اسلام انسانیت کا دین ہے جس میں انسان کی عزت و تکریم اور اسکا خیال رکھنا عبادت کے ہی زمرے میں آتا ہے اور اسلام ہر شعبے میں غریب ، مسکین، تنگدست کی مدد کی تلقین کرتا ہے اور سب سے پہلے اپنے غریب مسکین رشتے داروں اور احباب کی طرف توجہ دینے کا حُکم ہے، فطرانے کے بارے میں بھی یہی احکامات ہیں
قرآن کریم میں فطرانے کا اس لفظ کے ساتھ ذکر نہیں لیکن سورہ توبہ کی ساٹھویں آیت اور سورہ الاعلی کی چودہ پندرہ آیت کو مفسرین اور فقہا فطرانے کے طور پر دیکھتے ہیں
صدقہ فطر ہر مسلک نزدیک فرض ہے۔احناف کے نزدیک واجب جبکہ فرض یا واجب دونوں میں صرف معمولی لفظی و اعتقادی فرق ہے ورنہ عملاً دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں۔
اس صدقہ کی مشروعیت وفرضیت قرآن و سنت سے ثابت ہے چنانچہ سورۃ الاعلیٰ کی آیت14اور 15میں ارشادِ الٰہی ہے: ’’فلاح پاگیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا اور پھر نماز پڑھی۔‘‘ اس آیت میں جو لفظ’’ تزکّٰی‘‘ ہے اس سے مرادزکوٰۃ الفطرادا کرنا ہے جیسا کہ صحیح ابن خزیمہ میں ہے کہ اللہ کے رسول سے اس آیت کے بارے پوچھا گیاتو آپ نے فرمایا: ’’یہ آیت صدقۂ فطر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔‘‘ صدقۂ فطر کی فرضیت کی دلیل حدیث شریف میں بھی موجود ہے
بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے مروی ہے: ’’ اللہ کے رسول نے صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔‘‘ اس صدقۂ فطر کی ادائیگی میں حکمت کیا ہے؟اس سلسلہ میں ابوداؤد شریف میں ایک حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓسے مروی ہے: ’’نبی اکرم نے صدقۂ فطر فرض فرمایا تاکہ روزہ دار سے روزہ کی حالت میں جو کوئی فضول ونازیبا بات سرزد ہوگئی ہو وہ اُس سے پاک ہوجائے اور مسکینوں کو(کم از کم عید کے روز خوب اچھی طرح سے) کھانا میسر آجائے۔‘‘ زکوٰۃ الفطر کی اس حکمت پر غور فرمائیں اور اندازہ کریں کہ ہمارے رسولِ رحمتکو غربا ومساکین کا کتنا خیال رہتا تھا۔
اس فطرانہ کیساتھ ہی دوسری سالانہ زکوٰۃ اور دیگر نفلی صدقات وخیرات کو ملا کر دیکھیں کہ دین اسلام نے اس صفحۂ ہستی سے غربت وافلاس کے خاتمے کے ضامن حل پیش کئے ہیں اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اسلام وہ نظامِ حیات ہے جس نے کسی بھی موقع پر غریب کو نظر انداز نہیں کیا
بخاری ومسلم میں حضرت ابوسعید ؓ کا ارشاد ہے: ’’ ہم ایک صاع کھانا یا ایک صاع جَو یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش(خشک انگور یا منقہ) صدقہ فطر میں دیا کرتے تھے۔‘‘ صدقۂ فطر نکالنے کا حکم چونکہ عام ہے اسلئے اسمیں تمام مسلمان برابر ہیں چاہے کوئی مالدار ہویا فقیر لہٰذا تنگدست کو بھی صدقہ نکالنا چاہئے۔ امام شعبیؒ،عطاءؒ ،ابن سیرینؒ،زہریؒ،عبداللہ بن مبارکؒ،امام مالکؒ،شافعیؒ اوراحمد بن حنبلؒ وغیرہ کا یہی مسلک ہے
اہل تشیح کا نظریہ بھی کوئی الگ نہیں ہے بلکہ دین رسول کے عین مطابق ہے
اہل تشیح کے نزدیک فِطرہ یا فطرانہ جسے زکات فطرہ بھی کہا جاتا ہے، اسلام کے واجب احکام میں سے ایک ہے جس کے معنی عید فطر کے دن مخصوص مقدار اور کیفیت میں مال ادا کرنے کے ہیں۔ فطرہ کی مقدار ہر شخص کے لئے سال کے غالب خوراک میں سے ایک صاع (تقریبا 3 کیلوگرم) گندم، جو، کھجور یا کشمش یا ان کی قیمت ہے۔ ہر بالغ اور عاقل شخص جو اپنے اور اپنے اہل و عیال کے سال بھر کا خرچہ رکھتا ہے اس پر اپنے اور اپنے اہل عیال کا فطرہ کا ادا کرنا واجب ہے۔ فطرہ کی ادائیگی کا وقت نماز عید فطر یا اسی دن ظہر کی نماز سے پہلے تک ہے۔ فطرہ کا مصرف اکثر فقہاء کے نزدیک زکات کے مصرف کی طرح ہے۔ احادیث کے مطابق فطرہ روزے کی تکمیل اور قبولیت، اسی سال انسان کی موت سے نجات اور زکات مال کی تکمیل کا باعث ہے۔
امام جعفر صادقؑ سے اس آیت قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکیٰ(ترجمہ: وہ شخص فائز المرام ہوا جس نے اپنے آپ کو (بداعتقادی و بدعملی سے) پاک کیا۔) کے بارے میں سوال ہوا تو آپؑ نے فرمایا: “اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے فطرہ ادا کی ہو”۔ کہا گیا: پھر وَ ذَکرَ اسْمَ رَ بِّهِ فَصَلَّیٰ(ترجمہ: اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔) سے کیا مراد ہے تو فرمایا: “اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے صحرا میں جا کر نماز عید ادا کی۔”
امام صادقؑ فرماتے ہیں: روزے کا کمال زکات فطرہ کی ادائیگی میں ہے۔ جس طرح نماز کا کمال پیغمبر اکرمؐ اور آپ کی آل پر صلوات بھیجنے میں ہے۔ کیونکہ جس نے روزہ رکھا لیکن عمدا فطرہ ادا نہ کیا تو گویا اس نے روزہ رکھا ہی نہیں اسی طرح جس نے نماز ادا کی لیکن پیغمبر اکرمؐ اور آپ کی آل پر صلوات بھیجنے کو ترک کیا تو گویا اس نے نماز پڑھی ہی نہیں۔ خداوند متعال نماز سے پہلے زکات ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں : قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکیٰ وَ ذَکرَ اسْمَ رَ بِّهِ فَصَلَّیٰ(ترجمہ: وہ شخص فائز المرام ہوا جس نے اپنے آپ کو (بداعتقادی و بدعملی سے) پاک کیا۔ اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔
امام علیؑ فرماتے ہیں: “جو بھی فطرہ ادا کرتا ہے خداوند عالم اس کے ذریعے اس کے مال میں سے زکات کی کمی رہ گئی ہے اسے پورا کرتا ہے۔
امام صادقؑ نے فرمایا: جس نے بھی اپنا روزہ کسی اچھی بات یا اچھے کام سے اختتام کو پہنچایا، خدا اس کا روزہ قبول کرتا ہے۔ لوگوں نے سوال کیا فرزند رسولؐ، اچھی بات سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ خدا کے سوائے کوئی معبود نہیں ہے اور اچھے کام سے مراد فطرہ کی ادائیگی ہے
زکات فطرہ کی مقدار ہر شخص کے مقابلے میں دودھ کے علاوہ باقی اشیاء میں ایک صاع (تقریبا 3 کیلوگرام) ہے۔ جبکہ دودھ میں اس کی مقدار کو بعض نے چار رطل ذکر کیا ہے اگرچہ مشہور دودھ میں بھی باقی اشیاء کی طرح ایک صاع ذکر کرتے ہیں۔ قول اول کی بنا پر رطل سے مراد “رطل عراقی” ہے یا “رطل مدنی” علماء کے درمیان اختلاف ہے
بعض قدماء کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ زکات فطرہ فقط فقراء کے ساتھ مختص ہے۔بعض معاصرین بھی زکات فطرہ کو فقط فقیروں کے ساتھ مختص ہونے کو احتیاط مستحب قرار دیتے ہیں
مستحب ہے پہلے اپنے رشتہ دار فقراء کو فطرہ دی جائے پھر ہمسایوں میں سے جو فقیر ہوں انہیں دیا جائے اسی طرح اہل علم فقراء کو دوسروں پر ترجیح دینا بھی مستحب ہے
وما علینا الالبلاغ
اس مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ سے بھی مدد لی گئی ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم













