کہتے ہیں
بیکار مباش کچھ کیا کر ،
پاجامہ ادھیڑ کر سیا کر ۔۔۔
سو نصرت مرزا المعروف فارغ مرزا نے بھی عرصے کی بیکاری کے بعد یکایک اپنا پاجامہ ادھیڑ ڈالا ہے مگر ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ وہ یہ پاجامہ خود پہنے ہوئے ہیں ۔۔۔
اس میں کیا شک ہے کہ بھارت میں جاسوسی کرنے کا انکا انکشاف دھانسو نہ بھی سہی پھانسو ضرور ہے ۔۔۔ یونہی فارغ بیٹھے بیٹھے انکےشرانگیز دماغ نے جو ایک چٹپٹا سا سازشی بیان تیار کرکے اور اسے میڈیا کو جاری کیا ہے اس نے جھٹ پٹ اک عجب اور زبردست بھونچال پیدا کردیا ہے۔۔۔ ایسا بھونچال کے جس نے انہیں یکایک شہرت کی ان بلندیوں پہ پہنچا دیا ہے کہ جس کی تمنا وہ نجانے کب سے دل میں لئے بیٹھے تھے-
اب مجھ سے یہ پوچھنے نہ بیٹھ جائیئے گا کہ نصرت مرزا کون ، کیونکہ اس قسم کے لوگوں کے ساتھ بڑا مسئلہ بھی عموماؐ یہی ہوتا ہے حتیٰ کہ انکے زیادہ تر پڑوسی بھی اس ہی طرح انجان سے نکلتے ہیں ۔۔۔ ذاتی طور پہرت نصرت مرزا کافی عرصے سے ایک اپنے سے زیادہ گمنام چینل سچ ٹی وی سے منسلک ہیں کہ جس کے پروگراموں کو شاید اس کے پیشکار بھی نہیں دیکھتے۔۔۔ اور عام ناظرین کی بھاری اکثریت تو یہ بھی نہیں جانتی کہ اس نام کا کوئی چینل کرہ ارض پہ موجود بھی ہے۔۔۔بیشک ٹی وی اسکرین پہ مسلسل نمودار ہونے کے باوجود بے چہرہ و بے شناخت پھرنا کوئی کم اذیت نہیں ۔۔۔
لیکن اپنی کوئی شناخت پانے میں مسلسل ناکام رہنے والے نصرت مرزا کو یہ حقیقی مسئلہ بھی درپیش ہے کہ اس کی پشت پہ کبھی کوئی نمایاں کامیابی یا ایسا بڑا ذاتی کارنامہ سرے سے موجود ہی نہیں کہ جس کے بل پہ اسے بطور ایک معتبر شخصیت شناخت کیا جاسکے سوائے اس کے کہ ماضی میں اس نے ایک جاسوسانہ کردار کراچی کی سیاست میں ضرور ادا کیا ہے اور کچھ عرصے کے لیئے مہاجر رابطہ کونسل میں گھس بیٹھ کرکے اس نے اپنے مقتدر آقاؤں کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی اور شہری سندھ کی سیاست سے جڑے کئی اہم اور نامور افراد اور جماعتوں کے مابین مغالطوں کو بڑھانے اور انہیں ایک دوسرے سے متنفر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا اور اس سلسلے میں مجھے مہاجر سیاست سے جڑے ایک رہنماء نے اسے اسٹیبلشمنٹ کا کھیل کھیلنے والا ایک ادنیٰ سا مہرہ قرار دیا تھا ۔۔۔مرزا نے اس کارکردگی کے عیوض انعام میں کچھ عرصے کے لئے حکومتی ایڈوائزر کا منصب پایا تھا لیکن اس سب پہاڑ توڑ میرجعفرانہ مشقت کے باوجود وہ کبھی ویسی تؤجہ نہ پاسکا جیسی کہ وہ چاہتا تھا – یہی طویل عرصہ تک پیہم گمنام رہ جانے کا ملال بالآخر اس کے اعصاب کو لے بیٹھا اوراس قسم کا اطلاعاتی خودکش دھماکہ کروڈالا ۔۔۔ لیکن یوں مرکز توجہ بننے اور شہرت سمیٹنے کی خاطر کسی حد تک بھی چلے جانا صرف افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے ۔۔۔
پھر اس نصرتی انکشاف کے سلسلے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جاسوسی کا کام اپنی خصوصی نوعیت کے لحاظ سے نہ صرف بہت ٹیکنیکل ہوتا ہے اس لیئے کوئی میڈیائی فرد تو اس کام کے لیئے موزوں ہو ہی نہیں سکتا خصوصاؐ جبکہ اس کے صحافتی منصب کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت بہت سی نگاہوں کا مرکز بنا رہے، اور پھر وہ اگر بھیجا بھی گیا تو ہندوستان جیسے حریف ملک میں !! کہ جہاں جانے والے خاص آدمی تو کیا ہر عام پاکستانی مسافر اور سیاح کو بھی مسلسل شدید نگرانی میں رکھا جاتا ہے اورپیہم تعاقب کیا جاتا ہے- یہاں نصرت مرزا کےاسی انکشاف کے حوالے سے ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ بھارت میں کسی پاکستانی صحافی کو ہماری حکومت وہاں بھیج کر اس سے بھلا کونسی ایسی خصوصی معلومات لے سکتی ہے کہ جو وہاںموجود پاکستانی سفارتخانے سے نہیں لی جاسکتیں کیونکہ اگر نصرت مرزا پرندہ ( یہاں مراد عقاب سے ہرگز نہیں محض کؤے سے ہے کہ یہ کئی دیگر صفات و جسمانی خصائص کی بناء پہ قریب ترین مثال ہے) بھی بن جاتا تب بھی اسے کسی خاص دفاعی نوعیت کے راز لے سکنے کے قابل جگہوں پہ تو پر بھی نہیں مارنے دیا جاتا- پندرہ بیس سستی جاسوسی فلموں کے دماغ پہ ایسے اثرات ہرگز نہیں ہونے چاہیئیں کہ جاسوسی مشن کومذاق سمجھ لیا جائے۔۔۔
اس شخص کی یہ ایک درفنطنی نہیں کئی اور بھی ہیں لیکن یہ آخری داؤ قطعی ناقابل معافی ہے کیونکہ گو بہت کھوکھلا ہے لیکن نتائج کے اعتبار سے قومی استحکام و سلامتی کے مقاصد کے لئے نہایت سنگین ہوسکتا ہے جس سے صرف نظر ہرگز ممکن نہیں کیونکہ یہ کوئی عام سی بڑھک ہے اور نہ بڑھاپے کی ٹھرک ۔۔۔ کہ یکسر بےضرر ہو ۔۔۔درحقیقت یہ تو اپنی ہی مملکت کے خلاف ایسی چارج شیٹ جاری کرنے کے مترادف ہے کہ جس سے بھارت کو اپنے زیر حراست جاسوس کلبھوشن یادو کے کیس کو پلٹنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے- ایک سنگین پہلو یہ بھی ہے کہ چونکہ اس سارے معاملے میں اس وقت کے نائب صدر حامد انصاری کو بھی گھسیٹا گیا ہے لہٰذا اس سے بھارت کے مسلمانوں کو آئندہ اپنے پاکستانی میزبانوں سے خیرمقدم اور تعاؤن کی مد میں بہت مشکلات درپیش ہونگی اور ایسا کرنے والے نہایت مشکوک ٹہریں گے۔۔اسی طرح پاکستان سے جانے والے صحافیوں کوتو گویا پاکستانی فوج کا باقاعدہ حصہ باور کرکے انکے مطالعاتی دورے کے امکانات کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا-
