ارادے مضبوط ہوں تو کچھ مشکل نہیں ۔ محمداعظم عظیم اعظم

0
423

محمداعظم عظیم اعظم

گزشتہ دِنوں سندھ میں بہتری کے لئے کئے جانے والے والے اقدامات اور انتظامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کی زیرصدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں یکم نومبر سے کراچی میں دُکانیں شام 7بجے اور شادی ہا لز رات 10بجے بند کرنے اور شادیوں میں ون ڈش (چاول ، روٹی، نان ، سلاد اور سوئٹ ڈش رکھنے ) کا فیصلہ کیا گیا ہے سندھ سرکارکا یہ اقدام بڑی حد تک خوش آئند امر ضرور ہے اوراِسی طرح دُکانیں شام سات بجے اور شادی ہالز رات دس بجے بند کئے جانے کااعلان اپنی جگہہ درست اور قابل تعریف بھی ہے مگرسیاسی اور معاشی و اقتصادی مسائل اور بحرانوں میں دھنسے سندھ و کراچی کے عوام کیا اَب یہ یقین کرلیں کہ سیدمراد علی شاہ اپنے اِس اعلان اور فیصلے کو حقیقی رنگ بھی دیں گے ؟؟ اور اَب کیااِس کے لئے یہ سندھ حکومت کی مشینری کو استعمال میں لاتے ہوئے پوری طرح اقدامات اور انتظامات بھی کریں گے؟؟ اور جیسا کہ اجلاس میں فیصلے کئے گئے ہیں وہ اپنے اِن فیصلوں پر عمل بھی کروائیں گے؟؟ یا اپنے پیش روسابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی طرح بغیر کچھ کئے خاموش ہوجا ئیں گے اور عوام مراد علی شاہ کے ہوتے ہوئے پھر بے مراد رہ جائیں گے کیونکہ یہ سندھ و کراچی کے عوام کا برسوں پرانا مطالبہ رہاہے کہ صبح دیر سے مارکیٹیں ، شاپنگ مالز اور محلے کی دُکانیں کھلنے اور رات گئے بند ہونے اور شادی ہالز میں دیر تک ہونے والی تقریبات سے مُلک و معاشرے میں اخلاقی و طبی معاشرتی و اقتصادی ثقافتی و تہذیبی اور دیگر حوالوں بہت سے منفی اثرات مرتب ہونے کے ساتھ ساتھ شادی ہالز میں استعمال ہونے والی بجلی سے مُلک و صوبوں کو درپیش بجلی و گیس کے بحرانوں بھی شدت آتی جارہی ہے۔

اَب جس کا حقیقی معنوں میں پوری قوت کے ساتھ تدارک کیا جانا بہت ضروری ہوگیاہے اگرچہ اَب سندھ و کراچی کے غیور اور محنت کش محب وطن عوام کو اُمید ہے کہ آج جس کا ارادہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کرلیا ہے تو وہ اِسے تاجر برادری کے کسی ایسے ویسے دباو ¿ میں آئے بغیر لازمی طور پر تکمیل کو بھی پہنچائیں گے اور اَب یہ سندھ و کراچی کے عوام کو سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کی طرح اِس کام میں مایوس ہرگز نہیں کریں گے کیونکہ ماضی میںسابق وزیراعلی سندھ نے بھی ایسے بہت سے اعلانات کئے تھے جو آج تک عملی شکل میں سامنے نہ آسکے اور وہ سارے اعلانات جو سوائے فائلوں اور خبروں کا حصہ بنے رہنے کے کچھ نہ ہوسکے۔

بہرکیف،پچھلے جمعہ کو سندھ حکومت کے سندھ میں شادیوں میں ون ڈش کے حوالے سے کئے جانے والے فیصلے میں ابھی ابہام موجود ہے یہاں اگر سندھ سرکار نے ون ڈش کا فیصلہ کیا ہی ہے تواپنے اِسی فیصلے میں یہ بات بھی واضح کردے کہ آج جہاں سندھ سرکار نے شادیوں میں چاول ، روٹی ، نان ، سلاد اور سوئٹ ڈش کا تذکرہ کیا ہے تو وہیں یہ اعلان اور فیصلہ بھی صادر فرمادے کہ شادیوں میںروٹی اور نان کے ساتھ ساتھ گائے، مرغی یا بکرے کے سالن ، قورمہ یا کڑاہی میں سے کوئی ایک سالن بھی ون ڈش تصور کیاجائے گا اِس کی بھی اجازت ہے تو بہت اچھاہوگایوں سندھ سرکا کا ون ڈش کے حوالے سے فیصلے اور اعلان میں پایا جانے والا ابہام بھی ختم ہوجائے گا اوربات بھی صاف اور واضح ہوجائے گی ۔

تاہم ابھی بات پوری طرح سے واضح نہیں ہوپائی ہے کیونکہ شادی میں ون ڈش (چاول ، روٹی، نان ، سلاد اور سوئٹ ڈش) کے فیصلے کے حوالے سے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے جس ون ڈش کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اِن تقریبات میں ہرگز شرکت نہیں کروں گا جہاں پر ایک ڈش سے زیادہ کھانے ہوں گے اگر اِس ون ڈش(چاول ، روٹی، نان ، سلاد اور سوئٹ ڈش) سے متعلق ہم کچھ دیر کو سوچیں توابھی یہ بات پوری نہیں ہوتی ہے کیونکہ نہ تو چاول ،روٹی یا نان کے ساتھ کھائے جاسکتے ہیں نہ چاول کو صرف سلاد یا سوئٹ ڈش کے ساتھ استعمال میں لایا جاسکتاہے اور اِسی طرح نہ تو روٹی یا نان صرف سلاد یا سوئٹ ڈش کے ساتھ کھائی جاسکتی ہے۔

یہاں میں راقم الحرف وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صاحب اور اجلاس میں شامل سند ھ کے وزیرصنعت و تجارت منظوروسان، صوبائی مشیربرائے محنت سعیدغنی ، صوبائی مشیرقانون مرتضی وہاب، ایڈینشنل چیف سیکرٹری (ترقیات)محمد وسیم، ایڈینشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر، کمشنر کراچی ، ڈی آئی جیزاورڈپٹی کمشنر سے اتناضرور عرض کرتے ہوئے اپنی بات آگے بڑھاو ¿ں گا کہ برائے کرم جس قدر جلد ممکن ہوسکے اِس پر ضرور نظرِ ثانی کریں کیونکہ سندھ سرکار کے ہونے والے اجلاس میںشادیوں میں جہاں ون ڈش کی اجازت دیتے ہوئے چاول ، روٹی ، نان، سلاد اور سوئٹ ڈش کا تذکرہ کیا گیاہے تو وہیں روٹی اور نان کے ساتھ سالن (جو قورمہ یا کڑاہی گائے، مرغی یا بکرے کے گوشت کی صورت میں ہو)اِس کی بھی ایک ڈش کا ضرور ذکر کردیںتب تو بات واضح ہوگی ورنہ عوام میں پایا جانے والاابہام اضطراب میں تبدیل ہوتے ہوتے ایک نیا مسئلہ پیدا کردے گے۔

یہ صدیوں سے مشہورجملہ ہے کہ مضبوط ارادے کے ساتھ جب کوئی کچھ کردِکھانا چاہتا ہو تو پھر اِس کے لئے کوئی بھی کا م مشکل نہیں ہے، ارادے میں مشکلات تو بہت سی حائل ہوتی ہیں مگراِنسانوں اور اداروں کی اپنے ارادوں پر ثابت قدمی سے قائم رہنے کا عمل ہی اِنہیں کامیابیوں سے ہمکنار کرتا ہے،اِس میں شک نہیںکہ جو شخص یا اِنسان یا ادارہ اپنے ارادے پر قائم رہے تووہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتاہے یعنی یہاں یہ واضح ہواکہ ہمارے تمام کاموں میں قوتِ ارادی کو بہت اہمت حاصل ہے اور اِس کا کسی کام کے کرنے اور اِسے تکمیل تک پہنچانے میں بڑاعمل دخل ہے ۔
یوںجب ہمارے ارادے بلند اور نیک ہوں تو پھرہم ایسے کام کریں گے جن سے ہمیں بلندی حاصل ہوگی لیکن جب پہلے ہی ہمارے ارادے پست اور مُتزِلزل ہوں تو پھر ہم زبانی کلامی تو اپنے ارادے کا بہت پرچا کریں گے مگر درحقیقت ہم اِسے عملی جامہ نہیں پہنا پائیں گے کیونکہ ہم اپنے ارادے کے ساتھ خود مخلص نہیں ہیں ، یکدم ایسا ہی جیسے کہ پہلے بھی سندھ سرکار کی جانب سے سندھ میں دُکانیں اور شاپنگ مال شام 7بجے اور شادی ہالز رات10بجے بن کئے جانے اورشادیوں میںون ڈش کی اجازت کے بہت سے اعلانات تو ہوتے رہے ہیں مگر اِن پر حقیقی معنوں میں حکومتی مشنیری سے عمل کرانے سے اجتناب برتاگیایوں یہ اعلانات صرف میڈیا کی خبروں کی زینت بننے تک ہی محدود رہے یعنی یہ کہ متعدّد بار اپنے ہی کئے ہوئے اعلانات پرخود ہی سندھ سرکاراقدامات کرانے سے ہمیشہ قاصر رہی ہے ،اور اپنا مذاق بناتی رہی ہے ایسا اِس لیا ہوا کہ مصالحتوں اور مفاہمتوں کی شکار سندھ حکومت یہ نہیں چاہتی رہی ہے کہ وہ کسی سیاسی کانے کو ناراض کرے یا کوئی سیاسی اپاہج اِس سے روٹھ کرجائے ، کیونکہ یہ سب کو اپنے ساتھ لے کر چلناچاہتی تھی اِس لئے کہ یہ خود بھی تو کئی حوالوں سے سیاسی کانی تھی اور اِس کے کرتاتھرتا ، خود نااہل تھے سو اُنہوں نے نہ خود کچھ اچھاکرناچاہا اور نہ کسی پر اور نہ ہی کسی سے سندھ و کراچی کی بہتری کے لئے اچھا کرنے یا کرانے کے لئے دباو ¿ ڈالا،آج جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے،سندھ و کراچی کی زبولی حالی سندھ کے حکمرانوں اور عوام کو منہ چڑھارہی ہے جبکہ ہمارا صوبہ پنجاب ترقی کرتا ہوا آج ماشا ءاللہ کہاں سے کہاں پہنچ گیاہے، اللہ اِسے اور ترقی دے اور یہ دن دُگنی رات چگنی رات ترقی اور خوشحالی کی منازل کرے،آج اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے صوبہ پنجاب و شہرِ لاہور کی ترقی اور خوشحالی کی جو سب سے زیادہ خاص وجہ ہے وہ یہ ہے کہ اِس کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اپنے صوبے اور لاہور کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ اپنے صوبے کے عوام کی زندگیوںکو بہتر بنانے کے لئے اول روز ہی سے مخلص ہیں تب ہی پنجاب اور لاہور ترقی کررہاہے اور اُمید ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنے صوبے کے ساتھ یوں ہی مخلص رہے تو وہ دن کوئی زیادہ دور نہیں کہ جب ہمارا صوبہ پنجاب اور شہرِ لاہور امریکا او ریورپ کے کسی ترقی یافتہ شہر سے مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائے گا اِنشا ءاللہ۔

بہرحال، آج کئی سالوں سے بے مراد رہنے والے سندھ کے عوام کے لئے یہ بڑی خوش خبری و حوصلہ افزااور خوش آئند بات ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سندھ و کراچی کے عوام کی بہتری اور اِن کی بے مرادی کومراد میں بدلنے اور سندھ و کراچی کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے دن و رات متحرک ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ یہ جب تک اپنے اِس منصب پر فائز ہیں اپنے صوبے سندھ اور کراچی کے عوام کی بہتری کے لئے کچھ بہتر کرجائیں تاکہ سندھ کے عوام اِنہیں یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ اِس عہدے پر رہ کرخو د تو سید مراد علی شاہ رہے اور اپنی ہی مرادیں پوری کرتے رہے اور قائم علی شاہ کے دور کی طرح ہمیں بے مراد کرکے چلے گئے۔

آج اِس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اِس بات کا تہہ دل سے تہیہ کرچکے ہیں کہ یہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے صوبے سندھ اور شہر کراچی کو صوبہ پنجاب اور شہرِلاہور کی طرح ایک جدیداور خوبصورت شہر بنائیں گے اور صفائی سُتھرائی کے نظام کو جلد ازجلد بہتر بنا کر سائیں بھٹوشہید اور بے نظیر شہید کے صوبہ سندھ اور شہرِ قائد کراچی کو دنیا کا ایک عظیم صاف سُتھرا شہر بنا کر ہی دم لیں گے، بشرطیکہ مُلک سے باہر بیٹھی ہوئی پی پی پی کی اعلیٰ قیادت آصف علی زرداری ، ادی فریال تالپور اور کبھی پاکستان آتے اور کبھی پاکستان سے باہر جاتے بلاول زرداری بھٹو اِن(سیدمراد علی شاہ) کے نیک جذبوں اوراِن اپنے صوبے سندھ وشہر قائد کراچی ترقی و خوشحالی کے لئے کی جانےوالی ایماندارانہ خدمات پر خائف نہ ہوجائیں اور اِن سے وزیراعلیٰ کی کرُسی نہ چھین لیں تو سندھ و کراچی کے عوام کو اِس بات کا پوراپورایقین ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سندھ اور کراچی کو امریکا اور یورپ کے شہروں کے مقابلے میں نہ سہی کم ازکم اپنے صوبہ پنجاب اور شہرِ لاہور جیسا تو ضرور بنا دیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY