نصیر ترابی کے انتقال پر تاثرات۔مرتبہ،ظفر معین بلے،صفدر ھمدانی

0
2554

معروف اور منفرد شاعر اور ماہر لسانیات نصیر ترابی کے انتقال پر مختلف حلقوں کی طرف سے اظہار افسوس کیا جارہا ہے اور احباب اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر رخسانہ صؔباء ,کراچی

۔نصیر ترابی کا شمار ان گنے چنے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو غزل کو روایت اور جدت کے امتزاج کے ساتھ معیار، وقار، ترفع اور اثر انگیزی سے ہم کنار کیا ۔نصیر ترابی غزل کی کلاسیکی روایت کے زبردست پاس دار تھے اور فنی معاملات پر ان کی گرفت بڑی مضبوط تھی لیکن اس کے باوجود ان کی غزل اپنے عصر سے جڑی ہوئی اور جدید طرز احساس کی حامل ہے ۔شخصی اعتبار سے بھی وہ ایک رچی ہوئی تہزیبی شخصیت کے حامل تھے مشاعروں اور مجلس آرائیوں سے دور رہنے والے اور اپنے نقطہء نظر پر حوصلہ مندی اور جراءت کے ساتھ قائم رہنے والے تھے

……………..

سرکار نصیر ترابی کی رحلت کی خبر سن کر اقدس رضوی غمزدہ ہوگئے

ظفر معین بلے 
اردو ادب کے منفرد اور صاحب طرز و رحجان ساز شاعر شکیب جلالی کے فرزند جناب اقدس رضوی صاحب بھی ممتاز اور قادرالکلام شاعر جناب نصیر ترابی صاحب کی رحلت پر غمزدہ نظر آئے۔ اقدس رضوی صاحب بچپن میں اپنی والدہ ماجدہ محترمہ محدثہ خاتون کے ہمراہ اعلی حضرت قبلہ علامہ رشید ترابی صاحب کے دولت کدہ پر گئے تو سرکار علامہ رشید ترابی صاحب کے نیاز حاصل کیے دعائیں لیں ۔

مہمانانِگرامی کی میزبانی ترابی خاندان کے رسم و رواج اور وضعداری کے مطابق کی گئی ۔ جناب نصیر ترابی صاحب مکرم نے اقدس رضوی صاحب کے سر پر دست شفقت رکھا اور ان کی والدہ ماجدہ سے جناب شکیب جلالی کی شاعرانہ عظمت کا کھل کر اعتراف فرمایا ۔ ہمیں امید ہے کہ اقدس رضوی صاحب اپنی یاداشتوں میں اس اور اسطرح کے دیگر واقعات کا تفصیلی ذکر فرمائیں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نصیر ترابی کی یاد میں لندن کے ڈاکٹر عدیم مرتضی کا ارسال کردہ قطعہ

……………..

علامہ ڈاکٹر سید عباس نقوی علیگ .دہلی۔ بھارت 

نصؔیر ترابی کا انتقال بہر حال ایک بہت بڑا اور ناقابلِتلافی نقصان ہے۔ اس عظیم المرتبت اور یگانہء روزگار شخصیت تخلیقکار کی اچانک اور بے وقت رحلت سے نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ پوری ادبی دنیا سوگوار نظر آتی ہےلیکن وہ اپنے شاندار کلاموں کے توسط سے ہمیشہ ہمارے درمیان رہیں گے۔

…………….

اردو غزل کا عہدِ,نؔصیر ترابی تمام ہوا

باکمال شاعر نصؔیر ترابی کا جداگانہ اسلوب

 اشرف جاوید 

نصیر ترابی یقینا باکمال شاعر تھے، ان کا دبنگ لہجہ، منفرد انداز اور جداگانہ اسلوب ان کے ساتھ تمام ہوا۔ ان کی غزل میں زبان کا لوچ، اظہار کی فصاحت اور بیان کا مثبت رویہ غزل کی اعلی نسبی کی اساس ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ ہجر و وصال کی لذتوں کو جس جمالیاتی سطح پر انھوں نے محسوس کیا، وہ بھی انھی کا خاصہ تھا۔ نصیر ترابی کے ساتھ اردو غزل کا ایک دور ختم ہوا، یہ خلا برسوں پر محیط رہے گا۔ میری دعا ہے اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے ، آمین

…………….

نصؔیر ترابی کی منفرد شعری جہتیں

نصؔیر ترابی اردو شاعری کا بے مثل پارکھ اور عاشق

 ڈاکٹر خالد اقبال یاسؔر

نصؔیر ترابی بہت کچھ تھے تاہم وہ اول و آخر شاعر تھے۔ فن شاعری کو بھرپور طور پر سمجھنے والے اور سمجھانے والے جیسے ہمارے کلاسیکی شاعر ہوا کرتے تھے۔ انھیں تخلیقی ترفع اور شعر کے نام پر بیان بازی کے درمیان تمیز کرنا آتا تھا۔ رواں تاریخ ہو، سیاست ہو، معاشرت ہو یا ذاتی واردات نصیر ترابی ہر مضمون اور ہر کیفیت استعاراتی اسلوب میں کہتے جس سے ان کے اشعار کی ایک سے زیادہ جہتیں آشکار ہوتیں اور پھر بھی کسی اور طرح سے بھی ان کی تفہیم ممکن ہوتی۔ جیسے ہمسفر کے عنوانی گیت کے طور پر استعمال ہونے والی غزل اس ڈرامہ سیریل کےلیے تھوڑئ لکھی گئی تھی مگر دیکھیے کہ اس پر کس طرح پوری طرح منطبق ہوئی جب کہ اس کا پس منظر مشرقی اور مغربی پاکستان کے باہمی مراسم کی نزاکتوں اور اداؤں میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہی غزل سن کر فیض احمد فیض ہم کہ ٹھہرے اجنبی ۔۔۔ والی غزل وارد ہوئی تھی۔ یعنی نصیر ترابی کلاسیک سے جدت چھان لیتے تھے اسی لیے ان کی رمز بھری شاعری کی فنی بنیادیں بہت مضبوط اور پائیدار ہیں۔ وہ فن شعر پر اپنی گرفت کا اطلاق بھی موثر دلائل اور مثالوں سے کیا کرتے اور اس عمل میں وہ کسی شاعر کی شہرت، ذات اور مرتبے کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔
نصیر ترابی شاعری میں رہتے اور شاعری ان میں رہتی تھی۔ اردو شاعری کو ان جیسا پارکھ اور عاشق ایک زمانے تک نہیں ملے گا۔اس سخن ناشناس عہد میں نصیر ترابی نے شعریات اور لسانیات کا دیا جلا رکھا تھا جس کی روشنی ہر نئے پرانے شاعر تک پہنچ رہی تھی اور ان کی کتابوں کے طفیل تادیر پہنچتی رہے گی۔ ان کے ترکش سے مجھے بھی اپنی ادبی معرکہ آرائیوں کےلیے تیر و تفنگ ملتے رہتے تھے۔ ان کی رخصت میرا ذاتی نقصان ہے کیونکہ وہ میرے لیے تقویت کا بہت بڑا منبع رہے۔

