یا حسین علیہ السلام یاحسین علیہ السلام یاحسین علیہ السلام

0
543

عالمی اخبار۔ریسرچ یونٹ

عاشورہ کو سیدہ سلام اللہ علیہا کا لال جب شہید کر دیا گیا تو گویا عصر کے وقت ہی آفتاب امامت دشت ئینوا میں‌ غروب ہو گیا، شام غریباں کی اداسیاں غاضریہ پر سایہ فگن ہو گئیں، پوری کائنات نے دردوالم میں ڈوب کر سیاہ لباس پہن لیا۔۔اہل حرم کے خیموں سے ایک مرتبہ یزیدی ظلم و شقاوت کے شعلے اٹھے اور خاندان رسول(ص) کی اسیری کا ماتم کرتے ہوئے آہستہ آہستہ خاموش ہو گئے شب کا سناٹا۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے یتیم و بے سہارا بچوں کی سسکیاں اور خیام حسینی کی جلتی راکھ پر بیٹھی زینب سلام اللہ علیہا تھیں اور سید سجاد(ع) ۔۔۔۔

رات نے اپنا دامن سمیٹا، گیارہویں کی صبح، پیغام اسیری لے کر نمودار ہوئی مخدرات عصمت و طہارت کے لیئے اور رمن اور نحیف ولاغر امام کے لئے طوق و زنجیر۔۔۔ گیارہویں کی صبح، عصر عاشورا کی مانند آلام و ابتلا کی تصویر تھی لیکن آج کی صبح، صبح عاشورا سے مختلف تھی، نہ علی اکبر کی اذان تھی نہ امام حسین کی امامت میں اصحاب و اعزا کی جماعت، نہ دعاؤ مناجات کی آوازیں تھیں نہ شجاعت و دلاوری کے ہمہمے۔۔چادروں سے محروم سیدانیوں کے گرد تازیانے لئے بنی امیہ کے نمک خوار کھڑے تھے۔۔۔ بیبیاں حسرت بھری نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھیں۔۔ ترائی پر عباس(ع) کے کٹے شانے، مقتل میں قاسم(ع) کا تن پاش، نیزے کی ان میں‌الجھا اکبر کا سینہ، گلے میں بانہیں دئے ہوئے عون و محمد کے لاشے۔۔۔حر، مسلم، حبیب، زبیر، سعید سب کے سب بے سر پڑے تھے۔۔قافلہ مظلومیت اسیری کی خاک چہروں پر ملے ہوئے کربلا سے کوفہ کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔ آگے آگے نیزوں پر کٹے ہوئے شہدائے اسلام کے سر اور پیچھے پیچھے بے کجا اونٹوں کی ننگی پیٹھ پر رمن بستہ بیبیاں اور بچے۔۔جن کے رخساروں پر طمانچوں کے نشان ظاہر تھے۔۔۔جن کے آگے آگے ایک جوان ہاتھوں میں ‌ہتھکڑی اور پاؤں میں‌بیڑی پہنے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ چل رہا تھا۔۔۔۔

بانگ رحیل نے قافلے کے چلنے کا اعلان کیا اور جرس کارواں بجنے لگا۔۔۔دور سے ایک آواز آرہی تھی۔۔۔ کربلا ہماری امانتوں سے خبردار۔۔۔ہم تیرے دامن میں اپنے بے بہا خزانے بکھیر کر جارہے ہیں۔۔ان کو اپنی خاک میں‌محفوظ کر لینا۔۔۔یہی وہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے قیمتی گوہر ہیں‌جو روز محشر ان کی امت کے کام آئیں گے۔۔۔

اے شب فرات ہمارے با وفا کے بازوؤں سے خبردار! یہ بازو پیاسوں کی نصرت کے امین ہیں ان کو حفاظت سے رکھنا کل میدان حشر میں‌رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ اپنے فرزند کے ان کٹے بازوؤں کے ذریعے شفاعت کریں گی۔۔۔۔
اے سر زمین نینوا ! ہم اپنے عزیزوں کا چہلم کرنے پھر لوٹ کر آئیں گے لیکن ہمیں معلوم ہے اس وقت ہمارے ساتھ یہ چھوٹے چھوٹے شہیدوں‌کے نونہال نہ ہوں‌گے راستے کی اذیتیں ہمارے ان غنچوں اور کلیوں کو کمبلا دیں گی۔۔
۔۔
جی ہاں ! آج بھی کربلا سے شام تک قدم قدم پہ حسینی کارواں سے بچھڑے ہوئے بچوں اور بچیوں کے مزار موجود ہیں۔۔ جو زائرین کو سرائے کربلا کی ان یادگاروں کی یاد دلاتے ہیں‌۔۔۔ بہر حال ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اہل حرم کا قافلہ حسین(ع) کی بہن زینب سلام اللہ علیہا کی قیادت میں‌کربلا سے روانہ ہو گیا۔۔۔ درمندوں اور مظلوموں کا قافلہ کوفہ میں‌وارد ہوا تو انہیں ابن زیاد کے دربار میں‌لا یاگیا۔۔۔۔۔۔
ابن زیاد کو بھرے دربار میں ذلیل و رسوا کرنے کے بعد اسیروں کا قافلہ شام کی طرف روانہ ہوا۔۔۔نوک نیزہ پر امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک نے سورہء کہف کی تلاوت کرنا شروع کر دی۔۔۔شام کے بازاروں اور درباروں میں‌جگہ جگہ جناب زینب سلام اللہ علیہا،، جناب ام کلثوم، جناب فاطمہ کبریٰ اور امام وقت سید سجاد علیہ السلام کے حق آفریں خطبوں اور تقریروں نے ، یزیدی کبر و نخوت میں چور مسرتوں کے شادیانوں کو، ذلت و رسوائی کی بانسریوں میں‌تبدیل کر دیا تھا۔۔۔۔:

اور پھر شام کے خرابے میں حسین علیہ السلام کی چار سالہ بچی کی شہادت نے شام کی پوری فضا کو سوگوار بنا دیا۔۔اور یزید نے اپنے ظلم و ستم پر پردہ ڈالنے کے لئے اہل حرم کی رہائی کے حکم کے ساتھ ہی جناب زینب سلام اللہ علیہا کی فرمائش پر شام میں نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس برپا کرنے کی اجازت دے دی۔۔۔اور پھر۔۔۔
تین دنوں تک دمشق میں نوحہ و ماتم کے بعد اہل حرم شام سے کربلا کی طرف واپس ہوئے۔۔۔۔۔

کربلا کے دشت نے جو روز اول سے ہی حسین علیہ السلام اور ان کے جاں نثاروں کے خون کا امین تھا زینب سلام اللہ علیہا اور سید سجاد علیہ السلام کے استقبال کے لیئے اپنی آغوش باز کر دی وہ حسین علیہ السلام کا چہلم کا دن تھا۔۔۔۔روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک محترم صحابی رضی اللہ عنہ جناب جابر ابن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے ایک رفیق عطیہ عوفی کے ساتھ نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیئے وہاں پہلے سے موجود تھے۔۔۔۔

عطیہ عوفی کا بیان ہے کہ قبر حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیئے جب ہم کربلا پہنچے تو قریب سے ہی بہنے والی فرات کے تیز و تند دھاروں کی آواز نے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اب نابینا ہو چکے تھے غم و اندوہ سے تڑپا دیا اور وہ اس خیال سے آنسو بہانے لگے کہ آہ اسی دریائے فرات کے کنارے خاندان رسول کو تشنہ لب شہید کر دیا گیا۔۔۔جابر فرات کے کنارے بیٹھے دیر تک آنسو بہاتے رہے پھر اٹھے اور غسل کیا اور کسی محرم کی مانند قبر حسین علیہ السلام کی طرف قدم بڑھائے اور تسبیح و تہلیل کے ساتھ آگے بڑھتے رہے میں ان کی انگلی پکڑے ہوئے تھا جیسے ہی قبر امام علیہ السلام پر پہنچے خود کو قبر پر گرا دیا اور روتے روتے بیہوش ہو گئے میں‌نے پانی کا چھینٹا دیا تو آنکھ کھولی اور فرمایا حسین علیہ السلام یاحسین علیہ السلام یاحسین علیہ السلام اور جب کوئی جواب نہ ملا تو کہا: کیا دوست اپنے دوست کا جواب نہیں‌دے گا اور پھر خود ہی کہا: ہاں آپ کیسے جواب دیں‌گے آپ کی گردن خون رنگین ہے اور سر تن میں جدائی ہو چکی ہے۔۔۔۔میں‌گواہی دیتا ہوں آپ فخر انبیاء علیہ السلام کے فرزند امام المتقین علیہ السلام کے دلبند اور سید النسا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پارہء دل ہیں آپ نے پاکیزہ زندگی گزاری اور خدا کی پسندیدہ موت قبول کی۔۔۔لیکں مومنین کے قلب کو فراق کی آگ میں‌جلنے کے تنہا چھوڑ دیا۔۔۔اس میں‌کوئی شک نہیں‌کہ آپ زندہ ہیں آپ زندہ ہیں۔۔آپ پر خدا کا درودوسلام ہو۔۔۔میں‌گواہی دیتا ہوں کہ آپ کی شہادت کی داستان بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام ابن زکریا علیہ السلام کی شہادت کی مانند ہے۔۔۔۔