اس ضمن میں اؤل تو مجھے پختہ یقین ہے کہ نصرت مرزا جیسا بڑبولا اور متلؤن مزاج شخص کبھی اتنا اہم اور معتبر رہا ہی نہیں کہ اسے کسی بڑی سرگرمی اور وہ بھی جاسوسی مشن جیسی اہم اور صبر آزما مہم کے لئے چنا جاسکے دوسرے یہ کہ اگر ایک لمحے کو نصرت مرزا کی اس ناقابل اعتبار اعتبار بونگی پہ کان دھر بھی لیا جائے تو اصل سوال یہ رہے گا کہ کیا حکومت پاکستان میں خصوصاً وزارت خارجہ میں ایسے فاترالعقل لوگ بیٹھے ہیں کہ کوئی اور تربیت یافتہ پروفییشنل نہیں بلکہ وہ ایسے کسی صحافی کو جاسوسی مشن سونپیں گےکہ جس سے شاید غلیل ہی اٹھ پائے۔۔۔ دوسرے یہ کہ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو پھر نصرت مرزا نے ایک اہم قومی راز برسرعام اگل کے سنگین غداری کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اسے بالضرور دی جانی چاہیئے جو کہ نہایت ہولناک بھی ہو اور عبرتناک بھی۔۔۔
سید عارف مصطفیٰ














نصرت مرزا صاحب کے بارے
جناب سید عارف مصطفے کی پوسٹ دیکھی ، کچھ بھی نہیں ہوا محسنوں کے ساتھ اکثر ایسا سلوک ہوتا آیا ہے
میں وہ زبان تو استعمال نہیں کرونگا جو سید عارف مصطفے صاحب نے کی ہے ، کیونکہ ہم باقاعدہ صحافی ہیں اگر فوٹو گرافر اور کاپی پیسٹر سے ترقی کر کے ایڈیٹر بنے ہوتے تو بھی ایسی زبان استعمال نہ کرتے ،
دیوان سنگھ مفتوں ایک اخبار کا چپڑاسی تھا وہ بعد میں اسی اخبار کا ایڈیٹر بنا تو لوگ اس کی شستہ بیانی کی تعریف کیا کرتے تھے
سید عارف مصطفے یقینا” سید ہونگے مصطفے بھی ہیں مگر عارف نہیں ہیں اس کا اعتراف انہوں نے اپنے اس شذرے میں جا بجا کرتے ہوئے کہا کہ ، پتہ نہیں ،
پہلی بات یہ کہ قانون کہتا ہے پتہ
ہونا چائیے اور اگر پتہ نہ ہو تو پھر خبر نہیں ہوتی افوا بن جاتی ہے
افواء پھیلانے والے پر قرآن نے لعنت کی ہے ،
جہاں تک جناب نصرت مرزا کا تعلق ہے تو وہ پاکستان کے محسن کے بھی محسن ہیں ، میری مراد ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے محسن ہیں جناب نصرت مرزا اس وقت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لئے کھڑے ہو گئے جب بڑے بڑے طرم خان صحافی چراغ بھجتے ہی غائب ہو گئے تھے اس میں شک نہیں کہ میں جناب نصرت مرزا کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے دو ملاقاتیں کرائی تھیں ایک ملاقات جب وہ کہوٹہ سے فارغ کر دئیے گئے تھے اور حکومت کے ایڈوائزر تھے اور دوسری ملاقات ڈاکٹر خان کی نظر بندی کے زمانے میں پہلی ملاقات کا ذکر نصرت مرزا صاحب نے اپنے نوائے وقت کے کالم میں کیا تھا اور دوسری ملاقات خفیہ تھی البتہ راولپنڈی کو دوران ملاقات ہی پتہ چل گیا تھا کہ نصرت مرزا اس وقت ڈاکٹر خان کے پاس ہیں میں نصرت مرزا کو اپنا ڈرائور ظاہر کر کے لے گیا تھا۔ اس کی تفصیل ڈاکٹر خان پر میری کتاب ،، نشان امتیاز ،، میں موجود ہے ان دو ملاقاتوں میں نصرت مرزا نے چند بہت اہم راز ڈاکٹر خان سے شئیر کئے کچھ ڈاکٹر خان نے نصرت مرزا سے انکشافات کئے جس کی بنا پر 2004 ء میں نصرت مرزا صاحب نے ساڑھے تین سو صفحات کی ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مقدمہ
اس کتاب کی بنا پر۔ اور ان دنوں جنگ میں میرا بھی ہفتہ وار کالم شائع ہوتا تھا میں نے جب لکھا کہ سی ون تھرٹی ، تیار کھڑا تھا ڈاکٹر خان کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا جناب نصرت مرزا نے ڈاکٹر خان کے مقدے کی کتاب گیارہ سو کی تعداد میں شائع کرا کے ملک بھر کے دانشوروں ، صحافیوں۔ سپریم کورٹ کے ججز اور ہائی کورٹ سے ڈسٹرکٹ ججز تک اور ڈی سی ، کمشنرز ہوم سیکریٹریز اور دیگر اہم لوگوں تک وہ کتاب پہنچائی دوسرے ملکوں میں بھی گئی۔ سپریم کورٹ نے خاص طور سے اٹارنی جنرل سے کہہ کے نصرت مرزا صاحب کی کتاب کو مقدمے کا حصہ بنایا ، جس کی بنا پر سپریم کورٹ پر ڈاکٹر خان بارے حالات واضح ہوئے ، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ۔۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ،، کو شہری آزادیاں دی جائیں ، نصرت مرزا صاحب نے اپنے حصے کا کام کر کے قومی فریضہ تو انجام دیا مگر اس کے بعد خفیہ والوں نے ان کا جینا مشکل کر دیا ، ایم کیو ایم نے مرزا صاحب سے ناراضی کا اظہار کیا یوں مرزا صاحب دھیرے دھیرے پس منظر میں جاتے رہے خفیہ والوں نے مرزا صاحب کو مسنگ پرسن میں اس لئے نہ ڈالا کہ بھارت کے حوالے سے آئی ایس آئی کے ساتھ ان کا تعاون بہت اہم خدمت تھی ، ڈاکٹر خان کے بارے میں خفیہ پر امریکی دباؤ تھا اس لئے نصرت مرزا کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ، آج جب مسلسل چپ رہ رہ کے تنگ آئے تو سید عارف مصطفے نے ان کے انکشافات پہ انتہائی کمزور اور اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کی جو مذموم بھی ہے اور قابل مزمت بھی ( جبار مرزا )
کیا یہ صحافت ہے ؟ قلم غلاظت سے لتھڑا ہوا اور زبان گز گز بھر کی ہو گئی ہے جس کے شر سے کوئی بڑا محفوظ ہے نہ چھوٹا ۔اس پر اصرار کے صحافی کی تہمت بھی لگائی جائے ۔الامان والحفیظ
صحافت اعلی ترین اقدار کا نمونہ نہ بھی رہی ہو تو پستی کے اس عمیق غار میں بھی کبھی نہیں گری تھی جس کے مظاہر آج دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔
سید عارف مصطفے صاحب کو محترم نصرت مرزا سے کوئی ذاتی رنجش تھی تو اس کا اظہار صحافت کے نام پر اس رقیق حملے کی بجائے شائستگی سے بھی کیا جا سکتا تھا ۔ان کی تحریر کیچڑ اچھالنے ،کردار کشی کرنے اور ایک محترم بزرگ کے خلاف بغض کا اظہار کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔عارف مصطفے صاحب نے یہ تحریر کیوں لکھی اس کا تو مجھے پتہ نہیں البتہ سید صفدر ہمدانی صاحب نے اپنے عالمی اخبار کی ویب سائٹ پر اسے شائع کر کے ہم جیسے طالب علموں کو مایوس کیا جو صفدر ہمدانی صاحب کی شائستگی ،تہذیب،بہترین ابلاغ اور علمی بصیرت کے نہ صرف قائل بلکہ مداح ہیں اور ہمیشہ ان سے سیکھتے ہیں ۔اس قدر سستی اور گھٹیا تحریر نے عالمی اخبار پر کیسے جگہ پائی بہر حال ایک سوال ہے ۔میرا حسن ظن ہے کہ صفدر ہمدانی صاحب کی نظر سے گزرے بغیر یہ شامل اشاعت ہوئی ہو گی۔۔۔۔بہر حال سید عارف مصطفی صاحب نے نصرت مرزا صاحب کی کردار کشی کر کے ان کی تو دلآزاری کی ہی ہے اپنے بارے میں بھی کوئی اچھا امیج نہیں چھوڑا ۔اپ نصرت مرزا صاحب سے ،ان کی سیاست سے اور صحافتی نکتہ نظر سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ان کے قومی کردار کو مسخ نہیں کر سکتے ۔بلاشبہ قومی سلامتی کے متعدد ایسے معاملات میں ان کا کردار شاندار رہا ہے جہاں پاکستان کا مفاد موضوع بحث تھا ۔جب بڑے بڑے لوگ حکمت کے تحت سچ بولنے سے گریزاں تھے نصرت مرزا صاحب نے اس وقت ببانگ دہل سچ کی دہائی دی اور ہر دھمکی اور خطرے کو جوتے کی نوک پر رکھا ۔۔ہم اگر آپنے بزرگوں اور محسنوں کی قدر کرنے کا ظرف نہیں رکھتے تو کم از کم ان کی تحقیر تو نہ کریں ۔ دکھ ہوا عارف مصطفے کی تحریر اور عالمی اخبار پر اس کی اشاعت سے ۔۔۔صاحب قلم اگر لکھنے سے پہلے اتنا ہی سوچ لیتے کہ وہ جس پر جاسوسی کا الزام لگا رہے ہیں یہی الزام تو ان پر بھارت کی ایجنسیاں اور بی جے پی کے کٹر ہندو لگا رہے ہیں آپ بھی غصے اور تعصب میں اتنے بہک گئے کہ بھارتی ایجنسی کے ہمنوا بن گئے ۔کوئی فاتر العقل خفیہ ادارہ ہی ہو گا جو ایک جانے پہچانے اور نامور صحافی کو خفیہ مشن سونپے گا اور وہ بھی دشمن ملک میں ۔۔بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا بددیانتی اور علمی خیانت ہوتی ہے اور جب آپ کسی کے بارے لکھتے ہیں تو صحافت کا تو ابتدائی اصول ہے کہ کم از کم اس معاملے بارے اس کا نکتہ نظر بھی معلوم کر لیا جائے اور اس کو من و عن شامل اشاعت کیا جائے ۔کیا سید عارف مصطفے نے الزام تراشی سے قبل نصرت مرزا صاحب کا نکتہ نظر معلوم کیا یاسنی سنائی باتوں کو ہی موضوع بنا کر قلم کو خنجر میں بدل دیا ۔بہر حال جو انداز تحریر ہے وہ تو صرف اظہار بغض،دشنام طرازی اور کردار کشی کے سوا کچھ نہیں ،میرا گمان ہے نصرت مرزا صاحب اس بیہودگی کا کوئی جواب نہیں دیں گے اور انہیں دینا بھی نہیں چاہیے ۔اس طرح کے الزامات اور طرز تحریر کے لیے پستی کے جس معیار پر گرنا لازم ہے وہ نصرت مرزا کے بس کی بات نہیں ۔۔۔وہ نصرت مرزا جسے
میں جانتا ہوں ۔۔
محمد حنیف قمر ۔۔