پاکستان میں قیدیوں کی عید کیسی ہوگی؟ شمس جیلانی

0
198

گزشتہ کالم میں ہم اپنے خیال میں عید کے معاملات نبٹاچکے تھے۔ لیکن بعد میں ہم کو یہ خیال تنگ کرنے لگا کہ اس مرتبہ بیچارے قیدیوں کی عید کیسے ہوگی۔حالانکہ آپ جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ ویسی ہی ہو گی جیسے کہ ہمیشہ ہوتی تھی؟ مگر اس مرتبہ آپکا یہ جواب تشفی بخش نہیں ہے۔کیونکہ اس عید سے پہلے تک ہر عید اس ا صول پر گزرتی تھی کہ“ جتناگڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہو گا“کیونکہ گزشتہ عید تک “جیل مینوئیل“ یہ تھا کہ پیسہ پھینک تماش دیکھ یعنی وہاں ہر چیز پیسہ سے مل جاتی تھی۔ حتیٰ کہ عید منانے کے لیے گھر بھی جا سکتے تھے ۔ جو اتنا نہیں خرچ کر سکتے تھے۔ وہ فون یا کمپیوٹر پر گھر والوں کی شکلیں دیکھ سکتے تھے با تیں کر سکتے تھے مگر اس مرتبہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جیسے کہاا سلام لانے بعد تمام لوگ نیک ہو گئے تھے اور جھوٹ بولنا اور کم تولنابند کردیا تھا اور انہیں بدلا ہوادیکھ کر لوگ جوق درجوق مسلمان ہونےگئے تھے؟ یہاں ایسا جب ہی ہو سکتا تھا کہ لوگ اجتماعی توبہ کر کے رمضان سے فائدہ اٹھاتے ہمارے راہنما ان کی قیادت کرتے اور ہمیں بدلا دیکھ کر دنیا اسلام لے آتی۔ لیکن ہم پورے رمضان چور بازاری کرتے رہے اور وہ سب کچھ کرتے رہے جو ہم پہلے سے کرتے آرہے تھے۔ اسی مال میں سے زکات اور خیرات بھی ادا کردی افطار بھی کرا دیے، جب کہ حضور (ص) کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ “ وہ جسم جنت میں نہیں جائے گاجو حرام مال سے پلا ہو “ اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ جنہو ں نے ان جانے میں سفید دسترخوانوں پر بیٹھ کر یا میزوں پر کھڑے ہو کر افطاری انکا کیا قصور ہے؟ہم اس پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ابھی تک تین سالہ کورس کرکے ہم مفتی نہیں بنے جو کہ آجکل سعودی عرب سے لیکر ہندوستان اور پاکستان کے تمام مدرسوں ہورہا ہے۔ پہلے یہ اختیار کسی عالم کو دستار ِ فضیلت بندھنے کے تیس چالیس کے بعد ہم عصر علماء اس کی صلاحیت دیکھ کر کسی ایسے عالم کو پورے شہر یا ادارے کے لیئے“ مفتی“ مقرر کر دیدیتے کہ “ تم اب فتویٰ دے دیا کرو؟ ہم نے اس وقت کے مفتی بھی دیکھے کہ جنکے فتوؤں کی دھوم ہو تی۔ اب پنتیس کے مفتی بھی دیکھے۔ کیونکہ ایک نیا فقہ پیدا ہوا اسے پھیلانے کی ضرورت محسوس ہوئی اس کمی کو دور کرنے کے لیے انہوں نے تھوک بھاؤ مفتی تیار کرلیے۔ا ن میں سے درمیانی عمرا یک مفتی کو ٹی وی پر ااس سوال جواب میں کہ کیا حرام پیسہ بھی ہم مسجد اور کارخیر میں استعمال کرسکتے ہیں؟ ہم نے جواب میں یہ فتویٰ دیتے سنا کہ آجکل چونکہ حلال مال ملتا ہی نہیں ہے۔ لہذا کسی کے مال میں “حلال کا غلبہ ہو“ تو بھی جائز ہے؟

حضرات آپ نے سوال کرکے ہمیں پٹری سے اتار دیا۔ ہم بات کر رہے تھے۔ جیل میں قیدیو کی عید منانے کی اور بات کہاں کی کہاں جا پہونچی؟ا سلام قیدیوں ساتھ قسم کے برتاؤ کا حکم دیتا ہے۔ وہ “ یہ ہے کہ ان کو اپنے سے بھی اچھا کھانے کو دو“ جس کی مثال مسلمانوں کو حضور (ص) نےغزوہ بدر میں عمل کر کے دکھا ئی۔ جبکہ ہمارے یہاں اگر حکومت ایساکرے تو سارے نہیں تو ملک کی نوے فصد آبادی جیل چلی جا ئیگی؟ جیسے کہ امریکہ میں مفلس لوگ جاڑے گزارنے، موسم ِ سرما میں چھوٹے موٹے جرم کرکے جیل چلے جاتے ہیں۔ رہیں گرمیاں تو وہاں پارک بہت ہیں ۔ کیونکہ یہاں جیل خانے جات جیل نہیں، بلکہ ا صلاحی مرکز کہلاتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں جو “گڑ ڈالنے کے قابل نہہ ہوں“ تو ریت ملی روٹی اور مسور کی شکل کاپانی پی کر گزارا کرتے ہیں۔اب آپ پوچھیں گے کہ ایسی مشکل کیا آگئی ہے کہ آ پ قیدیوں کے لیے فکر مند ہیں ۔ ہوا کہ اس مرتبہ عید سے پہلے جیل پر چھاپہ پڑگیا تو میڈیا نے اچھالکر رکھدیا ،ب وہ نگرا ں ہے اخباارات بھرے پڑے ہیں کہ وہاں کیا کیا سہولیات میسر ہیں ۔ بس پیسہ ہو نا شرط ہے۔ اور اس پر انہیں یہ بھی شکایت ہے کہ حکومت نے ابتک کوئی موثر کارو ائی نہیں کی؟ بھائی یہ معاملہ آج سے تھوڑی ہے۔ پاکستان سے پہلے نہیں تو پاکستان بننے کے چند سال بعد سے تو جاری ہے۔ جو آیا اس نے جاری رکھا کہ “ اگلوں کی نشانی ہے“ ااس پر ہمیں ایک وقعہ یاد آگیا جو ہم نے کہیں پڑھاتھا پتہ نہیں سچ ہے یا جھوٹ۔ “ایک راجہ بلا کا ظالم تھا اور اس وزیراعظم بہت ہی نیک دونوں کی راہیں جدا ہونے کے باوجود بہت ااچھی نبھی ! راجہ مر گیا ، کیونکہ مر نا تو سبھی کو ہوتا ہے مگر سوچتا کوئی نہیں ہے۔اس زمانے میں نسلی باشاہت ہوتی تھی۔جمہوری بادشاہت نہیں اس کا بیٹ راجہ بنا پہلی مرتبہ جیل کے دورے پہ آیا ۔وزیراعظم نےایک بوڑھے کی طرف جو پہلے ہی مرنے کےقریب تھا اوراسے یہ کہکر حیران کرنا چاہا کہ یہ بھی کبھی جوان تھا جیل کی دال پی کر اس کی یہ حالت ہوگئی ہے۔ آپ کے پتاجی نے ناراض ہو کر اسے کسی بات قید کردیا تھا۔ اس نے حکم صادر فرمایا کہ اسےجیل میں ہی رکھو! کہ با با کی نشانی ہے؟

SHARE

LEAVE A REPLY