خبردار کو ذرائع نے بتایا ہے کہ چند ہی سال پہلے ریڈیو پاکستان پشاور کے آرکائیوز سے مبلغ دو عدد ستار چوری کیئے گئےجو پاکستان کے اس تاریخی اور واحد اولین ریڈیو سٹیشن کی آرکائیوز کے ایک کونے میں ہیزل پر ایستادہ خاموش تماشائی بنے بیٹھےموسیقی کے اس سٹوڈیو میں پرانے اچھے وقتوں پر آنسو بہا رہے تھے ۔ ستار اور وچتر وینا کی قدروقیمت موسیقی سے شغف رکھنے والے ہی جان سکتے ہیں ۔
خبردار کو بتایا گیا کہ چوری کی یہ واردات اس وقت ڈالی گئی جب حال ہی میں اس سٹیشن سے سبکدوش ہونے والی اولین خاتون سٹیشن ڈائریکٹر کو اس وقت کے سٹیشن ڈائریکٹر امیرنواز مروت نے اپنی طویل رخصت کے پیشِ نظر ایکٹنگ چارج دیا تھا ۔
چوری کی اس واردات کو قصے کے راوی اس وقت کے میوزک لائبریرین اظہار اللہ نے بیان کرتے ہوئے بتایا کہ عفت جبار نے مجھ سے ایک چترالی ستار اور دوسرا عام مگر قیمتی ستار. اس بہانے سے ہتھائے کہ چترالی ستار اور مذکورہ تاریخی ستار کی نوک پلک سنوارنا ہیں ۔۔عارضی بنیادوں پر ملازم لائیبریرین بے چارے نے” مرتا کیا نہ کرتا ” کے مصداق دونوں ستار موصوفہ کےحوالےکر دیئے۔ کافی عرصہ گذرنے کے باوجود لائیبریرین عارضی نوکری کے چلے جانے کے خوف سے خاموشی کا لبادہ اوڑھے شش وپنج کا شکار رہا تا حالیکہ امیرنواز مروت ترقی پاکر پی بی سی ہیڈ کوارٹر میں کنٹرولر متعین ہوئےاوران کی جگہ جناب لائق زادہ لائق اسٹیشن ڈائریکٹر کے منصب پر بیٹھے۔
موصوف چونکہ اپنے وقتوں کے ایک نامی گرامی میوزک پروڈیوسر کے طور پر بھی ایک اعلیٰ مقام کےحامل ہیں انہوں نے چارج سنبھالتے ہی سرِ راہِ میوزک سڈوڈیو کا اچانک معائینہ کیا تو تاریخی ورثے میں نقب زنی کا علم ہوا لائبریرین سے پوچھ گچھ کیگئ جس نے تاریخی نوادرات پر قبضےکا سارا قصہ چٹھا کھول کر رکھدیا ۔۔ فرہاد انور یوسفزئی جب چترال سے واپس پشاور آئے. تو شعبہ موسیقی ان کے قلمدان کا حصہ بنایا گیا ۔ بعد میں جب ان کے ذریعے موصوفہ سےدونوں ستارواپس کرنے کامطالبہ کیا گیا تو وہ دونوں مسروقہ آلاتِ موسیقی کو نشرگاہ سے باہر لیجانے سے یکسرمکرگئیں لیکن بعد میں نجانے کیا سوچکرچترالی ستار توحیلے بہانوں سے واپس رکھ گئیں لیکن وہ ستار کہ جس کی تاروں پر دنیائے موسیقی کے کن کن اساتذہ کی فن بھری انگلیوں کا لمس اب بھی موجود ہوگا گیا سو گیا مالِ مسروقہ بن گیا۔
موصوفہ نے شروع میں اس واردات سےقطعی لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔۔اس سلسلے میں مقامی طور پر ان سے تحریری طور پرپوچھ گچھ ہوئی لیکن کسی غیبی قوت نے اس مسٗلے کو اس وقت دبا دیا تھا۔ اور یوں بات آئیں بائیں شائیں ہوگئی تاہم ایک عدد
چترالی ستار واپس کروایا گیا۔۔
خبردار کی معلومات کے مطابق محترمہ نے ریڈیو پاکستان کے آرکائیول ویلیو کا وہ تاریخی ستار بیرونی ملک کسی جاننے ” والے ” یا جاننے “والی” کو بطور تحفہ دیا ہے۔۔
لگے ہاتھوں یہ سطور بھی پڑھتے جائیے کہ معروف پشتو گلوکار استادخیال محمد کو پچھلے سال حکومتِ پاکستان کی طرف سے دیا جانے والا ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی محترمہ عفت جبار نے اپنے من یرغب یعنی اپنے نام کرانے کے لیئے ایڑی چوٹی کازور لگایا ،دوست و احباب اور ملازمین سے خصوصی میٹنگوں کے دوران داد بھی وصول کرتی رہیں۔ اور انہیں یہ احساس بھی دلایاکہ یہ ایوارڈ موصوفہ کو ان کی بہترین کارکردگی کے اعتراف میں ملا ہے جبکہ خیال محمد اور ان کے خاندان کو مکمل طور پر ایوارڈ سے لا علم رکھا گیا۔ بعد میں جب خیال محمد کے خاندان کو پتہ چلا تو ان کے پشتوگلوکاربیٹے وصال محمد خیال کی طرف سے اخبار میں تصحیحی خبر شائع کی گئی کہ ریڈیو پاکستان پشاور کی اس وقت کی اسٹیشن ڈائریکٹرمحترمہ عفت جبار نے بسترِ علالت پر پڑے میرے والدخیال محمد کے ایوارڈ پر قبضہ جمایا ہے او ر اگر اس سلسلے میں انہیں مطمئن نہیں کیا گیا تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا ئیں گے۔
اس اخباری خبر سے ریڈیو پاکستان کے وقار پر منفی اثر مرتب ہوئے خوب جگ ہنسائی بدنامی اور کھلبلی مچ جانے کے بعد موصوفہ سابق اسٹیشن ڈائریکٹر نےبالآخر چار وناچار یہ صدارتی تمغہء حسنِ کارکردگی استاد خیال محمد کو پپش کرنے کی غرض سے بجائے اس کے کہ ایک خصوصی تقریب میں استاد خیال کےحوالےکرتیں ان کے گھر چندپروڈیوسروں ایک کمپئرایک عدد انجینئر اور پروگرام مینجر کے ہمراہ ان کے گھر جاکر ان کے حوالے کردیا ۔وہیں بیٹھے بٹھائے انٹرویوزریکارڈ ہوئے تصویریں کھینچوائی گئیں تاکہ. یہ سب کچھ بوقتِ ضرورت سند رہے۔۔
شنید ہے کہ سابق اسٹیشن ڈائریکٹر نے سبکدوشی والی رات اپنے بھائی اور کرائے کے چند افراد کی مدد سے اسٹیشن ڈائریکٹر آفس کا کچھ ذاتی اور کچھ سرکاری سازوسامان اپنی نگرانی میں اس کمرے میں منتقل کیا ہے جہاں وہ سینئر پروڈیوسر کے وقتوں سے لیکر ڈپٹی کنٹرولر تک بطور آفس استعمال کرتی رہیں اور بعد میں بھی اس پر براجماں رہیں۔۔ تمام سامان کو مقفل کرکے اس میں ایلفی ڈال کرگھر چلی گئیں ۔۔گذشتہ دنوں شعبہء انجینئرنگ نے پی بی سی ہیڈکوارٹر کے شعبہ سیلز کے کنٹرولر ( جوکہ موجودہ اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان پشاور ہیں )کے اعزاز میں خیرمقدمی دعوت طعام کا اہتمام کیا اور اس دعوت شیراز میں سابقہ سٹیشن ڈائریکٹر کو بھی مدعو کیا ۔۔۔خوردونوش گفتند نشستند کے بعد موصوفہ نے سب کی موجودگی میں اپنے مقفل کمرے کے دیدار کی خاطر کمرے کو جب کھلنا چاہا تو شور کہرام مچا دیا کہ میرے کمرے کے تالے میں کسی نے ایلفی ڈالی ہے ۔۔۔اب کوئی نہیں جو سٹیشن ڈائریکٹر اور موصوفہ کے علم میں لائے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ریٹائر ملازم کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کوئی دفتری کمرہ اپنے تصرف میں جاری نہیں رکھ سکتا ۔دراصل (گمان زیانِ ایمان) موصوفہ ایلفی کی آڑ میں کوئی نئی واردات کاسوچ رہی ہیں ۔۔۔باقی آپ قارئین سمجھدار ہیں اور موصوفہ کا ٹریک ریکارڈ بھی موجود ہے۔۔۔انصاف آپ کے ہاتھ میں۔