نصیر ترابی کی یہ خوبی مجھے بہت بھایا کرتی کہ وہ کسی سے مرعوب ہوئے بغیر معروضی نکتہء نظر کا برملا اظہار کیا کرتے تھے۔ ان کی اردو نثر کا انداز بھی اپنی مثال آپ تھا۔ ادب و شعر کے میدان ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے افراد ہیں مگر ان کا ذکر اس کٹم کے سرخیلوں میں ہوتا ہے۔

 ڈاکٹر خالد اقبال یاسر
. (اسلام آباد )

,,,,,,,,,,,,,

آہ !نصیر ترابی
منفرد و اعلی پائے کے شاعر اور وضعداری میں اپنی مثال آپ

 نسیم الرحمن روؔشن لاہور

نصیر ترابی کے لئے کیا کہوں یہ ہمارے کالج کے زمانے کی بات ہے جب ہم اسلامیہ کالج کراچی میں فرسٹ ائیر میں تھے اس وقت یہ کالج گرومندر کے بالکل ساتھ ہی اس روڈ پر تھا جو سولجر بازار جاتی ہے. اور بالکل کالج کے ساتھ شاید دو یا تین کوٹھیوں کے بعد علامہ رشید ترابی صاحب کا گھر تھا……

ہمارے کچھ دوست نصیر ترابی کے دوست کامن تھے تو نصیر سے اکثر ملاقات ہو جاتی تھی.
اس جوانی کی عمر میں بھی بہت نرم گو ، بذلہ سنج اور سنجیدہ گفتگو کرتے تھے. عام لڑکوں جیسے لاابالی نہیں تھے نہایت خوش اخلاق اور خاصے ہنس مُکھ بھی تھے دوستوں کے دوست تھے لیکن میں نے محسوس کیا تھا کہ فیملی کو زیادہ وقت دینے کے قائل تھے.
میں پھر کراچی سے لاہور شفٹ ہوگیا تو تعلق کچھ ٹوٹ سا گیا اور کبھی کسی دوست کے ذریعے خیر خیریت مل جایا کرتی تھی. لیکن اب کافی عرصے سے نہ اطلاع نہ ملاقات. اب یہ درد ناک خبر ملی……. 😢😢😢
ناقابلِ فراموش…………….
ناقابلِ تلافی نقصان ایک بہت ہی اعلی’ پائے کے شاعر سے محروم ہوگئے……. افسوس.

……………

متاز شاعر نصیر ترابی کی یاد میں!!

 فرٌخ جمال،اسلام آباد

وہ بےوفا ہے تو کیا، مت کہو برا اس کو
کہ جو ہوا، سو ہوا، خوش رکھے خدا اس کو

نظر نہ آئے تو اس کی تلاش میں رہنا
کہیں ملے تو پلٹ کر نہ دیکھنا اس کو

کراچی میں قیام کے دوران، حضرت جوش ملیح آبادی ، اکثر علامہ رشید ترابی اعلیٰ اللہ مقامہ کی قیام گاہ ملاقات کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے، اور میں حضرت جوش کے ہمراہ ہوتا تھا، اور بالخصوص محرم الحرام کی 9 ویں کو علامہ صاحب کے گھر مجلس کا اہتمام ہوا کرتا تھا، جس میں جوش صاحب کا اپنا مسدس پڑھنا لازمی جزو تھا، وہیں علامہ رشید ترابی کے “ہنر مند” صاحبزادے نصیر ترابی سے میری ملاقاتوں کا آغاز ہوا، پھر اسلام آباد جب وہ تشریف لاتے تو کبھی متحرم افتخار عارف کے دفتر یا کسی ادبی محفل میں ملاقات ہوجایا کرتی تھی _
نصیر ترابی میرے بڑے بھائی کا درجہ رکھتے تھے، اور ہمیشہ ان کا احترام میرے دل میں موجود رہا ہے _
علامہ رشید ترابی کا جب سانحہ ارتحال ہوا، اس موقع پر، حضرت جوش ملیح آبادی نے ،ان کے فرزند نصیر ترابی کو ایک تعزیتی پیغام میں لکھا :
“جب کہ، تمہارے نازشِ روزگار عظیم باپ کی موت پر، خود میرا گریباں چاک اور خود میری آنکھیں نم ناک ہیں، کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں پھر کس منہ سے تم کو صبر کی تلقین کروں _
عروسِ بلاغت کی چوڑیاں ٹھنڈی کردی گئیں، شہر ابلاغ کو پامال کر ڈالا گیا، نگار حروف و حکایت کی نبضیں ڈبو دی گئیں _ خطابت کی رگوں کا خون جما دیا گیا _ جادو بیانی کی رگ جاں تراش دی گئی ہے _محراب کی زبان کو کاٹ ڈالا گیا ہے _ منبر کو گونگا بنا دیا گیا ہے اور کھنکتے لہجے کی دھنک کو توڑ دیا گیا ہے _”

کل شام مجھے کراچی سے فون پر ڈاکٹر ہلال نقوی نے نصیر ترابی کی وفات کی دکھ بھری خبر سنائی تو بلاشبہ رنج و غم کی فضا محسوس ہوئی _
میں اہنی، خاندان حضرت جوش ملیح آبادی کی جانب سے اور جوش ادبی فاونڈیشن ،اسلام آباد کی طرف سے ، خاندان نصیر ترابی سے اس سانحہ پر غم و رنج کا اظہار کرتا ہوں اور ہم سب ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں _
اللہ نصیر بھائی کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین…

جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
میں سمجھوں گا کہ دو شمعیں فروزاں ہوگئی

,,,,,,,,,,,,,

‏یہ نصیرؔ شام سپردگی کی اداس اداس سی روشنی
بہ کنار گل ذرا دیکھنا یہ تمہی ہو یا کوئی اور ہے

تحریر :- رضا مہدی باقری

آہ💔 نصیر تربی💔 جناب نصیرترابی اپنی ذات میں ایک دبستان تھے ۔۔۔شاعری اور اردو نثر کا انتہائی معتبر حوالہ۔۔۔۔ان کے سانحہء ارتحال سے عالم علم وادب میں جو خوفناک خلا پیدا ہوا ہے وہ شاید کبھی پر نہ ہوسکے۔۔مجھ جیسے طالب علم کے لۓ اور مجھ جیسے ہزاروں چاہنے والوں کے لۓ ان کی جدائی ایک عظیم المیہ ہے۔ پرور دگار جوار معصومین علیہم السلام میں ان کے درجات بلندتر فرماۓ آمین بحق یٰسین وآل یٰسین۔اللہم صلّ علیٰ محمدِِوّآل محمدِِوّعجّل فرجہم💔

…………….

نصیر ترابی صاحب سے میری ملاقات
 سید عون عباس۔

جی تو یہ بات ہے 14 ستمبر، 2012 کی روزنامہ جنگ اخبار میں محترمہ کشور ناہید کا کالم بعنوان “دلی کے مشاعرے سے نصیر ترابی تک۔۔۔” شائع ہوا۔ کالم کے عنوان سے ہی آپ کو اس کے اندر موجود مواد کا اندازہ ہو گیا ہوگا۔ کالم کا ایک اقتباس آپ کی نذر کرتا ہوں۔
“اس طرح تلفظ کے مسئلے پر بھی بہت اصحاب بلکہ شعراء لفظیات کا خیال ہی نہیں رکھتے ہیں۔ تلفظ کا باب تو فوٹو کاپی کروا کر خاص طور سے تمام اینکر پرسن اور تمام نیوز ریڈر کو دیا جانا چاہئے کہ آدھے سے زیادہ اپنی مرضی کی اضافت لگا لیتے ہیں، اپنی مرضی کے اعراب لگا لیتے ہیں۔ جہاں تک تذکیر و تانیث کا مسئلہ ہے دہلی والوں کے یہاں دہی کھٹی ہوتی ہے جبکہ لکھنو والوں کے یہاں دہی کھٹا ہوتا ہے۔ اس طرح مسئلہ استعمال فسق و فجور ہے۔ نصیر ترابی نے بہت مشکل الفاظ استعمال کئے ہیں مثلاً متضاد الفاظ کے لئے ترکیب منافات لکھی ہے اگر انگریزی کے الفاظ ساتھ لکھے نہ ہوتے تو مجھ جیسے کم سخن کو بھی لغت دیکھنی پڑتی۔ اب جب میں دیکھتی ہوں کہ اجتناب کا متضاد ارتکاب ہے یا مستجاب کا متضاد مسترد ہے تو میری بھی تعلیم ہو رہی ہے۔ اس طرح تلفظ میں عام طور پر وُضو کہا جاتا ہے مگر نصیر ترابی نے ہماری اصلاح کر دی ہے کہ یہ لفظ وَضو ہے۔ ہم لوگ مُذمت کہتے ہیں نصیر ترابی اس کو غلط کہتے ہیں۔ فصیح ہے مَذمت۔ یہیں میں نے باب غلط العام کو کھول کر دیکھا تو اور بھی حیران ہوئی۔”
جی تو جناب… کشور ناہید نے اپنے اس کالم میں مرحوم نصیر ترابی کی کتاب “شعریات” کا تذکرہ کیا تھا۔ ابلاغِ عامہ کے شاگرد ہونے کے ناطے نا چیز نے یہ کتاب فوراً ہی خرید لی۔ کتاب کو پڑھنے کے بعد اس بات کا ادراک ہوا کہ ہم واقعی اردو زبان بولنے کا حق ہی ادا نہیں کر رہے۔ مثال کے طور پر اس کتاب میں لکھا ہے کہ دنوں اور مہینوں کے نام مذکر ہیں، صرف جمعرات مونث ہے۔ اب اگر آپ چاہیں تو اسے بول کے دیکھ لیں:
پیر ہوگا
منگل ہوگا
بدھ ہوگا
جمعرات ہوگی
جمعہ ہوگا
ہفتہ ہوگا
اتوار ہوگا
اِسی طرح مذکر اور مونث کو بہترین انداز میں سمجھنے کے لئے ایک ایک چیز بہت آسانی کے ساتھ بیان کردی گئی ہے۔
پھر واحد ۔جمع SINGULAR-PLURAL، مُنافات OPPOSITES، پھر نئے باب میں مُشاَبہَ الفاظ یعنی SIMILAR WORDS بیان کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر؛
آمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محفوظ
آمِن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے خوف
اِستاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔قیام
اُستاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مُعلم
دَخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا ، نفیس
دُخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دُھواں
نہ صرف یہ بلکہ اور بھی بہت کچھ اس کتاب سے سیکھنے کو ملا۔
لیکن معاملہ یہاں رکا نہیں بلکہ اب تو خواہش پیدا ہوئی کہ جب، نصیر ترابی صاحب “انچولی” میں ہی رہتے ہیں توکیوں نا ان سے ملاقات کی جائے۔ لیکن پھر ان کی شخصیت اور رعب ذہن میں آیا تو میں نے خیال کیا کہ نہیں بیکار میں جا کر غلط اردو بولنے پر ڈانٹ ہی نہ کھانی پڑ جائے اور ارادہ ترک کر دیا۔
اتفاق سے ایک روز انچولی مین روڈ پر ہئیر سلون کے سامنے سے گزر ہو رہا تھا کہ دیکھا نصیر ترابی صاحب بال بنوا رہے تھے۔ ہمت کر کے دکان میں داخل ہوکر گویا ہوا۔۔۔
السلام علیکم نصیر صاحب۔۔۔
نصیر ترابی صاحب: وعلیکم السلام۔۔۔ جناب۔۔۔ مزاجِ گرامی قدر
میں نے کہا استاد محترم آپ کی کتاب “شعریات” پڑھی۔ بس آپ کا شکریہ ادا کرنا تھا کہ آپ نے ہم طالبعلوں کے لیے اتنا اہم کام کردیا۔
نصیر ترابی صاحب مسکرائے۔۔۔ پوچھا میاں کیا کرتے ہو؟ کہاں رہتے ہو؟
عرض کی جناب صحافت کا طالبعلم ہوں اور اسی علاقے میں رہائش ہے۔
کہنے لگے کچھ لکھتے ہو؟
میں نے کہا جی ابھی مراسلے، مضامین اور بلاگ وغیرہ لکھنے شروع کیے ہیں۔
نصیر ترابی مرحوم نے کہا میرا نمبر لکھ لو اور کسی دن گھر آجاوۤ۔۔۔اور جوکچھ لکھتے ہو وہ لے کر آنا۔
اب تو میری خؤشی کا کوئی عالم نہیں تھا۔۔۔ میں اگلے ہی روز غالباً اتوار کا دن تھا۔ صبح کال کر کے ان کے گھر جا پہنچا۔۔۔
باتیں شروع ہوئیں۔۔۔ وقت کیسے گزرا معلوم ہی نہیں چلا۔۔۔ آپ اس سے بھی اندازہ لگا سکتےہیں کے اس دوران تین مرتبہ نصیر ترابی صاحب کی جانب سے چائے پیش کی گئی اور ہم بھی پیتے گئے۔ بے شمار موضوعات زیر بحث آئے۔ اور پھر نصیر صاحب نے کہا جی جناب اب بتائیں کہ کیا لکھتے ہیں۔۔۔۔
ڈرتے ڈرتے میں نے اپنے کچھ مراسلے جو روزنامہ جنگ، ایکسپریس، نوائے وقت میں شائع ہوئے تھے ان کے سامنے رکھ دیے۔ انھوں نے کوئی 20 منٹ تک دیکھنے کے بعد کہا:
“ہُمممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر میں جان تو ہے، لیکن بیٹا لکھنا مت چھوڑنا اور بس اچھا پڑھو اور مزید بہتر سے بہتر لکھنے کی کوشش کرتے رہو”
نصیر ترابی صاحب کا یہ جملہ میرے لیے اعزاز بھی تھا اور نصیحت بھی، اور یہ ملاقات میری اور نصیر ترابی صاحب کی پہلی اور آخری ملاقات تھی۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کے مغفرت فرمائے اور ان کے گھر والوں سمیت تمام شاگردوں کو صبر دے۔ آمین

 سید عون عباس ۔ کراچی

,,,,,,,,,,,,,,,

.خرم سہیل ،، ایک بڑے آدمی کا پرسہ اور قحط الرجال معاشرہ
مجھ ناچیز کی رائے میں ، کسی بڑے شخص کے رخصت ہوجانے پر جیسا پرسہ دینا چاہیے ، وہ نہ تو میں دے سکا ، نہ ہی شاید ہمارے اکثر مشاہیر اور نہ ہی اس بڑے آدمی کے ہم عصر اور ساتھ ساتھ وہ بھی ، جو فیس بک پر صرف تصاویر شیئر کرکے اور ان اللہ وانا الیہ راجعون لکھ کر اپنا فرض ادا کردیتے ہیں بالخصوص وہ جو اسی شہر کراچی میں موجود ہیں اور پرسہ دینے جنازہ گاہ تک آسکتے ہیں ۔ آخر کار اہل ادب کو اتنا ادب تو برتنا ہی چاہیے ۔
مجھے اگر حقیقی معنوں میں کسی کے ہاں بڑے آدمی کے رخصت ہونے کا درد محسوس ہوا ہے تو وہ قیصر وجدی بھائی ہیں ، یہ مختصر لیکن دلسوز رپورٹ ان کے غم کا حال کہہ رہی ہے اور شاید ہمارے دل کا حال بھی ۔ اس رپورٹ میں آپ دیکھیں گے چار جنازے پڑھے گئے ، یہ مجمع ان سب کو ملا کر ہے ، جو دکھائی دے رہا ہے ، ورنہ شاید وہ افراد انگلیوں پر گنے جاسکتے ، جو استاد محترم کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آئے ، ایک ایسے شہر میں ، جہاں کی آبادی کروڑوں میں اور اہل ادب کی تعداد لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں تو ہے ۔
اس پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے ، لیکن فقط اتنا ہی کہوں گا کہ یہ رپورٹ ادبی منظر نامے پر بے حسی کی ایف آر ہے ، جس کو قیصر وجدی بھائی نے کاٹا ہے ، یہ مستقبل میں مورخ کے لکھنے کو ، کام آئے گی ۔ جانے والے کو کوئی فرق نہیں پڑتا ، وہ ایک عظیم زبان داں ، شاعر ، محقق ، شارح اور مشفق استاد تھے ، ٹھاٹ سے زندگی گزار کرگئے ہیں ۔ ان کو شعرو ادب کے پارکھ کے علاوہ روایت ، رکھ رکھاؤ ، تہذیب اور آدمیت کا عکاس سمجھا جائے گا. وہ دنیا میں اپنے ہونے کو امر کرگئے ، پھر بھی استاد محترم جناب نصیر ترابی صاحب ، ہوسکے تو ہمیں معاف کر دیجیے گا ۔ خداحافظ

……………

نصیر ترابی
{ولادت:-15جون1945حیدرآباددکن
وفات 10جنوری2021. کراچی}

تحریر:- اکرم کنجاہی
جناب نصیر ترابی کی مندرجہ ذیل کتب اشاعت پذیر ہوئیں
۱۔عکس فریادی ۲۰۰۰ مجموعہ غزل، وہ غزل جسے ہم اُردو کی نئی شاعری کی تحریک کا حصہ کہہ سکتے ہیں۔ غزل جس میں کلاسیکی رچاوہے
۲-لاریب {حمد، نعت، سلام اور منقبت: بیشتر عظیم کلاسیکی شعرا کی زمینوں میں} علامہ اقبال ایوارڈ یافتہ ۔ ایسا کلام / مجموعہ جس پر کئِ ایوراڈ قربان کیے جا سکتے ہیں
۳-شعریات ۲۰۱۷: اُردو زبان اور شعری رموز کو سمجھنے کے لیے نہایت گراں قدر کتاب۔ اس کتاب کو میٹرک سے پی ایچ ڈی تک نصاب تعلیم میں شامل ہونا چاہیے
۴۔لغت العوام : ایسے الفاظ اور اُن کے مفاہیم پر مبنی مختصر کتاب جو عمومی بول چال کا حصہ ہیں۔ اس کتاب نے مجھے زیادہ متاثر نہیں کیا کہ یہ نصیر ترابی جیسے صاحب علم کے معیار کی عکاس نہیں ہے۔
نصیر ترابی صاحب سے میری زندگی میں ایک ملاقات 13 دسمبر 2019 کی رات کراچی پریس کلب میں ہوئی جب اُن کی آخری طبع شدہ کتاب “لغت العوام” کی تقریب پذیرائی میں راقم الحروف اکرم کُنجاہی کو صدارت کا اعزاز بخشا گیا۔ اس تقریب کے بعد جناب نصیر ترابی سے فون پر اکثر بات چیت ہوتی رہی۔ مذکورہ تقریب کی ایک یاد گار تصویر احباب کی نذر جس میں اسٹیج پر ڈاکٹڑ شاہد ضمیر{صدر نشین اُردو ڈکشنری بورڈ}، فراست رضوی {نام ور شاعر و ادیب}، جناب نصیر ترابی ، راقم الحروف اکرم کُنجاہی، جناب زیب اذکار حسین {ممتاز فکشن نگار، شاعر اور سیکریٹری حلقہ ارباب ذوق کراچی} اور ڈاکٹر جناب افتاب مضطر { نام ور شاعر، ادیب اور ماہر علم عروض} نمایاں ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کریم نصیر ترابی صاحب کی مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیِ مقام عطا کرے۔

………….

آہ نصیر بھائی!
تحریر :- شاہدہ حسن

صبح صبح دیار ِ غیر میں زندگی کی اک نئی سحر طلوع ہوئی تو دل کچھ بجھا بجھا سا لگا ۔موبائل آن کرتے ہی اک اور سنانی آگئی ۔محفل ِ اردو کی اک اور شمع بجھ گئی ۔۔میں انھیں نصیر بھائی ہی کہتی تھی ۔بے شمار ادبی محفلوں ،گھریلو نشستوں اور ٹی وی مشاعروں میں ان سے تواتر سے ملنا رہتا تھا ۔وہ اپنی وضع کے انسان تھے مگر ہمیشہ بہت پیار اور شفقت سے ملتے تھے ۔شعر پر کُھل کر داد دیتے تھے ۔شوہر اور بچوں کی خیریت پوچھتے تھے ۔دعائیں دیتے تھے ۔مگر معلوم نہیں کیوں میں دل میں اُن سے تھوڑا تھوڑا ڈرتی بھی تھی ،ویسے ہی جیسے بڑے بھائیوں سے ڈرتے ہیں۔۔اسی لئے کبھی بے تکلفی والا معاملہ نہیں رہا ۔آج ان کی سنانی سنی تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان کی تعزیت کس سے کروں ۔۔

چند اشعار قلم برداشتہ ہوئے تو انھی کے ساتھ تمام ادبی دوستوں سے تعزیت گزار ہوں۔۔اللہ انھیں غریق ِرحمت فرمائے

وقت کب ہے کہ کسی راہ ِ ہُنر کو چلئے
بس نصیر آئیے ،اک دشت ِ سفر کو چلئے

رفتگاں بیٹھے ہیں حلقہ کئے جس شمع کےگِرد
آپ اُس انجمن ِ اہل ِخبر کو چلئے

اتنا اُکتا گیا خود ساختہ تنہائی سے
دل پکار اُٹھا کہ بس آج نہ گھر کو چلئے

اپنے آباد خرابے سے اُٹھا کر یادیں
اک نگر اور ہے اُس اور نگر کو چلئے

عُمر بھر ساتھ رکھا خاطر ِ مجروح کا زخم
اپنے ہمراہ لئے دیدہ ئ تَر کو چلیے
😭😭
,,,,,,,,,,,,,

