ممتاز شاعر ِ اہلِ بیت، زبا ن و عروض کے اُستاد ڈاکٹر شعور اعظمی سپردِ خاک

0
1417

ممتاز شاعر ِ اہلِ بیت، زبا ن و عروض کے اُستاد ڈاکٹر شعور اعظمی سپردِ خاک
ندیم صدیقی
ممتاز شاعر اہلِ بیت،زبا ن و عروض کے استاد (ہجری سنہ کے مطابق 71 سالہ) ڈاکٹر شعور اعظمی بدھ کی شام نواحِ ممبئی ’ممبرا‘ میں انتقال کر گئے ۔
ممبئی میں دور ِ گزشتہ کے ممتاز سینئر شاعر اور اُردو کے مشہور اُستاد مہدی اعظمی(مرحوم) کے فرزند ِ اکبر جن کا خاندانی نام ’سید قاسم مہدی‘عرف ڈاکٹر شعور اعظمی 1957 میں پیدا ہوئے تھے، ہجری سنہ 1375 کے حساب سے ان کا تاریخی نام ’سید کلیم اختر‘ رکھا گیا تھا، مگر اسمِ شعور (اعظمی) نے دیگر اسما پر فوقیت حاصل کی۔
ڈاکٹر شعور کا آبائی وطن اعظم گڑھ (اتر پردیش) کا موضع چماواں تھا، لیکن ان کی پیدائش ننہال احد پور میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر مجیب خان نے بتایا کہ شعور اعظمی اور میں نے ناگپاڑہ (ممبئی) کے احمد سیلر اسکول سے ایک ساتھ میٹرک پاس کیا تھا۔
انہوں نے طبیہ کالج(ممبئی) سے
D.U.M.S.
کی طبی تعلیم پائی اور علاج و معالجے کے شعبے سے متعلق ہوئے،ممبئی میں دورِ گزشتہ کے ممتاز ڈاکٹر مرزا انور بیگ کی طبی مہارت سے بھی انہوں نے کسبِ فیض کیا۔ ڈاکٹر شعوراعظمی ایک طویل مدت سے گووَنڈی میں مطب کیا کرتے تھے۔ چند برس قبل مرحوم نے ممبرا رہائش اختیار کرلی تھی اور آج نواحِ ممبئی کے اسی ٹاؤن (ممبرا) میں وہ آسودۂ خاک ہوئے۔
ڈاکٹر شعوراعظمی ذیابیطس اور مثانے (پروسٹیڈ)کے مہلک مرض میں مبتلا تھے۔ علاج ومعالجہ جاری تھا مگر مجلس و محفل کی اپنی مصروفیات کے سبب وہ ضروری پرہیز و احتیاط سے بے پروا ہو جاتے تھے۔ بدھ کی دوپہر تک وہ اپنےدوست کوثر زیدی کے ساتھ ادبی گپ شپ کرتے رہے، بعد میں کوثر زیدی اپنے گھر چلے گئے اور کچھ دیر بعد شعور اعظمی کے مرض نے شدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں آن لیا، فوری طور پرممبرا کے برہانی ہسپتال انھیں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی اور سبب دورۂ قلب بتایا ، پھر آن کی آن اُن کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، ان کے بعض اعزہ ملک سے باہر تھے لہٰذا اُن کی آمد کے بعد آج( جمعرات کی) شام ممبرا کے ایم ایم ویلی کے علاقے میں واقع شیعہ قبرستان میں جسدِ خاکیٔ شعورکو سپردِ لحد کیا گیا ۔
جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ وہ مشہور شاعر مہدی اعظمی کے فرزندِ ارجمند تھے تو شعرو دادب سے اُن کا تعلق عجب نہیں تھا، انہوں نے اپنے دَور کے ممتاز اساتذۂ شعرا مثلاً پَر تَو لکھنوی، محمود سروش کی صحبت سے بہت کچھ حاصل کیا۔
لفظ’ شاعر‘ شعور ہی سے مشتق ہے مگر ہمارے اس قبیلے میں شاعر تو بہت پائے جاتے ہیں مگر
’ باشعور‘
خال خال ہی ملتے ہیں، شعوراعظمی اُنہی خال خال میں سے اسمِ بامسمیٰ ایک شخص تھے، وہ پرانے لوگوں کی طرح بحث و مباحثے کے ذائقے کے دلدادہ تھے، مگر ایسا نہیں تھا کہ وہ دوسروں کی نہیں سنتے تھے وہ دوسروں کی باتوں پر بھی متوجہ رہتے تھے، ہر چند کہ اپنی بات کی دلیل سے وہ دستبردار نہیں ہوتے تھے مگر بحث کے علمی رنگ کو بد رنگ نہیں ہونے دیتے تھے۔ مشاقی اور ریاضت کے باوصف انھیں شاعری کی مشکل سے مشکل چوٹی سَر کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی، نامانوس بحروں میں بھی اُنھیں کلام کرنا بہت آسان ہوتا تھا، ان کی ایک غزل کی ردیف یاد آتی ہے کہ جب وہ محفل میں سناتے تھے تو ردیف کی لفظیات میں مخفی ترنم سے ایک سماں بن جاتا تھا:
دو بدو کر گئے جادو تنا نا ہا یاہٗو
روبرو جب ہوئے ابرو تنا نا ہا یاہٗو
اُن کی آنکھوں کی طرف دیکھ کے نرگس نےکہا
ہو بہو وحشتِ آہو تنا نا ہا یاہٗو
دورِحاضرکے شاعروں میں انھیں زبان دانی اور فن عروض میں امتیازی تشخص میسرتھا، اِن اوصاف کے سبب خدا نے اُن کا اقبال بلند کر رکھا تھا، بالخصوص مسالمے، مقاصدوں اور محفلوں میں انھیں نہ صرف توجہ سے سنا جاتا تھا بلکہ انھیں منتہی کا درجہ حاصل تھا۔ اُن سے فیض یاب ہونے والوں کی خاصی تعداد ہے۔ اُن کےتلامذہ ممبئی ہی میں نہیں ملک بھرمیں ہیں۔ ان کو سرحد پار بھی دعوتِ سخن دی گئی اور وہاں بھی
’ شعورِ فن‘
کا انہوں نے بہترین مظاہرہ کیا، آج جب تدفین سے قبل مجلس بپا ہوئی تو مولانا حسین مہدی حسینی نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے، ان کے شاعرانہ کمالات کا بھی ذکر کیا، بعد از مجلس ،کلام ِ شعورخود اُن کا نوحہ بن گیا، نوحہ پڑھنے اور سننے والوں کی ہچکیوں اور گریے سے غم واندوہ کی ایک عجب لہر محسوس ہوئی، دوسری
طرف گوشۂ نسواں سے آہ وبکا کی آوازوں نے
بھی سب پر اُداسی طاری کر دی۔
، واضح رہے کہ خانوادۂ مہدی اعظمی میں ایک ماہ کے اندر یہ دوسری موت ہے، گزشتہ ماہِ رجب میں شعور کے برادرِ خرد سہیل مہدی برین ٹیومر کے سبب دُبئی میں انتقال کر گئے تھے اور ٹھیک ایک ماہ بعد شعور اعظمی نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔
ان کی کئی کتابیں شعرو ادب کے ماہرین سے داد پا چکی ہیں۔ عروض و قوافی سےمتعلق ان کی ایک کتاب’ فرہنگِ شعور‘ جامعہ ممبئی کے نصاب میں شامل ہے۔ شعورِعروض ،شعور مدحت اورشعور مؤدت شائع ہوچکی ہیں جبکہ’ شعور ولایت،، شعورِ حسینیت، شعور حجت( اہل بیت کی مدحت مع مختصر سوانح) زیر ِطبع ہیں، اسی کے ساتھ وہ اِن دنوں’ شعور اللغات‘ پر کام کررہے تھے ، آخری ملاقات پر انہوں نے احقر کو اس لُغَت کے مسودے کے صفحات دِکھائے تھے،اس فرہنگ میں وہ الفاظ ہیں، جن کی سند مرثیے ہی میں ملتی ہیں۔
2021
ع
میں انہوں نے میر ببر علی انیس ؔکے
مراثی پرتنقید کے تعلق سے ایک غیر معمولی کام کیا ہے ، جس میں میر انیس کو سنگ دل جنسی جنونی کہنے والے اپنے زمانے کے مشہور ناقد کلیم الدین احمد کی گستاخیوں کا انھیں کے لہجے میں جواب دیا گیا ہے۔’ تُرکی بَہ تُرکی‘ نامی یہ کتاب شائع ہوکر مقبول ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر شعور اعظمی ایک مشاق، پختہ گو شاعر ِاہل بیت کے طور پر مشہور و مقبول تھے اُنھیں مرثیہ خوانی کا بھی خوب ذوق و شوق تھا، سال گزشتہ ممبئی یونی ورسٹی کی ایک ادبی نشست میں انہوں نے پوری آن بان اور تمام تر تقاضوں کے ساتھ، یعنی انگرکھا زیب تن کرتے ہوئے مع اپنے رفیق، کیا خوب مرثیہ خوانی کی تھی۔ یہاں یہ ذکر کرنا غیرضروری نہیں بلکہ ایک احسن روایت مذکور ہے کہ ڈاکٹرشعوراعظمی نے مرثیے خوانی میں اپنے فرزند کی بھی خوب تربیت کی ۔
ڈاکٹر شعور اعظمی کئی برس سے ڈونگری
( ممبئی)
میں واقع مشہور شیعی مدرسے’ نجفی ہاؤس‘ میں باقاعدہ درس دینے جاتے تھے۔
جلوس جنازہ میں جمِ غفیر اس بات کی شہادت دے رہا تھا کہ وہ معاشرے کے ہرطبقے میں بلا تفریق ِ مسلک و ملت مقبول تھے، ممبئی اور میرا روڈ تک سے دوست و احباب اپنے شاعر دوست کو خراج دینے پہنچے، جن میں علما، شعرا اور ڈاکٹرز کی خاصی تعداد تھی، اُن کے اہل ِ خانہ، مداحوں ، دوستوں نے نم آنکھوں کے ساتھ راقم نے بھی اُنھیں مِٹّی دی تو ایسا لگا کہ جیسے ہم اپنے شعور پر مٹّی ڈال رہے ہیں ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
کچھ دوستوں نےفون پر اپنی تعزیت کا اظہار کیا، روزنامہ انقلاب کے مدیر شاہد لطیف نے فون پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا:’’ ہمارے شہر کی، ہماری زبان کی ایک بہترین صلاحیت ہم سے آج چھِن گئی۔
‘‘
موت بر حق ہے ،مگر ایسی موت کہ جب آدمی اپنے فن و ہنر میں کمال کو پہنچ رہا ہو، اور اس سے پہلے کہ
زوال کی آہٹ سنائی دے، فن کار کا محفل سے اُٹھ جانا، ایک طرح سے خوش بختی ہی کہا جائے گا، مگر سکندر علی وجد کا قولِ شعری بھی غلط نہیں :
موت کتنی ہی شاندار سہی
زندگی کا مگر جواب نہیں
شعور اعظمی اپنے فکر وفن کے تناظر میں ایک اچھی زندگی گزار کر خموش ہوئے، عجب نہیں کہ یہ زندگی تادیر اُن کا ساتھ دیتی رہے۔
ہماری ناقص اطلاع کے مطابق ڈاکٹر شعوراعظمی کے پسماندگان میں بیوہ کےساتھ چار بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ کل بعد نمازِ جمعہ ممبرا کے اسی قبرستان میں سوئم کی مجلس بپا ہوگی، ان کے لواحقین نے جملہ مسلمانوں سے شرکت کی استدعا کی ہے۔
یہ خبر جب لکھی جارہی تھی تو کسی شعری محفل میں بزباِن شعور، غزل کے یہ شعر سنے تھے جو اس موقع پر نذر قارئین ہیں :
لفظوں کو نئے معنیٰ پہنائے گئے ہونگے
زِنداں میں نئے قیدی یوں لائے گئے ہونگے
اُن کو بھی مِرے گھر کا اب یاد نہیں رستہ
سَو بار تو کم سے کم ،جو آئے گئے ہونگے

SHARE

LEAVE A REPLY