ایام محرم سے بہت پہلے کی بات ہے دو رویہ سٹرک پرہماری کوچ دوڑ رہی تھی۔ ہم نجف سے کربلا کی جانب بڑھ رہے تھے۔ سٹرکوں پر جگہ جگہ سیمنٹ کی بوریوں میں چھپی چیک پوسٹوں میں کھڑے سیکورٹی اہلکاروں کے سوا دونوں اطراف میں نہ کچھ زیادہ آبادی کے نشان نظر آئے اور نہ ہی کچھ خاص انسانی ترقی کے۔
کربلا نجف سے کوئی نوے کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہماری گائڈ ہمیں بتا رہی تھیں کہ عراق کے کچھ قبائل میں آج تک یہ روائت ہے کہ وہ ہر برس چہلم امام حسین علیہ اسلام منانے کے لیے جوش عقیدت و محبت میں نجف سے پیدل چل کربلا پہنچتے ہیں۔ اور ہر برس چہلم امام پر آنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اور یہ اب تعداد بیس ملین سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ باہر سے آنے والے زائرین مقامی زایرین کے ہمقدم ہوکر پیدل چل کر کوئی دو ذھائی دن میں کربلا پہنچتے ہیں، اسے آپ دنیا کا سب بڑا محبت و عقیدت سے لبریز امن مارچ بھی کہہ سکتے ہیں۔
ہماری بس کربلا میں داخل ہوئی تودور سے حرم امام حسین کا سنہری گنبد نظر آیا جو سورج کی کرنوں میں نہا رہا تھا۔ گنبد پر نظر پڑتے ہی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ گلیوں میں دھوپ اتری ہوئی تھی، شہر آباد تھا ، زائرین کا بھی خوب آنا جانا تھا، مگر نہ جانے باہر فضاؤں میں اداسی تھی یا میرے دل کے اندر، یا آنکھوں میں تیرتی نمی سے ہوائیں بھیگی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔
مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے شہر کے درو دیوار، گلی کوچوں پر مظلومیت ٹپک رہی ہو۔
شہرکی عمارتیں اور بازار دیکھ کر بالکل یہ نہیں لگا کہ یہ کوئی ایسا شہر ہے جو چودہ سو برس پہلے آباد ہونا شروع ہوا تھا۔

شہر بستا توتب ، جب اسے بسانے کی کوشش کی جاتی۔ مختلف حکمرانوں کے دور اقتدار یہ شہر بار بار اجڑتا ہی رہا۔ نہ جانے یہ نواسہ رسول کے خلاف تعصب تھا یا امام کی قبر سے خوف۔
امویوں اور عباسی خلیفہ متوکل کے دور حکومت میں امام حسین، ان کے عزیزوں اور شہدا کی قبروں کے نشانات جس طرح سے مٹانے کی کوششیں کی جاتی رہیں تاریخ کی بہت سی کتابوں کے صفحات ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ مگرشائد اللہ کے آخری نبی کے خانوادے کا خون اتنا ارزاں نہیں تھا کہ صحرا کی ریت کے ذروں میں گم ہو جاتا۔ تخت و تاج والوں کی خواہشات کے برعکس
صحرائے کربلا ایک ایسی زیارت گاہ میں تبدیل ہوچکا ہے جو چوبیس گھنٹے، بارہ مہینے زائرین کی عقیدتوں کی مہک سے معطر رہتی ہے۔
سیکورٹی کے کم از کم چار حصاروں اور چار بڑے بڑے کشادہ اور نقشین مہرابی دروازوں سے گزر کر میں حرم امام حسین کے اندرونی حصے میں امام حسین کی قبر پر پہنچی، تو عجب ہی سماں تھا،
خواتین کا ایک جم غفیر تھا جو قبر کی جالی سے لپٹی بالکل اس انداز میں آہ بکا کررہی تھیں، جسیے امام حسین اکسٹھ ہجری میں نہیں بس آج کل میں شہید ہوئے ہوں۔ درود و سلام ، عبادتوں، محبتوں اور عقیدتوں کے ساتھ ساتھ دعاؤں کا بھی شور تھا بس یوں سمجھ لیجئے کہ خواہشوں اور آرزؤں کو آنسوؤں میں سجا کی پیش کیا جارہا تھا، مگر اتنے سکون سے نہیں جیسے میں بتا رہی ہی۔ میں نے بھی چاہا کہ میں بھی جالی کے قریب پہنچ سکوں مگر ممکن نظر نہیں آیا تو دوبارہ آنے کا اراداہ کرکے بس دور سے ہی سلام زیارت پڑھی۔
ایران نے زر کثیر خرچ کرکے ان قبروں کے ارد گرد عالی شان روضے تعمیر کیے ہیں، جس میں توسیح اور آرائیش کا کام مسلسل جاری ہے۔
امام حسین اور ان کے بھائی حضرت عباس کے روضوں کے درمیان چمکتا ہوا سنگ مرمر استعمال کر کے ایک ایسی گزرگاہ بنائی گئی ہے جو شب کو بھی روشنیوں میں نہائی رہتی ہے، اس راستے پر زائرین کے گروہ نوحہ خوانی کرتے ہوئے نظر آئے۔ ان میں اکثریت ایرانی زاہرین کی تھی جو اپنے مخصوص انداز میں نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے ہوئے نظر آئے، ان گروہوں میں ہر عمر کے مرد و زن اور بچے شامل تھے۔
دن میں دو چار مرتبہ پریڈ کرتے ہوئے سیکورٹی کے چاق و چوبند دستے بھی دکھائی دئیے۔ انتہائی چست و مستعد، چھوٹی چھوٹی عمروں کے یہ نوجوان جو بظاہر مسلح نظر نہیں آتے، حرم امام حسین اور حرم حضرت عباس کے درمیان چکر لگا تے رہتے ہیں۔ ہمارے ساتھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس میں حزب اللہ کے نوجوان بھی شامل ہیں۔
امام حسین کے بعد حضرت عباس کی قبر ہے جہاں دن رات زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔

حضرت عباس حضرت علی کے صاحبْزادے تھے، جن کے بارے میں تاریخیں بتاتی ہیں کہ انھیں دلیری ، ،شجاعت اور فن سپاہ گری اپنے والدعلی مرتضیٰ سے ورثے میں ملی تھی۔ مگر کربلا کی جنگ کا دردناک پہلو یہ ہے کہ وہ لڑتے ہوئے نہیں، بلکہ پیاسے بچوں کے لیے پانی لاتے ہوتے شہید ہوئے، وہ دریائے فرات جسے نہر علقہ بھی کہا جاتا ہے، سے پانی لینے گئے تھے، وہاں لگے پہرے کو ہٹا کر وہ پانی لانے میں کامیاب رہے مگر واپسی پرفوج یزیدی نےتیر مار کر مشکیزہ چھید دیا تاکہ پانی خیام حسینی تک نہ پہنچ سکے۔ حضرت عباس واپس فرات کی جانب مڑے اور شہید کردئے گئے۔
اسی لیے کربلا کا ذکر بھی دریائے فرات اور حضرت عباس کی کہانی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ؛دریائے فرات پر اسقدر اشعار لکھے گئے، جو اگر جمع کیے جائیں تو کئی دیوان بن جائیں،
پیاسا رھا جان نبی اے وائے نہر علقہ
اٹھتی رہیں لہریں تری اے وائے نہر علقمہ
نجم آفندی کا یہ نوحہ دھیرے دھیرے زیر لب دہراتی ہوئی میں دریائے فرات تک پہنچی تو تصورات کو ذرا جھٹکا سا لگا۔ لہریں کہاں سے اٹھتیں، کہ دریائے فرات اب ایک نالے نما نہر میں تبدیل ہوچکاہے۔ جس کے دونوں کناروں پر سمینٹ کے پشتے بنا کر پانی روکا گیا ہے۔ پانی دور سے گدلا سا تھا مگر میں ہاتھ ڈالے بغیر نہ رہ سکی، پانی میں ہاتھ ڈالے تو اکسٹھ ہجری کے مناظرآنکھوں میں اترنے لگے، یہ ہی وہ پانی ہے ، جوآل رسول کے بچوں تک پر بند کردیا گیا۔ یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں نبی کے راج دلاروں کا خون بہایا گیا

مگر کیا ہوا نہ وہ خون بہانے والے رہے نا پانی بند کرنے والے۔ مگر امام مظلوم کی قبر چودہ سو برسں سے آج تک ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے کی داستان سنا رہی ہے۔

ویسے صرف دریائے فرات ہی نہیں ، میرے تصورات کو کئی مقامات پر جھٹکا لگا، کربلا عجب اجڑا اجڑا اور بے ترتیب سا شہر لگا، مکانوں کی خستگی اور کہنگی نمایاں تھی، سٹرکیں جا بجا شکستگی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آئیں، جابجا کوڑے کرکٹ کے ڈھیر،عالم اسلام کے اس متبرک شہر کو اس حالت میں دیکھ کردل دکھ سا گیا۔
پھر شہر بھی کسی اور ملک کا نہیں، عراق جیسے تیل پیدا کرنے والے ایک بڑے ملک کا، جس میں حاکموں کے محلات تو ایسے ایسے کہ ان پر کتابیں کی کتابیں لکھ دی جائیں، مگر میرے گروپ کے لوگ کہہ رہے تھے، ’ ارےآپ پہلے نہیں آئیں یہاں‘ اب تو آپ اسے بہت اچھی حالت میں دیکھ رہی ہیں،
شاید یہ غلط بھی نہں، صدام حسین کے جانے کے بعد یقیناً مناظر کچھ بدلے ہیں۔ بیرونی ملکوں سے راستے کھلنے کے باعث اب یہاں بارہ مہینے زائرین کی آمد سے کمرشل سرگرمیاں بہت بڑھ چکی ہیں۔
روضوں کی تزئین و آرائش ایسی کہ آنکھیں دیکھ دیکھ کر تھکتی نہیں اور دل داد دیئےبغیر رہتا نہیں۔
مگر روضوں کی شان و شوکت پر سے نظر ہٹا کر باہر کی جانب دیکھا تو روضوں کے ارد گرد غربت کے بوجھ میں گھرے ہاتھ پھیلائے دور دور تک پیچھا کرتے ہوئے بچے اور روضے کے باہر منڈیروں پر بیٹھی حسرت و یاس کی تصویر بنی غریب و بے سہارا عورتیں نظر آئیں۔ معمر اور ضعیف مرد سامان کی بھاری بھاری ریڑھیاں گھسٹیتے نظر آئے۔ تومیں نے خود سے پوچھا،
اے کربلا کی خاک پر سوئے ہوئے غریب
یہ منظر کب بدلیں گے۔
ماہ پارہ صفدر














