ممبئی (ندیم صدیقی)
اُردو کے ممتاز اُستاد، اسکالر اور محقق پروفیسر شمس الحق عثمانی انتقال کر گئے
ممبئی :22اپریل ۔(ندیم صدیقی) دہلی سے ملنے والی مصدقہ اطلاع کے مطابق اُردو زبان (بالخصوص فکشن)کے ممتاز اسکالر (77سالہ) پروفیسر شمس الحق عثمانی طویل علالت کے بعد آج صبح انتقال کر گئے۔
شمس الحق عثمانی 17فروری1948 ع کو دیوبند(اترپردیش)میں پیدا ہوئے تھے۔ شمس الحق عثمانی کے والد ابرار الحق عثمانی (1952 میں) بسلسلۂ تلاشِ معاش دیوبند سے دہلی ہجرت کر گئے تھے، اُنہی کے ساتھ چار برس کی عمر سے شمس الحق عثمانی دہلی کے مشہور علاقے بلی ماران کی’ گلی چوکیدار‘ میں مقیم رہے۔کئی برس سے وہ صاحبِ فراش تھے اور حال ہی میں انھیں وینٹیلٹرپر رکھا گیا تھا، آج دوپہر میں ان کے ہمسائے اور نوجوان شاعر انَس فیضی نے یہ دُکھ بھری خبر ہمیں دِی۔
شمس الحق عثمانی نے روایتِ زمانہ کے مطابق ابتدائی تعلیم تو گھر ہی میں حاصل کی اور پھر1966ع میں اینگلو عربک اسکول سے ’ ہائر سکنڈری‘ کی تعلیم کے بعد انھوں نے چھوٹی چھوٹی ملازمتیں کیں اورگریجویشن کے لیے ذاکر حسین دِلّی کالج سے رجوع ہوئے اور پھر اسی درس گاہ کی شبینہ کلاسس سے انھوں نے1976ع میں
B.A
کیا، اسکے بعد مزید تعلیم کے لیے مرحوم نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لیا، جہاں سے انھوں نے1978 ع میں ایم اے ہی مکمل نہیں کیا بلکہ اسی دانش گاہ سے موصوف نے’ راجند ر سنگھ بیدی کے ’ فن و شخصیت‘ پر تحقیقی کام کا آغاز کیا اور 1984 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔ جامعہ اسکول سے انھوں نے درس و تدریس کا آغاز کیا، انھوں نے
’ نوح‘
(ہریانہ)
کے ایک ڈگری کالج میں لکچرر کے طور پر تدریسی خدمات انجام دیں،بعد ازاں 1998 میں شمس الحق عثمانی نے اپنی مادرِ علمی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں درس دینا شروع کیا اورکوئی پندرہ بر س کی علمی و تدریسی خدمات سے وہ 2013ع میں سبکدوش ہوئے۔
شمس الحق عثمانی سے ہمیں پروفیسر شمیم حنفی نے ممبئی ہی کے ایک ادبی جلسے میں متعارف کروایا تھا، یہ ملاقات سرسری ہی تھی مگر جب عثمانی صاحب نے ہماری کتاب’ پُرسہ‘ دیکھی اور جس طرح اس کی پذیرائی کی وہ ہمارے لیے ناقابل ِفراموش ہے، ان کا اصرار تھا کہ اس کتاب (پُرسہ) کا ایک اشاریہ بھی آئندہ ایڈیشن میں شامل ہونا چاہیے۔ ہماری اس بات کو خود ستائی نہ سمجھا جائے، اس ذکر سے محض یہ مطلوب ہے کہ وہ ایک علم دوست ہی نہیں بلکہ چھوٹوں میں فروغِ علمی کا مزاج بھی رکھتے تھے۔
سادہ طبیعت شمس الحق عثمانی ممبئی کے ممتاز اُستاد الیاس شوقی اور مشہور’ منٹو دوست‘ اسلم پرویز سے بھی قربت رکھتے تھے، اُن کا یہ اخلاص ہی تھا کہ وہ الیاس شوقی کی بیٹی کی تقریبِ شادی میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر مع اہلیہ ممبئی تشریف لائے، اس موقع پر بھی ہماری ان سے ملاقات ہی نہیں رہی بلکہ کئی ادبی موضوعات پر سیر حاصل گفتگو بھی ہوئی۔ وہ دیکھنے میں تو ایک مولوی لگتے تھے مگر ان کے ہاں کسی قسم کی شدت محسوس نہیں ہوئی۔2017یا 18کا زمانہ رہا ہوگا جب ہم پرانی دِلّی کےمشہورعلاقے بلی ماران میں واقع’ گلی ’چو کی دار ‘ میں نیاز مندِعثمانی بنے ہوئے ان کی رہائش پر پہنچے تو وہ نہایت محبت سے ملے اور انھوں نے ’ پُرسہ‘ کے اشاریے کا پھرذکر کیا، اپنے چھوٹوں کے کام کےتئیں اُنکی یہ دلچسپی اپنے آپ میں ایک ریکارڈ سے کم نہیں ۔ چونکہ وہ خودتحقیق اور تاریخ کے ممتاز اسکالر تھے تو وہ دوسروں کو بھی اسی راہ پر دیکھنے کے متمنی رہے یہ ان کی علم دوستی کی ایک و اضح دلیل ہے۔
ان کے ایک شاگرد ’ثاقب عمران لکھتے ہیں: انھوں(شمس الحق عثمانی)نے ہمیں فکشن کا درس دیا تھا، پریم چند کا’ کفن‘۔۔۔ منٹو کا افسانہ ٹو بہ ٹیک سنگھ، بیدی کی ’ لاجونتی‘ اور ناولٹ ایک چادر میلی سی، قرۃ العین حیدر کا ناول ’ آخرِ شب کے ہم سفر‘ چونکہ ہمارے نصاب میں شامل تھے، انہوں نے جس طرح ان تحریروں کو پڑھایا اور (ہمارے ہاں)فکشن کو سمجھنے کی فہم پیدا کی جو انہی کا حصہ تھی۔
فکشن سے متعلق ان کی تحریریں یقیناً اس کی دلیل ہیں کہ انھوں نے اس موضوع پر کس قدر اخلاص سےعمیق مطالعہ کیا ہوگا۔عہدِ حاضر میں فکشن جیسے موضوع پر اُن کا مطالعہ اور تفہیم استناد سے کم نہیں۔ وہ اپنے تلامذہ سےکہا کرتے تھے (مفہوم):فکشن کی تفہیم بھی شاعری ہی کی طرح مشکل امر ہے، افسانوں میں کہی جانے والی باتوں سے زیادہ’ ان کہی ‘کی تلاش ضروری ہے، تب ہی ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ ادب پارے کو خود میں جذب کرنے یا اس (کی روح )میں اتر جانے کے بعد ہی اس کے اندر کے جہانِ معنیٰ تک ہماری رسائی ہو سکتی ہے۔
ہمارے تدریسی معاشرے میں اس طرح اپنے تلامذہ کی مخلصانہ ذہنی تربیت کرنے والے عنقا ہورہے ہیں۔ ہمیں یہ اعتراف کرنا ہی چاہیے کہ شمس الحق عثمانی کی رِحلت ہماری تدریسی دُنیا ہی کا نہیں ہم جیسوں کا بھی ایک ذاتی نقصان ہے۔
شمس الحق عثمانی سے آخری ملاقات پر موصوف نے گراں قدراپنی مرتب کردہ’ نظیر فہمی‘کی دونوں جِلدیں بھی عنایت کی تھیں۔ ان کی دیگر کتابوں کے نام ہمیں اس طرح ملے ہیں : بیدی نامہ، محبِ وطن پریم چند اور دیگر مضامین، پیار کی خوشبو، ادب کی تفہیم، دراصل: ادب پاروں کی تفہیم، در حقیقت: تہذیبی افکار اور فن پاروں کی تفہیمِ باقیات بیدی} غیر مدون تحریریں اور انٹر ویوز{، ابو الفضل صدیقی: شخصیت اور فن کی تفہیم، رسالہ جامعہ کی تحریروں کا انتخاب، کلیاتِ منٹو(دو جلدیں)، افسانہ اور شعر کا بلاوہ(تنقید)، غالب اور منٹو اور ان کی وہ کتاب جو آکسفورڈ پریس نے شائع کی وہ تھی : ’پورا منٹو‘۔
’’بیدی نامہ ‘‘
سے متعلق قرۃ العین کا یہ تاثر کسی سند سے کم نہیں:
’’
یہ مقالہ یقینی طور پر بیدی کے تمام تخلیقی سرمائے کا ایک انتہائی صلاحیت مندانہ اور جامع محاکمہ ہے مقالہ نگار(شمس الحق عثمانی) نے اپنے موضوع کے تمام پہلوؤں اور تمام جہتوں پر اپنی بصیرت اور گِرِفت کی مہریں ثبت کر دی ہیں۔
‘‘
ان کے عرصۂ صدارتِ شعبۂ اُردو( جامعہ ملیہ اسلامیہ۔ دہلی) میں جو توسیعی خطبات ہوئے وہ بھی ان کی یادگار ہیں(جو ابتک جاری ہیں)۔
شمس الحق عثمانی کے پسماندگان میں بیوہ روشن عثمانی کے ساتھ (بیٹا) معین الحق غزالی عثمانی اور (بیٹی) مشربہ زمرد صبوحی عثمانی ہیں۔
انس فیضی کی اطلاع کے مطابق آج بعد نمازِ مغرب جسدِ شمس الحق عثمانی کو دِلی گیٹ کے قبرستان میں سپردِ لحد کر دیا گیا۔ ہر علم دوست سے راقم کی استدعا ہے کہ وہ شمس الحق عثمانی کے حق میں دعائے مغفرت کرے۔ آمین
—












