وزیرستان کے دو خونخوار قبائل۔۔۔وزیر اور محسود۔۔۔کی حد بندی ‘شاکتو دریا’ کرتا ہے۔ دریا کے دونوں کے ساتھ ساتھ مکئی کے کھیتوں کے ٹکڑے ہیں، جن کی دیکھ بھال وزیروں اور محسودوں کی عورتیں کرتی ہیں۔ دریا اپنے کناروں کی ہمواریت کچھ دور ہی جا کر ختم کردیتا ہے۔۔۔جہاں کھیت ختم ہو جاتے ہیں وہاں سے عمودی چٹانیں زاویہ قائمہ بناتی بلندیوں کی طرف نکل جاتی ہیں۔۔۔اور کہیں کہیں تو سنگ موسی(گرینائٹ) کی چٹانیں یوں دکھائی دیتی ہیں جیسے نیزوں کی انیاں۔ سارا سال وزیر اور محسود قبائل دریا کے دونوں جانب سے ایک دوسرے کو گھورنے میں گزارتے ہیں۔۔۔محسود اپنے موٹی دیواروں والوں گھروں کی جھریوں اور وزیر اپنے گھروں میں بنے حفاظتی میناروں کے مورچوں۔ ہر چند ماہ بعد ان کا ایک دوسرے کو گھورنا اور دماغی انتشار باقاعدہ جنگ میں بدل جاتا ہے۔۔۔ پھر مردوں کی اموات ہوتی ہیں۔۔۔عورتوں کی اموات ہرگز نہیں۔۔۔وہ اپنی صورت حال میں اپنے کھیتوں کی دیکھ بھال کرتی رہتی ہیں اور دریا سے پانی لاتی رہتی ہیں۔
چند دن کے ہنگام کے بعد دریا کی تلی میں موجود ایک خانقاہ سے ایک متولی برآمد ہوتا ہے اور صلح کی شرائط طے کرواتا ہے۔ دوبارہ سے چند ماہ کے لئے سکوت طاری ہو جاتا ہے اور پھر یہ سکوت رائفل کے چلنے کی آوازوں سے دوبارہ ٹوٹ جاتا ہے۔ جب سے اس خطہ ارض میں یہ قبائل آباد ہوے تب سے ان کی زندگیوں کو محور آپسی قتال ہے۔ محسود چونکہ گروہ بنا کر شکار کرتے ہیں اس لئے انھیں وزیرستان کے موسوم کیا جاتاھے، جب کہ ایک وزیر ہمیشہ تن تنہا شکار کھیلنا پسند کرتا ہے اس لئے ایسے مرد کو چیتے کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اپنی اپنی انفرادیت کے علاوہ دونوں قبائل مصیبت اور غربت کے مشترکہ مالک ہیں۔
فطرت نے انھیں غیر معمولی غصے، حد سے زیادہ قوت برداشت اور تقدیر سے انکار کی ضد سے نوازا ہے۔ اگر وہ فطرت سے محض دس دن کی خوراک حاصل کر لیں تو سال کے بقیہ دنوں کے لئے میدانوں میں رہنے والے امیر لوگوں سے رزق چھیننا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ دونوں قبائل کے لئے بقاے حیات سب سے بڑا مسلہ رہتا ہے۔ دونوں قبیلوں میں ایک کرائے کا قاتل ہونا، چور ہونا، اغوا کار ہونا یا مخبر ہونا کسی قسم کی ذلت کا سبب نہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ دونوں قبائل اپنی اپنی ذات میں مگن رہنے والے لوگ ہیں۔ ان کا مشترکہ اور لا یتبدل خام خیالی یہ ہے کہ وہ لوگ ابن آدم کا مرکز ہیں اور باقی سارے انسان ان کے غلام یا رعیت ہیں۔۔۔اور وہ واقعی باقی انسانوں کو کم تر درجہ کی مخلوق سمجھتے ہیں۔ اس سال موسم سرما اپنی آمد میں سستی دکھا رہا تھا۔ وزیرستان کے پہاڑوںپر بیٹھے مرد موسم سرما کی تبدیلی کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ایک چھوٹے موسم سرما کا مطلب تھا سال بھر کے لئے کمائی کا کم وقت اور کم مواقع۔۔۔اس لئے موسم کو اب دھوکے باز قرار دے کر اپنے غصے کا اظہار کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے۔۔۔جیسا کے میدانیواں کو بھی علم تھا۔۔۔سرما تو، ڈکیتیوں، اغوا اور قتال کا موسم ہوتا تھا۔ لمبی یخ راتوں میں بستروں میں دبکے لوگ سست پڑ جاتے اس لئے اپنے اپنے ہمساے کی چیخ و پکار پے یا تو کان لپیٹ لیتے یا پھر سست روی سے امداد کے لئے نکلتے۔ سردیوں کی راتوں میں میدانی لوگوں کی نقل و حمل بھی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہوتی۔۔۔جب کہ گرمیوں میں کوئی نہ کوئی باہر ہوتا یا کھیتوں کو پانی لگانے والوں کی رونق ہوتی۔ پھر سردیوں میں کامیاب مہم جوئی کے بعد پہاڑوں میں واپسی کے لئے کافی وقت مل جاتا۔ شاکتو دریا کے ایک جانب بکھرے مکانوں میں وہ تین مرد پہاڑوں سے محض دس میل دور فوجی چھاونی سے کسی کو اغوا کرنے کا سوچ رہے تھے۔ ہر کوئی ایک دوسرے کی سوچوں سے آگاہ تھا۔۔۔پہلا سرمست خان ایک محسود تھا۔۔۔تقریبا تیس سال عمر کا۔۔۔وہ یہ اغوا کاری کا کام پچھلے پندرہ برسوں سے کر رہا تھا۔ اس کی کمائی سے اس کے بڑے بھائی نے کراچی میں لکڑیوں کے ٹال کا کام شروع کیا تھا، اب رقم اسے اپنے لئے چاھئیے تھی۔ اس کی منگیتر کا باپ اسے بقیہ رقم کی جلد از جلد ادائگی پر اصرار کر رہا تھا۔ وہاں سے چند میل دور ایک مکان میں دو جڑواں بھائی بھی کچھ ایسی ہی بات سوچ رہے تھے۔۔۔اور ان کی عمریں بھی تیس سال تھی۔۔۔اور وہ قبیلہ وزیر سے تھے۔ پندرہ سال پہلے انھوں نے اپنے جرم میں ایک سرکاری افسر کی بے حد قیمتی نقش و نگار سے گدی رائفل چوری کی تھی تب سے وہ ان گنت چوری کے مقدمات میں ملوث ہوتے چلے گئے۔ ان کے قریبی رشتہ دار میدانوں میں رہائش پذیر تھے۔۔۔پولیس ان کو تنگ کرتی رہتی جب کہ وہ دونوں پہاڑوں میں آزاد گھومتے رہتے۔ میدانوں میں وہ بستہ ‘ب’ کے اشتہاری قرار پا چکے تھے۔
اب قانون نے انھیں نئی اور پاک صاف زندگی گزارنے کا موقع دیا تھا۔ قریبی ضلع کے ایک بڑے افسر نے غیر مشروط گرفتاری پیش کرنے کے عوض معافی کا اعلان کیا تھا۔ اب اس دفتر میں ایک کلرک تھا۔۔۔جس کے پاس ان کے معافی نامے کی فائل تھی۔۔۔اس نے ان سے دو ہزار روپے رشوت کی طلب کی تھی۔ دو ہزار کی ادائگی کے بعد ہی اس نے وہ فائل افسر کے سامنے پیش کرنی تھی۔۔۔اب دونوں بھائی اس درد ناک صورت حال میں آخری بار چوری کا منصوبہ بنا رہے تھے تاکہ وہ مطلوبہ رقم ادا کر کے اپنی زندگی سکون سے گزار سکتے۔
مزے کی بات ان تین کے علاوہ بھی سبھی مرد کچھ ایسی ہی سکیمیں بنا رہے تھے لیکن سردی تھی کے آ ہی نہیں رہی تھی۔ سرمست خان اور دونوں جڑواں بھائی۔۔۔جلت خان اور ضبطان خان نے ایک صبح ملاقات کی۔۔۔جب کہ سبھی عورتیں پانی کا پہلا پھیرا لگانے دریا کی طرف نکل چکی تھیں۔ بنیادی انتظامات کی بابت ان میں مکمل اتفاق ہو چکا تھا۔ وہ اپنا ایک لیڈر چننے کے لئے دولت خان محسود پر متفق ہو گئے۔ دولت خان محسود سفید بالوں والا تجربہ کار رسہ گیر تھا۔ وہ زبردست مزاح پسند تھا اور بہت بڑا کہانی گیر تھا۔۔۔اور الہ سماعت۔۔۔جو وہ پہن کر رکھتا برسوں پہلے کسی سے چرایا تھا۔
جاری ہے
مترجم ۔جی حسین













