دو منقبتوں کا تنقیدی و تجزیاتی جائزہ
بسلسلہ: ”علی علی علی“ اور ”عباس علمدار“
از پروفیسر نصرت نسیم
=======
محترمہ پروفیسر نصرت نسیم صاحبہ کی دو نثری تخلیقات بصورتِ منقبت نظرنواز ہوئیں۔
ایک حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں“علی علی علی”، دوسری حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی نذر”عباس علمدار“۔
نظموں کے حوالے سے سب سے پہلے تومذکورہ تخلیقات کی صنف کاتعین طے کیاجائے کہ آیا اسے نثری نظم کہا جائے یا آزاد نظم۔؟۔۔صنف کے تعین کے بعد ہی ان پر مفصل ومدلل سیرحاصل گفتگو۔ ذیل کی سطور میں دونوں نکات پر بالترتیب عرض ہے۔
اول: ہیئتی تعین — نثری نظم یا آزاد نظم؟
اردو شعریات میں ”آزاد نظم “اور ”نثری نظم“کے مابین امتیاز بنیادی طور پر) وزن) بحرکی موجودگی یا عدم موجودگی پر قائم ہے، نہ کہ محض مصرعوں کی غیرمساوی طوالت پر۔۔ کیونکہ دونوں اصناف میں مصرعے غیرمساوی ہو سکتے ہیں۔ آزاد نظم (ن م راشد، میراجی، اختر الایمان کی روایت) دراصل کسی ایک بحر سے ’آزا‘’نہیں بلکہ اسی ایک بحر کے ارکان کی تعداد میں نظم بہ نظم آزادی برتتی ہے۔یعنی پوری نظم میں ایک ہی بحر کے ارکان مختلف تعداد میں دہرائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس نثری نظم سرے سے کسی متعین عروضی بحر کی پابند نہیں ہوتی؛ اس کا آہنگ تکرار، ترصیع، نحوی توازی ردیف نما جملوں، اور فطری لہجے کی موسیقیت سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ آہنگ جسے شمس الرحمن فاروقی نے شکوک کی نظر سے دیکھا مگر جلیل عالی، جیلانی کامران اور وزیر آغا جیسے نقادوں نے ایک الگ اور جائز صنف کے طور پر تسلیم کیا۔۔
زیرِ نظر دونوں منقبتوں کا تقطیعی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کوئی ایک بحر پورے کلام میں مسلسل برقرار نہیں رہتی۔ مصرعے ”علی علی علی“ اور”تجھ سا نہیں کوئی“جیسی نہایت مختصر، تقریباً نثری پکار سے لے کر ”تیرے پرنور، پر ضیا روضے پر“اور ”جو بھی ترے عشق میں دے خود کو مٹا“جیسے نسبتاً طویل، تال میل والے مصرعوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ بعض متصل مصرعے سرسری طور پر ہم آہنگ محسوس ہوتے ہیں (مثلاً”محبت، شجاعت، ایثار کی“اور اس سے ملحقہ سطور میں ہلکی رمل نما لے کا گمان گزرتا ہے)، یہ مقامی اور وقتی ہم آہنگی ہے، کوئی پوری نظم پر حاوی بحر نہیں۔ نیز روایتی قافیہ بندی بھی غیر موجود ہے؛ جو وحدت پیدا ہوتی ہے وہ ردیف نما تکرار (علی علی علی / پیکر مہر ووفا / اے خدا، اے خدائے کریم ۔۔۔۔
اور جملوں کی نحوی ساخت کی مماثلت سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ عروضی تقابل سے۔ مصرعوں کی حد بندی بھی مفہومی وقفے کی بنیاد پر ہوتی ہے، رکنی شمار کی بنیاد پر نہیں۔ یہ نثری نظم کی پہچان کا بنیادی نقطہ ہے۔
لہٰذا راقم کی رائے میں دونوں تخلیقات کو بنیادی طور پر نثری نظم کے زمرے میں رکھا جانا چاہیے، جسے منقبت کی روایتی اصطلاحی چھتری تلے‘منقبتی نثری نظم’کہا جا سکتا ہے۔ ہاں، چند مقامات پر ہلکی پھلکی آزاد نظم کی سی میلان رکھنے والی تال موجود ہے، مگر چونکہ یہ تال کسی ایک بحر کے تسلسل کی صورت میں پوری نظم پر محیط نہیں، اس لیے اسے آزاد نظم کہنا حد سے زیادہ فراخدلانہ تعبیر ہو گی۔ دونوں نظموں کا اصل وزن دراصل‘وزنِ معنوی’ہے، یعنی جذبے کے بہاو اور تکرار کی موسیقیت سے پیدا ہونے والا داخلی آہنگ، نہ کہ عروضی وزن۔
منقبت ”علی علی علی“ادراکی تجزیہ۔۔۔۔
نظم کا مرکزی ادراکی فریم زیارت و التجا ہے،شاعرہ خود کو لفظ ”حاضر“کے ذریعے روضے کے سامنے، حال کے لمحے میں متعین کرتی ہیں — یہ براہِ راست متبادل کی ایک موثر مثال ہے جو قاری کو فوری طور پر مزار کی مقدس فضا میں منتقل کر دیتی ہے۔
روشنی کا استعارہ (”پرنور“،”پر ضیا روضہ“، ”نور نظرِ رسول“)) روایتی مذہبی ادراکی نظام کی بنیادی علامت ہے: روشنی=علم/ ایک وجودی کنایہ کے طور پر کام کرتا ہے جو تجریدی تقدس کو حسی، قابلِ ادراک تجربے میں بدل دیتا ہے۔
”شہر علم اور باب علم“کی صورت میں ایک تصوراتی خاکہ(container schema) برتا گیا ہے: علم ایک محفوظ شہر ہے اور حضرت علیؓ اس کا دروازہ — اندر اور باہر، دہلیز اور رسائی کا تصور۔ یہی اسکیما شاعرہ کی ذاتی دعا میں راستے کی صورت دہرایا جاتا ہے: ”داخل ہوں باب علم میں / اور پہنچوں شہر علم تک”— یہاں شاعرہ خود کو راستے پر گامزن، منزل کی جانب بڑھتا ہوا تصور کرتی ہیں، اور حضرت علیؓ اس راستے کے دروازے کے طور پر۔
”مولد خانہ خدا“ اور ”سفر آخر در خانہئ خدا“ کی جوڑی زندگی کو ایک مکمل دائرے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ پیدائش اور رخصت دونوں ایک ہی مقدس نقطے سے وابستہ، جو زندگی کی تکمیلیت اور تقدس کا ادراکی اظہار ہے۔
”پیکر جود و سخا“اور ”پیکر فہم و ذکا“ جیسی تراکیب میں انسان کو تجریدی صفات کے مجسم ظرف کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہ مرثیہ و منقبت کی روایتی لیکن ادراکی طور پر موثر تکنیک ہے،اسی طرح ”شیر خدا“میں قوت و شجاعت کو درندے کی مجسم صورت میں پیش کر کے تجریدی بہادری کو حسی، قابلِ تصور شکل دی گئی ہے۔
بالآخر شاعرہ اپنی نسبت کو ”کم علم و کم عمل“کہہ کر ایک عاجزی کا اسکیما تشکیل دیتی ہیں جو ممدوح کی بلندی کے مقابل ایک پست/بلندبناتا ہے — یہی عدم مساوات شاعرہ کی التجا کو ادراکی طور پر جائز اور ضروری بنا دیتی ہے۔
اسلوبیاتی و خطابی تجزیہ(”علی علی علی“)
نظم میں ضمائر کی سطح پر ایک نمایاں حرکت ملتی ہے: غائب کے صیغے میں مدحیہ بیانیہ”زوجہ جس کی، خاتون جنت“سے دوسرے شخص کی براہِ راست خطابیہ پکار”تجھ سا نہیں کوئی“، ”تیرے پرنور روضے پر“اور پھر متکلم کی موجودگی ”آج ہوں میں حاضر“ کی طرف ارتقاء۔ مدح اور مناجات کے درمیان یہ آمدورفت منقبت کی صنف کی نمایاں خصوصیت ہے،ایک ساتھ تکریم بھی اور قربت بھی۔
اسلوبیاتی و خطابی تجزیہ (”عباس علمدار“)
نظم میں صیغوں کی سہ ماخذی حرکت نمایاں ہے، ابتدا غائبانہ، تامّلی بیانیے سے ہوتی ہے، سکینہؓ کی پیاس کا بیان، پھر براہِ راست خطاب عباسؑ کی طرف منتقل ہوتا ہے ”عباس پیکر مہر ووفا“، اور بالآخر روضے سے براہِ راست مکالمہ ہوتا ہے۔”تیرا مرقد رہے پُرضیا“۔ یہ راوی ممدوحہ مقامِ مقدس کا خطابی سفر دراصل جسمانی زیارت کے عملی توالی کا تحریری پرَتو ہے۔
تکراری ندائیں ”اے خدا، اے خدائے رسول کریم / اے خدا، اے خدائے کریم“ مناجاتی صنف کی مخصوص محولہ/تکراری تکنیک ہیں جو ایک ورد جیسی، تقریباً نیم لاشعوری موسیقیت پیدا کرتی ہیں۔
لفظ”مشکیزہ“کی تکرار“بہریا مشکیزہ اور”مشکیزہ پانی سے بھرا“ ایک واضح لفظی زنجیر تشکیل دیتی ہے جو پوری نظم میں ایثار و وفا کے تجریدی موضوع کو ایک ہی ٹھوس شے کے گرد مرتکز رکھتی ہے۔
”شجاعت میں مثل علی“کا براہِ راست تقابلی حوالہ پہلی منقبت کے ممدوح، حضرت علیؓ، سے ایک بین المتنی پل تعمیر کرتا ہے، دونوں نظمیں، اگرچہ الگ الگ تخلیق ہوئیں، ایک خاندانی و علامتی سلسلے میں جڑ جاتی ہیں،عباسؑ بطور فرزندِ علیؓ، صفات کا تسلسل، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں منقبتیں ایک وسیع تر شعری منصوبے کا حصہ ہیں۔
عنوان ”منقبت بحضور عباس علمدار“اور شاعرہ کا اپنا وضاحتی نوٹ۔”روضہ عباس علمدار کی جالیوں کے پاس کچھ جذبہ عقیدت کی ترجمانی“ ایک نمایاں بیانیہ (paratext) کا درجہ رکھتا ہے جو قاری کو پیشگی طور پر متن کے پڑھنے کا فریم فراہم کرتا ہے، یہ کوئی غیر جانبدار بیانیہ نہیں بلکہ ایک مخصوص مقام پر، مخصوص لمحے میں محسوس کیے گئے جذبے کا براہِ راست ترجمہ ہے۔یہ خود وضاحتی فریم بذاتِ خود ایک نادر خطابی حربہ ہے جو متن کی استقبالیہ ہدایت طے کرتا ہے۔
چہارم: تقابلی جائزہ
دونوں منقبتیں ساختیاتی اور موضوعاتی سطح پر کئی مشترکات رکھتی ہیں:
۱۔دونوں دو کالمی صفحاتی ساخت کو معروضی مدح اور ذاتی خطاب کے مابین ایک دوہری آواز کے طور پر برتتی ہیں۔
۲۔دونوں کا اختتام روضے سے براہِ راست، لمسی نوعیت کے خطاب پر ہوتا ہے، جو منقبت اور زیارت نامے کی مخلوط صنف کی نشاندہی کرتا ہے۔
۳۔دونوں میں وزن کی بجائے تکرار، ردیف نما جملے اور نحوی توازی ساخت کا بنیادی ستون ہیں،جو محض اتفاق نہیں بلکہ شاعرہ کے انفرادی اسلوب کی علامت معلوم ہوتا ہے، یعنی نثری نظم کا انتخاب کسی ایک نظم کا حادثاتی وصف نہیں بلکہ نصرت نسیم کے مجموعی منقبتی اسلوب کا شعوری جزو ہے۔
ایک لائقِ توجہ نکتہ صنفی تناظر میں بھی ہے: مرثیہ و منقبت کی روایت تاریخی طور پر زیادہ تر مردانہ شعری ناموں،میر انیسؔ، مرزا دبیرؔ، سے منسوب رہی ہے۔ نصرت نسیم کا بطور زائر و شاعرہ ”آج حاضر ہوں“کی صورت میں خود کو متن میں جگہ دینا، بغیر کسی صنفی نشان زدگی کے لیرک ’میں‘ کو ایک عالمگیر، غیر صنفی زائر کی حیثیت دے دیتا ہے، جو اس صنف کے ارتقا میں ایک قابلِ ذکر معاصر پیش رفت ہے۔
حاصلِ کلام
مجموعی طور پر، دونوں تخلیقات کو ہیئتی اعتبار سے بنیادی طور پر نثری نظم قرار دیا جا سکتا ہے، جو منقبت کی مخصوص فضا اور افعال (مدح، مناجات، زیارت نامہ میں ڈھل کر ایک ہائبرڈ صنفی شکل اختیار کر گئی ہیں۔ ادراکی سطح پر دونوں نظمیں تجریدی، مذہبی مفاہیم کو ٹھوس حسی امیجری، روشنی، دروازہ، پانی، جالی،کے ذریعے جسمانی، قابلِ تجربہ صورت عطا کرتی ہیں۔ خطابی سطح پر دونوں ایک سہ مرحلہ وار حرکت، غائبانہ مدح سے براہِ راست خطاب، اور خطاب سے مقامِ مقدس کی طرف التجا،اختیار کرتی ہیں، جو منقبت اور زیارت نامے کی مخلوط، کارکردگی پر مبنی روایت کی مظہر ہے۔۔
والسلام مع الاحترام،خاکسارخادمِ علم وادب۔۔۔صالح اچھا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
انقلاب ایران کی 47ویں سالگرہ
تحریر نصرت نسیم۔ رپورتاژ
نو فروری کو اکیڈمی ادبیات میں
تخلیق کار انٹرنیشنل کی طرف سے 10 کتابوں کی تقریب پذیرائی اور رونمائی تھی۔ جس میں میری نئی آنے والی کتاب” نگار خانہ خیال” بھی شامل تھی۔ شام کو گھر واپس لوٹی تو ایک دن پیشتر محترم ریاض احمد رضوی کا پیغام ذہن میں تھا کہ 10 فروری کو ایرانی انقلاب کی سالگرہ کے حوالے سےفرانٹیئر کالج میں ایک تقریب ہے جہاں مجھے آنا ہے اور تقریر بھی کرنی ہے، میرا خیال تھا کہ گھر پہنچ کر تھوڑا سا اس حوالے سے کچھ تیاری کر لوں گی مگر دیر سے پہنچنے پہ تھکاوٹ کی وجہ سے سو گئی۔
صبح اٹھی تو ایسی ہی کیفیت تھی، جلدی جلدی دافع درد دوائیاں لیں۔
تقریب 10 بجے شروع ہونی تھی، جلدی جلدی تیاری کی مگر عین وقت پر بجلی چلی گئی لشتم پشتم تیار ہوئی اور گاڑی میں بیٹھے تو باہر ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔
راستے میں موٹر وے پر دو رویہ سر سبز درخت گھنگھور گھٹاؤں اور رم جھم بوندوں نے دل و نظر کو اسیر کرنا چاہا مگر ہمارے ذہن پر وقت کی تنگی، وقت پر پہنچنے کی دھن اور یہ خیال کہ تقریر کی تیاری کے لیے وقت میسر نہ آ سکا۔
خلاف توقع ،خلاف معمول نسیم بھی گاڑی تیز چلاتے رہے مگر صبح کا وقت تھا ،جگہ جگہ ٹریفک اور بندشوں کا سامنا کرنا پڑا سو مستقل بے چینی کی کیفیت نے اس حسین موسم سے لطف اندوز نہ ہونے دیا بار بار یہ احساس ہوتا رہا کہ اتنے اہم موضوع پر مجھے تیاری کا وقت نہ مل سکا پھر خود ہی دل کو تسلی دی کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں انقلاب ایران اور ایران سے پہلے کے حالات اور جو کچھ ہم نے دیکھ رکھا ہے،اسلامی انقلاب اور اس میں مرد و زن کی جدوجہد یہ سب ہمارے سامنے کی باتیں ہیں۔ لہذا ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ،انشاءاللّه فی البدیہہ بات ہو جائے گی۔ خود کو خود ہی تسلی دیتے ہوئے انہی خیالوں میں غلطاں وپیچاں کالج جا پہنچے۔
کالج میں داخل ہوئے تو رم جھم برستی بوندوں میں ایک شان سے ایستادہ اساطیری عمارت، سندرتا لیے ہوئے تھی سامنے کی سیڑھیوں سے چڑھنے کی بجائے کالج کے پچھلی طرف سے جانے کے لیے گاڑی بالکل پاس لے گئے۔
سامنے ہاسٹل کی عمارت تھی جس سے میں نے نگاہیں چرائیں اور آگے کی طرف قدم بڑھا دیے ۔وہ عمارت جہاں زندگی کے دو خوبصورت ماہ و سال گزارے وہاں یادوں کی بارات کھڑی تھی اور اس وقت مجھے جلدی تھی تو نظریں چرا کر وعدہ کیا کہ کبھی فرصت سے آؤں گی اور اس لان میں بیٹھ کر ان تمام بیتے لمحات چہروں, اور محبتوں کو یاد کروں گی پھر سے جیوں گی۔( تصور کی دنیا بھی کتنی حسین ہے) قدم آگے بڑھائے تو دو بچیوں نے میرا بیگ پکڑا اور میرے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی ہال کی طرف آئیں
جہاں قدیمی سنگی سیڑھیاں تھیں وہاں اب ریںمپ بنا ہوا تھا جس کی وجہ سے آسانی سے ہال کی طرف چلی گئی ۔
مجھے کچھ دیر ہو گئی تھی تقریب شروع ہو چکی تھی ویسے یہ بھی اتفاق ہے کہ جب وقت پر تقریب میں پہنچ جائیں تو وہاں گھنٹوں تقریب شروع ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور اگر کچھ دیر ہو جائے تو پھر ایسی صورتحال ہوتی ہے جیسی آج تھی کہ تقریب شروع ہو چکی تھی۔
خیر ہال میں داخل ہوئے پرنسپل شاہین عمر نے گلے لگا کے پرتپاک استقبال کیا، ان کے ساتھ ہی کونسل جنرل بنفشہ خاء اور خانہ ءفرہنگ کے ڈائریکٹر حسین چاقمی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریاض احمد رضوی تشریف فرما تھے ۔
سٹیج پر منہاج القران کی ناظم روبینہ معین اپنے مخصوص انداز میں پرزور طریقے سے انقلاب ایران میں خواتین کی جدوجہد اور اپنے سفرایران کے تجربات کو بیان کر رہی تھیں۔ اس کے بعد سمانہ رباب نے اظہار خیال کیا۔ جس کے بعد مجھے دعوت دی گئی میں سٹیج پر نہیں جا سکتی تھی لہذا مجھے مائیک نیچے دے دیا گیا اور اللّه کا نام لے کر میں نے فی البدیہہ ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے لسانی مذہبی, ثقافتی اور تاریخی تعلقات پر روشنی ڈالی. برصغیر میں 800 سال تک فارسی زبان کی حکمرانی، فارسی زبان کا سرکاری زبان ہونا اور اردو ادب میں خاص طور پر شاعری پر فارسی زبان کے گہرے اثرات پر بات کی ۔
ایران میں اقبال کے افکار کی پذیرائی سکولوں میں اقبال کا کلام، اقبال لاہوری کے نام سے پڑھایا جانا،غالب اور اقبال کا اپنے فارسی کلام پر ناز کرنا ان تمام امور کو بیان کیا، بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق اس نسل سے ، اس زمانے سے ہے جب شاہ ایران کا شاہانہ دور تھا، ملکہ ثریا کی طلاق ،فرح دیبا سے ان کی شادی، ایران کی مغربیت پسندی پھر خمینی کا آنا یہ تمام چیزیں ہم نے آنکھوں سے دیکھیں، پڑھیں، سنیں ۔
انقلاب ایران پر مختار مسعود کی کتاب لوح ایام ان کی ایران کی ڈائری اور انقلاب کی خوبصورت داستان ہے، جس میں ساوک کے مظالم ،شاہ کی شاہ خرچیاں اور عوام کی جدوجہد کو بہت عمدہ طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔
شاہ ایران کے دور، انقلاب ایران اس میں مفکرین کا کردار،علماءکرام کا کردار،عوامی نفرت سب کو عمدگی سے بیان کیاگیا ہے ۔
کسی بھی انقلاب کے پیچھے مفکرین ادباء و شعرا کا اہم کردار رہا ہے چاہے وہ انقلاب فرانس ہو یا انقلاب ایران مفکرین اس انقلاب کی ابیاری کرتے اور راہ ہموار کرتے ہیں اور اس سلسلے میں علی شریعتی کی زندگی اور اپنے مختصر زندگی میں ان کے کارہائے نمایاں، انقلاب ایران میں ان کی شاعری نے جس طرح آزادی کی آگ بھڑکائی، وہ قابل تحسین ہے ۔
اس انقلاب میں خواتین نے جس طرح جدوجہد کی اور حصہ لیا خمینی نے انہیں انقلاب کا ہراول دستہ قرار دیا، خواتین نے نہ صرف انقلاب لانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ انقلاب کے بعد بھی پردے اور حجاب میں رہ کر ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر یہ ثابت کیا کہ اسلامی اصولوں پر عمل کر کے، حجاب میں رہ کر بھی خواتین اپنا مثبت کردار اوراپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتی ہیں۔
تقریر کرتے ہوئے خود بخود بہت سی یادیں تازہ ہوئیں، خود سے خیال اترتے محسوس ہوئے ، طالبات نے بار بار تالیاں بجا بجا کے داددی۔ سامنے تشریف فرما محترم حسین چاقمی اور بنفشہ خا نے بھی توصیفی انداز میں سینے پر ہاتھ رکھ کر داددی۔ ابھی بہت ساری باتیں کہنی تھی مگر وقت کی تنگی کہ بچیوں کی چھٹی ہو جانی تھی لہذا اپنی تقریر کو ختم کر کے اپنی نشست پر واپس آئی۔
کالج کی طالبات نے اس موقع پر انقلاب ایران میں عوام کی جدوجہد ،سعدی شیرازی کا مدرسہ اور مولانا روم کے افکار پر مبنی روایتی لباس میں رقص درویش پیش کیا ہر تقریر کے بعد دلچسپ خاکوں نے اس تقریب کو پر لطف بنائے رکھا ساتھ ساتھ ملٹی میڈیا پر ایرانی خواتین کی ترقی اور حجاب میں ہر شعبہ زندگی میں نمایاں کر کردار ادا کرتے ہوئے مناظر نے انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کو مزید پروقار اور بامعنی بنایا۔
کالج کا وہی قدیمی ہال، وہی اسٹیج، اوپر چاروں طرف پرانے وقتوں کے بڑے بڑے دریچے، اونچی چھت
میں تقاریر سنتے ہوئے دریچوں ،در و دیوار پر نظر ڈالتے ہوئے سوچتی رہی کہ اسٹیج اور ان دیواروں نے کیسے کیسے لوگوں کو دیکھا اور کیا کچھ سنا ہے کیسی شاندار محفلوں کے یہ گواہ رہے ہیں اور علم و ادب کے کتنے قافلے یہاں سے گزرے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ کون جانے۔۔۔۔۔۔
کاروان حواچیئر پرسن محترمہ بشری فرخ کو نے اپنے سفر ایران، کے تجربات، ایرانی خواتین کی جدوجہد پر بات کی اور اپنی نظم سنائی۔
جس کے بعد مہمان خصوصی بنفشہ خا نے خطاب کیا ساتھ ساتھ ملٹی میڈیا پر ایران کی ترقی میں ہر شعبہ عمل میں مصروف کار خواتین دکھائی جا رہی تھی ان کے عمدہ خطاب کے بعد پرنسپل نے انہیں ایوارڈ پیش کیا اور اس موقع پر بنائی گئی یادگاری شیلڈز ان کے ہاتھ سے تمام مقررین کو دلوائی گئیں۔ میرا نام پکارا گیا تو میرے لیے بہت منکسر المزاج ،خوش اخلا ق محترم بنفشہ خا بنفس نفیس اسٹیج سے اتر کے آئے اور نیچے آ کر شیلڈز سے نوازا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل خانہءفرہنگ ٔحسین چاقمی صاحب بھی ہمراہ تھے میں نے اپنی آٹھ کتابوں کا سیٹ فرانٹیئر کالج میں گوشۃ ایران کی لائبریری کے لیے بنفشہ خا کو پیش کیا اور پھر ان کو ذاتی طور پر اپنا سفر نامہ “کھلی آنکھوں کا خواب “پیش کیا ۔حسین جاقمی کو” نگار خانہ خیال” پیش کی, ریاض احمدرضوی اور پرنسپل شاہین عمر کو بھی اس موقع پر نگار خانہ خیال پیش کی، جس کے سرورق پر کالج کی عمارت جگمگاری تھی ۔
اس کے بعد لائبریری میں ایرانی گوشے کے افتتاح کے لیے پرنسپل، اسٹاف اور مہمان خصوصی تشریف لے گئے میں جب تک آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر آئی سب لوگ جا چکے تھے سیڑھیاں اترنے چڑھنے کی مشقت اور ٹانگوں کے درد نے وہاں تک جانے کی اجازت نہ دی میں وہیں برآمدے میں ٹہل ٹہل کر یادوں کو پکارتی رہی،
ماضی کی پگڈنڈیوں پر یاد کے جگنو چمکتے رہے اور چمکتے دمکتے یاد کے جھروکوں میں روشن دماغ، روشن چہرے اجالے بکھیرتے رہے۔
افتتاح کر کے سب طعام گاہ کی طرف آے۔جہاں پرتکلف ظہرانہ منتظر تھا۔ظہرانے کے بعد سب نے اجازت چاہی۔ گاڑی میں بیٹھنے لگی تو یاد آیا کہ ریاض احمد رضوی کی کتاب تو میرے پاس ہی رہ گئی، دیکھا تو وہ لوگ ابھی موجود تھے۔ ریاض احمد رضوی گاڑی کے پاس آئے انہیں کتاب دے رہی تھی کہ حسین چاقمی صاحب بھی قریب آگئے ان سے مفید بات چیت رہی ۔میں نے آج کی اس اہم تقریب میں ان کی طرف سے خصوصی دعوت دینے پر شکریہ ادا کیا تو انہوں نے فارسی زبان میں بہت خوبصورت کلمات کہے جس کا ریاض احمد رضوی صاحب نے ترجمہ کیا کہ آپ آئیں تو جیسے محفل میں نور آگیا۔ ڈائریکٹر حسین چاقمی ہو یا کونسل جنرل بنفشہ خا ان کی خوش اخلاقی اور منکسر المزاجی ہمیشہ متاثر کرتی ہے۔
نکلنے سے پہلے پرنسپل شاہین عمر کو خدا حافظ کہاوہ تصاویر بنا رہی تھی میں گاڑی سے اتری انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں توصیفی کلمات کہے اور تصویر بنائیں ساتھ ہی ہستی مسکراتی ان کی دست راست ہادیہ کھڑی تھی جو بہت پیار اور اخلاق سے ملی میں نے
اتنے تپاک سے ملنے پر کہا ہادیہ پہلی ملاقات میں تو آپ کو مغرور سمجھی تھی ،مگر آج یہ تاثر زائل ہوگیا ۔شاہین بے برجستہ کہا کاکا خیل ہے کسی کو خاطر میں نہیں لاتی مگر میری تو شاگرد رہی ہیں ۔
گاڑی میں بیٹھنے لگی تو ہادیہ نے بیٹھنے میں مدد دی ،بہت پیارسے جوتے سیدھے کرکے پہنانے اوراس التفات پر دعائیں سمیٹیں ۔
کالج پر ایک پیار بھری الوداعی نگاہ ڈالی اور افسوس کیا کہ میری پوتی ساتھ نہ آسکی ،آتی تو دیکھتی کہ اس کی دادو نے کن زمانوں میں ایسے شاندار کالج میں کس شان سے پڑھا ہے ۔
نصرت نسیم
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
میرے پیارے حبیب
آپ پر کروڑوں کھربوں درود وسلام !
میرے حبیب, مرے پیارے رسول !
تیری شان سب سے جدا ،سب سے سوا
تیرا نام رب سے ہے جڑا ہوا
عشرہ حج ،عشرہ
عشق!
معمار کعبہ کی دعا،دعاے خلیل آپ کی ذات بابرکات
مرے حبیب،میرے رسول
نرالی شان والے،
حاجرہ سراپا عشق
سراپا تسلیم و رضا
اور اک عظیم ترین ماں کی گود کے پروردہ اسماعیل
اسماعیل تسلیم و رضا اور پیکر صبر
وہ بچہ جس کے ایڑیاں رگڑنے سے
رحمت خداوندی سے چشمہء زم زم کا ظہور
اب شفا،معجز نما ،مصفا
جو تا قیامت جاری وساری
اسماعیل صبر کے کس درجہ کمال پر
کہ جب والد گرامی خواب سنائیں تو
آیک لمحے کے توقف کے بغیر
فی الفور کہہ اٹھیں
آپ کر گزرئیے ،اپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے ۔
اسماعیل ذبیح اللہ ،معمار کعبہ
تمام پیغمبر اسحاق کی پشت سے
اور اسماعیل کی آل میں صرف ایک واحد و یکتا، بے نظہر ،بے مثال پیغمبر
خاتم النبیین ،امام الانبیاء راحت العاشقین ،شفیع المذنبین،راحت العاشقین
مثل آب زم زم تاقیامت رسالت کا چشمہ فیض جاری وساری
میرے نبی کی کیا اونچی شان
کہ۔جس کے جد امجد سچے عاشق خدا
عشق کے جذبے سے معمور گے
جامع کمالات وصفات
صابر و شاکر ہمارے حبیب
عشق ،صبر اور شکر کی یہ روایت
پنج تن پاک میں
کمال کی بلندیوں پر
جہاں عشق خدا،صبر ورضا ،ایثارانتہاے کمال ہر
نبی کی نور نظر ،پارہ جاں ، جگر گوشہ
زہرا بتول ،مادر حسنین عشق اور عظمت کا پیکر جمال
مادر عظیم
مرے پیارے نبی کی کیا شان ،کیا آن بان
کہ خود دعاے خلیل معمار کعبہ کے فرزند !
جو عشق اور صبر کے اوج کمال پر
عشق خدا ،تسلیم ورضا اور قربانی کی روایت اورایک سجدہ
وہ ایک سجدہ جو زیر خنجر کیا اسماعیل نے
کہ” آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے”
اور یہ روایت ،عظیم وراثت جگر گوشہ رسول کے لخت جگرکلام ربانی پڑھتے ہوے
تلواروں وتیروں کی برسات میں وہ سجدہ وہ زبح عظیم
جس پر عشق ،صبر ایثار ناز کرتے رہیں گے
انسانیت تاقیامت اس سے فیض یاب ہوتی رہے گی کیسا خانوادہ میرے پیارے رسول کس جن کی جد اور آل کے عشق اورصبر پر عقل انگشت بدنداں تو
عشق بھی نازاں وفرحاں
مرے رسول آپ کی آل پر کروڑوں درود وسلام
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
یوم مادر اور دنیا کی عظیم ترین ماں
نصرت نسیم ،
ہماری نسل کے لوگ دو صدیوں کے سنگم پر، روایات سے جڑے ہوئے اور نئی روشنیوں سے مستفید ہونے والے،ان روشنیوں کی چکا چوند میں ماضی کے ٹھنڈے میٹھے اجالے ہمارے ساتھ ساتھ رہتے ہیں ۔
چند برسوں سے ہمارے ہاں یوم مادر منایا جا رہا ہے، ایک لحاظ سے اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ہم لوگ جو محبت کا اظہار کرتے ہوئے شرماتے ہیں ،اس دن ،دل کی بات محبت کا اظہار کرلیتے ہیں ۔
ماں , ماں کا مرتبہ و مقام جاننا چاہیں تو قران پاک کی متعدد صورتوں اور احادیث سے والدین اور خاص طور پرماں کے بلند ترین مقام کا پتہ چلتا ہے ۔
آج یوم مادر پر مجھے دنیا کی عظیم ترین ماں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ دنیا کی عظیم ترین ماں جس کے ہر عمل کو امر کردیا گیا۔
ماں کی محبت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی کہ اللہ جب اپنی محبت کا ذکر کرتے ہیں تو کائنات کی کسی اور چیز سے مشابہ قرار دے سکتے تھے۔ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اللہ اپنے بندوں سے سمندر کی بے کراں وسعتوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں, لیکن اللہ سبحان و تعالیٰ نے جب اپنی رحمت اور محبت کا ذکر کیا ، تو کہا کہ اللہ اپنے بندوں سے 70 ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ سبحان اللہ یہ فرمان خداوندی ایک ماں کے جذبے کی سچائی ،محبت کی گہرائی اور اس کے بلند مقام کو ظاہر کرتے ہیں۔
پھر اللہ نے ایک اور ماں کے ہر عمل کو روز قیامت تک امر کردیا ،اس کی ہر ادا کو محفوظ کر لیا، اس کی بے قراری کو، اس کے دوڑتے ہوئے قدموں کو، قیامت تک انے والے لوگوں کو اس کے نقش پا کی پیروی میں سعی کرنی ہو گی ۔مائیں تو سب عظیم ہوتی ہیں مگر یہ ماں کیسی ہے !
بلند مرتبہ بی بی ہاجرہ نے جو دوڑ لگائی ،جو سعی کی، اس کے ایک ایک عمل کو اللہ نے حج اور عمرے میں محفوظ کر لیا ہے ۔حج کی تمثیل میں
حاجرہ جان تمثیل ہے۔،حج ہاجرہ سے مشتق ہے
سراپا تسلیم و رضا حاجرہ
اللہ کے حکم کے مطابق ایک ایسے کوہستانی درے میں جس کے اردگرد پہاڑ اور پتھر ایسے ہیں کہ جیسے آگ کے ٹکڑے ہوں۔ یہاں نہ پانی ہے نہ زندگی کی کوئی رمق، برستی آگ اور ہولناک تنہائی ۔۔۔۔۔ لیکن یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ کے حکم کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے ۔ ایسے حکم کو صرف عشق کا وہ جذبہ ہی سمجھ سکتا ہے قبول کر سکتا ہے جو ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے
جب ابراہیم علیہ السلام بی بی حاجرہ اور ننھے اسماعیل کو اس لق ودق صحرا میں جہاں دور دور تک آبادی ،پانی یا زندگی کانام ونشان تک نہیں چھوڑ کر جاتے ہیں تو بی بی حاجرہ تھوڑی دور تک ان کے پیچھے پیچھے جاتے ہوے اواز دیتی ہیں لیکن ابراہیم پلٹ کر نہیں دیکھتے ،حاجرہ کی باتوں کا جواب نہیں دیتے،یہ دیکھ کر حاجرہ پوچھتی ہے کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو مجھے بخوشی قبول ہے یہ کہتے ہوئے وہ واپس پلٹ اتی ہیں ،اس کوہستانی درے میں جس کے اس پاس کے پہاڑ آگ اگل رہے ہیں، جہاں گھاس کا ایک تنکا تک نہیں ہے، کچھ بھی نہیں ہے۔
وہاں حاجرہ سراپا عشق اپنے بچے کے ساتھ اس ویرانے میں، ایک تنہا عورت اور اس کا معصوم بچہ لیکن یہ اللہ کا حکم ہے اور حاجرہ تسلیم ورضا کا پیکر،اس کا اپنے رب کے اوپر توکل، کامل یقین اور اس کےہر حکم پر بلا چوں چرا سر جھکانا ہے کہ
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھناہے
۔اس عشق کی گیرائی ،گہرای اورصداقت کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔
پھر ایسا وقت اتا ہے کہ بچہ پیاس سے بےتاب ہے،قیامت چیز گرمی، دور دور تک کوئی سایہ نہیں، پانی کا نام ونشان نہیں بچے کی شدت پیاس اور بلکنا، ماں کے اندر ایک نئی طاقت اور عزم پیدا کرتاہے۔
حاجرہ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، اپنی ہمت اور جرات کو کام میں لاتی ہے اس بات کا انتظار نہیں کرتی کہ کوئی غیبی مدد آ جائے ،کوئی مائدہ اتر آئے ، نہیں وہ اپنی ہمت ، طاقت،ارادےکی قوت اور ممتا کے جذبے سے صفا و مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں چل پڑتی ہے ، چلتی جاتی ہے پانی کی تلاش میں، ساتھ ساتھ بچے کو بھی دیکھتی جاتی ہے، جہاں تھوڑی دیر کے لیے بچہ انکھ سے اوجھل ہوتا ہے وہاں وہ ممتا کی ماری دوڑ لگا دیتی ہے سات چکر، صفا سے مروہ ،مروہ سے۔صفا ،حاجرہ کی یہ سعی ، اس کی یہ دوڑ پانی کےحصول میں ناکامی ،دل گرفتگی پر ختم ہوتی ہے۔
لیکن جب وہ واپس اتی ہے تو ننھے اسماعیل کی ایڑیوں کی رگڑ سے ریتیلی زمین میں گڑھا پڑجاتا ہے اور اس سے پانی کا وہ چشمہ، وہ زم زم جو ساری دنیا کو تاقیامت سیراب کرنے والا ہے ۔ یہاں یہ نقطہ قابل غور ہے کہ حاجرہ نے کسی معجزے کے انتظار نہیں کیا، جب کوئی بندہ بھی مستقل مزاجی کے ساتھ ہمت کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تب اللہ کی مدد اتی ہے (چاہے وہ بدر کا میدان ہو ،یا کئی اور مواقع وبے شمار مثالیں)
اس عظیم ماں کی گود میں پرورش پانے والا ہے اسماعیل ،اسماعیل ذبیح اللہ کس کمال درجے کا صبر ہے ،کیا شان ہے سکھائے کس نے اسماعیل کو اداب فرزندی
بی بی ہاجرہ عشق کا پیکر ،اللہ پہ توکل کرنے والی ،وہ ماں اس کے گود کا پروردہ اسماعیل جب ابراہیم علیہ السلام بہت تیزی سے یہ جملہ اداکرتے ہیں۔ کہ کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ۔۔۔۔۔ باپ کی اس بات کے جواب میں اسماعیل فورا” کہتے ہیں جو اپ نے دیکھا ہے اپ کر گزریں اپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔
صبر ،ہمت اور استقامت کا کوہ گراں تاریخ انسانی کی یہ عظیم ترین ماں اس کا رتبہ ومقام کیا ہے کہ اللہ نے اپنے ہمسائیگی میں کس کو چنا ہے۔
ایک عورت کو!
کیسی عورت کو!
ایک سیاہ فام!
حبشی النسل کو!
ایک کنیز کو!
جو ہر قسم کے فخر و افتخار سے عاری ایک ایسی عورت ،ایسی کنیز
کہ سارا اسے سوکن کے درجے پر بھی نہیں رکھتی تھیں دنیاوی ہر افتخار سے مبرا ،ایک ایسی عورت کا اللہ کے نزدیک کیا مقام ہے !کیا رتبہ ہے
اللہ اللہ کہ وہ خانہ کعبہ کی تیسری دیوار کہ پائے ہجر اسماعیل میں دفن ہے اور طواف کرنے والے ادھر سے گزر کے جاتے ہیں تو ان کا مدفن طواف میں شامل ہے جب کہ مسجد میں تو کسی پیغمبر کو بھی دفن نہیں کیا جاسکتا تھا، سعی میں قیامت تک لوگ بی بی ہاجرہ کے نقش قدم پر چلتے اور دوڑ لگاتے رہیں گے ،جہاں جس حصے میں دوڑ لگانی ہے وہاں خواتین نہیں صرف مرد دوڑتے ہیں سبحان اللہ حج وعمرہ کا پسندیدہ کردار ہاجرہ جس کی ہرادا،ہر عمل کو امر کر دیا گیا ہے ،ہر لمحہ،ہر آن لاکھوں زائرین عمرہ و حج طواف کر رہے ہیں ،سعی کررہے ہیں۔
اقبال کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے رومی فنا ہوا ،حبشی کو دوام ہے
بلال حبشی،موزن رسول( جس کے قدموں کی چاپ آسمانوں پر سنی گئی) ہو, یا بی بی ہاجرہ اللہ کے معیار کیا ہیں ؟اللہ کسی کی شکل وصورت, کسی کے حسب نسب، ظاہری تفاخر ،کسی چیز کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہے سوائے تقوی کے,
سوائے عشق کامل کے
سوائے اللہ کے حکم کے اگے پورے خلوص کے ساتھ سر جھکانے میں،
حاجرہ کی ایک عظیم ماں اور اس کا عظیم پسر، اسماعیل ذبیح اللہ تمام پیغمبر اسحاق علیہ السلام کی پشت سے آے ہیں ،جب کہ اسماعیل علیہ السلام کی پشت سے ایک ہی پیغمبر،
لیکن وہ پیغمبر کون ہیں ؟
دعاے خلیل، وہ خاتم النبیین، وہ شفیع المذنبین ،انیس الغریبین ، شفیع المذنبین ،رحمت اللعالمین، امام الانبیاء، خاتم النبیین تشریف لاتے ہیں ۔محبوب رب کائنات ،وجہ تخلیق کائنات ،ہمارے پیارے نبی صبر و شکر کی اک بے نظیر مثال ، اور ان کی محبوب ترین بیٹی، ان کی شہزادی بی بی فاطمہ زہرا بتول ایک عظیم ماں کی روایت جو بی بی حاجرہ سے ہوتی ہوئی بی بی فاطمہ تک اتی ہے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا اس کے مقام کو کوئی کیا بیان کر سکے جس کی گود میں حسنین پرورش پاتے ہیں ۔ علامہ اقبال نے صدیوں کی تاریخ ،”سجدے سے سجدے تک “کی عظیم الشان تاریخ کودو مصروں میں کس خوبصورتی سے سمیٹا ہے
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل
اسماعیل ذبیح اللہ اوروہ سجدہ زیر خنجر،امام الشہداء امام حسین تیروں اور برچھیوں کی بوچھاڑ میں سجدہ اور تلاوتِ قرآن کریم
سجدے سے سجدے تک کی عظیم الشان داستان ،زبح عظیم اور ان صابر ہستیوں کی عظیم ترین مائیں !
علامہ اقبال نے اہل بیت سے جس محبت کااظہار کیاہے، وہ ایسا شاندار ہے کہ بہت سے اشعارضرب المثل کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ خاتونِ جنت زہرابتول کی شان میں یہ نظم میری بہت پسندیدہ ہے
۔مدحتِ جناب فاطمہ الزہرہ بزبان علامہ محمد اقبال:
مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نور چشم رحمۃ للعالمین
آن امام اولین و آخرین
بانوی آن تاجدار ’’ہل اتے‘‘
مرتضیٰ مشکل کشا شیرِخدا
مادر آن مرکز پرکار عشق
مادر آن کاروان سالار عشق
مزرع تسلیم را حاصل بتول
مادران را اسوۂ کامل بتول
رشتۂ آئین حق زنجیر پاست
پاس فرمان جناب مصطفیٰ است
ورنہ گرد تربتش گردیدمی
سجدہ ہا بر خاک او پاشیدمی
ترجمہ: حضرت مریم کی ایک نسبت کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی ماں ہیں۔
بی بی فاطمہ کی تین نسبتیں ہیں۔
نور چشم رحمت العالمین جواوّلین وآخرین کے امام ہیں۔
زوجہ محترمہ مشکل کشا،شیرِ خدا
عشق کی پرکار کا مرکز امام حسین ہیں اورعشق کے پرکار کی مرکز کی ماں ہیں۔
شریعت کی زنجیرنہ ہوتی اورآپ صل الله علیہ وآلہ وسلّم کے فرمان کا پاس نہ ہوتا توآپ کی قبر کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتا اورقبر کا طواف کرتا۔
صل الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
سبحان اللہ سبحان اللہ
پس نوشت
اپنی بیٹیوں سے اج کے ماؤں سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ یہ یوم مادر، جسے جسے ہم منا رہے ہیں۔ اچھی بات ہے، اپنی ماؤں سے محبت کا اظہار کریں، کرنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بحیثیت ماں ہمیں ان عظیم ماؤں کی روایت کو اپنی اگلی نسلوں تک پہنچانا چاہیے کہ اسلام ماں کو کس عظمت اور کس بلندی پہ رکھتا ہے اسلام عمل کا دین ہے خالی سٹیٹس لگانے، کارڈ بھیجنے اور باتوں پر نہیں ،عملی طور پر اپنی ماؤں کی خدمت، ماں کی فرمانبرداری کی جتنی ضرورت اج ہے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے کی
بچیوں کو ایسی ماؤں کی زندگی اور مثالیں بتانے کی شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی کہ ہم روز بروز مغربیت کے گرداب میں پھنستےچلےجارہےہیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
تزئینِ کا ئنات میں مصروف ہیں ابھی”
عمرو عیار کے گراں مایہ مصنف،فرزند کوہاٹ محترم شجاعت علی راہی ،
آسمان ادب پر ماہ تاباں کہ جس کی ٹھنڈی روشن کرنیں ہر سو اجالے بکھیرتی ہوئی،دل ودماغ کو تسکین دیتی ہوئی ،حوصلہ افزائی کرتی ہوئی ، اسلامی تہذیب کا نمونہ،علم وآگہی کا ساگر ،
کوہاٹ کے ٹھنڈے میٹھے چشموں کے صاف شفاف آب رواں جیسا جہاں تشنگان علم و ادب اپنی تشنگی مٹائیں ،
میری خود نوشت پر ایک تقریظ میں پروفیسر اقبال نے لکھا کہ کوہاٹ کی سرزمین اتنی زرخیز ہے کہ ذرا سا گدگدائیں تو موتی رول دیتی ہے میں ان کی اسی بات کو دہراتے ہوئےتائید کرتی ہوں واقعی کوہاٹ کی مٹی اتنی زرخیز ہے،کہ زرا سا گد گدانے پر موتی رول دیتی ہے اور یہ موتی شجاعت علی راہی ہیں،

اک گہر نایاب! جس کی چمک دمک نے دامنِ اردو کو تابانی عطا کی، درجنوں کتابیں ادب اطفال پر، نظمیں، ناولٹ،
کہیں اس کے بلیک باکس کی وسعتیں ،بچھڑی ہوئی کونجیں اوربرف کی رگیں ہیں ، تو کہیں ہندی کی رسیلی سندر تا لیے دوہے ،کہیں لا الہ الااللّه کے ترانے ،کہیں نالہ شب گیر تو کہیں مناجات، کہیں “جہدوجستجو” کے لشکارے اور” سنہرے ہاتھ” جگمگا رہے ہیں ،چالیس کتابوں کے خالق ،ادب عالیہ کی منزل مقصود کے راہی،علم وعرفان کی بلندیوں کا راہی جس کی ہمراہی میں کئی لوگ نشان منزل پا گئے۔
اعلی پائے کی نثر، جس پر شاعری کا گمان گزرے۔ ،”سنہرے ہاتھ” کی دلربا نثر اباسین ایوارڈ
کی حقدار ٹھہری تو “برف کی رگوں” کی دلآویزی ،سندرتا نے اباسین ایوارڈ اس وقت اپنے نام کیا جب مقابلے میں احمد فراز کی کتاب بھی شامل تھی “چراغ گل نہ کرو ”
تین دفعہ اباسین ایوارڈ لینے والے ہمارے بہت مہربان شجاعت علی راہی صاحب جو شجاع بھی ہیں ،مرید علی بھی اور راہی ایسے راہی کہ بیک وقت زندگی کے مختلف ادوار میں کئی شاہراہوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے، بطور طالب علم ہر جگہ اول ، وظائف پر بیرون ملک تحصیل علم، بہترین استاد ، ٹی وی پروڈیوسر ،براڈ کاسٹر، ناول نگار ،خاکہ نگار، دوہا نگار،مبصر،علم و عرفان کا خزینہ، پیکر آدمیت ،
راہی ایسے کہ اپنی ہمراہی میں ،اپنے جلّو میں اوروں کو بھی ساتھ لیے چلتے ہیں شاید ہی میں نے کوئی ایسا دریا دل دیکھا ہوگا ،جو اپنے ہم عصر ادیبوں اور شاعروں کی اس قدر کھل کر حوصلہ افزائی کرے۔ تعریف و توصیف تو یہ کوئی بڑے ظرف والا، بڑے دل والا ہی ایسا کر سکتا ہے کہ جسے اپنی ذات پر اعتماد ہو اپنی صلاحیت پر اطمینان ہو، ایمان ہو اور وہ اپنے ہم عصر وں کی تعریف کرتے ہوئے بخل سے کام نہ لے۔
ان کے کام کی اتنی وسعتیں اور کئی مختلف جہتیں ہیں،کئ حیثیتوں سے وہ ایک نام ومقام رکھتے ہیں۔ تعلیمی میدان میں دیکھیں تو ان کا ایک شاندار کیریئر ہے، مختلف میدانوں میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو آزمایا، اپنی صلاحیتوں سے ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں کئی نسلوں کی تربیت کی، ان کے تلامذہ کی کثیر تعداد ہر شعبہ زندگی میں پائی جاتی ہے ۔
،شجاعت علی راہی صاحب کوہاٹ کے ایک اعلیٰ معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کے باقی سارے بھائی فوج میں اعلٰی مناصب پر رہے ،راہی تلوار کے نہیں قلم کے دھنی ہیں ، قلم سے انہوں نے تلوار کا کام لیا کہ جو سماج کی ہر برائی ہر خرابی کی بیخ کنی کرے، ان کی تحریریں جو بچوں کے لیے ہیں وہ ان کی بہترین تربیت کا سامان لئے ہوئے ہیں،وہ ادب برآے زندگی کے علمبردار ہیں ان کی تحاریر تہذیب نفس کا کام کرتی ہیں۔وہ اچھے اقدار، اور اچھی روایات کو نہ صرف پروان چڑھاتے ہیں بلکہ جہاں کہیں کوئی کرن بھی دیکھیں تو اس کو پورے طور پرسراہتے اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ایسی جامع صفات شخصیات کم کم دیکھنے میں آتی ہیں اگر تاریخ اٹھا کے دیکھیں تو بڑے بڑے ادباءاور شعراء کے نام ہمیں ملتے ہیں لیکن اگر ان کی ذاتی زندگی کو کھنگالا جائے تو وہ اپنی ذاتی زندگی میں بہت کوتاہ قدنظر آتے ہیں وہ جن باتوں کا پرچار کرتے ہیں ،ان کی زندگی میں ان کا شائبہ تک نہیں ملتا اور سچ کہوں میرا تو دل برا ہو جاتا ہے۔ لیکن شجاعت علی راہی صاحب
جتنے اچھے لکھنے والے ہیں اس سے کہیں زیادہ اپنی ذاتی زندگی میں وہ ایک بہت اچھے انسان ہیں نہ صرف اپنے گھر والوں کے لیے بلکہ اپنے دوست احباب کے لیے بھی اور ہم جیسے ادب میں نو وارد لوگوں کے لیے تو وہ منارہ نور ہیں۔
جہاں بھی ہوگا وہاں روشنی لٹائے گا
کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
،وہ مشاعرے ،مناصب ،اعزازات تمام چیزوں سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ
قانع ،متوکل، تام جھام سے بے نیاز وہ بس کار ادب میں مصروف ہیں۔40ویں کتاب کے بعدیہ اکتالیسویں کتاب ہے،علاوہ ازیں ایک اور کتاب” بصارت سے بصیرت تک” زیر طبع ہے ان کی تازہ کتاب” عمرو عیار کی زنبیل” ایک انتہائی شاندار اضافہ ہے ,عمر بھر کے مطالعے کا جوہر، رس ، غرض وہ سب کچھ جو زندگی سے کشید کیا، دل و دماغ میں جو چیزیں جمع تھیں وہ نوک قلم سے جواہر پاروں کی طرح ایک ایک کر کے صفحہ قرطاس پر منتقل ہوتی گئیں،یہ اقول آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔
عمروعیار کی زنبیل میں زندگی کا ہر رنگ ،ہر انگ،ہر پہلو پایا جاتا ہےسچے یاقوت،مروارید ،ہیرے جواہرات جیسے نورتن جنہیں مختلف ابواب میں یوں منقسم کیا گیا جیسے عمر بھر علم وعرفان اور آگہی کی شاخ پر کھلتے پھول،اور کلیاں جنہیں چن کر کئی مالائیں ترتیب دی گئیں ان کی مہک خود شناسی سے خدا شناسی اور صبروشکر کے ارفع مقام تک لے جاتی ہے ۔ اقوال کی مثالیں نہیں دیں کہ ہر قول در نایاب ہے ،اجالے کی کرن ہے جو دل کو قلب سلیم بنا سکتی ہے
اتنے متنوع رنگ ان کی شخصیت میں مدغم ہو گئے ہیں خوبصورت دھنک کی طرح، وہ سارے رنگ ان کی تحریروں میں جھلکتے ہیں جھلملاتے ہیں اوران رنگوں میں محبت کا آفاقی رنگ نمایاں ہے۔ وہ الوہی رنگ جو بندگانِ خدا کا خاصہ ہے ۔جو اپنے معاشرے ،پسے ہوئے طبقات اور عوام کی تاریک راہوں کو روشن کرنا چاہتے ہیں ۔
میری زندگی میں تو وہ ایک بہت مشفق ہستی کا درجہ رکھتے ہیں ، اچھے انسانوں کا ملنا بھی اللّه تعالی کی ایک خاص عطا ہے , اس لیے وہ میرے لیے اللّه تعالی کی عطاء خاص ہیں.
وہ اپنی پیران سالی کےباوجود مستقل مزاجی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ بچوں کا ادب ہو یا مختلف مسائل و مباحث پر ان کی آڈیوز یا ویڈیوز ،مختصر سے لیکچر ہوں یا کتابیں وہ مسلسل لکھے چلے جا رہے ہیں ۔
تزئینِ کائنات میں مصروف ہیں ابھی
رنگ اور روشنی سے ریٹائر نہیں ہوئے
یہ ایک بہت ہی قابل تحسین مثال ہے ،نواردگان ادب اور ان کے شاگردوں کے لیے،
” تزین گلستاں سے ریٹائر نہیں”
کتاب میں جواہر پارے ہیں،گہری بصیرت کا ادراک ،کسی شیتل شانت جھیل کی طرح ،یا گہرا ساگر جہاں سے حسبِ توفیق موتی چن سکتے ہیں۔ ایجاز و اختصار ،سندر شبدوں کی مالا جو من بگیا میں پھول کھلانے اور ذہن میں اجیارے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ جس کے فہم۔وادراک نے دنیا دیکھی ہو،اردو،انگریزی ادب کے بحر بیکراں کے شناور ہوں،فراز کے والد محترم آغا برق کوہاٹی کی صحبت کا فیض اٹھا یا ہو ،شوکت واسطی کی بزم علم وفن میں مشاعرے پڑھے ہوں ،سعودیہ میں دوران قیام سجاد بابر اور نسیم سحر کی دلدار مجالس کا خط اٹھایا ہواور سب سے بڑھ کر یہ کہ
ثنا خوان اہل بیت ہیں اور باب العلم کے در سے وابستہ ، نہج البلاغہ کےخوشہ چیں ہیں لکھتے ہیں
یہ بندہ کم مایہ بھی گاہے گاہے علم کے اس عالی شان در پر دستک دیتا ہےاور علم کے خزینے بٹورنے کی سعی کرتا ہے”
تو پھر مثبت سوچ ،نکھرے نیارے خیالات، نرمی ،خوش خلقی ،قلم کی جولانیاں اور تابانیاں کیوں نہ ہوں
بقول ثروت رضوی
سخن وری کا سلیقہ ملا ہے منبر سے
یہ خوش کلامی مجھے باب علم نے بخشی
میری دعا ہے کہ سلامت رہیں قلم بدست رہیں ،تابانی وکامرانی کا یہ سفر جاری وساری رہے ۔آمین
نصرت نسیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ممتاز اہل قلم کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کمال فن ایوارڈ2024کے لیےمعروف ادیب عطاء الحق قاسمی کو منتخب کیا گیا ہے۔اس کااعلان ڈاکٹر نجیبہ عارف صدر نشین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا ۔
’’کمالِ فن ایوارڈ ‘‘ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کی رقم/- 1,000,000 ( دس لاکھ روپے) ہے۔2024کے ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اورمستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں کشور ناہید،ڈاکٹر انعام الحق جاوید،محمد اظہار الحق،محمود شام،اصغرندیم سید،شعیب بن عزیز، ڈاکٹر عبدالرزاق صابر ،محمد حفیظ خان ،یاسمین حمید، محمد حمید شاہد، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، ڈاکٹر شیر مہرانی،ڈاکٹر بیزن بلوچ، احمد حسین مجاہد اور فریدہ حفیظشامل تھے۔اجلاس کی صدارت کشورناہیدنے کی ۔ ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کوان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کا اجراء اکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ء میں کیا تھا۔اب تک اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے احمد ندیم قاسمی ، انتظار حسین ،مشتاق احمد یوسفی،احمد فراز ،شوکت صدیقی، منیر نیازی ، ادا جعفری،سوبھو گیان چندانی ،ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک ، عبداللہ جان جمالدینی،محمدلطف اللہ خان ، بانو قدسیہ ، محمد ابراہیم جویو ، عبداللہ حسین ، افضل احسن رندھاوا ، فہمیدہ ریاض،کشور ناہید، امر جلیل ، ڈاکٹر جمیل جالبی، منیراحمد بادینی، اسد محمد خاں، ظفر اقبال ، حسن منظر اور افتخارعارف کو ’’کمال فن ایوارڈ ‘ دیے جا چکے ہیں ۔
اس موقع پر’ ’قومی ادبی ایوارڈز‘‘ برائے سال2024ء کا بھی اعلان کیاگیا۔چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پریس کانفرنس میں قومی ادبی ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اردو نثر( تخلیقی ادب۔ فکشن) کے لیے سعادت حسن منٹو ایوارڈحفیظ خان کی کتاب ’’ہر ایک جنم کی جانما‘‘(منصفین:محمد حمید شاہد،ڈاکٹرطاہرہ اقبال، خالد فتح محمد ) ،اردو نثر( تخلیقی ادب۔نان فکشن) کے لیےمشتاق احمد یوسفی ایوارڈمحمد اظہار الحق کی کتاب ’’سمندر جزیرے اور جدائیاں ‘‘(منصفین:اصغرندیم سید، شاہین مفتی، عرفان جاوید ) ،اردو نثر(تحقیقی وتنقیدی ادب) کے لیے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈڈاکٹر واحد بخش بزدارکی کتاب ’’بلوچی زبان تاریخ وارتقا‘‘(منصفین: ڈاکٹر معین الدین عقیل، ڈاکٹر ابرار عبداسلام، ڈاکٹر تنظیم الفردوس) ، اردو شاعری کے لیے ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘جلیل عالی کی کتاب ’’آگے ہمارا خوابیہ ہے‘‘ (منصفین:انور شعور، ڈاکٹر ریاض مجید، خواجہ رضی حیدر ) ،پنجابی شاعری کے لیے ’’سید وارث شاہ ایوارڈ‘‘صغیرتبسم کی کتاب’’اردو بولن والے کڑیے‘‘،پنجابی نثر کے لیے’’ افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘‘اکمل شہزاد گھمن کی کتاب ’’پنجرے وچ آہلنا ‘‘ (منصفین:الیاس گھمن، ثروت محی الدین ، حمید راز ) ، سندھی شاعری کے لیے ’’شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ ‘‘امداد حسینی کی کتاب ’’سنڌوءَ جي ڪناري‘‘، سندھی نثرکے لیے ’’مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ڈاکٹر فہمیدہ حسین کی کتاب “ڪنڍي ڪلين وچ ۾” (منصفین: ڈاکٹر منظور علی ویسریو، ڈاکٹر محمد علی مانجھی، اکبر سومرو)، پشتو شاعری کے لیے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘رحمت شاہ سائل کی کتاب” دمحبت د انقلاب سندرے”،پشتو نثر کے لیے ’’ محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ ‘‘ ڈاکٹر محمد اسلم تاثیرکی کتاب “دژوند فلسفہ دحمزہ شنواری پہ نظر کښې” (منصفین:ڈاکٹر سلمیٰ شاہین،ڈاکٹرعبدالکریم بریالے، ڈاکٹر یار محمد مغموم ) ،بلوچی شاعری کے لیے” مست توکلی ایوارڈ” اللہ بشک بزدار کی کتاب “ہمے کوہانی پچار انت”، بلوچی نثر کے لیےسید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ نازل مولابخش کی کتاب “بتل: اَرزِشت ءُ روایت” (منصفین: منیراحمد بادینی،محمد ایوب بلوچ، پناہ بلوچ) ، سرائیکی شاعری کے لیے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘محبوب تابش کی کتا ب ’’پانی ست کھوئیں دا‘ ، سرائیکی نثر کے لیے”ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ” عامر فہیم کی کتاب’’ھک تریڑہ تریہ‘‘ (منصفین:حفیظ خان، قاسم سیال، رفعت عباس) ، براہوئی شاعری کے لیے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ ‘‘حسن ندیمکی کتاب ’’سیپا چک” ، براہوئی نثر کے لیے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘بہاول نسیم بنگلزئی کی کتاب’’ ادب نا استارک‘‘ (منصفین:سوسن براہوئی، نور خان محمد حسنی، ڈاکٹر عبدالرزاق صابر ) ، ہندکو شاعری کے لیے ’’ سائیں احمد علی ایوارڈ ‘‘ افضل ہزارویکی کتاب ’’ڈوہنگیاں سوچاں‘،
ہندکو نثر کے لیےخاطر غزنوی ایوارڈ نصرت نسیم کی کتاب “کھلی اکھیاں دا خاب”
(منصفین:احمد حسین مجاہد، گل ارباب،اسماعیل گوہر ) ، انگریزی نثر کے لیے پطرس بخاری ایوارڈ فریال علی گوہر کی کتاب”An Abundance of Wild Roses”، انگریزی شاعری کے لیے داؤد کمال ایوارڈ محمداطہر طاہر کی کتاب“Telling Twilight”(منصفین: یاسمین حمید، منیزہ ہاشمی، محمد افسر ساجد) اور ترجمے کے لیے ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘ شوکت نواز نیازی کی کتاب ’’ڈیوان‘‘ کو دیا گیا(منصفین : ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر محمد سلیم مظہر،انور سن رائے) کو دیاگیاہے۔قومی ادبی انعام حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دودولاکھ روپے بطور انعامی رقم دیے جائیں گے۔نیزسال 2024سے اکادمی ادبیات پاکستان نے گلگت بلتستان کی زبانوں کے حوالے سے انعامات کا سلسلہ شروع کیاہے جس کا نام گلگت بلتستان ادبی انعام رکھاگیاہے۔ اس سلسلے میں افضل روش کے بلتی ناول “شَہ سَر”( منصفین :یوسف حسین آبادی، محمد قاسم نسیم،محمد حسن حسرت)اور فرید احمد رضا کےکھوار زبان میں شایع ہونے والے افسانوی مجموعے “اُورائے”(منصفین: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، شہزادہ تنویر ملک،جناب عبدلکریم کریمی ) کومشترکہ طور پر انعام کا مستحق قرار دیاگیاہے۔ ان دونوں کتابوں کے مصنفین کو ایک ایک لاکھ روپے بطور انعامی رقم ادا کیے جائیں گے۔












