ان کی پہچان کیا ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کو وہ برائی سے روکتے ہیں اور بھلائی کی تر غیب دیتے ہیں۔ جبکہ نام نہاد اللہ والے اپنے کام سے رکھتے ہیں وہ اپنی نظر بجائے دل کے آنے والے کی جیب پر رکھتے ہیں اور جب یہ وصف معاشرے سے اٹھ جا ئے تو سمجھ لو کہ عذاب کی آمد آمد ہے بلکہ وہ کہیں قریب ہی ہے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ اس جس قوم کوبھی عذاب کے لئیے منتخب فرمایا پہلے اسے لگاتار وارننگ دیں اور پھر بھی اس نے کان نہ دیئے تو عذاب نازل فرمادیا کبھی آسمان سے کبھی زمین سے اور کبھی ایسے با دشاہوں کے ذریعہ جوکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے بھی نہیں ڈرتے تھے یا اس کے حکم کے بمجب کام کرتے تھے؟ لیکن عذاب سے پہلے ہمیشہ اللہ والوں کو وہاں سے نکال لیا جاتا تھا۔ یا کسی نہ کسی طرح بچا لیا جاتا تھا۔مگر اس میں ایسے اللہ والے شامل نہیں ہیں۔ جیسے کہ فلسطین کی تباہی سے پہلے تھےکہ وہا ں تیس ہزار درویش موجود تھے مگر کوئی ایسا نہ تھا اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کو نبی ؑ بنا دیتے ان کے لئیے انہیں حضرت یریمیہ ؑ کو کنعان سے بھیجنا پڑا کہ تم جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ورنہ میں ان پر ایسا بادشاہ مقرر کردونگا جو مجھ سے بھی نہیں ڈرتاانہوں نے فرمایا کہ اے اللہ سبحانہ تعالیٰ میری ہی قوم میرے ہاتھ سے تباہ نہ فرما کسی اور کو وہاں بھیجدے؟ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کام تمہارے ذریعہ سے ہی انجام پانا طے ہوچکا۔ تم جا ؤ اور ان کو جا کر میرا پیغام ددکے وہ سدھر جا ئیں۔مگر وہ نہیں سدھرے حضرت یرمیہ ؑ کو جھوٹا کہا اور ان کو جیل میں بند کردیا؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بابل کے بادشاہ کو جس کے نام پر اردو میں اختلاف ہے مگر انگریزی میں نہیں اور ہجے اس طرح ہیں Nabuchanezzard) (بھیجدیا اور اس نے ان کی تمام عبادت گاہیں تباہ کردیں شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی وہ اپنے ساتھ سات لاکھ نوجوانوں کو قیدی بنا کر لے گیا تمام بوڑھوں اور بچوں اور خواتین کو قتل کردیا ان کی کتاب کو بھی جلادیا جس کو دیکھ کر حضرت یریمیہ ؑ نے فرمایا کہ یہ شہر اب کبھی آباد نہیں ہوگا؟ لیکن ستر سال کے بعد بادشاہ بدل گئے لوگ بھی بد ل گئے اس کے بعد اچھے لوگ آباد ہوگئے؟ جب حضرت یریمہؑ کی آنکھ کھلی تو دیکھا شہر پھر آباد تھا۔ ان کی سواری کا جانور زندہ تھا لیکن جب شہر کی طرف چلے تو شہر والوں میں سے کسی نے بھی نہیں پہچانا حتیٰ کہ ان کے پوتے جو کہ اب عبادت گاہ کے متولی تھے انہوں نے ماننے سے انکار دیا؟ کہتے ہیں کہ ایک نا بینہ لونڈی زندہ تھی جس نے ان کی آواز سن کر ان کی تصدیق کی اور پہچان یہ بتائی کہ ان کو تورات حفظ تھی انہوں نہ صرف تورات فر فر سنادی بلکہ اس کا ایک نسخہ بھی انہوں نے کہیں دفن کردیا تھا۔اس جگہ پر وہ لے گئے اور وہاں سے وہ کتاب بھی بر آمد کرادی۔اس کو لوگ یہ کہدیں گے کہ یہ اسرائیلیات کے قصے ہیں جو قصص الانبیا سے لیکر تم نے بیان کردئیے ہیں؟ حالانکہ یہ ہی قصہ اسی طرح تاریخ میں بھی فلسطین کی تباہی اور آباد کاری کے واقعہ کی سلسہ میں موجود ہے اور ابن ِکثیر ؒ نے اپنی کتاب قصص الانبیا میں جو کہ جامعہ ازہر یونیورسٹی کے مرکز ِ تحقیقات نے شائع کی ہے اس میں بڑی تفصیل سے لکھے ہیں جوکہ بیس پچیس صفحات پر مشتمل ہیں جس میں فلسطین کی بربادی اور دوبارہ آبادی کاری پر ایک نہیں تین طویل مضمون موجود ہیں جوکہ صفحہ نمبر 303 سے شروع ہوتے ہیں اور اسی میں یہ بھی ہےحضرت عمرؓ کے زمانے میں ان کے کچھ باقیات بھی ملے جن میں تیرہ قبریں بھی تھیں کچھ خزانہ بھی شامل تھا وہ ان کے حکم سے وہاں سے نکال کر دوسری جگہ دفن کردی گئیںاور خزانہ بیت المال کو روانہ کردیا گیا؟چلئے جانے دیجئے کہ یہ اسرائیلات سے لیا گیا ہے۔ آئیے قرآن سے لے لیتے ہیں اس میں بھی بہت سی قوموں کے قصے موجود ہیں جو کہ حضرت نوح ؑ سے شروع ہوتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو کشتی پر بٹھا کر بچا لیا اور باقی سب کو طوفان میں ڈبودیا۔ قوم ہود ؑ، ثمود۔ قوم لوط وغیرہ سب کو یہ ہی معاملہ پیش آیا کہ ان کے بزرگوں کا اٹھالیا۔حتیٰ کہ حضور ﷺ کے دور میں قرآن پاک میں صلح حدیبیہ کی بھی یہ وجہ یہ ہی بتا ئی گئی کہ مکہ معظمہ میں اسوقت بہت سے اللہ والے موجود تھے اور انجانے میں ان کے مسلمانوکے ہاتھوں سے شہید ہونے کا خطرہ تھا؟ البتہ ایک چیز ہم میں اور میں مشترکہ تھی کہ ان کو بھی اس پر ناز تھا کے وہ اللہ دوستوں بچے ہیں اولاد اور ہمیں بھی یہ غلط فہمی ہے کہ ہم اللہ کے حبیب ﷺ کی امت ہیں ہم پر عذاب آہی نہیں سکتا۔ جبکہ حضرت عمر (رض) جب حضرت سعد (رض) بن ابی وقاص کو ایران بھیج رہے تو انہیں نصیحت فرمائی تھی کہ کہیں یہ فخر تمہیں ہلاک نہ کردے کہ تم حضو ر ﷺ کے رشتہ دار ہو اللہ کے ساتھ کسی کا کوئی رشتہ نہیں ہے سوائے اطاعت کے؟













