ریڈیو پاکستان میں موجودہ سربراہ طاہر حسن کے پنشنرز دشمن اور ملازمین دشمن اقدامات کے ساتھ ساتھ مصاحبین کو نوازنے اور اپنی من مانیوں میں برابر اضافہ ہو رہا ہے اور ریڈیو کے متاثرہ لوگ حیران پریشان ہے کہ وزیر اطلاعات، سیکرٹری اطلاعات اور عرفان صدیقی و قادر مندوخیل جیسے عوام دوست بھی اس شخص کو پوچھنے والے نہیں

اسوقت جبکہ ریڈیو پاکستان میں بدترین معاشی صورت حال تو ریڈیو کے سربراہ نے اپنے مصاحبین خاص کو مسلسل نوازنے اور تعمیراتی کاموں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے

ریڈیو پاکستان کے پنشنرز اسوقت ایسی حالت میں ہیں کہ تنگ آمد بجنگ آمد کی کیفیت ہے

ایسے میں اٹھائیس مارچ دوہزار تئیس کے جاری شدہ مندجہ ذیل حکمنامے پر ایک نظر ڈالیئے

انگلش ایف ایم کے ہیڈ عمران جاوید کو پانچ لیٹر پٹرول روزانہ مفت دیا جائے گا اور اس پر عمل درآمد کی ذمیداری اسٹیشن ڈائریکٹر اسلام آباد ریڈیو کو دی گئی ہے جو باقی افسران کی طرح بے بس ،مصاحب مزاج اور خفتہ ضمیر بن چکے ہیں اور جنہیں خود کچھ ہی عرصے بعد پنشنرز کی فہرست میں ہونا ہے

ہمیں اپنے مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انگلش ایف ایم کے ہیڈ عمران جاوید دراصل ڈی جی کے ایڈوائزرز کا ایک گروپ ہے جس میں وہ ہر کام بڑی آسانی سے ایک ڈرافٹ بنا کے ڈی جی کو دے دیتے ہیں اور وہ سائن کروا کے لے آتے ہیں کوئی بھی مسئلہ ہو اسکا حل یہ عمران جاوید ہیں جو کنٹینٹ ایڈوائزر ہیں اور بلال رانا میوزک کے ایڈوائزر ہیں اس میں اپنی مرضی سے کام کراتے ہیں انجئیرنگ والے اپنی مرضی سے توڑ پھوڑ کر رہے ہیں اچھے بھلے اسٹوڈیوز کو توڑ کر دو بار رینویشن کے نام سے دوبارہ اس پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں یہ اپنی مرضی کے فیصلے کرتے ہیں ۔

عمران جاوید کی اپنی ذاتی گاڑی ہے جو ریڈیو کے پاس ڈپلومیٹک انکلیو ہے وہاں پہ ان کا یہ کہنا ہے کہ میں نے انگلش چینل کے لئے سفارتی نمائندوں سے رابطہ کرنا ہوتا ہے یا ان سے ملنا ہوتا ہے تو اس کے لئے پانچ لیٹر پیٹرول روزانہ کامنظور کروایا ہے جبکہ یہ فاصلہ دو سے چار کلو میٹر بنتا ہے ۔ اس میں یہ خود بھی پکڑے جائیں گے کیونکہ وہاں پہ انٹری ہوتی ہے اور اس کی لسٹ بنتی ہے کہ یہ گاڑی ایک مہینے میں کتنی مرتبہ ڈپلو میٹک انکلیو میں داخل ہوئی ہے ۔

اپنی ذاتی گاڑی ہونڈا سٹی اے ڈی کے 501 کے پانچ لیٹرروزانہ پیٹرول کا کل خرچہ اور اسلام آباد سٹیشن کا پورے مہینے کا خرچہ کے مساوی ہے جو شفٹیں اٹھانے کے لیے گاڑی جاتی ہے اور دفتر کے دیگرمعاملات ہوتے ہیں وہ بھی تقریبا اتنا ہی ہے یعنی کہ پورے مہینے کا 45 ہزار ہے اور یہ جو پانچ لیٹر روزانہ کا ہے یہ بھی لگ بھگ تقریبا 45 /40 ہزار مہینے کا بنتا ہے ۔

لگتا ہے ڈی جی کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہے یا پھر وہ انہیں استعمال کر رہا ہے ۔ ایک طرف پیسے کا بحران ہے دوسری طرف یہ شہ خرچیاں ختم نہیں ہورہی ہیں ۔ فنانس والے پیسے نہیں دیتے تو سیلز کے پیسے اڑائے جا رہے ہیں اسی خوشی میں ڈپٹی کنٹرولر سیلزکو پچھلی تاریخو ں میں ترقی سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

SHARE

4 COMMENTS

  1. I am not sure why Mr Ali dhan is upset. As he said himself in the beginning that Molana Fida Bukhari knew and kept silence. Also in the walk there were scholars from different communities who have not objected to any of the concerns raised. Drum is a cultural way in many Muslim countries for such activities. All the ladies were in hijab and there was respect between men and women. The lady handling the carriage was not sitting on the coffin but she was outside the carriage with her hair tied under her hat.

    • I agree with F. I attended the walk and found that non Muslim people were very interested to know about the history behind it. I assume that was the purpose of organisers and also if some people are upset about cultural differences then they need to be better than this. Drum may not be a cultural aspect in indo-Pakistan but it’s clearly cultural in other many Muslim countries like Iran Iraq Bahrain Lebanon etc.

  2. The Work that this organisation has done is phenomenal. Yes there’s some people who have negative opinions about this peaceful walk. But the reality is majority loved and supported their work. Many thanks to The10thDay organisation and may Allah(SWT) bless them and reward them for their efforts.

  3. To be honest I doubt very much intentions of the person writing this article as the organisers took a very innovative step and the concerns raised by the author could have been communicated politely. The very fact that the author didn’t speak to the organisers or not even attended the walk and rode the bandwagon to discredit them clearly shows author ‘s impure intentions. By the way I attended the walk and asked the organisers about the article as well as the author.

LEAVE A REPLY