انسان فطری طور پر نقل چور ہے . اس نے اپنے خالق اللہ تعالیٰ کے ہر فعل کی نقل اتارنے کی کوشش کی ہے اور کرتا چلا جا رہا ہے. قدرت کے حسین رنگ دیکھ کر اپنی عقل سے ان رنگوں کو بنا لیا ، گل و بوٹوں کی مسحور کن خوشبوؤں کو محسوس کیا تو ان خوشبوؤں کو بنا لیا . مگر جو خصائل اس پروردگار نے انسان کو اپنی خوبیوں میں سے براہ راست عطا کیے انکو استعمال کرنے میں غلطی کھا گیا . اب محبت کو ہی لے لو کہ اللہ اپنی مخلوق سے بے لوث محبت کرتا ہے چاہے وہ اسکا حکم مانے یا نہ مانے وہ اپنے رزق دینے کے وعدے پورے کرتا چلا جاتا ہے. وہ اپنی نا فرمانی کرنے والوں کو بھی خوشیاں عطا کرتا چلا جاتا ہے . مگر انسان نے اپنے مالک کی ان خوبیوں کی من و عن نقل نہیں اتاری . ان معاملات میں انسان اپنی مرضی کرتا ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی میں عدم توازن اور بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے . باقی سب مخلوقات اپنے رب کی خوبیوں سے حصہ پا کر ان خوبیوں کو آگے دنیا میں بلا تفریق بانٹتی چلی جاتی ہیں. مثال کے طور پر سورج کو ہی دیکھ لو اس کی کرنیں کرہ ارض پر ہر شے کو روشن کرتی چلی جاتی ہیں اندھیروں سے کوئی شکایت نہیں کرتیں ان پر کوئی اعتراض نہیں کرتیں. گلاب کو دیکھ لو اس ہاتھ میں بھی وہ وہی خوشبو چھوڑتا ہے جو اسے ڈالی سے توڑتا اور اس ہاتھ میں بھی وہ وہی مسحور کن خوشبو بسا دیتا ہے جو اسکو نرمی سے صرف چھو کر اسکی خوشبو کو محسوس کرتا ہے. پانی کو دیکھ لو جس شے پر بھی گرتا ہے اس شے کی گندگی کو دھو کر اسے صاف اور مصفا بنا دیتا ہے.
بخل کرنے کی عادت صرف انسان میں پائی جاتی ہے. ایک بخیل انسان جس کو اس کے رب نے علم اور تجربہ دیا ہوتا ہے جب وہ عامہ الناس کو اپنے اس خداداد علم و تجربے سے محروم رکھتا ہے تو درحقیقت اس کے اپنے آپ پر اپنی کامیابیوں اور الله کی رحمت کے دروازے ایک ایک کر کے بند ہوتے جاتے ہیں .
( ارحم علیم )













