کائینات اور دنیا کا ارتقائی سفر ۔۔۔۔۔ حصہ دوئم۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

2
1213

کائنات میں واحد معلوم مقام زمین ہے پر زمین ہے کیا ؟؟

زمین نظام شمسی کا وہ واحد سیارہ ہے جہاں پر زندگی موجود ہے۔ پانی زمین کی تہاتی سطح کو ڈھکے ہوئے ہے۔ زمین کی بیرونی سطح پہاڑوں، ریت اور مٹی کی بنی ہوئی ہے۔ پہاڑ زمین کی سطح کا توازن برقرار رکھنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔ اگر زمین کو خلا سے دیکھا جائے تو ہمیں سفید رنگ کے بڑے بڑے نشان نظر آئیں گے۔ یہ پانی سے بھرے بادل ہیں جو زمین کی فضا میں ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں سے ان بادلوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جس کا اثر زمین کی فضا کو پڑا ہے۔ زمین کا صرف ایک چاند ہے۔ زمین کا شمالی نصف کرہ زیادہ آباد ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں سمندروں کی تعداد زیادہ اور خشکی کم ہونے کی وجہ سے کم آبادی ہے، اِس کے علاوہ اور کئی وجوہات ہیں (جیسے پچھلے دور میں اُن علاقوں کا کم جاننا وغیرہ ) ۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات رہتی ہے۔ عام دن اور رات کا دورانیہ چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔

نظام شمسی میں پائے جانے والے قدیم ترین مواد کی تاریخ 4.5672±0.0006 بلین سال قدیم ہے۔ آغاز میں زمین پگھلی ہوئی حالت میں تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زمین کی فضا میں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا اور اس کی سطح ٹھنڈی ہو کر ایک قرش(crust) کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی چاند کی تشکیل ہوئی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ کی جسامت کا ایک جسم تھیا (Theia)، جس کی کمیت زمین کا دسواں حصہ تھی، زمین سے ٹکرایا اور اس تصادم کے نتیجے میں چاند کا وجود عمل میں آیا۔ اس جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ مدغم ہو گیا، کچھ حصہ الگ ہو کر خلا میں دور نکل گیا، اور کچھ الگ ہونے والا حصہ زمین کی ثقلی گرفت میں آگیا جس سے چاند کی تشکیل ہوئی۔

پگھلے ہوئے مادے سے گیسی اخراج اور آتش فشانی کے عمل سے زمین پر ابتدائی کرہ ہوا ظہور پذیر ہوا۔ آبی بخارات نے ٹھنڈا ہو کر مائع شکل اختیار کی اور اس طرح سمندروں کی تشکیل ہوئی۔ مزید پانی دمدار سیاروں کے ٹکرانے سے زمین پر پہنچا۔ اونچے درجہ حرارت پر ہونے والے کیمیائی عوامل سے ایک خود رد عملی سالمہ تقریبًا 4 ارب سال قبل وجود میں آیا، اور اس کے تقریبا 50 کروڑ سال کے بعد زمین پر موجود تمام حیات کا جد امجد پیدا ہوا۔

جیسا کہ زمین نظام شمسی کے آٹھ سیاروں میں سورج کی طرف سے تیسرا سیارہ ہے ۔ ضیائی تالیف کے ارتقاء کے بعد زمین پر موجود حیات سورج کی توانائی کو براہ راست استعمال کرنے کے قابل ہو گئی۔ ضیائی تالیف سے پیدا ہونے والی آکسیجن فضاء میں جمع ہونا شروع ہو گئی اور کرہ ہوا کے بالائی حصے میں یہی آکسیجن اوزون میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔ چھوٹے خلیوں کے بڑے خلیوں میں مدغم ہونے سے پیچیدہ خلیوں کی تشکیل ہوئی جنھیں  کہا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یک خلوی جانداروں کی بستیاں بڑی سے بڑی ہوتی گئیں، ان بستیوں میں خلیوں کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا چلا گیا اور خلیے مختلف کاموں کے لئے مخصوص ہوتے چلے گئے۔ اس طرح کثیر خلوی جانداروں کا ارتقاء ہوا۔ زمین کی بالائی فضا میں پیدا ہونے والی اوزون نے آہستہ آہستہ زمین کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر لیا اور سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روک کر پوری زمین کو زندگی کے لئیے محفوظ بنا دیا۔ اس کے بعد زندگی زمین پر پوری طرح پھیل گئی۔

زمین کی عمر:‌

سائنسی تحقیق کے مطابق زمین کی عمر 4.54 ارب سال ہے ۔ زمین نہ صرف انسان کا بلکہ دیگر لاکھوں جانداروں کا بھی گھر ہے اور ساتھ ہی ابھی تک کائنات میں واحد معلوم مقام ہے جہاں زندگی کا وجود پایا جاتا ہے. اس کی سطح پر زندگی کی شروعات تقریبا ایک ارب سال پہلے ظاہر ہوئی. زمین پر زندگی کی پیدائش کے لئے موزوں ماحول (جیسے سورج سے عین مطابق فاصلے وغیرہ) نہ صرف پہلے سے دستیاب تھے بلکہ زندگی کی اصل کے بعد سے ترقی تاکہ جانداروں نے اس سیارے کے ماحول اور دیگر ماحولیاتی حالات کو بھی تبدیل کیا ہے اور اس کے ماحول کو موجودہ شکل دی ہے. زمین کے ماحول میں آکسیجن کی کثرت سے موجودگی میں بھی ان جانداروں کا حصہ ہے.

اگرچہ کائنات کی عمر کے بارے میں سائنسدان متفق نہیں ہیں ۔ لیکن زمین کی عمر کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ آج سے پانچ ارب سال پہلے گیس اور غبار کا ایک وسیع و عریض بادل کشش ثقل کے باعث ٹکرا کر ٹکروں میں تقسیم ہوگیا تھا ۔ سورج جو مرکز میں واقع تھا سب سے زیادہ گیس اس نے اپنے پاس رکھی ۔ باقی ماندہ گیس سے دوسرے کئی گیس کے گولے بن گئے ۔ گیس اور غبار کا یہ بادل ٹھندا تھا اور اس سے بننے والے گولے بھی ٹھندے تھے ۔ سورج ستارہ بن گیا اور دوسرے گولے سیارے ۔ زمین انہی میں سے ایک گولہ ہے ۔

سورج میں سارے نظام شمسی کا 99٪ فیصد مادہ مجتمع ہے ۔ مادے کی کثرت اور گنجانی کی وجہ سے اس میں حرارت اور روشنی ہے ۔ باقی ماندہ ایک فی صد سے تمام سیارے جو نظام شمسی کا حصہ ہیں روشن ہوئے ۔ نظام شمسی کے یہ گولے جوں جوں سکڑتے گئے ان میں حرارت پیدا ہونے لگی ۔ سورج میں زیادہ مادہ ہونے کی وجہ سے اس شدید سمٹاؤ کی وجہ سے اٹمی عمل اور رد عمل شروع ہوا ، جس سے شدید ایٹمی دھماکے ہوئے ، اور شدید حرارت پیدا ہوئی ۔ زمین میں بھی ان ہی اصولوں کے تحت حرارت پیدا ہوئی ۔ حرارت سے مادہ کا جو حصہ بخارات بن کر اڑا فضا کے بالائی حصوں کی وجہ سے بارش بن کر برسا ۔ ہزاروں سال یہ بارش برستی رہی ۔ ابتدا میں تو بارش کی بوندیں زمین تک پہنچتی بھی نہیں تھیں ۔ بلکہ یہ راستہ میں دوبارہ بخارات بن کر اڑ جاتی تھیں ۔ مگر لاکھوں کروڑں سال کے عمل سے زمین ٹھنڈی ہوگئی ۔ اس کی چٹانیں بھی صاف ہوئیں خشکی بھی بنی اور سمندر وجود میں آئے۔

پروفیسر جولی نے ایک اور اندازہ لگایا اور اپنا نقطہ نطر دنیا کے سامنے رکھا۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں دنیا کے آغاز میں سمندر کا پانی میٹھا تھا ۔پھر برساتی نالوں اور دریاؤں کا پانی سمندر میں ملنے لگا تو اس میں سوڈا شامل ہو گیا اور رفتہ رفتہ سمندر کا پانی نمکین ہو گیا۔ پروفیسر جولی نے برسوں کی تحقیق کے بعد اعلان کیا کہ ہر سال دنیا کے تمام دریا اور نالے سمندروں میں سولہ کٹروڑوں ٹن نمک کا اضافہ کرتے ہیں اور اس وقت سمندروں کے نمک کا مجموعی وزن وزن چودہ ہزار کھرب ٹن ہے ۔ جس کے جمع ہونے پر نو کڑوڑ برس ہوئے اور یہی زمین کی عمر ہے ۔

ریڈیو میٹرک کی تحقیق کے مطابق ایک ارب سال گزرنے کے بعد سمندروں سے زندگی کا آغاز ہوا تھا، جس نے زمین کی سطح اور ماحول پر اپنے اثرات ڈالنا شروع کیے تھے۔ زمین کا اوپری حصہ کئی سخت طبقات یا ٹیکٹانکس پلیٹوں میں تقسیم ہے جو کہ جیولوجیکل تاریخ کے دوران ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف چل رہی ہیں.

زمین کی سطح کا سارا علاقہ تقریباً 510،072،000 کلومیٹر ہے، جس میں سے 148،940،000 کلومیٹر یعنی 29.2% فیصد حصہ زمینی ہے باقی70.8% فیصد حصے پر پانی موجود ہے.

زمین کی فضا میں

78.08٪ فیصد نائٹروجن (n2) (خشک ہوا)
20.95٪ فیصد آکسیجن (O2)
0.930٪ فیصد آرگان
0.039٪ کاربن ڈائی آکسائیڈ
1٪ پانی (متغیر آب و ہوا) کی صورت میں موجود ہے.
زمین کی تخلیق میں مندرجہ ذیل عناصر شامل ہیں
34.6٪ لوہا
29.5٪ آکسیجن
15.2٪ سلیكون
12.7٪ میگنیشئم
2.4٪ نكل
1.9٪ گندھک کا تیزاب
0.05٪ ٹائٹینیم
باقی دیگر عناصر شامل ہیں

جاری ہے

تحریر و تحقیق :‌ڈاکٹر نگہت نسیم

( نوٹ ؛
تحریر کے لئے مندرجہ زیل زرائع سے استفادہ حاصل کیا گیا
قران پاک کا ترجمہ و تفسیر
کتاب “‌دو قران”‌ ڈاکٹر غلام جیلانی برق
وکی پیڈیا
نیٹ کے مضامین
ڈاکومنٹری فلم زمین کی پیدائش
نیشنل جیوگرافک فلم زمین کی کہانی )

SHARE

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY