امریکا دہشت گردی مخالف جنگ میں مصر کے شانہ بشانہ کھڑا ہے : مائیک پینس

0
69

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ محاذ کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ اول الذکر نے کہا ہے کہ امریکا اس جنگ میں مصر کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

امریکی نائب صدر نے ان خیالات کا اظہار قاہرہ میں مصر ی صدر عبدالفتاح السیسی سے ہفتے کے روز ملاقات میں کیا ہے ۔ وہ تین ملکوں کے چار روزہ دورے کے پہلے مرحلے میں قاہرہ پہنچے تھے اور گذشتہ ایک عشرے میں کسی اعلیٰ امریکی عہدہ دار کا مصر کا یہ پہلا دورہ ہے۔

مائیک پینس اور عبدالفتاح السیسی کے درمیان کوئی ڈھائی گھنٹے تک بات چیت ہوئی ہے اور انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ اقتصادی اور سیاسی تعلقات ، مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال ، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل اور داعش سمیت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر السیسی نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے دہشت گردی کے سرطان کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیا جس نے ان کے بہ قول پوری دنیا ہی کو خوف زدہ کررکھا ہے۔مائیک پینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقتدار کے ایک سال کے دوران میں مصر کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے صدر السیسی سے مخاطب ہو کر کہا کہ’’ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آپ اور مصر کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور مصریوں کے خلاف دہشت گردی کے حالیہ حملوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ہمارے دل دکھی اور افسردہ ہیں‘‘۔

انھوں نے خاص طور پر دسمبر میں قاہرہ کے نواح میں ایک چرچ کے باہر ایک جنگجو کی قبطی عیسائیوں پر فائرنگ کا حوالہ دیا جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ انھوں نے گذشتہ سال نومبر میں شمالی سیناء میں ایک مسجد میں عبادت گزاروں پر حملے کا بھی ذکر کیا۔اس حملے میں 311 نمازی جاں بحق ہوگئے تھے۔

مائیک پینس امریکا میں کانگریس اور صدر ٹرمپ کے درمیان اخراجات کے بل پر کوئی سمجھوتا نہ ہونے کے باوجود طے شدہ شیڈول کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کا چار روزہ دور ہ کررہے ہیں۔ سینیٹ میں یہ بل منظور نہ ہونے کی وجہ سے امریکی حکومت ہفتے کے روز جزوی طور پر شٹ ڈاؤن ہوگئی ہے۔

امریکی نائب صدر کی صدر السیسی سے صدارتی محل میں ملاقات کے موقع پر صحافیوں کو اندر نہیں آنے دیا گیا اور نہ انھوں نے صحافیوں کے سوالوں کے کوئی جواب دیے ہیں۔ وہ مصر میں مختصر قیام کے بعد عمان روانہ ہونے والے تھے۔ وہ اتوار کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کریں اور پھر وہ مقبوضہ بیت المقدس چلے جائیں گے جہا ں وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کریں گے۔وہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں واقع غربی دیوار (دیوار گریہ) بھی جائیں گے اور اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ مسٹر مائیک پینس نے دسمبر میں مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر آنا تھا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6 دسمبر کو القدس ( یروشلیم ) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد ان کا یہ دورہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ وہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے زبردست حامی ہیں لیکن مسلم اور عرب ممالک نے ان کے اس اعلان کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس نے بیت لحم میں ان سے ملاقات سے انکار کردیا تھا۔اس لیے اب وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نہیں جائیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY