مصلحت کا دوسرا رُخ ہے منافقت ۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم

0
1265

آج کا دن بہت بھاری تھا۔۔ 8 محرم کا دن ویسے بھی دل کو بہت اداس کر دیتا ہے پر آج تو قیامت یہ ہوئی کہ میرے ایک نہیں تین مریض اپنی سدھ بدھ کھو کر اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے بھی پریشانی بنے ہوئے تھے ۔۔ ہوسپٹل اور پولیس کے چکر تمام ہوئے تو گھڑی میں بھی شام کے سات بج چکے تھے۔۔ گھر پہنچ کر ابھی بیٹھی ہی تھی کہ فون پر نوٹیفیکیشن شروع ہو گئے ۔۔فیس بک پر ایک کہرام سا بپا تھا۔۔ عجب منظر تھا ۔۔ خبر تھی “ اسلام آباد ہائی کورٹ نے محفوظ کیا ہوا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی سزائیں معطل کر دیں“ ۔ ساتھ ہی تصویریں اور وڈیوز ۔۔
خدایا یہ سب کیا ہے ۔۔؟
وہ سب کیا تھا جس کے خواب عمران خان نے دکھائے تھے ۔۔ مدینے کی ریاست ، لوٹا ہوا مال واپس ، مجرموں کو سزایئں ، ڈیم بنانے کی فریاد۔۔۔ سعودی شہزادہ سلمان کی ایک نظر کی تاب نا لاسکے ۔۔ عمران خان اور یو ٹرن تو لازم و ملزوم تھا ۔۔۔ پر۔۔ پاکستان میں مدینے جیسی ریاست بنانے والے کوفیوں جیسی حکومت کریں گے ، یہ معلوم نہ تھا۔!

حیران ہوں جب کوئی اور حکومت این آر او کرتی ہے تو اسے تا حیات مطعون کیا جاتا ہے اور آج جب عمران خان کرنے جا رہا ہے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ شکر ہے کچھ پیسے تو آیئں گے ۔ یہ کیسی منافقت والا کھیل ہے جو یزید کے جد امجد سے لے کر ابھی تک چل رہا ہے ۔ کیا واقعی سیاستدانوں کی ماں ایک ہی ہوتی ہے جو صرف لین دین جانتی ہے۔ یہ کیسا احتساب ہے ۔۔کہ ۔۔ پیسہ پھر جیت گیا۔ یعنی پیسوں والے بندے کھا جائیں یا ملک سب پیسے دے کر معاف ۔۔۔ لیکن کوئی غریب معمولی سا بھی جرم کرے اس کو مار ڈالو ۔۔ جلا ڈالو ۔۔ تا عمر قید کر دو ۔۔ اس کا کوئی پرسان حال نا ہو ۔۔

حیدر رضا میرے بھائی تم درست کہتے ہو “میں تیار ہوں آدھاپیسہ دینے کو ، اگر مجھے بھی لوٹ مار کی اجازت دے دی جائے ۔۔۔ لوٹونگا۔۔ لوٹادونگا“

مجھے یاد ہے عمران خان کے پیچھے دوستوں کی آپس میں کتنی لڑائیاں ہویئں تھیں ۔۔ ڈیم کے پیچھے تو جدائیاں پڑ گیئں تھیں۔۔ یہ کیسا فیصلہ آیا ہے کہ خواب دیکھنے والی انصافی آنکھیں صدمے سے شرمسار ہیں اور مدمقابل مجرموں کی رہائی پر شرمسار ہیں ۔۔کتنا سمجھایا تھا کہ اتنی امیدیں نا باندھو ۔۔ نا خفا ہو اپنوں سے ۔۔ سیاست اندھی ہوتی ہے ۔۔ ہم سے ڈیم کے لئے چندے مانگ کر دوسروں کے سامنے سر جھکا لیا ۔۔۔ بھائی جنید ملک آپ کا غم میں جان سکتی ہوں ۔۔ کتنے پر امید تھے آپ اور اب کس دل سے لکھا ہے “ میں بہت سخت دکھی ہوں ۔یہ عمران خان کی پہلی شکست ہے ۔ اور 70 سال سے انصاف ڈھونڈتی قوم کے منہ پر طمانچہ ہے “

ٹیکسلا کے معروف نثر نگار اور افسانہ نگار خالد قیوم تنولی نے کیا اچھا لکھا “ پہلے کے معاشرے اور تہذیبیں اس لیے بھی تباہ ہوئیں کہ غریب اور کمزور سے جرم سرزد ہو جاتا تو اسے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا اور اگر کوئی امیر و طاقتور جرم کرتا تو اسے رعایت اور معافی دے دی جاتی۔ آج پاکستانی سماج اسی تاریخ کو لوٹا رہا ہے۔ یہاں قوم اور ملک کا کھربوں کا مال لوٹ کر اور سینکڑوں ہزاروں کو پلک جھپکتے میں موت کے گھاٹ اتار دینے والوں کو ڈھیل دے کر ڈیل کر لی جاتی ہے ۔ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر مقننہ اور عدلیہ نمائشی اندھی ، بہری اور گونگی بن جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ قوم مفلوج ذہنیت کے ساتھ “پاک سر زمین شاد باد” کے راگ الاپتی ، خوش فہمی کے مرغزاروں میں ٹھڈے کھاتی پھرتی ہے۔ کیا ستم ہے کہ آپ ملک و قوم کو اپنے رحم و کرم پر چھوڑ دیں اور کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے۔ آپ جیئیں امریکہ ‛ برطانیہ ‛ فرانس ‛ سپین اور متحدہ امارات میں اور قبریں اس “مدینے” میں بنیں جس کے لیے لاکھوں جانیں اور بے شمار عصمتیں لٹ گئیں۔“

حدیث پاک ہے “ ہر امت کے لئے ایک فتنہ ہے ۔۔ میری امت کا فتنہ ” مال” ہے ۔۔۔!

سچ کہوں دوستو ۔۔۔۔۔۔۔ دھوکے کا دکھ اتنا شدید ہے کہ اب اور کچھ نہیں لکھا جارہا ۔۔ رہائی پانے والے نواز شریف، مریم نواز اور صفدر جہاں بھی رہیں گے اپنی شان و شوکت اور سکون سے رہیں گے ۔ سوچنا پاکستانی عوام کو ہے کہ انہیں اب بقیہ چار سال گیارہ مہینے “ کوفیوں “ کے ساتھ رہنا ہے ۔

دیں ہے ہمارے اہل سیاست کا مصلحت
اور مصلحت کا دوسرا رُخ ہے منافقت
صفدر ہمدانی

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY