یہ چاہتِ زر ہے جوکہ مفلوج ہے دنیا اس واسطے ظالم کی خدائی نہیں جاتی۔یہ ہماری ایک غزل کے تین مصرعے ہیں جوکہ حقیقت ِ حال بتا رہے ہیں جبکہ بچپن سے ہی یہ صورت حال دیکھتے آرہے ہیں اور تھک کر ہم نوے کی دھائی ختم کرنے والے ہیں۔ نہ ہم نے خلوص کے ساتھ مسلمانوں کو اللہ طرف جھکتے دیکھانہ مسلم دنیا کو بدلتے ہمیشہ سب اس امید پر رہے کہ اللہ بڑا کریم ہے بڑا رحیم ہے وہ ہر گناہ معاف کردیگا اور مولوی صاحب منبر سے یہ ہی سبق دیتے رہے کہ اس کی رحمت مایوس مت ہو مایوسی کفر ہے کبھی یہ کہتے نہیں سنا کہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ “ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لیئے وہ جدو جہد کرتا ہے “ نہ یہ کہتے سنا کہ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کوخود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو؟ ہماری اس اجتمائی کوتاہی کے باوجود ہم نے اسے بارہا معاف کرتے بھی دیکھا مگر عوام کو بدلتے نہیں دیکھا نہ کسی حکمراں کو اپنے وعدے پورے کرتے دیکھا اور بدلتے دیکھا ،البتہ سب کو اس کا الٹ کرتے دیکھا؟ پھر بھی اس کی رحیمی دیکھئے! کہ وہ بار بار مواقع عطا کرتا رہا حتیٰ کہ زمین سونا اگلنے لگی مگر نہ ہوس زر گئی نہ قناعت بلکہ فضول خرچی اپنالی بجائے عوام کی حالت بہتر بنانے کے اپنے بیت الخلاء زریں بنا لیئے ،جوئے میں دولت ہارنے لگے شرابوں میں مال لٹانے لگے، بلین کی رقم تصویروں پر خرچ کرنے لگے ؟جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فضول خرچی سے منع فرمایا ہے یہاں تک فرمادیا کہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں؟ جبکہ لوگ وعدوں سے پھرتے رہے۔ حتیٰ کہ صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ پہلے اکثر ایسے ایک یا دو گناہ پر اللہ سبحانہ تعالیٰ عذاب نازل فرمادیتا تھا اور ان قوموں کو نیست اور نابود کردیتا تھا جو ان گناہوں کی مرتکب ہوتی تھیں۔ مگر اب دنیا وہ سارے گناہ بہ یک وقت کر رہی ہے جو اس کے بس میں ہے؟ مگر وہ اپنی سنت کے مطابق اکثرجھٹکے تو دیتا رہا ہے کہ سنبھل جا ؤ۔ مگر اس نے اپنے حبیبﷺ وعدہ کیا ہوا کہ اور امتوں کی طرح اس امت کو وہ ویسی سزا نہیں دیگا۔ صرف ایک کی گارنٹی نہیں عطا فرمائی وہ اسی سورہ انعام کی آیت 65 کا آخری جز ہے کہ “ میں تمہیں تکڑیوں میں بانٹ کر آپس میں لڑا نے پر بھی قادر ہوں “ اب وہ چاروں طرف دیکھنے میں بھی آرہا ہے جنتے مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارے گئے اتنے تمام دنیا نے ملکر نہیں مارے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعید موجود ہے کہ جس نے بلاوجہ کسی مسلمان قتل کیا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا؟ جبکہ و ہ وجوہات بھی بتادیں ہیں اور سزا دینے اجازت اس ملک کے قاضی کو دی ہے جہاں کہ اسلامی حکومت قائم ہو (جو بدقسمتی کہیں بھی نہیں ہے) جبکہ 58 تو باقاعدہ مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہیں اور بے قائدہ اتنی حکومتیں ہیں کہ جنکا گنناممکن نہیں ہے اور ہر طرف فتنے اور فساد کازور ہے۔ کہیں امن قائم ہوتا بھی ہے تو چند دن کے لیئے پھر وہی کاروبار شروع ہوجاتا ہے۔ جبکہ کہیں امن قائم ہوجانے کے بعد کوئی فتنہ قائم کرے تو قتل سے بڑا گناہ ہے۔ مگر ہم بلا تفریق مذہب اور ملت اپنوں غیروں کو قتل کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں فتنے پیدا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ جو بھی صاحب ِ اختیار ہے انہیں اور ان کے ساتھیوں کوظلم کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ ہم نے کسی کا کسی اپنے دوست کو ظلم سے ہاتھ پکڑتے نہیں جوکہ ہر ایک ذمہ داری ہے؟ کسی کو کسی ظالم کی حمایت سے ہاتھ اٹھاتے نہیں دیکھا کہ یہ حکم ہے؟ یہ تو عوام کی حالت ہے کسی عالم کی زبانی ان موضوعات پر کسی منبر سے تقریر کرتے ہوئے کبھی نہیں سنا۔ حالانکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا قرآن میں حکم ہے کہ“ وعظ حکمت کے ساتھ کرو “مگر انہیں مصلحت عامل قرآن نہیں ہونے دیتی؟ جبکہ انہیں ایک حدیث کے ذریعہ ہادیِ اسلامﷺ کا بھی حکم ہے کہ جب لوگ برائی کی راغب ہو ں تو انہیں اپنی تقریر کے ذریعہ اللہ کے غضب سے ڈرا ؤ اور اگر امن و امان ہو تو اللہ کی نعمتو ں کی نوید دو۔ مسجدیں بھری ہوئی ہیں جو کہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں اس کلیہ کے مطابق اگروہ سچی بات کہدیں اور انہیں احساس دلادیں، تو مسلمان یہیں توبہ کرلیں اوربدل جا ئیں تو کیا بہتر نہیں ہے،بجا ئے اس کے کہ یوم ِ قیامت حضورﷺ بطور امتی ان کو پہچانیں، مگر فرشتے ان کو بتائیں کہ آپﷺ کو معلوم نہیں کہ آپﷺ کے بعد انہوں نے کیا کیا؟ اور مسلمان اس ذلت سے بچ جائیں؟ اللہ سب کو شرمندگی سے محفوظ رکھے (آمین)













