ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 31

1
1591

سردیوں کی شاموں‌میں‌اب بارش کاجلترنگ بھی شامل ہو چکا تھا ۔ واٹل گرور کاکمیونٹی میڈیکل سینٹر صرف چھ منٹ‌ کی مسافت پر تھا اس لیئے پہنچنا کوئی دشوار مرحلہ نہیں تھا۔۔ لیکن یہ سوچ کر کہ اب جانے کب ان خوبصورت روحوں‌سے ملاقات ہو ، اداس ہو رہی تھی ۔ لیکن مجھے بھی مالی کی طرح ‌محبتوں‌کے وائی فائی سسٹم پر پورا بھروسہ تھا جو کبھی ڈراپ نہیں ہوتا ۔۔ جیسے میں‌جب امی ابا جی کے لئے اداس ہوتی ۔۔انہیں بہت یاد کرتی تو وہ ضرور خواب میں مجھ سے ملنے آتے تھے اور سمجھاتے تھے کہ ایسے ایمرجنسی بنا دیتی ہو کہ سب کچھ چھوڑ‌چھا‌ڑکر تمہیں دیکھنے آنا پڑتا ہے ۔۔۔ جیسے کوئی بچہ بیمار ہو جائے تو والدین سرہانے سے نہیں اٹھ پاتے ۔۔ میں‌ مسکرا دیتی ۔۔ ان کے لئے میں ایک لاڈلی بچی ہی تو تھی جو آجکل بہت زیادہ بیمار تھی ۔ ہائے امی ابا جی اداس ہو گئے ہونگے لیکن میں خوش تھی کہ ان سے ملنے میں‌دن کتنی تیزی سے کم ہو رہے تھے ۔۔میرایقین کہتا تھا یہ گھاٹے کا سودا ہے ہی نہیں ۔۔ چلی گئی تو اپنے ماں باپ سے جا ملونگی اور جو واپس آ گئی تو اپنے بچوں‌ میں آ بیٹھونگی ۔۔ میرے مقدر میں صرف جیت ہی لکھی تھی ۔۔میں سوچ سوچ کرہی خوش ہو رہی تھی ۔

واٹل گروو کمیونٹی سینٹر آ‌چکا تھا ۔۔ گاڑی پارک کر کے میں کمیونٹی سینٹر کے اندر کمرے کی طرف چلی گئی ۔۔جہاں مالی اور روپا میرا ہی انتظار کر رہے تھے ۔
مالی کے شوہر جو ہمارے اس چھوٹے سے میڈیٹیشن سینٹر کے انتظامی امور سنبھالتے تھے ۔۔ بہت کم گو تھے ۔۔درازے کے پاس باادب سے ہوکر بیٹھ جایا کرتے تھے ۔۔۔۔بڑی دھیمی آواز میں مالی کوبتا رہے تھے کہ باقی احباب بارش اور فاصلے کی وجہ سے نہ آ سکیں‌گے۔ ۔۔ ہماری کلاسز پر کوئی چارجز نہیں تھے بس جوبھی آتا اپنی خوشی سے آتا تھا۔

میں نے روپا کو اپنی بیماری کے بارے میں بتایا ۔۔ اس نے محبت سے مجھے گلے لگا لیا
مجھے یقین ہے نسیم تم اس چیلنج سے نبھاہ لوگی
چیلنج آتے اور جاتے ہیں ۔۔۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم نے ابھی تک کیا سیکھا ۔۔ مالی نے شفقت سے مجھے دیکھا
مجھے لگا جیسے میں نے شاید کچھ بھی نہیں‌سیکھا تھا ۔
کیا میرے چہرے پر کسی انجانے سفر کا خوف تھا ۔۔؟‌
کیا میں‌ مثبت نہیں ‌رہی تھی ؟‌ ۔۔ میں اپنا محاسبہ کر رہی تھی
آج کی کلاس کا پورا وقت نسیم کے لئے ہے ۔۔ تو سب سے پہلے ہم تیس منٹ‌کے لئے ہیلینگ میڈیٹیشن

(Healing Meditation )

کریں‌گے ۔۔ پھر نسیم جو چاہے اسی موضوع پر بات ہو گی ۔
میں نے شکرگزاری سے مالی اور روپا کو دیکھا ۔
میڈیٹیسشن شروع ہو چکی تھی ۔۔ ہم چاروں‌ اپنی اپنی جگہ پر کرسیوں‌ پر بیٹھے دھیان سے دھیان میں‌اتر رہے تھے ۔۔ مالی کہتی تھی کہ دھیان میں اترنا ایسے ہی ہے جیسے سمندر میں‌چھلانگ لگاتے ہیں‌تو پہلے اوپر اوپر تیرتے ہیں‌۔۔ پھر زرا سے گہرے پانیوں میں تیرتے ہیں‌ ۔۔۔ پھر گہرے پانیوں‌کے سفر پر چلے جاتے ہیں‌۔ میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا ۔۔میں‌گہرے پانیوں‌ میں‌اتر چکی تھی ۔

