نواز تیرے نثار ۔۔۔ احتیاط لازم ہے اس لئے نواز اور نثارکے درمیان لفظ تیرااستعمال نہیں کیا کہ اس طرف فورا تضحیک کا احساس ہونے لگتا ہے اس لفظ تضحیک کا مطلب جانے بغیر ۔ اور اگر واقعی مطلب معلوم ہے تو پھر چودھری نثار علی خان جو کچھ اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ ساتھ منتخب ممبر صوبائی اسمبلی اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ کئے چلے جا رہے ہیں وہ کیا ہے ۔ 2002 سے گلی پہ گلی بن رہی ہے اور نالی پہ نالی اگر کچھ نہ بن سکا تو وہ کالج ، یونیورسٹی اور اسپتال ہے کہ چودھری نثار علی خان کے حلقے کے عوام کو شاید نہ تو اعلی تعلیم سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی لاکھوں ووٹروں میں سے کبھی کوئی بیمار ہوا ہے کہ اسے اسپتال کی ضرورت محسوس ہو یہی وجہ ہے کہ محترم چودھری صاحب نے گزشتہ پندرہ سالوں میں اس جانب کوئی توجہ نہ دی ۔ جبکہ اپنا ہرنیا کا آپریشن بھی لندن میں کروایا۔اور آنکھ کے آپریشن کے لئے لاہور تشریف لے جانی پڑی ۔ ہمیشہ جلسوں میں اپنی پاک دامنی اور اربوں روپے کے ترقیاتی کاموں کے قصیدے پڑھنے والے چودھری نثار علی خان میں برداشت کا مادہ اتنا کم ہے کہ وہ کسی بھی جلسے میں سوائے اپنی ذات کے کسی دوسرے مقرر کو سننا گوارہ نہیں کرتے اگر ان کی طبع پر گراں نہ گزرتا اور وہ دوسروں کو بھی سننے کی عادت کسی حد تک اپنا لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے حلقے کے عوام گلی ، نالی اور سڑک کی معصوم خواہشات تو ضرور رکھتے ہیں مگر ان کا سب سے بڑا مطالبہ تقریبا پندرہ لاکھ کی آبادی کے لئے یونیورسٹی اور ایک اچھے اسپتال کے قیام کا ہے ۔ امید ہے وہ اس جانب ضرور توجہ دیں گے ۔
اب بات کرتے ہیں ان کے اپنے گلے شکووں کی کہ جب سے ان کی قیادت کے خلاف عدالت عظمی کا فیصلہ آیا ہے قیادت اور باقی جماعت کو تو عدلیہ اور کچھ دوسرے اداروں سے گلہ ہے مگر چودھری نثار علی خان کو اپنی قیادت اور جماعت سے شکوہ ہے کہ وہ ان جیسے زیرک سیاستدان کو مشاورت میں شامل نہیں کرتے اس لئے انہوں نے جو مشورے مشاورتی اجلاس میں دینے تھے وہ جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں دینے شروع کر رکھے ہیں باوجود اس کے کہ انہی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے پرویز رشید یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ” چودھری نثار علی خان سے کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے ان کا اپنا نقطہ نظر ہے اور میرا اپنا ۔ ہم دونوں پارٹی کو اپنی اپنی بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ وقت اور حالات نے پارٹی کو وہ باتیں سمجھا دی ہیں جو ہم کہتے ہیں اس لئے چودھری نثار علی خان کی باتوں کو لوگ قبول نہیں کرتے” ۔
اب یہ لوگ کون ہیں اگر آپ میاں محمد نواز شریف کے بےلچک موقف پر نظر ڈالیں تو زیادہ سوچ بچار کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ان کی نظروں میں کن کے مشورے صائب ٹھہر رہے ہیں ۔ چار ساڑھے چار سال تک پارلیمان اور اپنے منتخب ممبران کو ٹکے جتنی اہمیت نہ دینے والے، عدالت عظمی سے نا اہلی کے فیصلے کے بعد نواز شریف سے نظریاتی سیاست کا بھوت اس برے طریقے سے چمٹا ہے کہ اب وہ خود بھی اس سے چھٹکارا حاصل کرنا نہیں چاہتے اور سیاسیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے خیال میں بہتر بھی یہی ہے کہ جب آپ طویل مشاورت اور سوجھ بوجھ کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکے کہ اب آپ نے ووٹر کے ڈالے گئے ووٹ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دینا اور بات بات پر مفاہمت نہیں کرنی تو پھر آپ کو اپنے موقف پر ڈٹے رہنے میں ہی آپ کی اور آپ کی جماعت کی بھلائی ہے اس موقف میں کامیابی کے لئے قربانی تو بہت بڑی دینی پڑے گی مگر اس وقت اگر نواز شریف نے گھٹنے ٹیک دئیے تو پھر باقی ماندہ سیاست نہ صرف نواز شریف کو بلکہ ہر سیاسی جماعت کو سر جھکا کے کرنی پڑے گی ۔
نواز شریف تو اس حقیقت کو بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اسی لئے وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو ہرگز تیار نہیں بلکہ ان کو جاننے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ نواز شریف نے اپنے آپ اور مریم نواز کے جیل جانے اور ہر سزا بھگتنے کے لئے ذہن بنا لیا ہے ۔اس سوچ کے ساتھ مسلم لیگ ن کی اکثریت اپنے قائد نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ دوسری طرف چودھری نثار علی خان اور ان جیسی سوچ رکھنے والے ان کے چند ہمنوا مفاہمت کی قوالی کرنے پر بضد دکھائی دیتے ہیں ان کے پیش نظر وقتی فائدہ ہے کہ نواز شریف کو سیاست کی قربانی دینی پڑتی ہے تو دے دیں پارٹی شہباز شریف کے حوالے کر دیں اور ہر صورت میں موجودہ حکومت اپنی معیاد پوری کرے ۔ حکومت کی معیاد پوری ہو یہ خواہش خود نواز شریف کی بھی ہے کہ اس طرح وہ مارچ 2018 میں سینٹ کے انتخابات میں اپنی جماعت کو اکثریت دلوا سکتے ہیں اور اس کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں اپنی کارکردگی خصوصا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے ، میٹرو، موٹر وے ، سی پیک منصوبوں اور اپنی مظلومیت کا رونا رو کر انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیں گے اور حکومت بنانے کے بعد آہین میں با آسانی ایسی ترامیم کر لیں گے جس سے موجودہ پیچیدگیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔
نواز شریف کی اس سوچ اور منصوبے کو صاحب اختیار ادارے اچھی طرح بھانپ چکے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی اپنے اختیارات کی قربانی دینے کو تیار نہیں اس لئے نواز شریف کے راستے میں بےشمار رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور کی جاتی رہیں گی حتی الامکان کوشش ہو گی کہ مسلم لیگ ن متحد نہ رہ سکے تاکہ نواز شریف کا گھمنڈ توڑا جا سکے اس سلسلے میں سب سے پہلے نشانہ دوسرے درختوں سے اڑ کر مسلم لیگ ن میں آنے والے پرندے ہوں گے جن پر کام جاری ہے ابھی تو اقتدار ہے اس لئے یہ پرندے کوئی اور دانا چگنے پر آمادہ نہیں مگر جونہی اسمبلیوں نے تحلیل ہونا ہے ان معصوم پرندوں کی آزمائش شروع ہو جائے گی ۔
اس تمام صورت حال میں نواز شریف کو چودھری نثار علی خان جیسے سمجھدار ، بردبار اور زیرک سیاستدان اور ساتھی کی اشد ضرورت ہے جو اداروں کے ساتھ معاملات کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں اسی لئے تو نواز شریف گذشتہ تقریبا 32 سال سے چودھری نثار علی خان کے ناز اور نخرے برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں اگر اس کڑے وقت میں چودھری نثار علی خان اپنی قیادت کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے نہیں ہوں گے اور آئے روز کبھی مریم نواز، کبھی شاہد خاقان عباسی ، کبھی خواجہ آصف اور کبھی احسن اقبال کو سر عام نشانہ بناتے رہیں گے تو پھر نواز شریف، آصف زرداری اور عمران خان سے کس منہ سے گلہ کریں گے کہ وہ تو اپوزیشن ہیں اور اپوزیشن کا تو کام ہی تنقید کرنا ہوتا ہے ۔












