جب ھدف بلند ہو تو تھک نہیں سکتے۔۔فائزہ عباس

0
1418

کسی بھی انسان کے اندر سے…..
لطیف احساسات کا قتل اس انسان کو ایک عام سی لکڑی کی صورت دے دیتا ہے ۔۔۔یعنی وہ موجود رہتا ہے مگر بس ایک لکڑی کی مانند۔۔۔جس سے کچھ مخصوص کام کیے جا سکتے ہیں۔۔۔جو کہ بس بنیادی ہیں۔۔۔
مگر۔۔۔
اگر انسان کے اندر موجود احساسات ۔۔۔رحجانات۔۔۔تخیلات۔۔۔اور مزاج کی پرورش اگر پرواہ سے کی جائے تو وہ ہی عام سی چھڑی۔۔۔
یا عام سا انسان اپنے وجود کے خوبصورت رنگوں سے ایک بانسری کی طرح۔۔۔سریلے رنگ بکھیر دیتا یے۔۔۔
جیسے بانسری جب بانسری بنتی ہے تو مختلف دھنوں سے اپنے ارد گرد کو خوبصورت اور مسحور بنا دیتی ہے۔۔۔مگر اس کے لیے اس کی امنگوں۔۔۔اسکے احساسات کی درست نہج پر تربییت ضروری ہے تاکہ وہ اپنی خوبصورتی کے سبھی رنگ کھل کر بکھیر پائے۔۔۔۔

مگر ہم اپنے یا پھر اپنوں کے ان محسوسات۔۔۔رحجانات۔۔۔اور تخیلات کو ابھرنے۔۔۔سنورنے۔۔۔نکھرنے میں مدد نہیں دیتے بلکہ۔۔۔
یا تو غلط استعمال کرتے ہیں۔۔۔یا پھر۔۔۔۔
مار دیتے ہیں۔۔۔مصائب۔۔۔حالات ۔۔ اور مسائل کی نظر ہوجاتے ہیں سب ہنر۔۔۔۔۔
سب تخیل۔۔۔سب رنگ۔۔۔۔۔۔

اور انسان بس ایک مشین کی مانند چلتا چلا جاتا ہے۔۔۔جینا چھوڑ دیتا ہے ہر قدم مرتا چلا جاتا ہے۔۔۔۔

ہماری مجبوریاں۔۔۔اور مسائل کی نظر ہمارے سب خوبصورت اور قیمتی سر۔۔۔۔ہو جاتے ہیں اور کوئی اول تو اہمییت نہیں دیتا اور اگر کوئی دے تو بیوقوف ۔۔۔نادان ۔۔۔جاہل ۔۔۔سمجھ لیا جاتا ہے۔۔۔۔

زندگی کے اصل معنی ان سروں۔۔۔ان رنگوں سے آشنائی ۔۔۔وابستگی۔۔۔۔تربییت اور معنویت سے ملتے ہیں ۔۔۔تب انسان جیتے ہیں تھکتے نہیں۔۔۔ہم تھک جاتے ہیں کیونکہ ہم جیتے نہیں۔۔۔۔

تھوڑا سا بڑا ہوتے ہیں اور جینا چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔

انسان کے وجود میں بچہ۔۔۔بزرگ۔۔نوجوان۔۔۔عقلمند۔۔۔نادان سب موجود ہوتے ہیں۔۔۔کبھی ہم اپنے پر اس بزرگ کو طاری رکھتے ہیں یا پھر ایک سمجھدار بڑے ذمہ دار انسان کو مگر اپنے اندر موجود اس معصوم بچے۔۔۔

اس نوجوان۔۔۔اس انسان کو مار دیتے ہیں۔۔۔ہنسنا بولنا۔۔۔کودنا کھیلنا۔۔۔۔سب چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔حالانکہ
۔۔وہ سب ہم ہی میں زندہ رہنا چاہتے ہیں وہ سب ہمارے ہی رنگ ہیں۔۔۔۔

وہ سب ہماری ہی دھنک ہیں۔۔۔۔ہماری ہی روشنی ۔۔۔ہمارے ہی عکس۔۔۔۔

جینے کیلیے ضروری ہے ان سب کو حسب ضرورت ۔۔ زندہ رکھا جائے۔۔۔سب کو باہر نکلنے کا موقع دیا جائے۔۔۔تاکہ ہمیں زندگی زندگی سی لگے۔۔۔۔۔

تاکہ ہم کھل کر ہنسیں۔۔۔۔مسکرائیں۔۔۔۔روشنیاں سکیں۔۔۔لڑائی سکیں ۔۔۔

پر جب بس ایک رنگ ہم پر ہائی رہتا ہے تو ہم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہیں۔۔۔۔اور پھر چاہتے ہیں کہ مر ہی جائیں۔۔۔۔۔

جینے کے لیے اپنے اندر وہ آگ جلائے رکھنا۔۔۔۔

وہ آگ سلگا ئے رکھنا بہت اہم ہے جو زندگی کو اصل تحریک دیتی ہے۔۔۔۔انسان کو زندہ رکھتی ہے۔۔۔۔

اپنی زندگی کے سبھی رنگوں سے واقفیت اور انکو جینا۔۔۔بہت اہم ہے ورنہ ہم تھک جاتے ہیں۔۔۔۔۔

اور جب ھدف بلند ہو تو تھک نہیں سکتے۔۔۔۔
رکتے نہیں سکتے۔۔۔۔
یار نہیں سکتے۔۔۔۔
ٹھہرا نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جینا ہے۔۔۔ہنسنا ہے ۔۔۔کھلنا ہے۔۔۔۔
مگر اپنے رنگوں کو اپنی حدود قیود میں رکھ کر۔۔۔۔
تاکہ ہماری خوبصورتی کے سب رنگوں ۔۔سب خوشبوں کو ہم بکھیر پائیں۔۔۔۔

بانسری کے ان حسین سروں کیطرح جو بکھر جائیں تو انسان کو اپنے سحر میں مسحور کر لیتے ہیں اور زندگی کو جینے لائق بنا دیتے ہیں۔۔۔۔انسان کی صلاحیتوں کو بھی اگر درست سمت مل جائے تو انسانی وجود سے بکھرتے سر پورے معاشرے کو ایک خاص حسن اور ردھم میں ڈھال دیتے ہیں نہیں تو کسی سیڑھی کیطرح بے جان و بنجر دوسروں کی راھداری سے بن کر رہ جاتے ہیں….

یعنی کسی بھی انسان کے اندر سے لطیف احساسات کا قتل اسے ایک عام سی لکڑی کی صورت دے دیتا ہے ۔۔۔مگر
اگر انسان کے اندر موجود احساسات ۔۔۔رحجانات۔۔۔تخیلات۔۔۔اور مزاج کی پرورش اگر پرواہ سے کی جائے تو وہ ہی عام سی چھڑی۔۔۔یا عام سا انسان اپنے وجود کے خوبصورت رنگوں سے ایک بانسری کی طرح۔۔۔سریلے رنگ بکھیر دیتا یے۔۔۔جیسے بانسری جب بانسری بنتی ہے تو مختلف دھنوں سے اپنے ارد گرد کو خوبصورت اور مسحور بنا دیتی ہے۔۔۔مگر اس کے لیے اس کی امنگوں۔۔۔اسکے احساسات کی درست نہج پر تربییت ضروری ہے تاکہ وہ اپنی خوبصورتی کے سبھی رنگ کھل کر بکھیر پائے۔۔۔۔

فائزہ عباس…

SHARE

LEAVE A REPLY