مانچسٹر میں چہلم امام حسین ع کا امن جلوس ۔ ایک سوالیہ نشان۔ علی شان

4
1445

10th-day-manchester-peace-walk2

قبلہ مولانا سید فدا حسین بخاری صاحب,
السلام علیکم:
اپکا ترسیل کردہ مقالہ پڑھا حالات سے آگہی حاصل ھوئی مگر آپ سمیت تمام علمائے کرام اور علماء شیعہ کی جانب سے خموشی اور نظر اندازگی میرے لئے حیرت کا مقام ھے.
عرصہ دراز سے ھماری نئی نسل کو نئی شیعیت پر قائم کرنےکی کوشیش کی جا رھی ھیں. بالآخر یہ جدوجہد کھُل کر سامنے آ گئی اور امسال مانچسٹر میں امن واک کے حوالے سے بروز ہفتہ ایک جلوس نکالا گیا جس میں ایک کالی بگھی میں حضرت امام حسین کی شبیہہء تابوت رکھ گئی جبکہ بگھی کی بلند جگہہ جو عین تابوت کے اوپر بنتی ھے ایک سفید فام عورت جس نے پوپ ھیٹ پہن رکھا تھا کالے لباس میں کوچوان کی صورت بیھٹی جبکہ اسکے سنہرے بال اس کی گردن اور کانوں کے نیچے لہرا رھے تھے.
بگھی کے پیچھے ایک نوجوان علم کو ویسے ھی لہرا رھا تھا جیسے لال شہباز قلندر کے مزار پر دھمال ڈالتے ہوئے ملنگ اور صوفی لہراتے ھیں اور اُنکے پیچھے ڈھول بجاتے ھوئے تین چار ڈھولچی پھر آپکے شہر مانچسٹر کے شیعہ اکابرین اور شروع میں علیحدہ مگر آخر تک پہونچتے پہونچتے مخلوط شیعہ عورتوں مردوں کی کالے سوٹ پہنے خاصی تعداد.
قبلہ شادی بیاہ میں تو آپ سمیت تمام علماء ھر طرح کی موسیقی, مخلوط نشستیں وغیرہ حرام قرار دیتے ھیں اور اگر ڈاکڑ ضمیر اختر جیسا مفکر محقق ولادتِ علی کے موقع پر ڈھول پر قصیدے پڑھنے والوں کے ساتھ امام بارگاہ میں موجود ھو تو قابلِ نفرین.تو پھر یہ کونسا شیعہ ازم ھے جس کا ھر سال جلوس چہلم پر مانچسٹر سے نکلے گا جس میں امام حسین کے جنازے کی کوچوان بے حجاب اور اسکے شرکاء مخلوط ھونگے اور نعرہ تکبیر,نعرہء رسالت نعرہء حیدری اور درود کی گونج کی بجائے ڈھول کی تھاپ پر دنیا کو امن کا پیغام دیا جائیگا اور اس پر تمام علماء اور شیعہ علماء یورپ تین دن گزر جانے کے بعد بھی خاموش ھیں جبکہ یہ جلوس دونوں شیعہ چینلوں پر دکھایا جا چکا ھے.
تو کیا میں اس کامیاب جلوس اور نئی شیعہ شریعت کی آپ کو مبارک باد پیش کروں؟ آپ ھی کو کیوں خاموش کُل علماء اور انکی تمام تنظیموں کو کیوں نہیں.

10th-day-manchester-peace-walk3
کیا اب شیعہ امامت اور تقلید کی بجائے صوفی ازم پر چلیں گے جو علم لہراتے ڈھول بجاتے دھمال ڈالتے روٹھا یار مناتے نظر آتے ھیں یا پھر تاریخ میں امام حسین اور انکے رفقاء کی بجائے انکے سروں کو دربارِ یزید میں پیش کرتے ہوئے یزیدی فوجیوں کی طرح ڈھول بجاتے دکھائی دینے والوں کے نقشِ قدم پر چلیں گے. .
میں نے تاریخ میں نہ تو رسولِ خدا نہ بی بی زھراء نہ حضرت علی کے جنازے پر ڈھول بجتے دیکھے ھیں نہ سنا نہ ھی پڑھا ھے یہاں تک کہ گیارہ اماموں میں سے کسی بھی امام کی موجودگی میں کسی بھی امام کے جنازے پر یا بعد میں برسی کے موقع پر کسی امام کی موجودگی میں ڈھول بجائے جانے کی روایت نہیں پڑھی یا سنی.
آخر میں “یا حسین میں اکیلا یہی کر سکتا ھوں کہ شہر کے اکابرین کے ساتھ احتجاج کرتا اور شیعہ علماء کو شکایت کرتا تو مولا آپ گواہ رھنا میں نے دونوں کام کئے اور اپنا یہی خط قبلہ محبوب الہی بٹ سینیئر ایڈیٹر سپیکر کو بھی ارسال کر رھا ھوں تاکہ وہ اسے اسی طرح چھاپیں اور یہ میرے لئے سند ھو جائے.
ایسا نہیں کہ میں امن جلوس کا مخالف ھوں اگر یہی جلوس بگھی میں تابوت لئے ھوتا اور احتراماً کوچوان جو مرد ھوتا یا عورت ھوتی مگر پورے حجاب میں ھوتی اور تابوت کے عین اوپر کنارے پر بیٹھنے کی بجائے آگے آگے گھوڑوں کی راسیں پکڑے چلتا(چلتی )پیچھے پیچھے رعب و دبدے اور حضرتِ عباس کی نشانی علم کو ملنگوں کی طرح لہرانے کی بجائے احترام کے ساتھ کوئی اُٹھائے چلتا پھر کچھ احباب مسلسل نعرہء تکبیر,رسالت, حیدری لگاتے اور درود کی صدائیں بلند کرتے کالے لباس پہنے سر جھکائے منزلِ مقصود تک مرد آگے اور خواتین پیچھے اسی ترتیب سے چلتیں جو اھلِ تشیع کا خاصہ ھے تو اس جلوس کے انعقاد کرنے والوں اور شہر کے اکابرین کو سب سے پہلے خراجِ تحسین پیش کرتا میں دکھائی دیتا لیکن یہ جو کچھ ھوا اس میں میں شامل نہیں اور یہ میرے نام پر ھو. یہ مجھے منظور نہیں……..

10th-day-manchester-peace-walk4

جناب محبوب صاحب,کچھ تاریخی حقائق جو میں نے پڑھے یہاں عرض کر دوں.
رسولِ خدا کے چچا حمزہ اور عباس غزوات میں شہید کئے گئے رسول کے گریئے کا ذکر تاریخ میں ملتا ھے مگر جب تک رسول زندہ رھے انکی کسی بھی برسی پر ڈھول تاشے بجنے کی مثال نہیں ملتی.
اسلام سے پہلے یہود و نصاری’ عبادت گاھوں میں گھنٹیاں بجاتے تھے اور کافر خانہ کعبہ میں ڈھول تاشوں کے ساتھ ناچ گا کر بتوں کی عبادت کرتے تھے جسے اسلام نے ممنوع قرار دیا اور رسول خدا نے ان کی بجائے عبادت کیلئے اذان کا رواج ڈالا.اسطرح موسیقی کا مذھب سے مکمل ناطہ توڑا گیا.
مگر رسول کی آنکھیں بند ھوتے ھی موت کے خوف سے کلمہ پڑھ کر منافق بننے والوں کی بن آئی اور پھر خاندانِ نبوت میں حضرت علی کی چند سالہ پُر آشوب خلافت کے علاوہ تا دمِ تحریر کبھی اھلِ بیت کی حکومت قائم نہیں ھوئی اور ایران میں بھی امامِ رضا کو ملنے والا زھر اس بات کا گواہ ھے کہ یہاں بھی رسم و رواج کسی اور نظریئے کو لئے مدتوں پروان چڑھتے رھے اس لئے کوئی حیرت کی بات نہیں اگر عراق ایران میں ڈھول تاشوں پر ماتم کے ساتھ ساتھ کربلا کی پیروڈی کی جاتی ھے تو یہ اسی دور کے اثرات ھیں جب اسلام کا چہرہ مسخ کیا جارہا تھا اور ان نام نہاد مسلمانوں نے تاریکی کے دور کی تمام بدعات آہیستہ آہیستہ اسلام میں سرایت کر دیں تھیں.

10th-day-manchester-peace-walk5

تاریخ بتاتی ھے معاویہ, یزید بنو اُمیہ اور عباسیوں وغیرہ نے سینکڑوں سال اسلام کا چہرہ بگاڈ کر ملوکیت اور بادشاھت کی بنیاد رکھی جس میں ڈھول تاشوں کو واپس پلٹایا گیا.
اب جو مسلمان شھداء کے جنازوں کے ساتھ ڈھول تاشے بجانا چاھتے ھیں وہ جو بھی تاویل پیش کرتے ھیں وہ انھی دشمنانِ رسول اور آلِ رسول کے دیئے گئے رسم و رواج ھیں ورنہ تو ھر خوشی اور مصیبت میں اھلِ بیت نے نمازِ نوافل ادا کئے.
میں نے رسول کے زمانے کے شھداء کا ذکر کیا فتح مکہ پر بھی تاریخ بتاتی ھے کہ رسول خدا کے مکہ میں داخلے پر نعرہء تکبیر سے فضائیں گونجتی رھیں اور رسول کی زبان پر تلاوتِ کلامِ پاک کا ورد تھا مگر ڈھول تاشوں کا کہیں ذکر نہیں.
چلئے دنیا کی سب سے زیادہ موضوعِ گفتگو بننے والی جنگ جنگِ کربلا کا حوالہ دیتے ھیں جسکا ایک ایک لمحہ ھزاروں لاکھوں زاویوں سے پوری دنیا میں زیرِ بحث رھاھے.
کربلا کو دیکھیں تو یزید کی فوج طبلِ جنگ اور ڈھول بجاتی نظر آتی ھے جبکہ حسین نمازِ فجر ادا کرتے. پھر شامِ غریباں یزیدی فوج جشنِ فتح کے شادیانے بجاتی دکھائی دیتی ھے اور اھلِ بیت جلے خیموں اور روندھی لاشوں کے درمیان سسسکیاں بھرتے دکھائی دیتے ھیں.پھر امام سجاد کے ساتھ جو
لوھے کی زنجیروں میں جکڑے تھے سوگوارن حسین رسیوں میں جکڑے بے گوروکفن پڑی پیاروں کی لاشوں کے درمیان سے گذرتے نظر آتے ھیں جبکہ یزیدی فوج ڈھول بجاتے دکھائی دیتی ھے. یہاں تک کہ ننگے سر بیبیاں دربارِ یزید میں ایک بار پھر فتح کے ڈھول بجاتے یزیدی فوجیوں کے درمیان سسکیاں بھرتے دکھائی دیتی ھیں.
اب مجھے کوئی بتلا دے کہ ڈھول جو چاھے عراق ایران میں بجیں یا افریقہ امریکہ میں یہ دشمنِ اھلیبیت کے رسم و رواج تو ثابت ھوتے ھیں مگر اسلام یا اھلیبیت سے کم از کم مجھے انکا ربط نہیں ملتا اگر آپکو کہیں مل جائے تو اسی طرح سپیکر میں چھاپ کر مجھے ضرور شرمندہ کیجیئے گا شرط یہی ھے کہ یہ بارہ اماموں میں سے کسی کی موجودگی میں ھوا ھو کیونکہ تابع اور تبہ تابعین کے نام پر بھی اھلِ تشیع نے اپنے اپنے علاقوں کے رسم و رواج کو شاملِ دین کر کے انھیں مذھبی رسومات کا حصہ قرار دے لیا ھے.
خدا مجھے ھمیشہ اھلیبیت کے رستے پر بلا خوف چلنے اور اس میں فضولیات ڈالنے والوں کے مقابلے میں کھڑا رھنے کا حوصلہ اور توفیق دیتا رھے آمین.

علی شان۔ مانچسٹر

SHARE

4 COMMENTS

  1. I am not sure why Mr Ali dhan is upset. As he said himself in the beginning that Molana Fida Bukhari knew and kept silence. Also in the walk there were scholars from different communities who have not objected to any of the concerns raised. Drum is a cultural way in many Muslim countries for such activities. All the ladies were in hijab and there was respect between men and women. The lady handling the carriage was not sitting on the coffin but she was outside the carriage with her hair tied under her hat.

    • I agree with F. I attended the walk and found that non Muslim people were very interested to know about the history behind it. I assume that was the purpose of organisers and also if some people are upset about cultural differences then they need to be better than this. Drum may not be a cultural aspect in indo-Pakistan but it’s clearly cultural in other many Muslim countries like Iran Iraq Bahrain Lebanon etc.

  2. The Work that this organisation has done is phenomenal. Yes there’s some people who have negative opinions about this peaceful walk. But the reality is majority loved and supported their work. Many thanks to The10thDay organisation and may Allah(SWT) bless them and reward them for their efforts.

  3. To be honest I doubt very much intentions of the person writing this article as the organisers took a very innovative step and the concerns raised by the author could have been communicated politely. The very fact that the author didn’t speak to the organisers or not even attended the walk and rode the bandwagon to discredit them clearly shows author ‘s impure intentions. By the way I attended the walk and asked the organisers about the article as well as the author.

LEAVE A REPLY