امریکا کے خصوصی نمائندہ برائے ایران رابرٹ مالی کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ ایران سے کوئی بھی مجوزہ جوہری معاہدہ پہلے کانگریس کے سامنے نظر ثانی کے لئے پیش کرے گی۔
امریکی نمائندے نے سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے سامنے حلفیہ بیان دیتے ہوئے سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب تر پہنچا دیا تھا۔
راب مالی نے 2015 میں براک اوباما انتظامیہ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے ناقدین کو اپنے دور حکومت میں پالیسی چلانے کا موقع ملا تھا اور وہ بری طرح ناکام ہو گئے تھے۔
سینیٹ میں سماعت کے دوران مالی کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جانب سے انتظامیہ کے طرز عمل اور ایران سے بہر صورت معاہدہ کرنے کے فیصلے پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
راب مالی نے دوران سیشن ایران سے معاہدے کی تکمیل کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا کہ شاید یہ معاہدہ نہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے پر امید نہیں ہیں۔
امریکی نمائندے نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں روس کے کردار کے بارے میں میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں جوہری مذاکرات میں روس کے کردار پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے جو کہ خالصتا تصوراتی ہے۔ روس نے ان مذاکرات میں مرکزی حیثیت ادا نہیں کی۔ میرے خیال میں اگر ہم ایسی باتیں کریں گے تو ہمارے یورپی اتحادی ہم سے ناراض ہو جائیں گے۔