نصیر ترابی کےلیے منظوم خراج
فیروز ناطق خسرو

مشاہدہ ہے کہ چھتنار درخت کے نیچے اگنے والے پودے کم ہی اپنی قامت تک پہنچ پاتے ہیں لیکن علامہ رشید ترابی کے صاحبزادگان نہ صرف پھلے پھولے بلکہ اہنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب بھی ہوئے۔۔
علامہ عقیل ترابی نے دینی معاملات میں اپنا نام پیدا کیا اور مرحوم نصیر ترابی نے علم و ادب میں اپنا جداگانہ تشخص برقرار رکھا۔۔
اللہ مرحومین کے درجات بلند فرمائے۔آمین

“نصیر ترابی کی رحلت پر تعزیتی اشعار”

نہ اس کا دین، نہ ایمان احتسابی ہے
نہ اس کے اپنے عقیدے میں کچھ خرابی ہے

کلامِ ہاتفِ غیبی کی گونج ہے ہر سو
جو بے قرار ہو کس بات کی شتابی ہے

کہا گیا ہے سوال و جواب رہنے دو
غلامِ آلِ نبی کی یہ کامیابی ہے

چلے یہ سُن کے نکیرین مرحبا کہتے
حسب نسب درِ باغِ ارم کی چابی ہے

کہا لحد نے نصیرِ علی خوشا قسمت
مرا نصیب کہ نسلا” تُو بوترابی ہے

سخن ہے آج بھی زندہ یہ اہلِ دانش کا
شمار اُس کا نہیں ہے جو کچھ نصابی ہے

تمام سینہ بہ سینہ ہوا اسے حاصل
تمہارا علم تو خسروؔ فقط کتابی ہے

( فیروز ناطق خسروؔ)

…………..

روما رضوی, لاہور

وہ انتہائی صاف گو ، شفیق ، مہذب اور احترام دینے والی شخصیت تھے۔۔
انکی جدائی انکے ہر چاہنے والے پر شاق گزرے گی۔
. میری دعا یہی ہے کہ اُس جہان میں بھی ان کو بہت سارے چاہنے والےدوست ملیں. اسی طرح ان کا استقبال اگلے جہاں میں بھی ہو  جس طرح کے اس دنیا میں ان کے چاہنے والوں کی تعداد موجود ہے ۔۔خدا کرے کہ وہاں پر بھی بہت سارے چاہنے والے ان کے منتظر ہوں.
وہ ہمیشہ صف اول کے ذاکرین میں موجود رہیں ۔۔
نِکل کے نَرغہء شَر سے تیری پَناہ کی سَمت..
میں  آ   رہا   ہُوں،  مِرا   انتظار   کر  مولا..
(نصیرتُرابی)

…………….

ڈاکٹر ثروت رضوی، کراچی

نصیر بھائی کی قدآور شخصیت پر بڑے بڑے جید، افراد لکھ رہے ہیں میںرا اور ان کا رابطہ ان کے بابا علامہ رشید ترابی کی وجہ سے رہا۔
شاعروں میں سنتے آرہے تھے ۔ان کی شاعری زبان زد تھی لیکن نصیر بھائی سے پہلی براہِ راست ملاقات ان کے گھر پہ ہوئ جب اپناپہلا
مجموعہ کلام انہیں دیا۔
شخصیت میں رکھ رکھاؤ اور تمکنت کے ساتھ انوکھی نرگسیت بھی تھی۔پہلی بار دیکھا تو رعب طاری تھا کہ میں ان کی فین اور، ایک طفلِ مکتب۔لیکن گفتگو ہوئ تو بہت شفقت سے پیش آئے، اردو غزل میں کربلا کے، استعاروں اور، تلمیحات، پر، بات ہوئی ۔ میری غزلوں میں کربلا کے اشعار جابجا دیکھ کر مسکرائے۔۔۔غزل کو غزل رہنے دیا کروسلام اور منقبت کا رنگ آنے لگا ہے۔۔۔پھر گویا ہوئے تمہاری
مجبوری ہے۔۔۔پھر دیر، تک ناصر کاظمی کا شعر بار باردہراتے رہے۔۔۔
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سورہی ہے
ناصر کاظمی سے بہتر کربلا کو اپنے اشعار میں کسی نے نہیں پیش کیا۔

اسکے بعد پی ایچ ڈی کے مقالے، کے لیے ان سے متواتر ملاقاتیں رہیں کہ میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ ان کے والد محترم علامہ رشید ترابی پر ہے ۔
ترابی کیسٹ لائبریری کے فرحان اور محمدی ٹیپ بینک کے ہادی عسکری صاحب سے متعارف کرایا کہ بابا “علامہ رشید ترابی” کی تمام مجالس ان کے پاس محفوظ ہیں یہ الگ بات کہ تمام مجالس کا حصول ممکن نہ ہوسکا۔مجھے نصیر بھائ کی یہ بات کبھی نہیں بھولی کہ جب بھی بابا پر لکھنے کے لیے قلم اٹھانا تو پہلے ایک سورہ فاتحہ ہدیہ کرنایہ میری مشق رہی اور اب جبکہ میرا مقالہ مکمل ہو کر سند بھی تفویض ہو چکی ہے یہ عمل جاری ہے کہ روز شب میں سورہ فاتحہ علامہ رشید ترابی اور دیگر علما، شہدا، و مرحومین کو سورہ فاتحہ ہدیہ کرتی ہوں نصیر بھائ اب آپ بھی اس میں شامل ہوگیے ہیں ۔
تعزیت و تسلیت کے ساتھ دعا ہے کہ پروردگار آپ کے درجات بلند فرمائے اور جوار سیدالشہدا میں جگہ عطا فرمائے۔اور ماہرہ بھابی دانش اور راشد کو دیگر لواحقین کو صبر عطا، فرمائے۔

آمین بحق معصومین ع

,,,,,,,,,,,,,,,

شاہین رضوی۔لاہور

آہ نصیر ترابی
سال نو کے پہلے ھفتے میں ایک اور ادبی چراغ گل ھوگیا ایک بہت بڑا خلا ھے جو کبھی پر نہ ھوگا،ھمارے انچولی والے گھر کے قریب ھیعلامہ رشید ترابی کے گھراکثر مجالس میں جانا ھوتا تھا
مگر انکے فرزند ارجمند نصیر ترابی کو میں انکی شاعری اور بلند آھنگ منفرد لہجے اور انکے مقبول عام اشعار کی وجہ سے پہچانتی تھی
انکے انتقال کی خبر سنی تو دل افسردہ ھوا، کیسے ایک بہت روشن بستی کے چراغ بجھ گئے
نصیر ترابی اپنے منفرد جداگانہ اسلوب اور معزز حوالوں سے بہت قابل احترام رھے
انکی شاعری کی وجہ سے بہت سارے گلوکاروں کو عروج ملا خاص طور پرعابدہ پروین،  وہ بھی نصیر ترابی کا بہت احترام کرتیں

وہ ھم سفر تھا مگر اس سے ھم نوائی نہ تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 جناب جلیل عالی،راولپنڈی

نصیر ترابی 1970 کی دہائی میں سامنے آنے والے شاعروں کی صف کا ایک نمایاں نام تھا۔ ان شاعروں کا ایک امتیازی مشترک وصف یہ تھا کہ روایت اور جدیدیت کی کشمکش میں یہ کسی انتہا پسندی کا شکار نہیں ہوئے اور ایک متوازن رویے کے ساتھ انہوں نے روایت اور جدیدیت کی امتزاج کو پیشِ نظر رکھا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ روایت کے تخلیقی تسلسل میں شاعری کی۔اس مشترک رویے کے باوجود ہر شاعر نے فکر و احساس اور اسلوبِ اظہار کے حوالے سے اپنی الگ شناخت کروائی۔ نصیر ترابی کے ہاں اردو غزل کی شعری روایت کا گہرا شعور موجود ہے۔ وہ اپنے اشعار کی بنت میں کلاسیکی فنیات کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ وہ صرف شعری تجربے کے اظہار کو کافی نہیں جانتے۔بلکہ اظہار کو برتر فنی معیار تک لانے کا جتن کرتے اور اسے ایک جینوئن تخلیقی فن پارہ بنانے کی کاوش کرتے ہیں۔ اردو کے نئے غزل گووں کو جن شاعروں کو توجہ سے پڑھنا چاہیے بے شک ان میں نصیر ترابی بھی ایک معتبر حوالہ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفدر ھمدانی، سرے برطانیہ

نصیر بھائی ادب کے بونوں کے درمیان دراز قد انسان تھے ماہر لسانیات اور الفاظ کی تکریم سے واقف
شہرت انکو ملی ضرور لیکن وہ شہرت کے پیچھے نہیں بھاگے
گروہ بندی سے دور رہے تعلقات عامہ بھی کوئی غیر معمولی نہیں تھے
ادب میں سچ بولنے والے پہلے ہی بہت کم ہیں کہ ادب درباریوں کے ہاتھ میں ہے آج بھی ایسے میں ایک سچے اور صاف گو انسان شاعر ادیب ماہر لسانیات کا چلے جانا اور بڑھی تاریکی والی بات ہے
اللہ کریم جوار معصومین میں جگہ دے
……………..
ظفر معین بلے،کراچی

یہ تعلق داریاں اور نسبتیں سمجھ سے بالا تر ہیں
2018. تک تو دو چار ماہ بعد قبلہ نصیر ترابی صاحب کا فون آجایا کرتا تھا والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے کو یاد فرمایا کرتے تھے دعاٶں سے نوازتے تھے ۔
اکتوبر 2016. سے اب تک
بے روزگاری تو چل ہی ہے اس
بے روزگاری میں کوتاہیاں ہوئیں بہت سی وراثت میں ملے والی محبتوں اور تعلق داریوں پر خاطر خواہ توجہ نہ دے سکا

پھر آپ نے کرم فرمایا
جناب نصیر ترابی صاحب کا فون نمبر عطا فرمایا کہ جو اب میرے پاس نہیں رہا تھا ۔
اس کے بعد تو انہوں نے ٹیلی فون پر رابطے کا سلسلہ مسلسل قائم رکھا ۔ ایک دوماہ قبل بھی وہ ہسپتال میں زیرِعلاج رہے پھر خیر سے طبیعت بہتر ہونے پر گھر اگئے اور آتے کے ساتھ ہی پھر فون کیا خیریت دریافت کی اور اپنی علالت کے حوالے سے فرمایا جی جی میں بالکل بہت بہتر ہوں اور معالج کی ہدایت پر آرام بھی کروں گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سحر انصاری،کراچی

اپنے دیرینہ دوست نصیر ترابی کے لیے پروفیسر سحر انصاری صاحب کا منظوم گریہ:

نہیں کہ تو ہی جہاں سے گزر گیا اے دوست
مرے حساب سے اک عہد مر گیا اے دوست

تمام رات قیامت کے وار کرتی رہی
یہ ایک بات کہ تو بھی گزر گیا اے دوست

وہ محفلیں، وہ فسانے، وہ بزمِ شعرو سخن
ذرا سی دیر میں سب کچھ بکھر گیا اے دوست

کوئی دعا، کوئی حکمت تجھے نہ روک سکی
ہمارا نالہءدل بے اثر گیا اے دوست

نہیں ہے عام سا اک واقعہ ترا جانا
مری نظر میں اک اہل_نظر گیا اے دوست

ترے لیے تو دوامی تھا مرکب_ہستی
یہ کس مقام پہ آ کر اتر گیا اے دوست

تری تلاش میں دیوانہ وار چل پڑتے
وہ راہ بھی نہ بتائی، کدھر گیا اے دوست
(سحر انصاری)

………………..

ماہ پارہ صفدر،سرے برطانیہ

‏سقوط ڈھاکہ پر ایسا نوحہ اور کون لکھ سکاَ؟

وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
‏کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی
‏عداوتیں تھیں تغافل تھا رنجشیں تھیں بہت
‏بچھڑنے والے میں سب کچھ تھابے وفائی نہ تھی

‏سقوط ڈھاکہ پر ایسی کلاسیکی غزل لکھنے والے مستند، منفرد شاعر ، ایک ماہر لسانیات نصیرترابی انتقال کر گئے، وہ اپنے عہد کے بہت بڑے عالم خطیب رشید ترابی کے صاحبزادے تھے لیکن ایسے دراز قد والد کے درمیان سے انہوں نے اپنی الگ شناخت سخن گوئی کے ذریعے بنائی۔ وہ حد درجہ صاف گو تھے اپنی شاعری میں بھی تعلقات میں بھی اور اظہار میں بھی۔
‏ادب کے حلقوں میں ان کی کمی تا دیر محسوس ہوگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذیشان زیدی،برطانیہ

افسوس کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور شاعر، ماہر لسانیات، لغت نویس نصیر ترابی
اعلی مقامہ نے اس دنیاے فانی کو ویراں کیا. ادبی محفلوں کی جان تھے. کراچی کے نشتر پارک میں برس ہا برس شہرہ آفاق سلام گزار مرحوم جناب اشرف عباس سے مرحوم نصیر ترابی صاحب کا یہ کلام سنتا آیا ہوں جو مجھے بچپن سے پسند بہت ہے . پروردگار ان ہستیوں کی ارواح پر رحمت کی بارش کرے
یہ تیغ یہ کتاب یہ سجدہ علیؑ سے ہے
اسلام تیرے گھر میں اجالا علیؑ سے ہے
ہم پر لگے نہ کفر کا فتوی’ تو ہم کہیں
کس کس کا نام دہر میں زندہ علیؑ سے ہے
منہ پھیر کے جو قبلہ ِ ایماں سے آۓ ہیں
شاید انہیں خبر نہیں ، کعبہ علیؑ سے ہے
اے دین مصطفیٰۖ تو کبھی فیصلہ تو کر
خود چل پڑا ہے نام تیرا یا علیؑ سے ہے
ہم سے نہ پوچھ ، ہم تو مودت کے لوگ ہیں
قرآں تجھے بتاۓ گا کیا کیا علیؑ سے ہے
تم کو ہماری فکر ہے کیا اے نمازیو
ہم جانے جو حساب ہمارا علیؑ سے ہے
عابد کی بے کسی نے بھی ثابت یہ کردیا
تا حشر بے کسوں کا سہارا علیؑ سے ہے
اپنا حریف شہر میں اب کون ہو نصیرؔ
ہم اس کے دوست ہیں جو شناسا علیؑ سے ہے
ذیشان زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم،سڈنی

جناب نصیرترابی کے انتقال کی خبر پر سخت افسوس ہوا، میری بدقسمتی کہ انکے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی لیکن انکی شاعری بھی تو انکو تعارف بلکہ سچا تعارف ہے۔ انکے متعلق جو کچھ معلوم ہوا انکی سچائی کے حوالے سے وہی سب انکی شاعری میں موجود ہے۔ ہمارے ہاں ادب میں خاص طور پر شاعری میں اکثریت شعرا کی شعر کچھ کہتی ہے لیکن انکا کردار کچھ اور ہوتا ہے لیکن نصیر ترابی اپنی شاعری میں خود اپنا آئینہ تھے۔ پروردگار انکی مغفرت فرمائے۔آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

داستانِ رفاقت…..تحریر:۔ عارف امام
نصیر ترابی ساری دنیا کے لیے شاعر ہوں گے مگر میرے لیے تو وہ ایک شجرِ سایہ دار اور راہ بر تھے۔ اپنے تمام تر شعری سفر میں جن تین شخصیات نے میرے ہر لڑکھڑاتے ہوئے قدم پہ میرا ہاتھ تھاما ان میں شاہد جعفر، آصف عابدی اور نصیر ترابی سرفہرست ہیں۔ شاہد جعفر اور نصیر ترابی نے نہ صرف شعری سفر بلکہ زندگی کے ہر سفر میں نہ صرف میری رہنمائی کی بلکہ جہاں جہاں میرا حوصلہ ٹوٹتا وہاں وہاں پہلے شاہد جعفر اور پھر نصیر بھائی ہی ہوتے جو میری ہمت بڑھاتے۔ میری کامیابیوں پہ خوش ہوتے اور میری خامیوں کی نشان دہی کرکے مجھے اگلا قدم صحیح رخ پہ اٹھانے کی آسانی فراہم کرتے۔ میں اس وقت صدمہ کی جس کیفیت سے دوچار ہوں اُس میں نصیر بھائی سے اپنے تعلق کے حوالے سے کوئی بات تسلسل سے تو شاید نہ کرپاؤں لیکن ایک قرض ہے جسے ان منتشر لفظوں کی صورت میں ادا کرنے کی اپنی سی کوشش کررہا ہوں۔

نصیر بھائی سے میرے تعلق کا آغاز 1984-85 کے دوران ہوا۔ ان ہی کے گھر مجھے پہلی مرتبہ صہبا اختر اور ڈاکٹر ہلال نقوی کے مرثیے سننے کی توفیق حاصل ہوئی۔ یہ وہ دن تھے جب رثائی شاعری سے میرا تعلق برائے نام تو کیا نہونے کے برابر تھا۔ اسی وقت کے آس پاس میری شاہد جعفر اور آصف عابدی سے ملاقات ہوئی جس کے بعد نصیر بھائی سے تعلق نے ایک دوسری شکل اختیار کرلی۔ اب میرا تعلق نہ صرف نصیر بھائی سے بلکہ ان کے پورے گھرانے سے قائم ہوا۔ ان کے سب سے چھوٹے اور جواں مرگ بھائی ابو طالب سے دوستی اور طٰہ ترابی سے اپنے کیریر کے حوالے سے ایک تعلق رہا۔

شاہد جعفر کی مسلسل محنت اور توجہ نے مجھے مرثیہ گوئی کی جانب راغب کیا تو نصیر بھائی کی نظرِ توجہ بھی مجھ پہ ایک الگ انداز سے مرکوز ہوگئی۔ میں اُن دنوں آج کے عارف امام سے یکسر مختلف اینگری ینگ مین ہوا کرتا تھا۔ سوائے شاہد جعفر، آصف عابدی اور عبدالرؤف عروج کسی اور کو یہ جرأت بھی نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ میرے گھڑے ہوئے مصرع پہ تنقید یا اصلاح کرسکے۔ 1988 میں جب زمین کے موضوع پر پہلا مرثیہ کہا شاہد نقوی مرحوم کے بناکردہ عشرہ مجالسِ نوتصنیف مرثیہ میں پیش کرنے سے قبل ایک مصرع بھی نصیر بھائی کو باوجود ان کے اصرار کے کبھی نہ سنایا۔ اس کے باوجود نصیر بھائی نے کراچی کا کون ایسا اہم شاعر تھا جس کو اس مجلس میں مدعو نہ کیا ہو۔ محشر بدایونی سے عبید اللہ علیم تک اور جمال احسانی و ہلال نقوی سے تابش دہلوی تک فرش مجلس پر مجھ ایسے نوآموز کو سننے کے لئے موجود تھے۔ نصیر بھائی اس مجلس میں مسند کے بائیں جانب نشست رکھتے تھے اور تخت پیٹ پیٹ کے مجھے داد سے نواز رہے تھے۔ گفتگو کا رخ بار بار میری اپنی ذات کی طرف مڑ جانے پہ معذرت خواہ ہوں مگر کیا کروں کہ نصیر بھائی سے تعلق ہی میری تعمیرِ زات کا ہے۔ میں آج جو اور جیسا ہوں اس کے معماروں میں نصیر بھائی، شاہد جعفر اور آصف عابدی کا نام سرفہرست ہے، ویسے تو اور بھی کتنے ہی اہم نام اور ہیں جنہوں نے اس بکھرنے پہ آمادہ مشت خاک کی صورت گری میں اپنا کردار ادا کیا جن کا ذکرمجھ پہ قرض ہے۔

نصیر بھائی کی زبان و بیان پہ دسترس، مصرع سازی اور صناعی کے ساتھ کیفیت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت سے ایک دنیا واقف ہے۔ وہ ایک پرفیکشنسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک گہری نظر رکھنے والے پاریکھ تھے۔ پہلے مرثیے کے بعد میری انانیت میں بڑی حد تک کمی آچکی تھی اور موجودہ عارف امام کی تعمیر کی پہلی اینٹ ہی میرا برسرِ منبر ہونا تھا۔ اس مقام پر ایک بات کا ذکر محض اپنی تعریف میں نہیں بلکہ نوواردانِ سخن کی تربیت کے لیے ایک مشق کی صورت میں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ پہلے مرثیے اور اس کی عظیم الشان پذیرائی کہ علامہ طالب جوہری جیسا صاحب کمال مجھے اس مرثیے کے مطلع سے پہچاننے لگے یا نصیر ترابی جیسا کج کلاہِ سخن تخت پیٹ پیٹ کر نہ صرف داد دے بلکہ اپنی بہن کے گھر ہونے والی سالانہ مجلس میں مجھ طفلِ مکتب سے مرثیہ پڑھوائے، کے بعد مجھ ایسا نوجوان جو پہلے ہی انانیت کا شکار ہو کس قدر نرگسیت میں مبتلا ہوسکتا تھا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔ اس کا علاج میں نے یہ ڈھونڈا کہ شام کو شہدائے کربلا ٹرسٹ میں ڈاکٹر یاور عباس کے قائم کردہ عشرہ مجالس جس کے منتظم سرفراز ابد ہوا کرتے تھے، میں جاتا اور کوشش کرتا کہ جب مرثیہ پڑھنے والے شاعر کو پانی کی طلب ہو تو اسے پانی پیش کرنے میں سبقت کروں۔ یہ پانی میں اس شاعر کو نہیں پلاتا تھا بلکہ اپنے اندر بھڑکتی ہوئی انا اور خود پسندی کی آگ پہ چھڑکتا تھا۔

اس اینگری ینگ مین کی غضبناکی میں کمی آئی تو دوسرے مرثیے خون کی تصنیف کے دوران نصیر بھائی نے ایک ملاقات کے دوران پوچھا کہ عارف مرثیہ کہاں تک پہنچا؟ میں نے جواباً جتنے بند کہے تھے ان کی تعداد بتائی تس پر کہا کہ کچھ یاد ہو تو سناؤ۔ ان کے حکم پہ میں نے ایک بند جو حضرتِ عباسِ علمدار ع کی دریا کی جانب پیش قدمی کے حوالے سے تھا ان کو سنا دیا۔ یاد رہے یہ وہ وقت تھا جب میں ایک سرپھرا اور اپنی مستی میں مست ملنگ نما جینز پوش نوجوان تھا (سر پھرا اور جینز پوش ابھی ہوں لیکن اب ویسا مست نہیں جیسا ہوا کرتا تھا)

بیت کچھ اس طرح تھی
“اپنے نیزے کو گھماتا ہوا جرّار چلا
اپنے خیبر کی طرف ثانئ کرّار چلا”

نصیر بھائی نے کچھ لمحے توّقف کیا پھر جیسے میں اپنی دراز زلفوں کو جھٹکا دیا کردیا تھا ویسے اپنا سر جھٹکایا اور کہا یار تم نے تو یہاں چھوٹے حضرت ع کی بجائے عارف امام لکھ دیا ہے۔ پھر فوراً ہی مصرع دیا کہ اس کو ایسے کردو
“ صفِ اعدا کو بچھاتا ہوا جرار چلا”

نصیر بھائی کی شاعرانہ صفات پر گفتگو میری اوقات نہیں۔ اس پر تو اب ایک زمانہ گفتگو کرے گا کہ یہی زمانے کا دستور ہے کہ زندگی میں کسی تخلیق کار کے شایانِ شان رتبے کا تعین نہیں ہوپاتا اور جب وہ جوہر تہہ خاک آسودہ ہوجائے تو اس کی کرنیں اس کی لوح مزار سے پھوٹتی ہیں۔ زمانے نے جمال احسانی کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کیا اور جون ایلیا کے ساتھ بھی۔

تحریر طوالت کا شکار ہوتی جارہی ہے لہٰذا باقی گفتگو آئندہ کے لیے اٹھا رکھتا ہوں جس کا محور نصیر بھائی کی سلام نگاری ہوگی۔ میں اپنی دانست میں نصیر بھائی کو عہدِ موجود میں سلام نگاری کا مجدد گردانتا ہوں اور مجھے یہ بات کہنے میں بھی کوئی باک نہیں کہ صنف سلام دراصل نگارِ سخن کا لباس بیوگی اور غزل اس کا لباسِ عروسی ہے۔ صنف سلام سوگواری کے حسن کی صورت نگاری کا نام ہے جو صرف ایک بہترین غزل گو ہی کا نصیب ہوتی ہے۔
فقیر عارف امام

…………………

رباعی ۔ ۔ ۔ ۔ سید فراست رضوی

(تاریخ وفات بحساب ابجد)
دقیقہ رس نصیر ترابی 1442ھجری
اعلی مراتب’نادر بزم
2021
فرقت میں تری دل کا سکوں ھے مفقود
اب تجھ سا سخنور نہیں کوئی موجود
خلاق ازل نے ترے لہجے کو دیا
جاے رشک غزل نصیر , لحن داؤد
________________2021
سوگوار ‘ سید فراست رضوی

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

فقیر زادہ(حکیم خلیق الرحمٰن)

”لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا“

ہر انسان اپنی زندگی میں بہت سے۔۔۔۔ایسے مقامات سے گزرتا ہے۔۔۔۔جہاں۔۔۔ضبط اور برداشت کو ہی زادِ راہ کی حیثیت دینا ہوتی ہے۔۔۔۔باوجود اس کے کہ۔۔۔ ضبط کی راہوں سے گزرتے ہوئے۔۔۔آخرکار۔۔۔۔برداشت جواب دے جاتی ہے۔۔۔لیکن۔۔۔سفر۔۔۔۔پِھر بھی جاری رکھنا پڑتا ہے۔۔۔ آنسوؤں کو چھپا کر۔۔۔۔رواداری کو اپنا کر۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔ کوئی مقام ایسا بھی آجاتا ہے کہ۔۔۔۔ٹھہرے ہوئے سارے آنسو ۔۔۔ بےاختیار ہو کر بہہ نکلتے ہیں۔۔۔۔انسان۔۔۔قدم بڑھانا چاہتا ہے۔۔۔۔کہ اس مقام سے بھی بھاگ نکلے مگر۔۔۔۔۔ غم ۔۔۔ راستے کی زنجیر بن کر۔۔۔قدم روک لیتا ہے۔۔۔انسان دھاڑیں مار کر۔۔۔رو دیتا ہے۔۔۔۔ جناب نصیر ترابی۔۔۔۔اردو کی آبرو تھے ۔۔۔اردو کی شان تھے۔۔۔۔ اردو کے محافظ تھے۔۔۔۔لفظوں کے خالق تھے۔۔۔۔الفاظ کے استعمال سے بہ خوبی واقف تھے۔۔۔سب سے بڑھ کر یہ۔۔۔کہ۔۔۔ اُن کے نام لیوا تھے۔۔۔جن کو آیتِ تطہیر سے بہرہ مند فرمایا گیا ہے۔۔۔۔دل غم سے بوجھل ہے۔۔۔ مَیں اس سوچ میں گم ہوں کہ۔۔۔اردو۔۔۔یتیم ہو گئی۔۔۔ ان کی زبان سے نکلا ہُوا کوئی لفظ۔۔۔کبھی تنقید کی زد میں نہیں آیا۔۔۔ دُعاء کیجئے۔۔۔کہ صبر آ جائے۔۔۔
فقیر زادہ(حکیم خلیق الرحمٰن)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آہ ۔ نصیر ترابی

منظر نقوی۔ (اسلام آباد )

نصیر ترابی علم و ادب کے گھرانے کے چشم چراغ تھے۔ انہوں نے خاندانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی ایک الگ اور مضبوط پہچان کروائی۔ وہ ایک عمدہ شاعر تھے انہوں نے مذاحمت کو بھی جمالیاتی شاعری میں ڈھالا۔ ان کی شاعری اور خاص طور پر غزل کی شاعری کیفیات ، احساسات ، محسوسات اور لطیف جمالیاتی آہنگ کے ساتھ نمایاں ہوئی۔ شاعری کی دیگر اصناف میں بھی شدید جزبات کا شدید اظہار بڑے فن کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ ان کی شخصیت شفیق اور سحر رکھتی تھی۔ وہ آخری وقت تک دوستوں کے ساتھ بزریعہ فون رابطے میں رہے۔ یہی ان کا شخصی مزاج انکی شاعری میں بھی جھلکتا تھا۔ وہ ہم نوائی سے زیادہ خالص انسانی رویوں کے اظہار پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی غزلیہ شاعری آنے والے زمانوں میں اثر پزیری کی حامل ہے۔

منظر نقوی۔ (اسلام آباد )

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

SHARE

LEAVE A REPLY