میں‌اپنے جسم کو آرام سے جیتا دیکھ رہی تھی ۔۔ سانسوں‌کا کھیل بتا رہا تھا کہ سانس اندر جاتی ہے تو میں‌جی پڑتی ہوں‌اور جب باہر سانس نکل جاتا ہے تو میں مر جاتی ہوں‌۔۔ ایک منٹ‌میں‌میں‌اٹھارہ بار جیتی اور مرتی ہوں‌۔۔ پھر بھی نہیں مرتی ہوں‌۔۔

بے کے شیوانی سسٹر کی آواز ہال میں‌گونج رہی تھی ۔۔ جب ہم جسمانی بیمار ہوتے ہیں‌ ۔۔توہم اور ہمارے پیارے بہت پریشان اور فکر مند ہو جاتے ہیں‌۔۔ ہم بار بار سوچتے ہیں‌اور بار بار اپنی بیماری کازکر کرتے ہیں‌ ۔۔ یہ سب کچھ ہم نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ہمارا دماغ ایسے خیالات پیدا کررہا ہوتا ہے اور ہمارا جسم اس کے مطابق کام کرنا شروع کر دیتا ہے ۔۔ جب ہم بار بار اپنی بیماری کا سوچتے ہیں‌تو ہماری سوچ ہمارے جسم کو بیمار کر دیتی ہے ۔۔۔

سو اب یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم کو اپنے ساتھ کیا کرنا چاہتے ۔؟‌
اپنے دماغ کو ایک فیصلہ کر کے بتانا ہے کہ ہم نے بیمار رہنا ہے یا ہمیں شفایاب ہونا ہے ۔۔؟‌
زرا رکئے ۔۔سکون سے سوچئے ۔۔۔
ہم خود ہی اپنی بیماری اور اپنی شفا ہیں‌۔۔ اب میرے ساتھ ساتھ سوچیئے اور من ہی من میں دہرایئے
میں‌ ایک مظبوط اور پاکیزہ روح‌ ہوں‌
میرا دماغ میرا غلام ہے ۔۔ میں اسے جو سوچنے کو کہونگی اسے وہی سوچنا ہوگا
میں‌اپنے جسم کی مالک ہوں‌ ۔۔ میں اپنے خیال اور سوچ خود پیدا کرتی ہوں ۔۔ مجھ پر اپنے جسم اور روح کی حفاطت کی زمہ داری ہے
میرے خیال ۔۔ میری سوچیں‌ مجھے جذباتی بناتے ہیں اور یہی جذبات میرے جسم پر اثر کرتے ہیں‌ جو جسم کے ہر خلیئے پر کام کرتے ہیں ۔۔ اور میں بیمار ہو جاتی ہوں
میری صحت میری زمہ داری ہے ۔۔۔ مجھے اس کا خیال رکھنا ہے
میں‌ تو روزانہ ورزش کرتی ہوں
میرا کھانا پینا بھی وہی جو میری جسمانی اور روحانی صحت کے لئے اچھا ہے
میری زندگی میں‌کوئی مشکل گھڑی آجائے تو میں اپنی دیکھ بھال کر سکتی ہوں‌
میں اپنی صحت کی زمہ دار خود ہوں‌
اگر آج میں بیمار ہوں تو مجھے اس حال میں بھی خود ہی اس بیماری سے نمٹنا ہے
میرے لئے ضروری نہیں ہے کہ اپنی بیماری کا زکر خود سے یا دوسروں سے کروں ۔۔ بیماری کو اہمیت دینے کی ضرورت ہی نہیں ‌ہے ۔۔کہ ۔۔۔ میں ایک بہترین روح ہوں‌۔۔ بہترین جسمانی صحت کے ساتھ ہوں‌۔۔ اب اگر جو بیماری میں مجھے دوا کھانی پڑ رہی ہے تو مجھے صحتمند ہونے میں مددگار ہوگی ۔۔ میں‌یہ بھی جانتی ہوں کہ اس دوا کے سایئڈ‌ایفکٹ ‌بھی نہیں ہیں ۔
میرے ہر پل میں‌اللہ پاک نے شفا رکھی ہے ۔۔ میری دعا میں ۔۔میری دوا میں ۔۔۔ صرف شفا ہی شفا ہے ۔
میں ہمیشہ سے شفایاب تھی ۔۔ شفایاب ہوں ۔۔ اور ہمیشہ رہونگی
میں ہمیشہ سے مطمئن اور خوش روح‌ تھی ۔۔۔ اب بھی ہو‌ں‌ اور ہمیشہ رہونگی

میڈیٹیشن ختم ہو چکی تھی ۔۔ اور ہم سب آہستہ آہستہ دنیا میں واپس آ رہے تھے ۔۔ مالی مسکرا رہی تھی ۔۔ایک اطمینان اور سکون ہر طرف پھیل رہا تھا ۔
میں نے بہت امید اور پیار سے مالی سے کہا ۔۔۔
مالی میں نے بہت شاندار اور باوقار زندگی گزاری ہے ۔۔ مجھے اسی شاہانہ انداز میں اس دنیا سے جانا ہے ۔۔ میں‌ایسا کیسے کر سکتی ہوں‌ ؟‌

مالی ہمیں‌سمجھا رہی تھی ۔۔۔
گریس فل ڈیتھ ہر خوبصورت روح‌کی آرزو ہوتی ہے ۔۔
موت ہماری زندگی کا آخری کام ہوتا ہے جو ہر روح‌ کو کرنا ہے ۔۔ جب ہم ہر کام کے لئے قطار بناتے ہیں تو اپنی باری کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں‌ ۔۔ کبھی کبھار تولائن بھی توڑ کر آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر موت کی قطار میں ‌سب سے پیچھے کیوں کھڑا ہونا چاہتے ہیں ۔۔؟
کیا دو چار سال مزید جینے سے ہم جینے کی خواہش کو مٹا سکتے ہیں‌۔۔
اور یہ دو چار سال دواؤں اور وینٹی لیٹر پر سانس لینے سے سوائے تسلی کے کسی کو کیا دے سکتے ہیں ۔۔ آخر اس تسلی کا انجام بھی تو وہی ہے جو سب کا ہے ‌۔۔۔ موت جسم کی نہیں روح کی مرضی ہوتی ہے کہ کب پرواز کرنا چاہتی ہے ۔۔ اگر اسے منت مرادوں سے ۔۔دواؤں‌اور مشینوں‌سے روک بھی لوگی تو روح کتنی دیر تک جسم کی بات مان سکے گی ۔۔

ہمارا جسم ، دماغ کا تابع ہوتا ہے اور کبھی بھی اپنی شناخت مٹانا نہیں چاہتا ۔۔۔ دماغ‌ پر حکمرانی ہماری خواہشات کی نہیں بلکہ ہماری روح‌ کی ہونی چاہیئے ، ۔۔۔ لیکن صد افسوس ہم اپنی خواہشات کے غلام بنتے چلے جاتے ہیں‌ ۔۔ اور روح جو اپنے سفر ‌کے لئے جسم کی محتاج ہوتی ہے ۔۔ اسے جب پھلنے پھولنے کا کوئی رستہ نہیں ملتا تو اپنے سارے کام سمیٹ‌ لیتی ہے اور پرواز کی ٹھان لیتی ہے ۔۔جب وہ ٹھان لے تو کوئی اسے واپس نہیں‌بلا سکتا ۔۔ روح‌کی سفارش و شکایت براہ راست خدا سے جو ہوتی ہے ۔

شاندار اور سعادت والی موت وہ ہوتی ہے جب جسم اپنی خوشی اور اپنی رضا سے روح کو جانے کی اجازت دے دے ۔۔
کوئی سی پی آر

(Cardiopulmonary resuscitation (CPR) 

نہیں ‌ہو ۔۔
اپنے گھر والوں کو مطمٗن کرنے کے لئے ضرورت سے زیادہ وقت کے لئے وینٹی لیٹر

(Ventilator)

پر نہ ہو۔
بس اتنی ہی دوائی ۔۔اتنی ہی دیر تک وینٹی لیٹر پر جتنی ضرورت ہو ۔۔۔ ڈاکٹر لواحقین کو گایئڈ کرتے رہتے ہیں ۔۔ ہمیں ان کو اہمیت دینی چاہیئے ۔
اپنے سارے حساب کتاب مکمل کر کے ایسے جاؤ کہ کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو ۔ ۔ بلکہ ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیئے ۔۔

میرے سامنے کتنے ہی کام آپڑے تھے جو مجھے کل بون اسکین کے بعد نمٹانے تھے ۔۔۔ چیرٹی کے کام ۔۔ وصیت میں تبدیلی ۔۔اور آفتاب سے بہت ساری باتیں کرنی تھیں۔۔۔میں جانے کیا کیا سوچ رہی تھی اور مالی کہہ رہی تھی ہم نہ تو وہ پہلے انسان ہیں جو دنیا سے جائیں گے ‌ اور نہ ہی آخری ہونگے ۔۔ اپنی باری کے انتظار میں قطار میں لگے رہنا ہی شاندار اور باوقار کام ہے ۔۔۔میں اپنی کیفیت کے بدلتے رنگوں پر پریشان نہیں تھی بلکہ نوٹس بھی ساتھ ساتھ لکھ رہی تھی ۔۔ باتوں کے تانے بانے ایسے مل رہے تھے کہ میں حیران ہو رہی تھی ۔۔ اللہ پاک نے سماعتوں کے وقت مقرر کر رکھے تھے ۔۔یہی میرا وقت تھا کہ ۔۔مجھے ابھی ہی سمجھ آنی تھی ۔۔
مجھے یاد ہے ۔۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY