ضرورتا مانگتے ہیں یا عادت سے مجبور ہیں؟…!طارق بٹ

0
877

کسی صاحب دانش سے کسی نے پوچھا صاحب دنیا کا سب سے مشکل کام کون سا ہے ؟ بولے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا دوبارہ پوچھا گیا اور سب سے آسان کام کون سا ہے ؟ ہنس کر فرمایا عادت پڑ جائے تو کسی کے بھی سامنے ہاتھ پھیلا کے مانگ لینا –
تجزیہ کرتے ہوئے کسی اور کی جانب انگلی کیا اٹھانی کہ ایک ادھر اٹھے گی اور باقی اپنی جانب تو بات سیدھی اور سچی یہ ہے جناب عالی کہ زندگی میں بوجہ مجبوری جب پہلی بار ہتھیلی کسی اور کے سنے لے جائی گئی تو ہزار بار سوچا اور پھر بھی انتہائی شرمندگی اور ہچکچاہٹ سے مدعا بیان کیا جا سکا مگر اس کے بعد چل سو چل نوبت یہاں تک پہنچی کہ والد محترم کو درمیان میں آنا پڑا تب معلوم ہوا کہ آگر آپ کسی سے صرف ایک سو روپیہ بھی ادھار لے لیں تو اسے لوٹانے کے لئے کسی اور سے سو روپیہ ادھار مانگنا پڑے گا یوں یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جائے گا اس لئے بہتر یہی ہے اپنی فاقہ مستی کے رنگ لانے کا انتظار کیا جائے اور جب تک وہ رنگ نہیں لاتی چادر کے مطابق پاوں پھیلائے جائیں ورنہ ٹانگیں سکیڑ کے بھی تو سویا جا سکتا ہے –
آپ بیتی چل رہی ہے بات ہے اس دور کی جب راولپنڈی کے علاقے مانکیالہ ریلوے لائن پر اوپری پل نہیں بلکہ پھاٹک ہوا کرتا تھا ٹرین نے راولپنڈی سے سفر آغاز کرنا اور مانکیالہ پھاٹک بند ، دن میں دسیوں بار یہی معاملہ ، سڑک کے دونوں جانب لمبی قطاریں، ان قطاروں میں لگی گاڑیوں کے ہر دروزے پر دستک دیتے اور ہاتھ پھیلاتے ایک صاحب، روزانہ گزرتے ہوئے انہیں دیکھا کرتے ایک دن رہا نہ گیا انہیں ساتھ لیا اور سڑک کنارے موجود ایک چائے خانے کا رخ کیا چائے پینے کے دوران پوچھا صاحب روزانہ چار پانچ ہزار تو بنا لیتے ہوں گے ہنس کر بولے جی بالکل درست اندازہ ہے آپ کا مگر اس میں سے ایک ہزار روزانہ پھاٹک والے اہلکار کی نذر کرتا ہوں جو مجھے یہاں مانگنے دیتا ہے اور پھاٹک بھی دس پندرہ منٹ پہلے بند کر دیتا ہے دوبارہ سوال داغ دیا صاحب مہینے کا تقریبا ڈیڑھ لاکھ کماتے ہیں تیس ہزار پھاٹک والے کو دے کر پھر بھی ایک لاکھ بیس ہزار بچتے ہیں ان سے کوئی چھوٹی موٹی دکان کیوں نہیں شروع کر لیتے – لمبا سانس بھر کے بولے صاحب دکانداری کوئی آسان کام ہے صبح صبح دکان کھولو صفائی ستھرائی کرو سامان لاو ریک میں لگاو اور پھر سارا دن گاہک کا انتظار کرتے رہو کون یہ عذاب پالے صاحب اس سے پہلے کہ میں کہتا صاحب آپ مانگنے کی عادت میں مبتلا ہو چکے ہیں وہ اٹھے اور قطار میں لگی گاڑیوں کی جانب تیزی سے لپکے کیونکہ پھاٹک ایک بار پھر بند ہو چکا تھا اور ان کا نصیبا کھلنے جا رہا تھا نصیبا تو اس وقت بند ہوا جب مانکیالہ پھاٹک پر اوپری پل بن گیا تب سے ان صاحب کو نہیں دیکھا شائید اب کسی اور پھاٹک کا انتخاب کر لیا ہو –
آج اگر آپ راولپنڈی کے فوجی فاونڈیشن اسپتال کے پاس سواں پل کا رخ کریں تو وہاں بھی مختلف اوقات میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوتی ہیں اور بیسیوں مرد و زن مسکین صورت بنائے، ہتھیلیاں پھیلائے ان گاڑیوں سے مستفید ہو رہے ہوتے ہیں انہی کرداروں میں سے ایک نوجوان لڑکی کو ایک دن بصد مشکل اپنی داستان سنانے پر راضی کر لیا گود میں اٹھائے سال چھ مہینے کے بچے کو بہلاتے ہوئی گویا ہوئی صاحب کیا کروں پڑھی لکھی ہوں مگر ملازمت ملتی نہیں آخر کسی ہمدرد کے مشورے پر یہ کام شروع کر دیا اب بہت سکھی ہوں پوچھا کیوں کیا تمہارا خاوند کچھ کام نہیں کرتا ؟ شرما کر بولی صاحب خاوند کہاں سے آئے گا ابھی تو میری شادی ہی نہیں ہوئی میں نے حیرانی سے پوچھا تو پھر یہ بچہ ؟ آواز بہت دھیمی کر کے بولی صاحب کسی سے ذکر نہ کرنا بچے کرائے پر بھی مل جاتے ہیں میں بھی روزانہ جو کچھ کماتی ہوں آدھا میرا اور آدھا اس بچے کی ماں کا ، میں جب حیرت کے سمندر سے باہر نکلا تو وہ لڑکی میرے آس پاس نہیں تھی بلکہ تھوڑی دور ایک گاڑی والے کے سامنے ہتھیلی پھیلائے گڑگڑائے چلی جا رہی تھی صاحب کچھ دے دو میرا بچہ صبح سے بھوکا ہے –
آپ بیتی سے جگ بیتی کا رخ کریں تو ساگری والے ملک الطاف حسین کا سنایا ایک واقعہ یاد آتا ہے کہ ان کے ایک جاننے والے صرافہ بازار راولپنڈی میں اپنے ایک دوست صراف سے اپنی بیٹی کے لئے ایک چین بنواتے ہیں اور ڈبی میں ڈالے بغیر قمیض کی سائیڈ والی جیب میں ڈال لیتے ہیں چائے کا دور چلتا ہے یوں گپ شپ میں وہ چین کی سائیڈ والی جیب میں موجودگی کو فراموش کر بیٹھتے ہیں اسی دوران ایک مسکین صورت ساٹھ سال سے اوپر کا بھکاری لاٹھی گھسیٹتے نمودار ہوتا ہے اور دست سوال دراز کرتا ہے وہ صاحب ترس کھا کر سائیڈ والی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں اور جیب میں موجود اپنے اندازے کے مطابق پچاس ساٹھ روپے اس بھکاری کی ہتھیلی پہ رکھ دیتے ہیں بات آئی گئی ہو جاتی ہے مگر جب موصوف گھر پہنچ کر جیب سے چین نکال کر بیٹی کو دینا چاہتے ہیں تو چین کا وہاں کوئی وجود نہیں ہوتا طویل سوچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہو نہ ہو وہ چین اس بھکاری کے پاس چلی گئی واپس اپنے جاننے والے صراف کے پاس پہنچے سارا ماجرا بیان کیا دوست نے داستان سن کر کہا کوئی مسئلہ نہیں اگر فیقے کے پاس چین گئی ہے تو سمجھو محفوظ ہے پوچھا فیقا کون جواب ملا وہی بھکاری عرصہ ہو گیا یہاں مانگنے آتا رہتا ہے تقریبا سارے اسے اس کے گھر تک جانتے ہیں اسی دوران رات ہو گئی انہوں نے اپنے صراف دوست سے فیقے کا پتا لیا اور اس کے گھر سیٹلائٹ ٹاون پہنچ گئے انتہائی شاندار کوٹھی دیکھ کر سوچ میں پڑ گئے کہ دوست نے غلط پتا دے دیا بالآخر ہچکچاتے ہوئے گھنٹی بجا دی چند لمحے بعد نہایا، دھویا اجلا لباس پہنے ایک شخص باہر نکلا اور آمد کا مقصد دریافت کیا جب آپ نے بتایا کہ فیقے سے ملنا ہے تو گھر کے اندر لے گیا سجے سجائے ڈرائینگ روم میں بٹھا کر بولے جناب میں ہی فیقا یا یوں کہہ لیں رفیق ہوں اب ارشاد فرمائیں صاحب پہلے تو ششدر رہ گئے پھر اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا رفیق نے سب سنا تو بولا درست فرمایا آپ نے آج ایک چین میرے مانگے ہوئے پیسوں کے ساتھ آئی تو ہے اور بالکل محفوظ ہے آپ تشریف رکھیں میں ابھی لے کر آتا ہوں پھر چند ہی لمحے بعد رفیق وہ چین لے آیا آور ان کے سپرد کرتے ہوئے بولا یہ لیں جناب آپ کی امانت اور اب بتائیں کھانے میں کیا پسند فرمائیں گے بولے کھانے کو رہنے دیں اگر برا نہ منائیں تو گتھی سلجھا دیں رفیق ہنس کر بولا صاحب یہ جو کچھ ہے مانگے تانگے کا اب تو اتنا ہے کہ کسی شے کی طلب نہیں مگر چالیس سال ہو گئے ہاتھ پھیلاتے ہوئے اب یہ پھیلی ہوئی ہتھیلی الٹی ہوتی ہی نہیں یوں سمجھ لیں عادت سے مجبور ہو کر مانگنے نکل جاتا ہوں رفیق کی بات سن کر میرے ذہن میں آیا کہ ہمیں بھی تو تقریبا 72 سال ہو گئے ہیں مانگتے ہوئے ہم کیا ضرورتا مانگتے ہیں یا عادت سے مجبور ہیں؟…!

SHARE

LEAVE A REPLY