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ، ’بدقسمتی سے لینڈ کمیشن حکام اپنا کام کرنے میں ناکام رہے اور کرم سے چلے گئے۔ بالآخر پانی کی تقسیم، لکڑی کی کٹائی اور سڑکوں تک رسائی سے انکار پر کئی سالوں سے جاری قبائلی اختلافات، فرقہ وارانہ تنازعات میں تبدیل ہوگئے‘۔
ہر فرد اپنے اہل خانہ کے تحفظ کے لیے پریشان رہتا ہے، اگرچہ ریاستی ادارے اس علاقے میں امن قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن اس میں ناکامی کی وجہ سے عوام میں مایوسی بڑھ گئی ہے۔
پارا چنار میں موجودہ بربریت کا اثر صرف یہاں کے لوگوں تک محدود نہیں ہے۔ اس بربریت نے پورے ملک میں لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب ایک علاقے میں ایسا بدترین تشدد جاری ہو تو وہ دوسرے علاقوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ساجد طوری نے بتایا کہ وہ فاٹا (سابق) کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’لیکن یہاں راتوں رات نظام تبدیل ہوگیا اور ان قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخوا صوبے میں ضم کردیا گیا‘۔
ساجد طوری نے شکایت کی کہ، ’ہم نے یہ مسئلہ پہلے بھی اٹھایا ہے لیکن ہم سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا جن میں سالانہ ترقیاتی فنڈ کی فراہمی شامل ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرم اور دیگر علاقوں میں صورت حال مسلسل بگڑ رہی ہے۔
بنگش اور طوری قبائل کے سربراہ جلال بنگش نے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

پارا چنار کی صورت حال نے نہ صرف پاکستان کے اندرونی مسائل کو اجاگرکیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس صورتحال کو لے کر فکر پائی جاتی ہے۔ پارا چنار میں ہونے والی بربریت نے لوگوں کی زندگیوں کو اس طرح اجیرن کر دیا ہے کہ وہ نہ تو اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں بہتر طریقے سے انجام دے پا رہے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو ایک محفوظ اور پرسکون زندگی دے پا رہے ہیں۔
پارا چنار میں بربریت کا موجودہ دور ایک بہت ہی سیاہ دور ہے ریاست اور حکومت کے مختلف ادارے اس علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں مگر وہ پچھلے کئی برسوں سے اس میں ناکام ہیں۔
اس کے علاوہ، مقامی لوگوں کی جانب سے بھی امن کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مختلف تنظیموں نے اپنے اپنے طور پہ اس علاقے میں محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ لوگوں کو فرقہ وارانہ تشدد سے باہر نکالا جا سکے۔پارا چنار میں موجودہ بربریت ایک تلخ حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں کی خونریزی، فرقہ واریت اور دہشت گردی نے نہ صرف مقامی لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کیا ہے بلکہ پورے پاکستان کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ پارا چنار کے لوگ اس بربریت کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں اور حکومت اور عالمی برادری سے یہ امید ہے کہ وہ اس علاقے میں امن اور سکون قائم کرنے میں جلد کامیاب ہوں گے تاکہ پارا چنار کے لوگ بھی ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,

چودہویں قسط ۔۔۔سید اکمل حسین

پارہ چنار کے بارے میں قومی اسبلی کے رکن کا اہم بیانیہ اور دیگر کاروایاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭
تازہ ترین معلومات کے مطابق ایک بیا نیہ میں اہم رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے کہا کہ علاقے کے امن کے لیے پارلیمنٹ کے ہر اجلاس میں آواز بلند کرتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سننے کو تیار نہیں ۔ کرم ایجنسی کے لوگوں پر یہ جنگ زبردستی مسلط کی گئی ہے۔ خطے کے عوام کا یہ دو ٹوک فیصلہ ہے کہ کسی دوسری قوت کو کرم ایجنسی میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
پارا چنار میں ہونے والی موجودہ بربریت محض جنگ یا فوجی آپریشنزکی بدولت نہیں بلکہ اس کی جڑیں فرقہ وارانہ تشدد، دہشت گردی، ریاستی غفلت اور زمین کی ملکیت کے تنازعات کاشر انگیز تحفہ ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہاں کےبسنے والے ایک ایسی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں جوکوئی گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
پارا چنار کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ یہاں فرقہ وارانہ نفرت اپنے عروج پہ ہے۔ یہاں جب سے فرقہ وارانہ فسادات کا آغاز ہوا یہاں رہنے والوں کی زندگی ایک ڈراؤنے خواب جیسی ہوگئی۔
اس علاقے میں رہنے والوں کی زندگی 2005کے بعد سے، جب سے اس علاقے میں شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان شدید اختلافات بڑھنے لگے تو خونریزی اور تشدد روزمرہ کا معمول بن گیا۔ پارا چنار جو خیبر پختونخوا کے کرم ایجنسی میں واقع ہے، پاکستان کے ایک حساس اور بدقسمت علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ شہر تین طرف سے افغانستان کی سرحد سے جڑا ہے۔ یہاں ہونے والا فرقہ وارانہ تشدد ایک فرد یا گروہ کی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی غم کی داستان ہے۔

پارا چنار میں آج تک جو سب سے سنگین مسئلہ ہے، وہ فرقہ وارانہ تشدد ہے۔ اگرچہ یہ شہر ہمیشہ سے مختلف اقوام اور فرقوں کا مرکز رہا ہے،لیکن 2005 کے بعد یہاں شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان شدید کشیدگی شروع ہو گئی تھی۔ اس کشیدگی کا نتیجہ خونریزی اور قتل و غارت کی صورت میں نکلا۔ فرقہ واریت نے پورے علاقے کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔

یہاں کے مقامی افراد جو پہلے ایک دوسرے کے ساتھ امن و سکون محبت اور باہمی رشتوں سے رہتے تھے ایک دوسرے سے ملنا جلنا تھا، لیکن حالیہ دور میں ا ب ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔ ہر فرقے کے افراد اپنی شناخت کی حفاظت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیںمگر کوئی مثبت ثمر حاصل نہیں ہو رہا اور یہ کش دن بدن بڑھی ہوئی نظر آ رہی ہے لیکن اس جدوجہد میں کئی بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جنھیں اس فرقہ وارانہ فسادات کا حصہ بنایا گیا وہ محض بے گناہ لوگ تھے جن کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ کسی دوسرے عقیدے کے ماننے والے تھے۔
پاراچنار میں ہونے والی اس بربریت نے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا ایک ایسا بیج بو دیا ہے جس کا ختم ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس تشدد کی ایک افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ فسادات اکثر سیاسی فائدے کے لیے کیے جاتے ہیں جس سے اس علاقے میں مزید خونریزی کو بڑھاوا ملتا ہے۔
دہشت گردی کا شکار ہونا بھی پارا چنار کے لوگوں کی تقدیرکا حصہ بن چکا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ سے اس علاقے میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں اور ان دہشت گردوں نے مقامی آبادی اور نئی نسل نے اس کو اپنی جنگ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔ طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے پارا چنار میں حملے کیے جارہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں معصوم شہری مارے جا رہے ہیں اور علاقے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔ روز مرہ ضروریات کی رسد کے بجائے ان میں اسلحہ تقسم کیا جا رہا ہے اور طرح طرح کی امددی اپیل کی جا رہی ہے ۔۔خطیر رقوم جمع کی جا رہی ہے جو امداد کے نام پر ہے۔۔۔۔پاکستا ن اور غیر ملکی مختلف تنظیمںان کی سرپرستی کر رہی ہیں۔
دہشت گردی کا یہ عذاب صرف عوام کے لیے ہی نہیں تھا بلکہ حکومتی اداروں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ ریاستی ادارے اس علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے علاقے میں عدم تحفظ اور خوف کی فضا مزید گہری ہوگئی۔
یہاں کے لوگ ایک طرف ریاستی غفلت اور دوسری طرف دہشت گردوں کے ظلم کا شکار ہیں اور ان کے پاس نہ تو ریاست کی مکمل حمایت ہے اور نہ ہی ان کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات کا کوئی صحیح انتظام۔ یہ دہشت گردی کی کارروائیاں مقامی لوگوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات چھوڑ رہی ہیں۔ وہ مسلسل خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
پارا چنار میں ایک سنگین پہلو اس علاقے کی معاشی بدحالی ہے۔ خونریز فسادات، دہشت گردی کی کارروائیوں اور فرقہ وارانہ تشدد نے یہاں کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہاں کے لوگ روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ اس بدحالی نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔
اس معاشی بحران کے نتیجے میں تعلیمی ادارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بچے جو کبھی خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے اب نفرت اور تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ ان کا تعلیمی معیار تباہ ہو چکا ہے اور ان کے مستقبل کے امکانات تاریک ہوگئے ہیں۔ تعلیم کی کمی نے اس علاقے میں جہالت کو بڑھایا جا رہا ہے جو کہ آنے والے وقت میں مزید مسائل پیدا کرسکتی ہے۔
پارا چنار میں جو سب سے اہم اور افسوسناک پہلو ہے وہ ہے خوف اور نفرت کی فضا۔ یہ شہر وہ مقام بن چکا ہے جہاں ہر انسان دوسرے انسان سے ڈرتا ہے، کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ کس وقت کہاں سے کوئی حملہ آور آجائے یا فرقہ وارانہ فسادات کی بھینٹ چڑھ جائے۔یہ فضا لوگوں کے ذہنوں پرگہرے اثرات ڈال رہی ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

……………………

تیرہویں قسط ۔۔۔سید اکمل حسین

کاش کہ پچھتاوے سے پہلے رہبران قوم اور نام نہاد علما اور علما سُو کی سمجھ آ جائے
ایک مستری کی کام سے بیزاری اور اکتاہٹ اپنی انتہاء پر تھی.
اس سے پہلے کہ کوئی بدمزگی پیدا ہوتی اس نے ٹھیکیدار کو جا کر اپنا استعفیٰ پیش کردیا ٹھیکیدار ایک رحم دل اور شفیق انسان تھا اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک کاریگر تھا مگر اس مستری کی کچھ انوکھی ہی بات تھی۔۔!!
جہاں تک معاوضے اور دستور کے مطابق بودو باش کی سہولیات تھیں ٹھیکیدار نے اسے ویسے ھی خوب نوازا ہوا تھا اس مستری کی کام سے لگن اور محنت بھی قابل رشک تھی مگر ایک دن یہ بھی داغ مفارقت دے جائے گا اس کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا تھا ٹھیکیدار نے استعفیٰ لیتے ہوئے مستری سے کہا جاتے جاتے ایک آخری مکان اپنے ہاتھ سے بنا کر دیتے جاؤ تو میں یہ استعفیٰ قبول کر لیتا ہوں۔۔!!
بادل ناخواستہ مستری کو کہنا ماننا پڑا مکان کی بے تکی بناوٹ اکھڑے پلستر، کٹے پھٹے رنگ و روغن اور دروازے کھڑکیوں کے شکستہ کیل پرزوں کے ایک ایک زاویئے سے مستری کی اکتاہٹ دکھائی دیتی تھی صاف لگتا تھا کہ اس نے یہ کام فرض سمجھ کر نہیں جان چھڑانے کیلئے وبال سمجھ کر کیا ہے مکان کیا تھا کہ گویا چند برساتوں کی مار اب گرا کہ تب گرا ٹھیکیدار کو مکان کی چابیاں دیتے ہوئےجیسے ہی مستری نے اپنے استعفٰی کا مطالبہ دہرایا۔۔!!
ٹھیکیدار نے شفقت کے ساتھ چابیاں واپس مستری کو دیتے ہوئے کہا میں تیرا استعفیٰ قبول کرتا ہوں اور یہ والا آخری مکان تیرے لئے میری طرف سے انعام هے اب مستری دم بخود حالت ایسی کہ جیسے بدن میں جان ہی نہیں۔۔!!
یا اللہ یہ کیا ہو گیا میں نے کیوں اپنے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا
اگریہی مکان میرا مسکن بننا تھا تو میں نے اسے اچھا کیوں نہیں بنایا لوگوں کی زندگیوں میں رنگ بھرتا رہا اورخود اپنے لیے یہ بدرنگی کر ڈالی، کاش ! کاش ! کاش
مگر صرف حسرتیں تھیں۔۔!!
کچھ ایسی ہی مثال ہماری زندگیوں کی ہے ہم بھی ساری زندگی محنت کرتے حلال حرام میں فرق رکھتے زندگی کے کسی لمحے خیال آتا کہ سبھی کر رہے ایک بار میں بھی کر لوں تو خیر ہے بس اسی لمحے آپ اپنا سب کچھ داو پر لگا چکے ہوتے اگر وہ عمل کر لیتے جس کا گمان کیا تو پھر اپنا اصلی گھر قبر اس کی مرمت جو دنیا میں کرنی اسکی ساری حالت ہی بگاڑ دی۔۔!!
ہماری زندگی میں کیے گئے اعمال اور خاص طور پر نماز اور دیگر فروعات و اصول دین ہوتے ہوئے جس سے اللہ رب العزت تو بے نیازہے

مگر ہم ان سب کو اچھا کرنے کے محتاج ہیں انہی پر ہی۔ ۔ہماری نجات ہے مگر یہ علما اور دیگر رہنما اپنی اپنی خالی ہانڈی کو چولہے پر رکھ کر عوام کو دھوکا دینے میں مصروف ہیں اور اپنے جہنم کی آگ کو بھر رہے ہیں۔ ۔۔عام الفاظ میں تحریر کرئوں تو مجالس و ممبر کو تو ہم کاروبار میں بدل چکے ہیں اب باری قوم کو بیچنے کی ہے کب سودا ہو گا اور یہ کام انجام پائے گا۔۔۔پارہ چنار کا مسلہ بھی کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے
پارہ چنار کے حالات میں کون ملوث ہے اور عوام اس بارے میں کیا کہتے ہیں
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارا چنار میں وہ قوتیں فتنہ کھڑا کر رہی ہیں جنہیں امن کی نہیں جنگ کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرم ایجنسی میں امن پسند لوگ بستے ہیں ۔ یہاں اسلحہ کی فیکٹریاں ہیں اور نہ ہی منشیات کے اڈے ہیں۔ پارا چنار کے حالیہ پرتشدد واقعات میں بارہ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پارا چنار میں امن و امان کے قیام میں ناکام نظر آتے ہیں اورمیڈیا پر پارا چنار کے کشیدہ حالات نہیں دکھائے جا رہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس جنگ کو بلاتاخیر روکا جائے۔
سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا کہ کرم ایجنسی میں شیعہ سنی وحدت کا عملی مظاہرہ دو ہزار چوبیس کے انتخابات میں سب نے دیکھا اور سراہا گیا ہے ۔ ہم نے اتحاد کے لیے بیس ہزار لاشیں اٹھائی ہیں لیکن کبھی اسلحہ نہیں اٹھایا۔ ہم پارا چنار میں مکمل امن چاہتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع کرم سے ممبر قومی اسمبلی انجینیئر حمید حسین نے کہا کہ ضلع کرم جنگ کی آگ میں جل رہا ہے۔
پارا چنار، خیبر پختونخوا کا وہ شہر ہے جو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے، کبھی اپنے پرامن ماحول اور فطری حسن کے لیے جانا جاتا تھا، مگر آج کا پارا چنار فرقہ واریت اور سیاسی عدم استحکام کی بدولت خوف و ہراس کا شکار ہے۔ یہاں جوکچھ پچھلے چند دنوں میں ہوا، اس نے نہ صرف اس شہر کے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے پاکستان کے سماجی اور سیاسی منظر نامے کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

جاری ہے۔۔۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

بارہویں قسط۔۔۔۔۔۔۔سید اکمل حسین

حکومت ایجنسی کے طوری، بنگش قبائل کو غیر مسلح کرنے سے پہلے قبائلیوں کا گرینڈ جرگہ بلا کر انہیں سنیں اور ان کو اعتماد میں لیں۔ کرم ایجنسی کے طوری بنگش قبائل پاکستان کے خلاف ہیں اور نہ ہی کبھی حکومت یا پاک فوج پر بندوقیں تان کر بغاوت کی ہے، دوسری طرف یہاں طالبان اور داعش جیسی ملک دشمن اور انسانیت دشمن دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جو آرمی پبلک سکول اور جی ایچ کیو پر حملے جیسے سنگین حملوں میں ملوث رہے ہیں اور خودکش دھماکوں اور بازاروں و مسجدوں میں اندھادھند فائرنگ کے واقعات میں ملوث ہیں۔ پاراچنار میں ایسی کوئی تنظیم نہیں جس کے ہاتھ اسی ہزار بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہوں۔ پاکستان حکومت دہشت گردوں اور خودکش بمباروں کی تحقیقاتی
رپورٹس سامنے لائے تو اس میں پاراچنار کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والا ایک بھی دہشت گرد نہیں ہوگا۔
یہ کیا المیہ ہے کہ جسم کے ایک حصے کی تکلیف جسم کے کسی بھی دوسرے حصے میں محسوس نہیں کی جا رہی اور محسوس بھی کیسے کی جائے کہ ایمان کی صورتوں میں جوڑے رکھنے اور درد و تکلیف کو محسوس کرنے والا نظام حساسیت ہی درہم برہم ہے جیسے جیسے ایمان کم ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے والا ”محسوساتی نظام“ بھی بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے وگرنہ ستاون اسلامی ممالک اور خوش قسمتی سے دنیا کے چند ایٹمی ممالک میں سے ایک ایٹمی ملک بھی اسلامی ملک، دنیا کی بہترین بری، بحری اور فضائی افواج کا حامل بھی ایک اسلامی ملک، دنیا کی بہترین انٹیلی جنس رکھنے کا دعویدار بھی ایک اسلامی ملک، دنیا میں سب سے زیادہ تیل کی برآمد کرنے والا بھی ایک اسلامی ملک، دنیا کے زیادہ تر سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا بھی ایک اسلامی ملک، دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار رکھنے والا بھی ایک اسلامی ملک، دنیا کے بڑے بڑے خیراتی ممالک کی صف میں اول موجود رہنے والا بھی ایک اسلامی ملک۔

یعنی نا مال و دولت کی کمی آڑے آ سکتی ہے نا جدید ہتھیاروں کا بہانہ سامنے آ سکتا ہے۔ ہائے! حیف صد حیف کے وہ انبیاء کی سر زمین پکارتی ہے ”بس ذرا صبر! کہ دنیائے اسلام میں سے کوئی تو بہارد امداد کو آئے گا “
مگر دنیائے اسلام کے بہادر ندڑ افراد تو خود کو بڑی بڑی طاقوتوں کا غلام بننے پر فخر محسوس کرتےہیں میں، نئی لچر فلمیں اور میں اور نئے گانے بنائے میں تو ہی مصروف ہیں
اور اس قوم کے نام نہاد اپنے کو پڑھا لکھا کہنے والا ملا اپنے مسلمان بھائیوں کی تکلیف کہیں محسوس نہیں کرتا ہے اور قوم کو مجالس اور میلا کے نام پر لوٹنے پر لگا ہوا ہے ۔۔۔قوم کو سوائے فرقہ روارنہ لڑائی اور فکر میں ملوث کرتا ہوا نظر آتا ہے اور کیا یہ ممکن ہی نہیں کہ اس میں جذبۂ جہاد باقی رہا نا ایمان کی پختگی باقی رہی دین فرقوں کی نظر ہو چکا بقول شاعر،

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو

جس چالاکی اور منصوبہ سازی سے امن امن کا راگ الاپ کر اس قوم سے جذبۂ جہاد کو ختم کر دیا گیا، نت نئے اشاعتی ادارے مفت کتب کے ساتھ آسانی سے ہر خاص و عام کو گمراہ کرنے پر تلے
ہوئے ہیں۔۔۔۔جو غیر ملکی امداد سے چل رہے ہیں ۔۔۔۔ اور جس تیزی سے یہ معصوم عوام اسی ٹرک کی بتی کے پیچھے جا رہی ہے۔
ڈر یہ ہے کہ کہیں قوم نوح یا قوم لوط یا عاد و ثمود یا بنی اسرائیل جیسا عذاب ہی نا آ پکڑے۔اور موجودہ دور میں شام جیسا حشر ہو ۔۔۔۔۔
اسلام دنیا کا وہ واحد دین اور مذہب ہے جس نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل اس وقت انسانیت کی بات کی اور انسانیت کو تحفظ فراہم کیا جب بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی ریت قائم تھی، جب بہن کو بہن اور بھائی کو بھائی نا سمجھا جاتا تھا، اسلام نے ایسے گھٹن زدہ دوراور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں انسانیت کو تحفظ فراہم کر کے ایک نئی روشنی بخشی اور انسانیت کا ایسا اصول متعارف کروایا جس کی نظیر تاریخ کے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی، اسلام کے رہبر اول نے یہ واضح کر دیا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم اس حصے کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے اسی طرح مسلمان کہیں کسی مصیبت میں ہو تو باقی مسلمان اس کی تکلیف کو محسوس کر کے ہر ممکن اس تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر تاریخ نے یہ دیکھا بھی کہ کس طرح مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور ایک حصے کے مسلمانوں کی تکلیف دوسرے حصے کے مسلمانوں کی تکلیف ہے کہ جب ایک بحری جہاز پر قبضہ ہوتا ہے تو عرب سے برصغیر ایک کم عمر سپہ سالار باقی سپاہیوں کے ساتھ مدد کو بھیجا جاتا ہے دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کس طرح مظلوم کو ظالم کے چنگل سے آزاد کرایا گیا، دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کس طرح صلاح الدین ایوبی رح نے پے درپے حملے کیے اور مسجد اقصیٰ و فلسطین کا تحفظ ممکن بنانے کی تمام کوشش کی مگر۔
کیا ہم محض اپنی تاریخ ہی دیکھتے رہیں گے اور اسی پر فخر کرتے رہیں گے؟ وہ وقت کب آئے گا کہ جب ہم اپنی ایسی شاندار تاریخ خود رقم کریں گے کہ جسے تاریخ داں بھی قلم بند کرنے پر مجبور ہو جائے؟ کیا وقت اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ آپس کے اختلاف کو چھوڑ کر اسلام کے ایک جھنڈے تلے جمع ہوا جائے؟ کیا وقت یہ تقاضا نہیں کرتا کہ

