حُسین شناسی کا سفر۔18۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
704

اٹھارہویں قسط

لیکن
کاتب ازل
ابن زیاد کا نامہ اعمال سیاہ کرچکا تھا
اس نے صلح و مصالحت کی روش اختیار نہ کی
اور۔۔ ابن سعد کو جواب لکھا
کہ
تم حسین اوران کے ساتھیوں سے
یزید بن معاویہ کی بیعت لے لو
جب وہ بیعت کرلیں گے
اس وقت
پھر ۔۔۔ دیکھا جائے گا “
ابن سعد کو یقین ہو گیا
کہ
ابن زیاد امن و عافیت نہیں چاہتا
کربلا پہنچنے کے بعد
امام حسین علیہ السلام نے
اتمام حجت کیلئے
اہل کوفہ کے نام
قیس ابن مسہر کے ہاتھ ایک خط ارسال فرمایا
جس میں آپ نے تحریر فرمایا
کہ
“ تمہاری دعوت پر میں کربلا تک آگیا ہوں “
لیکن
ابن زیاد نے
قادسیہ سے لیکر خفان، قطقطانہ اورجبل لعلع تک
ناکہ بندی کر رکھی تھی
قافلے کی نقل و حرکت پر
نظر رکھنے کے لئےلوگوں کو تعنیات کیا ہواتھا
وہ تاک میں رہتے
کہ
اہل کوفہ اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان
خط و کتابت اورنامہ وپیام کا سلسلہ قائم نہ رہ سکے
قیس بن مسہر صیدادی
خط لے کر کوفے روانہ ہوئے
اور ۔۔ مقام قادسیہ پر گرفتار کرلئے گئے
جب ابن زیاد کے سامنے حاضر کئے گئے
تو
اس نے حکم دیا
کہ
“ قصر کی چھت پر چڑھ کر
کذاب ابن کذاب حسین ابن علی کو گالیاں دو“
قیس حکم ابن زیاد پر
قصر کے اوپر چڑھ گئے
لیکن
ایک فدائی امام حسین علیہ السلام کی زبان
اس دشنام سے کس طرح آلودہ ہوسکتی تھی
انہوں نے اپنا فرض ادا کیا
اور ۔۔ پیغام امام عالی مقام دیتے ہوئے کہا
” اے لوگو
میں امام حسین علیہ السلام
فاطمہ بنت رسول اللہ کے لخت جگر
اور ۔۔ بہترین مخلوق کا ادنی قاصد ہوں
امام عالی مقام
ہماری پکار پر ہم تک پہنچ چکے ہیں
ان کی مدد ہم سب کا فرض ہے“
پھر
ابن زیاد اوراس کے باپ پر لعنت بھیجی
امیر المومنین علی علیہ السلام کی شان بتائی
اور بھر ۔۔۔۔۔ استغفار کیا
ابن زیاد نے
اس حکم عدولی اوراہانت پر حکم دیا
کہ
قیس بن مسہر صیدادی کو
بلند مقام سے نیچے گراکر مار دیا جائے
اور یوں مسلم بن عقیل کے بعد
امام عالی مقام کا
دوسرا فدائی ان کی راہ میں نثار ہوگیا
محرم کا تیسرا دن آن لگا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY