کس نے اس شہر کے لوگوں کو ستا رکھا ہے
سر پر ہر شخص نے سامان اٹھا رکھا ہے

تونے رکھا تھا کبھی ہاتھ مرے سینے پر
میں نے دل پر بھی وہی نقش بٹھا رکھا ہے

کیوں ہر اک شخص سے ملتے ہو بصد عجز ونیاز
کیوں ہر اک شخص کا احسان اٹھا رکھا ہے

وہ میرے پاس چلا آ ئے گا خوشبو کی طرح
میں نے پیغام سر دست صبا رکھا ہے

چاند تارے تو کڑی دھوپ میں بھی ہوتے ہیں
یہ تو سورج نے ہی اندھیر مچا رکھا ہے

کس طرح داد رسی ہوگی ہماری سرکار
ظلم کو آ پ نے آ ئین بنا رکھا ہے

دل میں جلتا رہا شب بھر ترییادوں کا الاؤ
رات بھر میں نے گریبان کھلا رکھا ہے

صبح ہونے کو ہے سب سوئے پڑے ہیں اسرار
اک ستارے نے مجھے اب بھی جگا رکھا ہے

اسرار اعظم چشتی

غزل
ہم کہاں جادہ و ہستی کی طرف دیکھتے ہیں
آ سماں پر ہیں ، سو پستی کی طرف دیکھتے ہیں

تونے آنکھیں نہیں ڈھانپیں، تجھے معلوم نہیں؟
ہم فقط منبع مستی کی طرف دیکھتے ہیں

اک عجب طمع سی رکھی ہے خدا نے ہم میں
مہنگی شے رکھتے ہیں ، سستی کی طرف دیکھتے ہیں

میں کوئی حسن کا پیکر تو نہیں ہوں ، دراصل
وہ مری حسن پرستی کی طرف دیکھتے ہیں

عمر کٹ جاتی ہے جنت کی طلب میں اسرار
چھوڑ کر بھی ، اسی بستی کی طرف دیکھتے ہیں

اسرار اعظم چشتی

SHARE

LEAVE A REPLY