کرونا کیا تیسری عالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے؟ زبیر منور

0
621

کیا کورونا وائرس صورتحال دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جاسکتی ہے؟

آج دنیا بھر کی معیشت پچھلے گیارہ مہینوں میں بری طرح متاثر ہوٸی ہے۔ سیاحت سے لے کر تعلیم تک، صنعت سے لے کر تہذیب و تمدن تک، مذہبی عبادات سے لے کر معاشرتی اقدار تک، سماجی میل جول سے لے کر ثقافتی تنزلی تک اور تو اور انسان سے انسانيت کی دوری کے خوف نے ہر علاقے میں بے یقینی کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔

تاریخ کے اوراق ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں کہ جب جب بھی کاروبارِ حیات تنگ ہوا تب تب نت نٸے محاذ منہ زور گھوڑے دوڑاتے نظر آۓ۔

تاریخ کا زیادہ دور تلک نہ بھی مطالعہ کریں تب بھی ایک جھلک چند صدیاں قبل انقلابِ فرانس، زارِ روس کا زوال، حتٰی کہ ہسپانوی فلو کے دوران دنیا کو بھوک اور افلاس کے ہاتھوں پہلی جنگِ عظيم کا سامنا کرنا پڑا۔

معاہدۂ ورسائے (انگریزی: Treaty of Versailles) پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر طے پانے والے معاہدوں میں سے ایک تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں جرمنی اور اتحادی قوتوں کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ اس معاہدے پر 28 جون 1919ء کو آرک ڈیوک فرانز فرڈیننڈ کے قتل کے عین پانچ سال بعد دستخط کیے گئے۔ جنگ میں جرمنی کی حلیف دیگر ریاستوں کے ساتھ الگ معاہدے طے پائے۔ حالانکہ 11 نومبر 1918ء کو جنگ بندی کے بعد لڑائی کا خاتمہ ہو گیا تھا لیکن معاہدۂ امن کو حتمی شکل دینے کے لیے پیرس امن اجلاس میں چھ ماہ تک گفت و شنید ہوئی۔

معاہدے کی اہم، مگر متنازع شرائط میں، جرمنی کا جنگ کے آغاز کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا، غیر مسلح ہونا، کئی علاقوں سے دستبردار ہونا اور متعدد ممالک کو تاوانِ جنگ ادا کرنا شامل ہے۔ اس زر تلافی کی کل رقم 1921ء میں 132 ارب مارک (31.5 ارب ڈالر یا 6.6 ارب پاؤنڈ) تھی۔

تاہم اس معاہدے کی کئی شرائط پر عمل نہیں ہوا جن میں اہم جرمنی کا غیر مسلح اور صلح پر رضامند نہ ہونا تھا اور نہ ہی وہ اس معاہدے کے نتیجے میں کمزور پڑا۔ یہی وجہ دوسری جنگ عظیم کے آغاز کی وجوہات میں سے ایک تھی۔

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ لائیڈ جارج، فرانس کے صدر جارج کلیمانسو اور امریکا کے صدر ووڈرو ولسن تھے۔ اطالیہ کے وزیر اعظم وتوریو اورلاندو نے بھی مذاکرات میں اپنا کردار ادا کیا۔

جرمنی نے 28 جون 1919ء کو معاہدے پر دستخط پر رضامندی ظاہر کی اور 10 جنوری 1920ء کو جمعیت اقوام نے اس معاہدے کی منظوری دی۔

اس ذلت آمیز معاہدے پر دستخط کے نتیجے ہی میں 1933ء میں جرمنی کی ویمار جمہوریہ کا خاتمہ ہوا کیونکہ جرمن عوام نے جنگ کی ذمہ داری تن تنہا اٹھانے اور معاہدے کی دیگر متنازع شقوں کو قبول نہیں کیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت جرمنی کو اپنے 13 فیصد علاقے، 12 فیصد آبادی، 48 فیصد لوہے کی کانوں اور دس فیصد کوئلے کی کانوں سے دستبردار ہونا پڑا۔ تاوان جنگ کی رقم (132 ارب سونے کے مارک) اس کے علاوہ تھی۔ جرمنی کی فوج کم کر کے ایک لاکھ افراد پر مشتمل کر دی گئی۔ اس کی نیوی میں صرف 36 جہاز رہ گئے۔ آبدوز رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ فضائیہ بھی سرے سے ختم کر دی گئی۔ جرمنی کے 8000 ریلوے انجن اور دو لاکھ پچیس ہزار بوگیاں بھی چھین لی گئیں۔

اب ایک نظر دوسری جنگِ عظیم پر بھی ڈالتے ہیں۔ 24 اکتوبر 2020 کو ایک نئی کتاب ’بیہائنڈ دی اینیگما‘ شائع ہوٸی ہے اور اس میں مواد کو جی سی ایچ کیو کی فائلز سے لے کر چھاپا گیا ہے۔

اس کے مصنف یونیورسٹی آف کیلگری کے پروفیسر جان فیررس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے برعکس جیسا کہ بہت سے برطانوی شہری سمجھتے ہیں، بلیچلی کا جنگ جتوانے میں بہت زیادہ کردار بھی نہیں تھا۔

کتاب میں پہلی عالمی جنگ کے بعد سے لے کر آج تک کے سائبر دور تک ایجنسی کی شراکت کا ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس میں امریکی وسل بلوؤر (غیر قانونی کام کی مجاز حکام کو خبر دینے والا) ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے اثرات بھی شامل ہیں۔

پروفیسر فیرس لکھتے ہیں کہ ’بلیچلی کے کلٹ‘ نے جی سی ایچ کیو کی حفاظت کی ہے اور اس کی ساکھ کو بڑھاوا دیا ہے، اور یہ حقیقت کہ وہ اس بارے میں سوال اٹھانے کے قابل ہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ جی سی ایچ کیو نے انھیں اپنے نتائج اخذ کرنے کی مکمل آزادی دی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جی سی ایچ کیو شاید اس وقت برطانیہ کا سب سے اہم سٹریٹجک اثاثہ ہے اور نسلوں تک شاید اسی طرح رہے گا۔‘

اسی طرح دوسری جنگِ عظیم سے قبل بھی بھوک، افلاس اور خوف نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کی سب بڑی وجہ یورپی ملکوں کا جرمنی سے بُرا رویّہ تھا۔ یورپی ممالک اکثر جرمنی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور ان میں سب سے آگے فرانس تھا جو جرمنی کو اکثر دھمکاتا تھا۔ اسی دوران ہٹلر پاور میں آیا اور اس نے بدلا لینے کا فیصلہ کیا ۔ اور اپنی فوج کو طاقت ور بنانے میں لگ
گیا۔دوسری جنگ عظیم کی اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت ڈیکٹیٹر شپ اور قوم پرستی اپنےعروج پر تھی۔

برطانوی فوجی سربراہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہوتی ہوئی عالمی معیشت کی بدترین صورتحال دنیا کو تیسری جنگِ عظیم کی طرف لے جاسکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار برطانیہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل نک کارٹر نے ایک غیرملکی خبر رساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ معاشی بحران دنیا کو جنگ کی طرف لے جاسکتا ہے تو انھوں نے جواب دیا ان کے ملک کی معیشت کے اس سال اکتوبر سے دسمبر کے دوران دو فیصد تک سکڑنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

جنرل نک کارٹر جو برطانوی فوج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ عالمی علاقائی تنازعات بڑھ کر ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اور باقی دنیا کو تاریخ اور ان بین الاقوامی غلطیوں سے جو گزشتہ صدی کی دو عالمی جنگوں کا سبب بنی اس سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کی وجہ کورونا وائرس ہے جو کہ خطرناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم جس وقت میں رہ رہے ہیں یہ بہت غیر یقینی اور پریشان کُن صورتحال کا وقت ہے، ہماری زندگیوں میں گلوبل چیلینجز بھی موجود ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جنرل نک کارٹر کا کہنا تھا کہ ان حالات میں ہمیں علاقائی تنازعات کا حقیقی خطرہ بھی درپیش ہو سکتا ہے جو بڑھ کر غلط اندازوں کی طرف جاسکتا ہے، غلط اندازوں کا مطلب اس میں زیادہ لوگ شامل ہو جائیں، زیادہ ہتھیار شامل ہو جائیں اور اس سے پہلے کے اس پر قابو
پایا جائے یہ جنگ کی صورت اختیار کرلے۔

آج دنیا بھر کی معیشت پچھلے گیارہ مہینوں میں بری طرح متاثر ہوٸی ہے۔ کہیں یہ موجودہ سرد جنگ دنیا کو کسی تیسری جنگ کی جانب تو نہیں دھکیل رہی

SHARE

LEAVE A REPLY