فیاض الحسن چوہان نے وزارت اطلاعات پنجاب سے استعفیٰ دینے کی تصدیق کردی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو میں فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ وزارت عمران خان کی امانت تھی،اگر میری وجہ سے پارٹی کو مشکل کا سامنا ہے تو میں وزارت چھوڑ رہا ہوں۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گل نے فیاض الحسن سے استعفیٰ طلب کئے جانے کی تصدیق کی تھی۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ نے فیاض چوہان سے ملاقات میں ان کے ہندوؤں سے متعلق بیان پر ناراضی کا اظہار کیا اور ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔
فیاض الحسن کے حوالے سے پنجاب حکومت کو پہلے بھی کئی شکایات مل چکی تھیں،جس پر انہیں تنبیہ بھی کی گئی تھی۔
گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران فیاض الحسن چوہان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس دوران انہوں نے ہندو برادری کے متعلق غیر اخلاقی ریمارکس بھی دیے تھے۔
بعدازاں انہوں نے اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مخاطب نریندر مودی، بھارتی افواج اور بھارتی میڈیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اُن کا مخاطب قطعی طور پر پاکستانی ہندو کمیونٹی نہیں تھی، جو بھی وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا اس کو منہ توڑ جواب دوں گا۔
…………………
وزیراعلی پنجاب نے وزیراطلاعات فیاض الحسن سے استعفا طلب کرلیا۔
پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار نے وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان سے استعفا طلب کرلیا ہے۔
ذرائع ایوان وزیراعلی نے بتایا ہے کہ فیاض الحسن چوہان کو ایوان وزیراعلی بلا کر استعفا دینے کے لیے کہا گیا۔
ذرائع کے مطابق فیاض الحسن کی جانب سے اس سے پہلے بھی کئی شکایات مل چکی تھیں جس پر انہیں تنبیہ بھی کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران فیاض الحسن چوہان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس دوران انہوں نے ہندو برادری کے متعلق غیر اخلاقی ریمارکس بھی دیے تھے۔
بعدازاں انہوں نے اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مخاطب نریند مودی، بھارتی افواج اور بھارتی میڈیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اُن کا مخاطب قطعی طور پر پاکستانی ہندو کمیونٹی نہیں تھی، جو بھی وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا اس کو منہ توڑ جواب دوں گا۔













