اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت کے ساتھ جگہ بھی دیجئے ۔نگہت نسیم

0
48

عزیز دوستو۔۔!‌
گھر ، خاندان ہو کہ ملک کہ دنیا ۔۔ فساد جھگڑے اسی وقت ہوتے ہیں جب گھر کے بڑے اپنا مثبت رول ادا نہیں کرتے۔ آپ سب نے دیکھا ہوگا کہ کہ مسلہ جب معاشرتی ہوتا ہے تو کوئی سماجی بڑا سمجھانے کے لئے عوام میں پائی جانی والی بے چینی کو دور کرنے سامنے نہیں آتا۔ یوں سماج اور معاشرت سے بڑوں کا ادب ختم ہوا۔ اسی طرح‌سے جب بھی کوئی سیاسی دشواری اور اختلاف رائے کی ہوا گرم ہوتی ہے تو کوئی سیاسی راہنما سامنے نہیں آتا ۔یوں سیاست بھی جوتوں میں آ پڑی ۔ یہی حال دین مذہب کے ساتھ ہوا ۔۔جب بھی کوئی دینی بات سمجھنے میں اختلاف دست وگریبان ہوئے کوئی عالم دین سامنے آکر بات کو سلجھاتا نہیں ہے ۔ یہ مسلہ چاہے عیدین کا ہو چاہے روزوں کا ۔۔ چاہے کسی کی جایئداد کا ہوا یا کسی قتل کا ۔۔۔۔ یہ علمائے دین کی زمیداری ہے کہ وہ ہماری راہنمائی کریں ۔

دوستو۔۔!‌
جب وقت پر راہنمائی اور تربیت کرنے والے والدین میسر نہیں ہوتے تو بچے آوارہ ہو جاتے ہیں اور اپنی اپنی سمجھ کے مطابق جو درست لگتا ہے کرتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح‌ سے دین مذہب مسلک جس کا جو بھی ہے وہ مزہب بدلنے کے بارے میں جو بھی سمجھ پایا ہے اور اپنی رائے رکھتا ہے اس کی زمیداری علمائے دین پر آتی ہے ۔ جتنی زمیداری ہماری ہے ہے ان سے پوچھنے کی اس سے زیادہ زمیداری ان کی ہے ہمیں درست سمت میں سمجھانے اور تربیت کرنے کرنے کی ۔ لہذا اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ علمائے دین نے اپنی زمیداریوں کو نہیں سمجھا تو واقعی انہوں نے اپنی زمیداری کو کبھی سمجھا ہی نہیں ۔ انہوں نے دینی قانون اپنی سہولت کے حساب سے بنا ڈالے ہیں ورنہ حنفی کو شافعی سے کیا مسلہ ہوتا ۔ شعیہ کو سنی سے اور سنیوں کو تمام مسالک سے کیوں شکایت رہتی ۔

دوستو ۔۔!
پر ایک بات کی مجھے بہت خوشی ہے کہ اس پوسٹ‌کی نازک خیالی پر آپ سب نے حصہ لیا اور بہت محبت ، عزت اور صبر کے ساتھ تبصرے کئے ۔۔۔ جس کے لئے میں آپ سب کی نام بنام ممنون و سپاس گزار ہوں ۔

آیئے ہم سب حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہدایت کے مطابق اپنی محبتوں ، عقیدتوں کو اعتدال میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمیں دوسروں کا نظریہ یعنی اختلاف رائے سننے کا حوصلہ پیدا ہو اور جوا گر ہم مسلے کو سمجھنے میں کوئی غلطی کر رہے ہوں تو اسے غلطی مان کراپنی تصیح بھی کر لیں ۔

یاد رکھئے ہم میں سے کوئی بھی مکمل نہیں ہے ہاں اگر ہم ایک ساتھ مل جایئں تو مکمل ہو سکتے ہیں ۔۔ اپنے پاس بیٹھنے کی دوسروں کو اجازت کے ساتھ جگہ بھی دیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
دعاگو
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY