چند روز قبل ایک گروپ ڈسکشن میں چند خواتین سے بانجھ پن اور اس کے مسائل پر بات کرنے اور ان کے خیالات سننے کا اتفاق ہوا۔ اس گفتگو میں حصہ لینے کے بعد احساس ہوا کہ ہم جو برابری کی بات کرتے ہیں اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ منزل تو ابھی کوسوں دور ہے۔خواتین تو ابھی بھی قفل در قفل ایک زنداں میں مقید ہیں اور اس مقفل زنداں سے نکلنے کے مستقبل قریب میں کوئی آثار نظر نہیں آتے ہیں کیونکہ وہ ایک تالہ کھولتی ہے تو اگلا تالا اس کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔
عورت کو صرف “کھیتی” سمجھ لینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے اس عورت نام کی مخلوق کو انسان بنایا ہے۔ اس کے احساسات اور جذبات بھی ایک عام انسان کی طرح ہیں۔ وہ رشتہِ ازدواج میں ایک انسان کی حیثیت سے داخل ہوتی ہے ایک کھیتی کی شکل میں نہیں۔ افزائشِ نسل کے اس سارے مرحلے میں اس کی مرضی جاننا ضروری ہی نہیں مقدم رکھنا بھی بہت اہم ہے کیونکہ اس سارے مرحلے کا اثر براہِ راست اس کی زندگی اور صحت پر پڑتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں مقید عورت ابھی ایک لڑائی لڑ رہی ہوتی ہے تو اس کو دوسری لڑائی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ شادی کے بعد وہ اپنی زندگی کے اتنے بڑے تغیر کو سمجھنے کی کاوش میں لگی ہوتی ہے۔ شوہر، اس کے رشتہ داروں اور گھر کے معاملات کو ٹھیک سے نہیں دیکھ پاتی کہ طبعیت کی خرابی اس کا سر چکرا دیتی ہے۔ ابھی اسے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ مبارکبادوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ اور وہ حیران اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ کیا وہ اتنی بڑی تبدیلی کے لیے زہنی طور پہ تیار ہے؟ کیا اس کی صحت اس بات کی اجازت دیتی ہے؟ کیا اس کی زندگی میں اس نئے اضافے کی اس وقت گنحائش موجود ہے؟ یہ سب نظرانداز کر کے سب اپنی کھیتی کے کارآمد ہونے پہ مبارکباد وصول کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ نو مہینے کا وقت کتنا کٹھن گزرتا ہے اس کو جانے بغیر اس بات کا بےصبری سے انتظار شروع ہو جاتا ہے کہ کب بیٹا پیدا ہو کیونکہ مادہ تو بس کھیتی ہی چاہیے ہوتی ہےاور اگر بیٹی پیدا ہو جائے تو یہ “جرم” بھی عورت کے ہی کھاتے میں درج ہو جاتا ہے۔ اور نئے بیج کی افزائش تک طعنوں اور تنبیہوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ عورت کا استحصال اس طرح سے بھی ہوتا ہے کہ اسے یہ باور کروایا جاتا ہے کہ تمہاری اولاد ہو گی تو شوہر کے گھر میں تمہارے پاوں مضبوط ہو جائیں گے۔
خدانخواستہ اگر بیج افزائش کے مرحلے میں ہی ضائع ہو جائے تو ایک الگ پینڈورا بکس کھل جاتا ہے۔ کوئی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ اس انسان نما کھیتی نے جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ جذباتی دھچکہ بھی برداشت کیا ہے۔ ہمارا معاشرہ اس بات کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہے کہ اسقاطِ حمل کا مرحلہ عورت کے لیے اتنا ہی تکلیف دہ ہے جتنا کسی ماں کے لیے کسی جیتے جاگتے بچے کی موت۔ لیکن اس جرم کی پاداش میں عورت کو کٹہرے میں کھڑا کر کے یہ معاشرہ اسے مصلوب کرنے کا پیمانہ بھی خود ہی تجویز کرتا ہے۔
اگر کہیں خوش خبری آنے میں دیر ہو جائے یا پتہ چلے کہ کوئی مسئلہ ہے تو اس عورت کو اماں ملنا مشکل ہو جاتی ہے۔ اس جرم کو اس طرح لیا جاتا ہے کہ جیسے وہ اپنے پیدائش کے مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئی۔ ہر کوئی یہ مان لیتا ہے کہ قصور اور خرابی تو عورت میں ہی ہے۔مرد تو ازل سے حکمرانی کی چھڑی لیے اس قصور سے مبرا ہوتا ہے۔ عورت اس جرم کی پاداش میں سولی پہ لٹکی ادھ موئی زندگی گزارنے پہ مجبور ہو جاتی ہے۔ وہ زندوں میں شمار ہوتی ہے نہ مردوں میں۔ ہم اتنے پڑھے لکھے اور باشعور ہو کر کھیتی سے انسان تک کا سفر ہی طے نہیں کر پائے اور کھیتی بھی وہ کہ فصل نہ اُگے یا خراب اُگے تو سارا الزام کھیتی اور اس کی مٹی کو ہی دیا جاتا ہے بیج کیسا تھا، پانی وقت پہ لگایا گیا یا کھیتی کا خیال رکھا گیا اس بارے میں کوئی بحث نہیں۔ اس صورتِ حال میں بچہ گود لینے کا آپشن شاز ہی لیا جاتا ہے کیونکہ کھیتی کے مالک کو فصل اپنی چاہیے اور اگر فصل نہ ملے تو اس کو کھتیاں بدلنے کا حق حاصل ہے۔ ہاں کھیتی مالک نہیں بدل سکتی۔