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں

جاری ہے ۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

گیارویں قسط ۔۔۔۔۔۔سید اکمل حسین

پارہ چنارہ اور غیر ملکی جنگ و جدل کا شکار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ سالوں کے دوران گلگت بلتستان کے بارے میں اپنے وسائل اور اسطاعت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ملک کا خوبصورت چہرہ اور آج کا خونی چہرہ دنیا کو دیکھ رہی ہے ان میں حکومت کا کہاں تک ہاتھ ہے اور یہ بات سب کے علم میں ہے۔۔۔
یوں تو پاکستان کا شمار دنیا کے قدرتی حسین ممالک میں ہوتا ہے مگر امن و امان کی ناقص صورتحال نے اپنوں کے ساتھ غیر ملکیوں کو بھی پاکستان میں سفر کرنے سے متعلق تذبذب اس جنگ و جدل کا شکار کر رکھا اور عوام ان سے جس کش مکش میںمبتلا ہیں اس کو تو وہ ہی بیاں کر سکتے ہیں۔

اک عرصے سے خواہش ہے کہ سابقہ فاٹا اور موجودہ خیبر پختونخوا کی ان وادیوں میں سفرکیا جائے مگر ایک اتہائی صدی سے یہ خواب پورا نہ ہو سکا اور کاغذی معلومات پر ہی گزار کرنا پڑا رہا ہے۔۔۔۔وہ کے عوام اس انتہا پسندی سے جس قدرمتاثر ہوئے اور وہاں کے لوگوں کے دکھ بھی حکومت کی نااہلی اور پابندی کی وجہ سے پوری طرح نہ معلوم اور پوشیدہ ہیں اور ان کے زخموں پر مرحم رکھ سکےمگر ۔ سابقہ فاٹا کی 7 ایجنسیاں تھیں جو اب خیبر پختونخوا میں ضم ہوکرضلع کی صورت اختیا کر چکی ہیں۔ ان اضلاع نے مذہبی انتہاپسندی کو بھگتا جا رہا ہے۔ سوات سے لے کر سابقہ فاٹا تک خونریزی ہو رہی اور اب جب افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیوں اور کاوشوں سے امن بحال ہوچکا مگر گاہے بگاہے یہ جھگڑے شدت اختیار کر جاتے ہیں۔۔
مگر ان تحاریر میں میری منزل ضلع کرم کا صدر مقام پارا چنار تھی،
میرے خیالوں میں ان دنوں کے پارا چنار کی تصویریں آتی رہیں جو مجھے کمپیوٹر یا انٹرنیٹ پر ملتی ہیں اور ان کو دیکھ کر یہ اندازہ ہو جاتا کہ پاکستان کی بے نطیر جنت کیسی تھی اور اب اس میںجو خون کی ندیاں وہاں بہہ رہی ہیں اور بچوں سے لے کر پاکستان کے قدیمی تاریخ دان کو بھی اس جنگ کا شکار بنایا جا رہا ہے ۔ جب کوہِ سفید چاندنی نظیر کے دامن کی یہ وسیع وادی امن و خوشحالی کا گہوارا ہوا کرتی تھی۔ جہاں چاند نکلتا تو رباب کی آواز وادی میں گونجا کرتی۔
یہاں بسنے والے پڑھے لکھے باشعور لوگ تھے مگر پھر فرقہ واریت کی ایسی آگ پھیلی کہ وادی میں چاند نکلنا بند ہوگیا۔رباب کی آواز بہت کم سننے کو ملتی ہے ۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

دسویں قسط۔۔۔۔۔۔۔۔۔سید اکمل حسین

مذہبی اور مسلکی لڑائیوں کے علاوہ قبائلی جھگڑے ہیں جو صحراوں، پہاڑوں اور پانیوں پر پیش آتے ہیں اور بعض لڑائیاں صدیوں سے چلی آرہی ہیں۔ مثلاً شبک اور بالش خیل کے ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضے ہوئے ہیں اور نستی کوٹ کے پہاڑیوں پر ناجائز قبضہ ہے۔ پیواڑ میں پہاڑوں اور پانی پر تصرف کا جنگ عرصہ دراز سے لڑا جا رہا ہے تو روڈ اور راستوں کے مسئلے اور مسائل قابل ذکر ہیں۔
۔ حالیہ تاریخ میں 1929-1928 سے خون ریز لڑائیوں کا سلسلہ شروع کر دو ہزار گیارہ تک چلتا ہے جس میں دونوں طرف سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔2007-2011 ءکی فیصلہ کن جنگ کے بعد اب حالات مکمل تبدیل ہو چکے ہیں اور اکیسویں صدی میں داخل ہو کر اب دونوں فریق مزید ان فرقہ ورانہ لڑائیوں سے تنگ آ گئے ہیں۔ محنت مزدوری کا آدھے سے زیادہ پیسہ ان کے اسلحے پر خرچ ہو رہا ہے۔
مذہبی اور مسلکی لڑائیوں کے علاوہ قبائلی جھگڑے ہیں جو صحراو ¿ں، پہاڑوں اور پانیوں پر پیش آتے ہیں اور بعض لڑائیاں صدیوں سے چلتی آرہی ہیں۔ مثلاً شبک اور بالش خیل کے ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضے ہوئے ہیں اور نستی کوٹ کے پہاڑیوں پر ناجائز قبضہ ہے۔ پیواڑ میں پہاڑوں اور پانی پر تصرف کا جنگ عرصہ دراز سے لڑا جا رہا ہے تو روڈ اور راستوں کے مسئلے اور مسائل قابل ذکر ہیں
کرم ایجنسی کی شیعہ آبادی کو پانچ سال محصور رکھا گیا جب کرم ایجنسی کو پشاور اور پاکستان سے ملانے والی واحد شاہراہ کو 2007 سے 2011 تک شیعہ آبادی کیلئے طالبان نے بند رکھا ۔ لاکھوں کی آبادی غذائی اجناس اور ادویات کی قلت سے متاثر ہوئی، ہزاروں بچے متاثر ہوئے، ہسپتالوں میں تڑپ تڑپ کر جانیں دیں اور سکول جانے سے محروم رہے۔ تب کسی جماعت اسلامی یا دفاع پاکستان نے کوئی احتجاجی ریلی نکالی اور نہ ہی کوئی
قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کانوائے لٹتے رہے۔ اور صدہ شہر اور گردو نواح میں طوری بنگش قبیلے کے بیسیوں لوگوں کو اغوا کیا جاتا رہا، اغواشدگان کو اذیتیں دے کر قتل کیا جاتا رہا اور ان کے اعضا کاٹ کر جنازے پاراچنار بھیجے جاتے رہے۔ یہ وہ واقعات ہیں جو میرے سامنے ہوئے اور جسے میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔ ان سارے دل دہلا دینے والے واقعات کی ویڈیو ز موجود ہیں جس پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کی ضرورت ہے۔ ریاست پانچ سال تک ایک قبیلے کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام کیوں رہی؟ ریاست کے سامنے ان کے بچوں کا قتل عام کیوں ہوتا رہا؟ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے! ایک ماں کے سامنے اس کے بچوں کے سر قلم ہوتے رہے اور ان کے اعضا کاٹ کاٹ کر گھروں کو بھیجتے رہے۔ آپ یقین کریں ان علاقوں میں آج تک آپریشن ہواہے اور نہ ہی اسلحہ جمع کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
کرم ایجنسی میں شرح خواندگی اسلام آباد کے برابر ہے۔ پاراچنار جیسے چھوٹے شہر میں تقریباً پچاس پبلک سکول و کالجز ہیں جنہوں نے گزشتہ دس سال میں تقریباً پانچ سو ڈاکٹر، پروفیسر اور دو سو کے قریب فوجی آفیسرز پیدا کئے ہیں جو ملک کے طول و عرض میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح صدہ قصبے میں بھی بہت اعلیٰ سکول قائم ہیں جو بہترین طلبا اور پروفیشنلز سامنے لا رہے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ریاست ان پروفیشنلز کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے اور سید رضی شاہ جیسے قابل قدر ماہر تعلیم ہوں یا یوسف حسین جیسے واپڈا کے اہلکار، سید عسکر علی شاہ جیسے بزرگ ملک ہوں یا ڈاکٹر سید ریاض حسین جیسے سماجی و سیاسی لیڈر سرعام قتل ہوتے رہے اور حکومت انہیں تحفظ دینے میں ناکام رہی۔ حکومت دہشت گرد تنظیموں کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے لیکن پرامن قبائلیوں سے اسلحہ جمع کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
کرم ایجنسی کے طوری بنگش قبائل کے مسائل حل کیے بغیر ان کو غیر مسلح کرنا دیگرمخصوص قبائل کے ساتھ ہمدردی تصور کی جائے گی کیونکہ وہ طاقت کے زور پر مزید علاقوں پر قابض ہو
جائیں گے جس سے حکومت کیلئے مسائل پیدا ہوں گے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

……………………………..

آٹھویں قسط —– سے منسلک دوسرا خط

سجدہ گاہ عاشقاں پر نقش پا ہوتا نہیں
جی میں آتا ہے الٹ دیں ان کے چہرے سے نقاب
السلام علیکم ۔
امید ہے کہ خیریت سے ہونگے ۔
پاراچنار کے تازہ ترین حالات ۔
*نمبر 1* : 21 نومبر بروز جمعرات علیزئی اور ٹل دونوں طرفین سے پاراچنار کے شیعہ مسلمانوں کی کانوائے 11 بجے دونوں طرف سے روانہ ہوئی ۔ پاراچنار کے لوگ علیزئی سے بگن، چارخیل ،اوچت، مندوری اور چھپری سے گزر کر جنوبی اضلاع ھنگو کے تحصیل ٹل میں داخل ہوتی ہے اور پھر ھنگو پھرکوھاٹ سے ہوتے ہوئے پشاور ، اسلام آباد اور ملک کے باقی حصوں میں پہنچتے ہیں اور دوسری طرف تحصیل ٹل جو ضلع ھنگو کا کرم ڈسٹرکٹ سے متصل تحصیل ہے وہاں سے پاراچنار کے مومنین واپس پاراچنار آتے ہیں ۔ ٹل سے براستہ چھپری ، مندوری ، چارخیل، اوچت اور پھر بگن سے ہوتے ہوئے شیعہ گاؤں علیزئی میں داخل ہوتی ہے ۔ یہ علیزئی سے ٹل ایک طرفہ راستہ اور واپسی پر ٹل سے علیزئی یہی راستہ ٹوٹل 27 کلومیٹر ہے۔ اس راستے پر جہاں سرکاری چیک پوسٹ ہیں تو وہاں پر ریاست کے پالے ہوئے دھشت گردوں کے پنا گاہیں بھی موجود ہیں ۔ جب 21 نومبر بروز جمعرات کو کانوائے 11 بجے دو طرفین سے روانہ ہوئی تو ٹل سے پاراچنار آنے والی گاڑیاں اور علیزئی سے ٹل جانے والی تمام گاڑیاں جب اس 27 کلومیٹر فاصلے کے وسط یعنی 13 یا 14 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد جب جارہے تھے تو سارے گاڑیوں کو اوچت بگن چارخیل اور مندوری یعنی 10 کلومیٹر کے مجموعی فاصلے پر درمیان میں گھیر لیا گیا اور 40 منٹ تک 10 کلومیٹر میں پھنسے تمام گاڑیوں میں موجو مسافروں پر مسلسل فائرنگ کی گئی اسی دوران آرمی کا کمانڈنٹ بگن کے مقام پر موجود تھا جو کانوائے پر فائرنگ کی جگہ سے آدھے کلومیٹر پر ہے اور فون نمبر بند کرکے سب کچھ انجوائے کررہا تھا جس میں سے 45 افراد شہید اور 50 سے اوپر زخمی اور ساتھ ساتھ 33 کو یرغمال بنادیا گیا ۔ کانوائے جانے سے پہلے آرمی اور ایف سی کی پروٹیکشن لگادی گئی تھی ۔ لیکن سارے محافظ بچ نکلے اور نہتے مسافروں کو ایک ایک کرکے شہید کردیا گیا ۔ واقعے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔ لاشیں زمین پر پڑی رہی جس میں 3 بچے 7 عورتیں اور 35 مرد شہید اور باقی زخمی تھے ۔ پورے ڈسٹرکٹ کرم میں ایمبولینسز کم پڑ گئی ۔
*نمبر2* . جب کانوائے کو ٹارگٹ کیا گیا تو سارے عوام نکل کر گاڑیوں کو لوٹنے لگا پاراچنار مومنین کے عورتوں سے زیور چھین لیا گیا اور ایک ویڈیو بھی موجود ہے جس میں وہی سلوک ہو جو 61 ھجری کو کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہوا تھا کہ جب امام حسین علیہ السلام کے ھاتھ کے انگلی سے انگھوٹا نہیں نکل رہا تھا تو ظالموں نے امام حسین علیہ السلام کے انگلی کو کاٹا ۔ یہی سلوک پاراچنار کے ایک بہن سے بھی ہوگئی اس کانوائے میں ۔ جس کے انگلی سے سونے کی انگوٹھی نہیں نکل رہی تھی تو ظالموں نے ہمارے بہن کے انگلی کو کاٹا اور سونے کی انگوٹھی نکال دی۔
کانوائے میں موجود 6 مہینے کے بچے کو منہ میں گولی مار دی گئی ۔ 4 سالہ بچی سیدہ ایلیا بتول ، 8 سالہ بچی بی بی مرضیہ ، 65 سالہ بی بی جوھر نساء ، باقی 5 عورتیں بے دردی سے شہید ۔
کانوائے میں موجود مسافروں کے سارے سامان کو لوٹا گیا ۔ 8 عدد فلائنگ کوچ اور 7 فیلڈرز گاڑیاں فائرنگ کی زد میں آگئی ۔ جنازے 12 بجے سے شام 6بجے تک روڈ پر پڑے رہے اور پھر 39 جنازوں کو 8 بجے علیزئی ھسپتال منتقل کردیا گیا ۔ 3 جنازے ٹل سی ایم ایچ سے لائے گئے زخمیوں کو کچھ ٹل سی ایم ایچ اور کچھ علیزئی ھسپتال اور کچھ کو پاراچنار ھسپتال منتقل کیا ۔ زخمیوں میں سے 3 مزید شہید ہوگئے جس میں ایک عورت بھی شہید ہوگئی۔ ٹوٹل 45 شہداء ۔
*نمبر 3:* جنازے منتقل کرنے کے بعد 33 یرغمالیوں جس میں تین عورتیں بھی تھی سب کو رات 10 بجے رہا کردیا گیا ۔ اور انجمن حسینیہ کے سیکرٹری سر جلال حسین بنگش کے حوالے کیا گیا۔ ہم نے پھر بروز جمعہ 42 شہداء کو دفنایا ۔ 3 بندے بعد میں شہید ہوئے جس کو ھفتے کے دن سپرد خاک کیا ۔
*نمبر 4* : پھر پاراچنار کے شیروں نے خیبر یاد دلایا اور جنازوں کو دفن کرنے کے بعد سب نے علیزئی کا رخ کیا یاد رہے کہ جس جگہ کانوائے ٹارگٹ ہوئی تھی وہ 70 کلومیٹر پاراچنار سے دور ہے اور علیزئی جو کہ شیعہ علاقہ ہے وہ پاراچنار شہر سے کوئی 57 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ سب مومنین جمع ہوگئے سارے گروپس کو شہید عرفانی کے بنائے ہوئے گاؤں عرفانی کلی میں کھانا دیا گیا اور 36 جنگ کمانڈرزکو اپنے اپنے گروپ کے 50 , 60 یا اس سے زیادہ مولا حسین ع کے سپاہیوں سمیت محاذ پر روانہ کیا ۔ مغربین نماز دشمن کے محاذ کے قریب ادا کی گئی ۔ پھر نماز کے بعد حیدر کرار کے شیروں نے دشمن کے پہلے گاؤں ٹالو کنج کو تقریباً 10 منٹ میں محاصرہ کیا آگ لگادی گئی ۔ اس سے آگے پیشرفت شروع ہوئی تو گرم چشمہ “تودہ چینہ” گاؤں کو تقریباً 20 منٹ کے اندر اندر فتح کیا پھر آگے چلتے چلتے حاجی کلی اور نوے گاؤں کو آدھے گھنٹے میں فتح کیا ۔ یہ تقریباً چار گاؤں دریائے کرم کے مغرب میں واقع ہیں ان سب کو ختم کرنے کے بعد حیدر کرار کے شیروں نے دریائے کرم کو دوبارہ پار کرکے مشرقی گاؤں جس کو بگن کہتے ہیں اس کو 7:10 منٹ پر آگ لگادی گئی اور پھر پورے 5 ھزار لشکر کیساتھ پاراچنار کے مومنین اس گاؤں میں داخل ہوئے ۔ 120 دکانوں اور 160 گھرانوں پر مشتمل اس گاؤں کو ڈیڈھ گھنٹے میں زمین بوس کیا ۔ مومنین نے ساری دکانیں جلا دی گھروں کو آگ لگا دی گئی ۔ 7 عورتوں کو بھی حراست میں لے لیا ۔ یاد رہے یہ بگن وہ جگہ ہے جو ہمارے شہداء کے خون سے رنگین ہے ۔ 22 مارچ 2008 سے یہاں ہمارے پہلی کانوائے کو ٹارگٹ کیا جس میں 11 بندوں کو شہید کیا اور 23 کو اغواء کیا تھا ۔ پھر اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا اور 2012 تک اسی بگن بازار میں تقریباً 300 سے زاید شیعہ مومنین کو شہید کیا ہمارے گاڑیوں کو لوٹا گیا ہمارے جنازوں کی اسی بگن بازار میں بے حرمتی کی گئی ۔ آخر خدا نے ان سے انتقام لے لیا اور اپنے انجام تک پہنچایا ۔
*نمبر 5* ہمارے حوصلے بلند ہیں پاراچنار سرزمین شہداء ہے اس کو صرف پاکستان کے مومنین کی دعا اور مالی امداد کی ضرورت ہے ۔ پاراچنار مقاومت ومزاحمتی جوان رکھتے ہیں یہاں کے بوڑھے جوان اور بچے سب ذلت کی زندگی سے عزت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ہمارے بزرگ والدین اپنے بچوں کے شہادت پر ان کے جنازے پر اپنے جوانوں کو شہادت کی مبارک باد دیتے ہیں کہ بیٹا شہادت مبارک ہو ۔ ہمارے بزرگوں میں حبیب ابن مظاہر ع کا جذبہ اور آرزوئے شہادت ہے ہمارے جوانوں نے علی اکبر علیہ السلام کا راستہ اختیار کیا ہے اور ہمارے جوانوں نے حضرت عباس علیہ السلام کی سیرت اپنا کر اپنے امام وقت کے دفاع کے لیے حاضر ہیں ۔
نوٹ: اوپر جو حالات بیان کی گئی ہیں میں اس کا عینی گواہ ہو ۔ کانوائے پر جو فائرنگ کے شواھد کانوائے میں یرغمالیوں سے لی گئی ہیں اور باقی جو جنگ ہوا میں اس میں خود شریک تھا ۔ اور سب کچھ اپنے آنکھوں سے دیکھ لیا ۔
*نمبر6*: اس جنگ کے بعد ہم مومنین نے دو دن کا وقفہ کیا اور 25 نومبر کو نئے سرے سے جنگ کے لئے کمر کس لی دشمن کا ایک گاؤں بنام بادشاہ کوٹ رہ گیا تھا اس کو بھی ہم مومنین نے تقریباً 40 منٹ میں جلایا اور زمین بوس کیا صرف تین بندے زخمی ہوئے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اسی رات۔
*نمبر7*: 26 نومبر کو دشمن نے رات کی تاریکی میں آکر کنج علیزئی کے اوپر پہاڑ بوسخانو سر میں ہمارے ایک مورچہ پر رات دو بجے ھینڈ گرنیڈ پھینکا جس سے تین بندے شہید ہوئے ۔ پھر مومنین نے ان کو ایسا سبق سکھایا کہ اسی وقت 7 تکفیریوں کو واصل جہنم کیا جن کے جنازے پہاڑوں میں پڑے تھے ۔
*نمبر8* :اس کے چند دن بعد بروز جمعرات 28 نومبر کو دشمن نے رات کی تاریکی کا فائدہ لیتے ہوئے اس علاقے میں واپس آیا جو کہ 22 نومبر کو ہم نے جلایا تھا ۔ صبح سویرے ہمارے نوجوانوں کے ساتھ خیر شاہ پہاڑ کی چوٹی پر بمقام جلامئے لور کرم دست وگریباں ہوئے اور جنگ شروع ہوئی دو طرفہ فائرنگ ہوئی اور اسی وقت ہمارے تین جوان شہید اور دشمن کے چار واصل جہنم اور ان سے ہمارے جوانوں نے 4 بندوقیں بھی چھین لی ۔ پھر دن کو ہمارے شہیدوں کے دو جنازے رہ گئے تھے جس کو حاصل کرنے کے لیے جوانوں نے حملہ کیا اور 9 مزید جوان شہید ہوگئے ۔ اس طرح ٹوٹل اس دن ہمارے 12 جوان شہید ہوگئے اور دشمن کے 29 بندے واصل جہنم ہوگئے ۔
*اس جنگ میں دو بڑے لعین واصل جہنم ہوگئے جس میں ایک وہ لعین بھی تھا جس نے 22 مارچ 2008 کو پاراچنار مومنین کے 28 بندوں کو اغواء کیا تھا اور پھر 8 جوانوں کو قتل کرنے کے بعد کنویں میں ڈال دیا تھا اور بڑے فخر سے کہہ رہا تھا کہ میں نے پاراچنار کے شیعوں کو کنویں میں ڈال کر مارا ہے ۔*
اس جنگ میں ہمارے 51 بندے کانوائے میں شہید ہوئے اور 32 جوانان نے محاذ پر دلیری سے لڑتے ہوئے شہادت کا راستہ اختیار کیا ۔ مجموعی طور پر ہمارے 83 بندے شہید ہوئے جس میں 8 عورتیں کانوائے میں تین بچے کانوائے میں کروائے کی فوج کی موجودگی میں شہید ہوئے ۔
*سلام بر شہدائے پاراچنار سلام بر غازیان پاراچنار
سلام بر فاتح بگن ، ٹالو کنج، تودہ چینہ ، حاجی کلی ، نوے کلی۔ بادشاہ کوٹ*

ہر شناور کو نہیں ملتا تلاطم سے خراج
ہر سفینے کا محافظ ناخدا ہوتا نہیں
؎جاری ہے ۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

آٹھویں قسط ۔۔۔۔سید اکمل حسین
آج کی تحریر سے پہلے اقارئین کی توجہ اس جانب دلوانا ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم جو ایک ہدایت کی کتاب ہے میں اﷲ پتعالیٰ نے بار بار یہی فرمایا ہے کہ اس کتاب میں اور میری کی گئی تخلیق میں عقل والوں کےلیے بہت سے نشانیاں ہیں۔جیسے اب آپ نے اس فالکن نامی پرندے کا ذکر کیا یہ دنیا کے سب پرندوں سے زیادہ تیز اڑنے والا پرندہ ہے اس کی سپیڈ تین سو سے زیادہ فی گھنٹہ ہے اسی کو فالو کرکے یہ جنگی جہاز بنایا گیا۔ جو اقوام فطرت سے سیکھتی ہیں وہ علم و ٹیکنالوجی میں بھی آگے بڑھ جاتی ہیں۔ خدا کی مخلوق میں ہمارے لئے نشانیاں ہیں۔ جن لوگوں کا مشاہدہ تیز ہوتا ہے وہ تخلیقی ذہن کے ہوتے ہیں۔ یہ تفکر و غور و فکر اور فطرت میں ٹھہرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ذرا اس عکس کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔۔
عکس بی 2 بومبر طیارے کی شیپ اس پرندے سے کتنی مشابہ ہے

آج کی 8ویں قسط میں احباب کے لئے پارچنار کے دوستوں کی جانب سے لکھے ہوئے یہ خط شامل کر رہا ہوں تاکہ ہر دوست اور محب اہل بیت کو تازہ تریں حالات معلوم ہو سکیں کہ پارہ چنار میں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔
“پارا چنار یا پھر پارہ پارہ چنار”
صرف ایک واقع پارہ چنار نہیں، جو غیور مومنین وقت کے میثم تماروں کو شہید کر کے ، کتوں کے آگے ڈالا جارہا ہے ، بلکہ اکثر مقامات پر دجالی، سازشوں، فحاشی، اور ڈالر گردی کے ذریعے، ایمان کاضمیروں کا سودہ کیا جاتا چلا آ رہا ہے ، اور متحرک مومنین کو کر بلا کے بعد اب تک تنہا کر کے دنیا کے کونے کونے میں مارا جانا چلا آرہا ہے، لہذا صرف نعرے لگانے ، واہ واہ کرنے سے ، بریانی کھانے، دس بچے دینی تعلیم کے لیے بٹھا لینے سے، کوفی شامی یزیدی نظام سے نئی نسلوں کو نہیں بچایا جا سکتا، نہ اس انٹرنیشنل جنگ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، بلکہ دنیاوی مفادات کو چھوڑ کر حق سچ بات کرنا، اور باشعور با معرفت کام کرنے والے، اور زمانے معاشرے کی خرابیوں بیماریوں کو سمجھنے والے، اور دل کی نگاہ رکھنے والے ، مولا کے سپاہی مجاہد طالب علم کے ساتھ تعاون کرنا ہوتا ہے ، جو مختلف محاذوں پر لڑنے کام کرنے کے ساتھ ساتھ ، امام زمانہ (عج) کی عالمی فوج کے لیے، انٹرنیشنل سطح پر کام کر رہا ہے، اس کے ساتھ ان تمام بیماریوں کے علاج کے لیے، مالی بدنی تعاون کرنا، جہاد فی سبیل اللہ، اورامام زنانہ علیہ السلام کربلا وقت کا ساتھ دیناہے، لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ، ہمارے بیس سالہ پرانے رجسٹرڈ دینی ادارے کو منافقین یزیدی بلڈوز کرنا، گرانا چاہتے ہیں، عدالتی کیس اور بہت سے چیلینجیز ہیں، دشمن وہاں کے غریبوں کو مالی سپورٹ کرکے ورگلاتے ہیں، لیکن ہماری قوم شیعہ ملت کی اکثریت اس دجالی سسٹم میں پھانس کر، عدل و انصاف نظم و تنظیم کا جنازہ نکالے ہوئے ہے، کیا فائیدہ اتنے کام ذمہ داریاں سر پر ہونے کے باوجود ان جملہ امور و مسائل کے لیے مالی مشکلات پر بار بار اپیلیں، پھر منتیں کرنی پڑھیں تو ،سمجھیں دین اور نئی نسلوں کا معاملہ آج بھی سقیفہ کے چنگل سے نہیں نکلا ، نہ حق سیدہ کا مسئلہ حل ہوا ہے،آج بھی دین کا، اہل بیت اطہار (ع) کا اکثریت میں صرف نام استعمال کیا جاتاہے یعنی لیبادہ دین اوڑھ کر کل کی طرح آج کا سقیفہ بنا کر دین کو تباہ کرنا چل رہا ہے، اور انٹرنیشنل اسلام دشمن نے دینی امور کے راستے میں شیطانی و دجالی رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں، ہم اگرکسی کو عالم دین سمجھ کر دینی تعاون کے لیے اپیل کریں تو آگے سے ملاں ازم نکلے تو مظلوم کے مکان میں ظالم مکین ہے، دشمن جگہ جگہ پارہ چنار بنانا چاہتا ہے، اگر وقت سے پہلے نہیں سمجھیں گے تو عذاب بہت تیزی سے آرہے ہیں، جو سب کے ڈرنے کا مقام ہے، مومن تو غیب پر یقین رکھنے والے، نیکی کے کام میں تعاون کرنے والے ، امربالمعروف و نہی عن المنکر کرنےوالے کو کہتے ہیں ، خادم ملت سفیر امن چیئرمین الہادی گلوبل ویلفیئر ٹرسٹ سیدقمرعباس
بات فلسطین کے مظلوم کی ہو یا کشمیری مظلوم کی، یمنی بے یار و مددگار کی ہو یا پاراچنار کے کسی افسردہ گھرانے کی، کہانی ہر طرف ایک ہی ہے۔ کہانی ہے ظلم کی، ظالم اور مظلوم کی۔
ایک طرف فلسطینی بے گناہوں کی چیخوں اور فریادوں نے پہلے ہی ہم سے جینے کا شوق لے لیا تھا۔ یمن و کشمیر و بحرین کے بے یار و مددگار پہلے ہی ہمیں آبدیدہ اور رنجیدہ کر چکے تھے۔ پھر ظلم کی نوبت آئی تو خود ہمارے ہی اوپر آئی۔ چاہے اسی (80) کی دہائی ہو، نوے (90) کی ہو یا پھر اکیسویں صدی ہو، ظلم اور ظالم نے تو بس بھیس ہی بدلے۔
میں نے جب سے اس علاقے میں آنکھ کھولی ہے، اپنی آنکھوں سے ہر چند ماہ بعد ایک نئے المیے کو جنم پاتے دیکھا ہے۔ کبھی خاکستر بدن تو کبھی ٹکڑے ٹکڑے لاشے، کبھی تباہ حال مکانات تو کبھی میزائیلوں کے خوف سے تھرتھراتے بچے۔ میں نے کیا کیا دیکھا شاید سب بیان کرنے کو ایک تاریخ کی کتاب لکھنی پڑ جائے لیکن پڑھنے والے کو سمجھانے کیلئے صرف اتنا کہہ دیتا ہوں کہ اگر آپ کو یہاں کا المیہ ایک سادہ سا دکھائی دیتا ہے تو یہ اتنا بھی سادہ نہیں ہے۔ میرے علاقے کی عورتوں پر پاراچنار سے دور تیزاب تک پھینکا گیا۔ سکول کے بچوں کے کھانے پینے کی اشیاء میں زہر آلود کیمیکل مکس کیے گئے۔ اس مختصر سے علاقے میں بیسیوں خودکش دھماکوں میں سینکڑوں بے گناہوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ، میرے علاقے کو اتنا ٹارگٹ کیا گیا کہ مجھ سمیت اس علاقے کے ہزاروں طالبعلم اغوا ہونے کے خوف سے اپنی شناخت تک چھپانے لگے۔ اور صرف یہی نہیں۔ ہمیں اسی شناخت پر پروپیگنڈہ کی زد میں لا کر مختلف دیگر ممالک سے ڈی پورٹ بھی کرایا گیا۔ ہمارا محاصرہ کر کے ہمیں افغانستان، جمرود اور پشاور تک میں بھی ٹارگٹ کیا گیا۔ اگر یہ سب آپ کو اب بھی عادی لگ رہا ہے تو یقینا آپ یا کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، یا فلسطین سے، یا شاید یمن سے، یا پھر یقینا آپ کا تعلق پاراچنار ہی سے ہے۔
پاراچنار۔۔۔ پاکستان کے شمال مغرب میں افغانستان کی سرحدات کے بیچوں بیچ پاکستان کی کرب و بلا ہے۔ گو دیکھنے میں تو یہ زمین جنت نظیر ہے لیکن بالکل ایک گہرے اور خوبصورت جنگل کی مانند، جہاں ہر روز خونخوار درندے نکل کر مختلف کمزور جانوروں کا شکار کرتے ہیں، اس جنگل نما خوبصورت وادی میں بھی طاقتور درندے یا تو خود یا پھر اپنے تربیت یافتہ درندوں کے ذریعے یہاں کے پرامن اور امن دوست ذی روح مخلوقات کو چیر پھاڑ کر اپنی ہوس درندگی کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ اس جنگل کے ان شیر نما درندوں کو معلوم نہیں کیا نام دینا مناسب ہوگا کیونکہ یہ بظاہر دو پیروں پہ چلتے اور ریاست کے اعلی پائے کے افسر سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو سول آفیسرز کے نام سے اور کچھ وردی پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ آج تک یہاں کی شریف النفس عوام کو ان کی کارکردگی کی سمجھ نہیں آسکی کہ ہر کچھ عرصہ بعد ان طاقتور دوپایوں کو کون ان پہ مسلط کرتا ہے اور اس درندگی والے ماحول میں ان کا اصل رول کیا ہے کیونکہ بظاہر تو یہ اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ مجھ جیسا کوئی کمزور جب لکھنے یا بولنے کی جسارت کرے گا تو فورا سے اس کا ہاتھ جس سے وہ لکھتا ہے اور اس کی زبان جس سے وہ بولتا ہے ہی کٹ جاتی ہے، لیکن ان طاقتوروں کے وسط میں کچھ اور طاقتور کہاں سے پیدا ہو جاتے ہیں جو اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ جنگل کے تمام قوانین کو اور طاقتور حلقوں کو بالائے طاق رکھ کر اندھا دھند یہاں کی زندہ مخلوقات کو نوچ ڈالتے ہیں لیکن ان مقتدر طبقات کو ان پر کسی قسم کا قابو نہیں ہوتا۔ پر یہاں پر پسے ہوئے کمزور طبقات کی کمزور محافل میں اصل صاحب اقتدار طبقات پر بات ضرور ہوتی ہے کہ اصل مقتدر یہ طبقہ ہے یا وہ طبقہ ہے یا کونسا طبقہ ہے؟ خیر۔۔۔ اصل طاقتور جو بھی ہو، کمزور طبقہ تو ان سب طاقتوروں اور درندوں کیلئے شکار ہی ہے، پس کیا فرق پڑتا ہے۔ (ویسے سرگوشیوں میں یہ بات بھی ہو ہی جاتی ہے کہ ان مقتدر طبقات کو اس قدر دنگل و فساد کے بیچوں بیچ بھی خراش تک نہیں آتی۔ کہیں سب درندے آپس میں رشتہ دار تو نہیں؟ جنگلوں میں تو درندے ایک دوسرے پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں پر یہ عجیب جنگل ہے کہ یہاں کے درندے ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے ہیں)
آج 30 نومبر کی رات ہے۔ کل سے شاعروں اور ادیبوں کا غمگین دسمبر شروع ہو جائے گا۔ اس جنگل میں بھی غم بہت زیادہ ہیں۔ ویسے بھی یہاں پہلے سے ہی پہاڑوں نے کفن اوڑھ ہی لیا ہے۔ سینکڑوں لوگ بھی کفن اوڑھ کر زیر زمین جا چکے ہیں۔ آج کافی دنوں کے بعد یہاں سگنل اور انٹرنیٹ بحال ہوا ہے۔ اس جنگل کے مقتدر درندے جب بھی چاہتے ہیں یہ بتانے کیلئے کہ طاقت کا سرچشمہ وہ خود ہی ہیں مواصلاتی ذرائع کو منقطع اور بحال کر دیتے ہیں۔ شاہراہوں پر متعدد معصوموں کے قتل کے بعد، کمزور مخلوقات نے بھی اپنے عزیزوں کے پارہ پارہ بدن دیکھ کر دفاعی حربہ اختیار کر لیا اور پچھلے 9 دنوں سے کچھ بظاہر درندوں سے بر سر پیکار ہیں۔ ممکن ہے کچھ دنوں تک اصل مقتدر طبقات جنگل میں اپنی دھاک دکھانے کیلئے چڑیا گھر کے شیر کی مانند منہ کھول لیں اور دھاڑ لیں۔ اس سے بہت سے کمزور دل والے مخلوقات لرز بھی جائیں گے اور سہم کر چپ بھی ہو لیں گے لیکن جن کے پیارے بچھڑ گئے اور جن کے پیارے زخمی حالت میں تاحیات معذوری میں مبتلا ہو چکے ہیں، وہ اگر چپ بھی ہو جائیں تو بھی آسمان کی طرف دیکھ کر، بہتے آنسوؤں کے ساتھ بلندیوں کے خدا سے اس جنگل کے درندوں کا شکوہ ضرور کریں گے۔ وقت تو گزرتا جائے گا پر کچھ کمزور مخلوقات کا وقت تو رک چکا ہے یا پھر ختم ہو چکا ہے۔ اگر رات کے اندھیرے میں کوئی دیپ ہو یا پھر صبح کی آس ہو تو وقت جیسا بھی ہو، گزار ہی لیں گے، لیکن جہاں صبح کی روشنی کے کوئی آثار نہ ہوں، کیونکہ کسی کسی کا سورج ہی بجھا دیا گیا ہو، وہ کس صبح کا انتظار کریں؟ اب تو شاید موت یا پھر قیامت ہی ان دردوں کا مداوا ہو تا کہ قادر خدا کی عدالت میں اپنا مدعا پیش کیا جا سکے۔۔۔۔
التماس دعا۔۔۔۔
پاراچنار سے ایک دوست نے تحریر کیا ہے اور ہم سب سے گزارش کی ہے کے اسے زیادہ سے زیادہ مختلف سوشل میڈیا پر شئیر کریں ”
دوسرا خط اگلی قسط میں شامل کیا جائے گا
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

قسط ساتویں۔۔۔۔۔سید اکمل حسین

بولی مورخوں دہن کی زبان زر

تازہ تریں خبروں کے مطابق تکفیری خارجی ناصبی دہشت گرد تنظیم داعش نے پاکستان میں پاراچنار کے شیعوں سے لڑنے کا اعلان کردیاپاراچنار: متہ سنگر اخترو پیکٹ چیک پوسٹ کے 100 میٹر فاصلے سامنے افغانستان سے 18 ہزار داعشی دہشت گردوں کا سرحد پار کرکے جنریٹر لگا کر باڑ کاٹ کر پاراچنار کے مظلوم عوام پر حملہ ، صرف آج کے حملوں میں 6 شہری شہید اور 2 جوان لاپتہ ہوئے ہیں۔یہ اعلان داعش نے اپنا چوتھے مجلہ میں جاری کردیا۔ کیا اس موقعے پر چوکیدار پاک فوج اپنے شہریوں کی تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائیں گی ؟کیا پاراچنار میں بھی افغانستان شام عراق لیبیا سوڈان صومالیہ و یمن کی صورتحال پیدا کی جائے گی ؟ جہاں داعش کے جانب سے شیعوں کا قتل عام کیا جائے ؟

خدارا شیعوں ایک قوم کی طرح جاگواور متحد ہو جاو کیوں اب طالبان تکفیری سنی وہابی دہشت گرد ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں اگر اب بھی نہی جا گو گے تو عنقریب یہ جنگ ہرگھر میں برپا ہوگی ایک شیعہ جوان کی گردن کاٹ کر کتے کے آگے ڈالی گئی اس سے فوٹبال کھیلی گئ اسکو چوک چوراہوں میں لٹکایا گیا میں پچلے کئی ماہ سے یہ بات کر رہا ہوں لیکن کوئی اس پر کان ہی نہین دھر رہا لیکن خدارا جن آئمہ پر ایمان اور یقین رکھتے ہو انہیں کے وسیلے سے دعائیں کرتے ہو مگر حیلہ نہیں کرتے تم کو انکا واسطہ ہے تم جا گو اب ورنہ ایسا ظلم ڈھایا جائے گا کہ نہ تو عزت محفوظ رہے گی اور نہ تم ۔۔۔۔۔اگر تم صرف خاموش رہوگے یہ جنگ پاراچنار کی نہیں ہے یہ جنگ شیعت کی جنگ ہہ پاکستان کی سالمیت کی جنگ ہے۔
کرم ایجنسی کے گرد و نواح میں تقریباً اڑھائی ملین آبادی کے سنی قبائل آباد ہیں اور درمیان میں آدھی ملین آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، تو اس لحاظ سے طوری بنگش شیعہ قبائل اپنے دفاع کیلئے ہر وقت مستعد رہتے ہیں۔ کرم ایجنسی میں جتنی طوری قبیلے کی تاریخ قدیم ہے اتنی شیعہ سنی قبائل اور مسالک کی لڑائی بھی قدیم ہے
ایک علاقہ خرلاچی چھاؤنی کے زیر نگین ہے فوج کے تمام قلعے اور چیک پوسٹ کے سامنے دہشت گرد باڑ کاٹ کر بھاری ہتھیاروں کے ساتھ بمعہ لینڈ کروزر ملک میں داخل اور پاراچنار میں چاروں جانب سے قتل عام لیکن ریاست خاموش ، چوکیدار فرار
اگر فوج کو ڈی چوک میں شہریوں کے قتل سے فرصت مل گئی ہو تو پاراچنار میں شہریوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرے
ایک ایسے وقت میں جب طالبان اور داعش ان قبائل کے سروں پر کھڑے ہیں۔ ساری صورتحال کے باوجود اسلحہ جمع کرنے کا تقاضا سمجھ سے بالا تر ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوش کے ناخن لیں اور قبائلیوں کے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل ترتیب دیں۔
اس راگ میں وہ شام ہے جسکی سحر نہیں
اسلام جل رہا ہے ہمیں کچھ خبر نہیں
جاری ہے ۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

چھٹی قسط سید اکمل حسین
جس نے تاریخ کے ہر جھوٹ کو سچ لکھا ہے
خاک ہے ایسے قلم اور قلم دان پہ خاک ,ڈاکٹر ثروت رضوی

آئین اسلامیہ جمہوریہ پاکستان نے قبائلی علاقوں کو مکمل تحفظ دیا ہے اور کسی بھی آپریشن سے پہلے قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ اس آئینی شک پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ بعض ادارے آئین سے ماورا اقدامات کرکے آئین پاکستان اور پاکستان کی بنیادی اکائیوں کو آج بھی کمزور کرنے کی سازشی نظریہ کو مزید تقویت پہنچانے پر ہر وقت تلے رہتےہیں؟ قائداعظم محمد علی جناح نے پاراچنار آکر قبائلی عوام کو پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت دی تو ان قبائل نے قائداعظم کی درخواست پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور تحریک پاکستان، تحریک آزادی کشمیر سمیت 1965 اور 1971 کی جنگوں میں ان قبائل کا کردار ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ محب وطن پاکستانی اسلام آباد اور لاہور و کراچی کے پاکستانیوں سے کسی بھی حوالے سے کم نہیں۔
جس طرح ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق ہے اسی طرح ہر شخص اور ہر قبیلے کو بھی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ حکومت مندرجہ بالا حالات اور واقعات کو مسلسل نظر انداز کرتے ہوئے طوری قوم کے سیاسی، سماجی اور علاقائی تحفظ کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہوئے پہلے اور کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر پائے اور تین صدیوں سے وادی کرم میں مقیم ان حساس قبائل کو تحفظ کا احساس دلائے بغیر اس قبیلے کو موجود ہ خطرات سے بچانے کا کوئی تو سامان نہ کیا ۔ اگر طوری قبیلے کو غیر مسلح کیا گیا تو دوسرے ہی دن القاعدہ، طالبان اور دیگر دشمن قوتیں حملہ آور ہوجائیں گی۔ کیونکہ تری منگل، شلوزان تنگی، غوزگڑی اور بوشہرہ طالبان اور داعش کا گڑھ بن چکا ہے اور یہ سارے علاقے بوشھرہ کے علاوہ پہاڑی علاقے ہیں جہاں حکومت پاکستان کی پہنچ نہیں ۔لیکن پیواڑ، بوڑکی، خرلاچی، نستی کوٹ سمیت پاراچنار شہر ان کے راکٹ لانچرز اور توپ خانے کی زد پرہیں۔ حکومت پاکستان اور پاک فوج نے طوری قبیلے کو کبھی بھی تحفظ فراہم نہیں کیا ۔ پچھلے برسوں میں افغانستان کی طرف سے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ ہوا تھا تو کرم ملیشیا کے جوانوں نے بھاگنے میں عافیت جانی لیکن طوری قبیلے کے جوانوں نے جا کر افغان فورسز سے زبردست جنگ کی اور چوکی واگزار کرائی کیونکہ اس چوکی کے بعد پیواڑ گاوں آتا ہے اور یہ لوگ ہمیشہ پہاڑوں کے چوٹیوں پر چوکنا رہتے ہیں اور اندرونی و بیرونی دشمن پر نظر رکھتے ہیں۔ انگریز نے طوری قوم کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے نہ صرف کرم ملیشیا کھڑا کردیا تھا بلکہ قبائل میں مفت اسلحہ بھی تقسیم کیا تھا۔ 1986 میں ضیاالحق نے کرم ملیشیا کو پورے پاکستان میں تقسیم کرکے طوری بنگش قبائل کو طویل جنگوں میں جھونک دیا اور اب طوری قوم سے اسلحہ اکٹھاکرکے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟
طوری قبائل کے ساتھ جو بھی اسلحہ ہے اس کی تعداد اور مقدار کی لسٹیں حکومت کو فراہم کی گئی ہیں۔ جس جگہ پر اسلحہ رکھا گیا ہے اور جن افراد کے پاس اسلحہ رکھا گیا ہے وہ معلومات بھی حکومت کو فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سارا صرف اس لئے کیا گیا ہے کہ کہ ان مخصوص قبائل کا اسلحہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ قبائل حکومت پاکستان یا دوسرے قبائل پر کبھی بھی حملہ آور نہیں ہوئے۔ ان مخصوص قبائل کو درپیش مشکلات کو حل کئے بغیر، ان کی تجویز سنے بغیر، ان کو تحفظ اور احساس تحفظ دیئے بغیر اسلحہ تحویل میں لینا حکومت کی غیر دانش مندی ہے۔ قبائلی اور مذہبی جنگوں کی ایک طویل تاریخ سے آگاہ ہوتے ہوئے ایک مخصوص قبیلے، قوم اور مسلک سے تعلق رکھنے والوں سے اسلحہ جمع کرنا غیر
دانش مندی سے زیادہ بدنیتی پر مبنی نظر آتی ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

پانچویں قسط ۔۔۔۔۔سید اکمل حسین
پارہ چنارہ کے گزشتہ واقعات و وجوہات اور حکومت کے اقدام
پارا چنار‘ پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقہ جات ”فاٹا‘‘ کی کرم ایجنسی کا ہیڈ
کوارٹر ہے، جس کی افغانستان کے اُن تین صوبوں سے سرحد ملتی ہے جو افغان طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ اسی لیے ماضی میں دونوں طرف سے دہشت گرد بآسانی ایک دوسرے کے علاقوں میں آ جا سکتے تھے۔ کرم ایجنسی کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ وارانہ دہشت گردی ہے اور 21 تاریخ کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا یا واحد واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی وہاں تین بڑے دھماکے ہو چکے ہیں، جن
میں دسمبر 2015 ء کا دھماکہ ہے جس میں تقریباً اتنے ہی افراد شہید ہوئے تھے۔ مقامی افراد و حکام کے مطابق 2022 میں تقریباً ایک سال سے کرم ایجنسی میں امن اور سکون تھا اس امن کی بنا اور موجودگی سے پارا چنار اور ایجنسی کے دیگر حصوں میں رہنے والے لوگوں کی روز مرہ مصروفیات نارمل صورت اختیار کر چکی تھیں، بلکہ ایجنسی کی شیعہ اور سنی آبادی کے درمیان ایک عرصہ سے جو کشیدگی چلی آ رہی تھی اس میں بھی نمایاں کمی آ چکی تھی۔ لیکن امن اور بھائی چارہ کے دشمنوں کو یہ فضا پسند نہیں آئی اور اسے تباہ کرنے کے لیے انہوں نے ایک دفعہ پھر دو درجن سے زیادہ افراد کو شہید کرنے کے علاوہ درجنوں کو شدید زخمی کر دیا۔ پارا چنار کا یہ سانحہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ اس میں ملوث کچھ عناصر نے تو خود اپنے آپ کو بے نقاب کر دیا ہے، لیکن ان کے دیگر ساتھی اب بھی پس پردہ ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کے چہرئے بے نقاب کب تک ہوں گے ۔۔۔۔
اہم بات یہ ہے کہ پارا چنار میں دہشت گردی کا یہ کچھ واقعات اُس وقت رُونما ہُوئے جب کہ مُلک میں 2013 کے آخر سے سے جاری نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لیے مہم جاریتھی اور جون 2014ء سے جاری فوجی آپریشن”ضرب عضب‘‘ کے نتیجے میں دہشت گردوں کے مکمل قلع قمع کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ کوئی حکام اعلیٰ سے پوچھے کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ اتنی ہی کامیابی سے جاری تھی جتنی وہ دُنیا کو بتاتے ہیں تو پھر پارا چنار کا یہ واقعہ کیسے رُونما ہوگیا؟ پاکستان کا کوئی شہری دہشت گردی کے خلاف اپنی فوج‘ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والی فورسز کی قربانیوں سے انکار نہیں کر سکتے۔ لیکن جن حلقوں پر پاکستانی عوام کی جان اور املاک کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اُن سے جائز طور پر پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ دہشت گرد جب چاہیں‘ جہاں چاہیں اور جسے چاہیں اپنی مذموم کارروائیوں کا نشانہ بنانے اور پھر صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں؟ حالانکہ لاتعداد تجزیوں اور تحریروں میں ان تنظیموں کے نمائدوں کارندوں اور نیٹ ورک کی نشان دہی کی جا چکی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اقوام متحدہ اور کئی ادارے اِن کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے اور ان کے سدِباب کے لیے پاکستان کے حکام کو مدد اور تعاون کی پیش کش کر چُکے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے ہمسایہ ممالک جو خود اس مسئلے سے بری طرح دوچار ہیں، بین الاقوامی سطح پر انسدادِ دہشت گردی میں کولیشن پارٹنر ہیں، پاکستان کی توجہ اس قسم کے اقدامات کی اشد ضرورت کی طرف توجہ مبذول کرواتے رہتے ہیں،
لیکن ہمارے حکمران بدستور ڈینائل موڈ میں ہیں
اور اُنہیں کوئی پروا نہیں کہ بیرونی دنیا میں ان کے بارے میں کیا تاثر پایا جاتا ہے یا اندرون ملک حالات کس طرف جا رہے ہیں۔ اگرحکومت نے اپنے بنائے ہوئے کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات کی روشنی چند اقدامات کئے ہوتے تو پارا چنار جیسے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ حکومت خصوصاً وزارت داخلہ جو بنیادی طور پر ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے بین الصوبائی اقدامات کی ذمہ دار ہے‘ کو اس قسم کی رپورٹ یا سفارشات سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

قسط چہارم ۔۔۔۔۔سید اکمل حسین

پاکستان گزشتہ بیس برس سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ خاص کر فرقہ وارنہ فسادات اس میں ہمارے 80 ہزار سے زائد شہری اور 10ہزار کے قریب سکیورٹی اراکین اس قتل و غارت کی نذر ہو چکے ہیں۔ ملک میںدہشت گردوں کی بدستور موجودگی اور انہیں اپنے اہداف کو آسانی سے نشانہ بنانے میں کامیابی کا اصل سبب یہ ہے کہ ملک میں ابھی تک ایسا کوئی ایسا نظامی بیانیہ سامنے نہیں آیا جس پر پوری قوم کا اتفاق رائے ہو۔ اور راہ راست امن کی راہ استوار ہو سکے۔۔۔۔

پارا چنار میں دہشت گردی کے اس واقعہ کی پر زور مذمت کرتے ہوئے اسے ان عناصر کی کارروائی قرار دیا ہے جو پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ ، مگر پارا چنار کے واقعہ کی جو تفصیلات میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں‘ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اُس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔انسداد دہشت گردی کی ت کی روک تھام پر کوئی حکومتی کاروائی ٹھوس قدم اُٹھایا گیا اورایک وجہ حکومتی اداروں میں تعاون کا فقدان اور بعض کالعدم تنظیموں کے خلاف، جو خود متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہیں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی میں سُست روی ہے۔

کالعدم تنظیموں کے بارے میں حالیہ بحث اس مسئلے کی طرف پوری طرح اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی اور اس سے موثر طور پر نمٹنے کے معاملے پر مرکز اور صوبوں کے درمیان اتفاق رائے ہے اور نہ تعاون کی فضا قائم ہے۔ اگر کسی صوبے میں ایک کالعدم تنظیم کے رہنمائوں کا داخلہ بند ہے تو دوسرے میں انہیں جلسہ کرنے‘ جلوس نکالنے اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے کی نہ صرف کھلی چھٹی ہے‘ بلکہ اُنہیں ان سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے سرکاری طور پر تمام تر اور بھر پورسہولیات بھی مہیا کی جاتی ہیں۔

ایک بات گزشتہ حالیہ واقعات سے ثابت ہو چکی ہے۔ صدر‘ وزیراعظم اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنمائوں کے سرکردہ افراد ان واقعات میں ملوث ہیں ایک جرم انجام دیتا ہے اور دوسرا اس کو بری ذمہ قرار دے دیتا ہے ۔مزید وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کو دہشت گردی کے الزام سے بری کر دیا ہے۔ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں ابہام میں اضافہ ہوا ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

تیسری قسط۔۔۔۔۔۔سیّد اکمل حسیّن
اسے ہی خزاں کہتے ہیں
‏تو اِدھر ُادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے۔
ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر حملے کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا گیا اور گلگت، کوہاٹ، جیکب آباد، سجاول، نوابشاہ، مٹیاری، بہاول پور اور بھکر میں مظاہرے کیے گئے۔یہ جو پارا چنار میں بے گناہ شیعوں پہ مظالم ہورہے تو وہ چمچے مولوی جو قوم کے دستر خوان پہ روٹیاں توڑتے ہیں وہ اپنی جان کا نظرانہ کیونکر پیش نہیں کرتے؟اگر واقعی آپ کاکوئی مکتب ہے شہداء سے رشتہ ہےتولائحہ عمل دینا ہوگا سخت مطالبات رکھنے ہونگے اپنا قانونی اور آئینی حق مانگنا ہوگا۔دفاع کی نمائش آسان ہے،دفاع کرنا مشکل ہے
موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے پاراچنارمیں جاری شیعہ نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان حکومت اقلیتی طبقے کو تحفظ فراہم کرنے میں مسلسل ناکامی کا شکاررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاراچنار میں جس طرح علیٰ الاعلان عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیاگیاہے، اس سے ظاہرہو جاتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی شباب پرہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ پاراچنار میں شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ افسوس یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلم ادارے اور علماء بھی اس ظلم پر خاموش ہیں جو لائق مذمت ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاراچنار میں جس طرح عورتوں اور شیرخواربچوں کا قتل کیا گیا اس سے یزیدی فرقے کا چہرہ بے نقاب ہوگیا۔
شتر کی ٹانگ کٹنے پرپورا پاکستان افسردہ لیکن پاراچنار میںقتل ہونے والے بے گناہ انسانوں کی تعداد 103 تک پہنچ چکی ہے اس قتل عام پر سب پاکستان اور حکومت کیوں خاموش ہےجن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔۔۔۔۔
ایک اور خدشہ جو گزشتہ تجربات کی بنا پر ہے کہ امداد کے نام پر رقوم اور دیگر عطیات و صول کرنے والے کی آوازیں ابھرنی شروع ہو چکی ہیں کچھ نے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے امداد تقسیم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے جب کہ تازہ تریں معلومات کے مطابق پارہ چنار کےتمام زمینی اور ہوائی راستے مکمل طور پر بند کیے جا چکے ہیں موصلاتی رابطہ بھی منقتع کیئے جا چکے ہیں اور سر زمیں پارہ چنارہ سے کوئی رابطہ نہیں ہے
پارہ چنار جانے والی واحد سڑک پر بھی آمد و رفت کا نظام معطل ہے ۔۔۔اور اب تو حکومتی احکام اور دیگر حفاظتی دستے پر بھی حملہ کیا جا چکا ہے بازار مکمل طور پر بند ہیں اور کوشیش کی جار ہی ہے کہ کوئی راہ راست نکل آئے جو ابھی تک نظر نہیں آ رہی
پارہ چنار کی عوام نے حقوق انسانی کے عالمی اداروں ،خاص طورپر اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں شیعوں کی نسل کشی کا احتساب ہونا چاہیے اور پاکستانی سرکار پر اس جرم میں قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے شیعوں کے تحفظ کے لئے حقوق انسانی کے عالمی ادارے جلد از جلد موثر اقدام کریں اور اقوام متحدہ اس واقعے کے مجرموں اور دہشت گردوں کو سزا دلوانے میں اپنا کردار اداکرے

دوسری جانب اس وقت بھی حکومت کا کارکنان نے بہت سے شیعہ اور سنی علما، سماجی اور سیاسی کارکن اور رہنما حتی وکلاکی جیلوں میں بند ہیں اور وہاں بدترین صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ملک اور پارہ چنارکے شیعہ مسلمانوں کے خلاف جارحیت اور پر تشدد کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور اس ملک کے شیعہ مسلمانوں پرعرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے شیعوں اور مخالفین کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ایسے حالات میں جاری ہیں جب حکومتی حکام دکھاوے کی آزادیاں دے کر عالمی رائے عامہ کے سامنے خود کو ترقی اور آزاد ملک کے بطور پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گزرے گا اِس طرف سے شہیدوں کا قافلہ
ہتھیار لیے کھڑے ہیں نمازی قطار میں
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

دوسری قسط۔۔۔۔۔ لہو لہو پارا چنار

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
پاراچنار قتل عام پہ چپ رہنے والوں کے نام
پارا چنار میں قتل کے واقعات، ’ہر طرف خوف کا سماں ہے‘
امن زندگی ہے امن ترقی ہے ۔ کسی گھر کو ویران ہونے سے بچائے اور بچوں کو یتیم ہونے سے بچانےکے لئے اپنے حصے کا کردار ادا کریں
تازہ تریں خبر کے مطابق انجمن حسینیہ پاراچنار کی قوم سے التماس ہے کہ برداشت و بہادری کا مظاہرہ کریں تمام زمہ دار اپنی جگہ پر مصروف عمل ہیں شہداء اور زخمی افراد کو نکالنے تک قوم پرامن رہے۔ میتوں اور زخمیوں کو نکالنے کے بعد قوم کو لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائیگا۔
پاراچنار کے مظلوم اہل تشیع اس وقت تاریخ کے بد ترین سوگ و غم میں ہیں۔ حالیہ شہداء پاراچنار کی تدفین و تکریم ابھی جاری ہے اور قوم کرب سے گزر رہی ہے جس کی وجہ سے سالار شہداء علامہ شہید محمد نواز عرفانی کی برسی جو کہ کل بروز اتوار مورخہ 24 نومبر کو منعقد ہونی تھی اس کو قومی مفاد میں ملتوی کیا جارہا ہے۔انشاءللہ شہید آغا کا مشن جاری و ساری رہیگا
انسانیت شرما گئی ہے، ظلم کے سارے حدود پار ہوگئے ہیں۔ مظلومین کے خون کا سیلاب بہایا گیا ہے۔ درد اور مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں اتحاد کا دامن تھام لینا چاہئے۔ یہ حادثہ سنگین ترین ہے۔

شفاخانے کے ایک سینیئر ڈاکٹرکے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سنیچر کو 81 ہو گئی ہے۔
غیر ملکی خبروں اور میڈیا رپورٹس کےمطابق جمعرات کو کرم میں گاڑیوں کے ایک قافلے پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 81 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
برسوں سے اس علاقے میں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے یہ حملہ ایک ایسے ضلع میں ہوا جہاں حالیہ مہینوں میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ان گنت افراد مار دئیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سنیچر کو بھی جھڑپیں جاری ہیں۔

پارا چنار کے ضلع شفا خانہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ ’اب تک جھڑپوں میں تقریباً 81افراد ہلاک اور 86 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے 16 شدید زخمیوں کے پشاور میں علاج کی سفارش بھی کی ہے کیونکہ ان کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔‘شیعہ سرکردہ افراد کا کہنا ہے کہ شفاخانہ سے لاشیں لائی جا رہی ہیں
دوسری جانب پارا چنار میں خیبر پختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تاہم ہیلی کاپٹر محفوظ لینڈنگ کرنے میں کامیاب رہا اور اس میں موجود حکومتی وفد محفوظ رہا ہے۔
ہیلی کاپٹر میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ کی سربراہی میں وفد وزیراعلٰی خیبرپختونخوحکومت کے اعلی عہدے داران کی ہدایت پر کرم میں امن و امان کا جائزہ لینے اور امن و امان کی بحالی کے لیے جرگے کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے جا رہا تھا۔
وفد میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا ، کمشنر کوہاٹ ڈویژن، ڈی آئی جی کوہاٹ سمیت دیگر اعلٰی عہدے داران شامل ہیں۔اس سے قبل یہ یاد رہےگزشتہ جولائی اور ستمبر میں ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے اور قبائلی کونسل کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے کے بعد ہی یہ معاملہ ختم ہوا تھا۔ مگر ایسا ہر گز نہیں ہوا قاتل حکومت کی شہ پر کھلے عام گھوم رہے ہیں
پارا چنار اور علاقے کی کاروباری برادری نے جمعے کو اس حملے کے خلاف تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ مقامی افراد کے مطابق پورے ضلع میں اس وقت خوف کا عالم ہے۔
ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے حکومت سے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اور کرتے ہوئے کہا کہ ’اس واقعہ کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔‘ پارا چنار واقعہ صوبائی حکومت کی نااہلی ہے ، وفاقی حکومت اس پر نوٹس لے ۔
کیا ہوا کیوں واعظِ شعلہ بیاں خاموش ہے
ہر مقرّر اور مبصّر کی زباں خاموش ہے
سِل چکے ہیں لب زمیں کے، آسماں خاموش ہے
چیختا پھرتا ہے خُوں، سارا جہاں خاموش ہے
اوہ اچھا… بہہ رہا ہے یہ خدا والوں کا خُوں
خامشی ہے اس لیے ہے کربلا والوں کا خُوں

اور حکومت اور سیکورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ پارچنار جو کہ پاکستان کا ایک بہت بڑا حصہ ہے، کو فرقہ واریت سے بچایا جائے اور اسے سکیورٹی فراہم کی جائے۔‘ اس واقعے میں اپنے قریبی عزیزوں کو کھو دینے والےعزیز و اقارب بے گناہ اور نیک اور معصوم ہلاک ہونے والوں میں چھ ماہ سے کم عمر کے بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ وہ معصوم مسافر تھے۔ ان کا کیا قصور تھا؟‘ وہ صرف حق کا کلمہ بلند کرتے تھے اور شیعہ علی تھے!
جنہیں حقیر سمجھ کر بجھا دیا تم نے
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

……………………………..

پارہ چنار میں حالات بدستور کشیدہ، مزید ہلاکتوں کی اطلاعات

ایک خوب صورت اوردل روبا پاراچنار شہر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کرم میں اور پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد کے شواہد تھے کہ شیعہ برادری نے زیادہ کو کنٹرول کر رکھا ہے۔
پاراچنار خود مختار علاقوں کا مرکز تھا اور چاروں صوبوں پہ کتیا، خوست، ننگرہار اور لوگر افغانستان سے باہر اور پاکستان سے باہر اور وزیرستان کے صوبے سے گھرا ہوا تھا۔ اس کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ پاراچنار تکفیری اور سلفی علاقوں میں ایک سرحدی ریاست اور پڑوس کا مرکز ہے۔ پاراچنار کے دونوں شیعہ تقریباً مکمل طور پر محاصرے میں ہیں اور تکفیری ہونے پر بضد ہیں۔ علاقے کی واحد مواصلاتی سڑک بھی پہنچنے کے لیے تیار ہے۔

زمین کی ملکیت سے شروع ہونے والا جھگڑا اب بظاہر فرقہ وارانہ تصادم میں تبدیل ہو چکا ہے ، بتایاگیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد ضلع کرم کے داخلی اور خارجی راستے بند ہیں، علاقے میں نیم فوجی دستوں کے اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند ہے۔
یادرہے کہ ضلع کرم میں تین مہینے پہلے بھی مختلف قبائل کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں جانی نقصانات ہوئے تھے اور ہھر امن کمیٹیوں کے ذریعے امن قائم کر دیا گیا تھا۔
پاراچنار میں شیعہ تشدد اور ہلاکتوں کی تاریخ برسوں پہلے، خطے میں مذہبی گروہوں اور فرقوں کے درمیان جھڑپیں
۔پاراچنار میں شیعہ تشدد اور قتل و غارت کی تاریخ شورش سے برسوں پہلے، فرقہ وارانہ گروہوں کے درمیان جھڑپیں ماضی موجود تھا اور شیعوں نے اپنی جانیں اپنے آپ کو دے دیں۔تاریخ اور مورخوں نے رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چھ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب قرم ریجن کے وسط میں پاراچنار شہر میں دو قبائل کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں۔ پاکستان کے شیعہ گروہوں کے تکفیری قوتوں پر حملہ کرنے اور دہشت گرد عناصر کے ساتھ مل کر اہداف کو نشانہ بنانے کے فیصلے کے زیر اثر۔ زمین اور کھیت خبریں دیتے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 44 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں میں سے بھی 11 افراد کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آبائی علاقوں میں میتوں کی تدفین کر دی گئی ہے جبکہ 39 زخمیوں میں سے 11 ٹل کے فوجی ہسپتال جبکہ شدید زخمی پشاور منتقل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 25 زخمی علی زئی کے ہسپتال اور تین پاڑہ چنار کے ہسپتال میں موجود ہیں۔
آج جمعہ کے روز پاڑہ چنار سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور پاڑہ چنار میں بعض مقامات ہر توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔
پارا چنار میں ماحول سوگوار ہے اور مقامی افراد نے بتایا ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران لوگوں نے بعض مقامات پراملاک کی توڑ پھوڑ کی ہے لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
واقعے کے خلاف شیعہ عقیدہ اور مسلک والے افراد نے ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ مختلف رہنماؤں نے ضلع کُرم سمیت خیبر پختونخوا بھر میں آپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد علاقے کی فضا سوگوار ہے اور اِس وقت لواحقین، علاقے کے عمائدین اور مشیران میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت ہو رہی ہے اور جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY