بلال رشید
بنائے آل عبا ہیں بتول و شیر خدا
شہہ عرب کی ضیا ہیں بتول و شیر خدا
میں اس لیے بھی ہوں منکر تری عدالت کا
کہ شیخ تجھ سے خفا ہیں بتول و شیر خدا
ادب سے سارے مورخ گواہی دیتے ہیں
نصاب جود و سخا ہیں بتول و شیر خدا
مباہلہ میں درود اور باغ جنت میں
نبی کے ساتھ بجا ہیں بتول و شیر خدا
ہمیشہ جھیل کےسب سختیاں زمانے کی
خدا کی کرتے ثنا ہیں بتول و شیر خدا
لٹائیں کیوں نہ بھرا گھر وہ کبریا کے لیے
کہ شان صبر و رضا بتول و شیر خدا
خدایا روز جزا ہو تری رضا حاصل
یہی تو کرتے دعا ہیں بتول و شیر خدا
انہی سے شہر صداقت میں روشنی ہے بلال
کہ نور صدق و صفا ہیں بتول و شیر خدا