اس کے بعد جناب جابر ابن عبداللہ انصاری نے قبر امام علیہ السلام کے گرد و نواح کا رخ کیا اور فرمایا: درودوسلام ہو تم پر اے پاک و پاکیزہ روحو! کہ تم نے امام حسین علیہ السلام کے گرد جگہ پائی اور امام علیہ السلام کے آستانہء مقدسہ میں اپنی سواریاں‌ بٹھائیں۔۔۔۔
یہ لمحات جناب جابر کے لیئے بڑے سخت تھے، ان کے زمزے ان کے قلبی کیفیات کے غماز تھے۔۔۔ایک مرتبہ پھر قبر حسین علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور بیٹھ کر تعویز قبر سے لپٹ کر اس قدر گریہ کیا کہ بیہوش ہو گئے۔۔
۔
چنانچہ اس وقت چونکے کہ جب کانوں میں قریب ہی کسی قافلے کے اترنے کی آہٹ محسوس ہوئی ، گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور عطیہ سے سوال کیا کہ یہ آوازیں‌کیسی ہیں۔۔عطیہ نے فرزند رسول صلی اللہ علیہ وسلم امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے ساتھ مخدرات عصمت و طہارت کو اونٹوں کے کجاؤں‌سے اترتا دیکھا تو آواز دی ! جابر! بڑھو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کا استقبال کرو۔۔۔یہ حسین علیہ السلام کے فرزند سید سجاد علیہ السلام ہیں جو اپنی پھوپھیوں اور بہنوں کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔۔۔۔جابر نے سنا تو ننگے پاؤں ننگے سر آگے بڑھے اور سید سجاد علیہ السلام کو سینے سے لگا لیا اور امام سجاد علیہ السلام نے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا:
جابر! یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمارے مردوں‌کو قتل کر دیا گیا، عورتوں کو اسیر کر لیا گیا اور ہمارے خیمے جلا دیئے گئے۔۔۔

جناب زینب سلام اللہ علیہا نے قبر حسین علیہ السلام کی طرف رخ کر کے آواز دی، زندان شام سے چھٹ کر زینب آگئ بھائی۔۔۔۔تین دنوں تک اہل حرم نے شہدائے کربلا کی قبروں پر عزاداری کی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جناب جابر بھی امام زین العابدین علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہے۔۔۔اور پھر یہ قافلہ اہل حرم رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینے کی طرف روانہ ہو گیا۔۔اور جناب زینب سلام اللہ علیہا کی قیادت میں‌خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جا کر نانا کا نواسے کا پرسہ پیش کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

سید ابن طاؤس اور دوسرے بڑے علماء نے لکھا ہے کہ “جب اسیروں کا قافلہ حضرت زینب س اور امام زین العابدین ع کے ساتھ دوسرے قیدیوں کے ہمراہ چہلم کے دن کربلا میں داخل ہوا تو وہاں صرف رسول اللہ ص کے جلیل القدر صحابی حضرت جابر ابن عبداللہ انصاری اور عطیہ عوفی ہی موجود نہیں تھے بلکہ قبیلہ بنی ہاشم کے کئی لوگ وہاں امام حسین ع کی قبر مطہر کے گرد موجود تھے اوراُن سب نے حضرت زینب س کا استقبال کیا۔

شاید حضرت زینب س کی مدبرانہ “ولائی” سیاست کہ جس کے مطابق اُنہوں نے شام سے مدینے جاتے وقت کربلا جانے پر اصرار کیا، کا مقصد یہ تھا کہ اربعین کے دن کربلا میں یہ چھوٹا سا مگر پُر معنیٰ اجتماع منعقد ہو سکے۔
قتل حسين مظلوم کے بعد ان کے خيموں ميں آگ لگائی گئی، اور نواسہ رسول اسلام کے گھر کو بڑی بے باکي کے ساتھ لوٹ ليا گيا، رسول زاديوں کو اسیر بنایا اور امام حسين کے بيمار بيٹے امام زين العابدين عليہ السلام جو اس معرکہ ميں بچ گئے تھے ان کے ھاتھوں اور پيروں ميں ہتھکڑياں او ربيڑياں اور گلے ميں طوق پہنايا گيا، اور انھيں رسول زاديوں کے ھمراہ کربلا سے قيد اور اسير کرکے کوفہ اور وھاں سے شام لے جايا گيا۔
مظلوميت کے اس اسير شدہ قافلہ کي قيادت و سرداري جس شخصيت کے ھاتھوں ميں تھي وہ کربلا کي شير دل خاتون اور علي جيسے شجاع انسان کي شجاع بيٹي جناب زينب تھيں۔

جناب زينب کے آتشيں خطبوں اور شام کي بدلتي ھوئي فضا نے يزيد کو مجبور کرديا کہ وہ جلد از جلد اھل حرم کو رھا کر دے اور يہ جناب زينب کي سب سے پہلي کاميابی تھي کہ آپ نے رھائي کے فوراً بعد خود يزيد کے گھر يعني شام ميں اپنے بھائي کي صف عزا بچھائي، اور وہ اربعين (چہلم) 20 صفر کا دن تھا جب يہ دکھيا بہن اپنے بھائي امام حسین کا چہلم کرنے کربلا پہنچي تھي اور اپنے بھائي کي قبر پر روتے ھوئے شام کي فتح کا اعلان کيا تھا۔

اربعين حسيني کي مناسبت سے تمام انسانيت کو اور خاندان عصمت و طہارت کے محبين کي خدمت ميں تعزيت پيش کرتے ہيں،اور بی بی زینب (ع) کو ان کے بھائی کا بھرے گھر کا پرسہ دیتے ہیں. ھر سال امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں شرکت کے لئے، شام اور کربلائے معلی جانے والے زائرین بیشمار ھوتےہیں. اگر ھم لوگ اربعین (چہلم) کے دن حضرت امام حسین (سلام اللہ عليہ) کے حرم کي زيارت نہيں کر سکتے تو آپ کی زيارت پڑھ کر، آپ کي زيارت کر سکتے ہيں. امام کے ایک صحابی جابر ابن انصاری کہتے ہیں اشہد انک تسمع کلامي و ترد سلامي و تري مقامي» آپ فرماتے ہيں کہ : اے امام! ميں اس چيز کي گواہي ديتا ہوں کہ آپ ميري بات کو سن رہے ہيں اور ميرے سلام کا جواب ضرور ديتے ہيں اور مجھے ديکھ رہے ہیں!

ماہ صفر کی بیسویں تاریخ کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے چالیسویں کی مناسبت سے یہ زیارت پڑھی جاتی ھے. اس کا طریقہ یوں ھے کہ آسمان کی طرف اپنا رخ کرو اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مقدس کی طرف اشارہ کرکے کہو:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
السلام علیک یا ابا عبد اﷲ
(سلام ھو آپ پے اے ابا عبداللہ)
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ رَسُولِ اللہِ
(سلام ھو آپ پے اے رسول اللہ کے فرزند)
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ اَميرِ الْمُؤْمِنينَ وَابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيّينَ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ فاطِمَہ سَيِّدَہ نِساءِ الْعالَمينَ،
اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ
وَعَلى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ
وَعَلى اَوْلادِ الْحُسَيْنِ
وَعَلى اَصْحابِ الْحُسَيْنِ،
اَللّـہمَّ الْعَنْ اَوَّلَ ظالِم ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد
اَللّـہُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشّاكِرينَ
اَللّـہہمَّ ارْزُقْني شَفاعَتَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِ
السلام علیک و رحمت اﷲ و برکاتہ
یا خدا ھم امام حسین علیہ السلام کے مقدس خون کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ائمہ، اھل بیت علیہم السلام کے بارے میں ہماری معرفت اور آگاہی میں اضافہ فرما اور ہمارے دلوں کو نور ولایت سے منور فرما اور ہماری نسل اور اولاد میں سے کسی کو دشمن اہل بیت علیہم السلام قرار نہ دے۔ امین

SHARE

LEAVE A REPLY