وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ ساتھی اور حکمران جماعت تحریک انصاف کے بانی رہنما نعیم الحق کی نماز جنازہ کراچی میں ادا کر دی گئی ہے۔
سینئر رہنما کے انتقال پر صدر عارف علوی نے مرحوم کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا. اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا نعیم الحق کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا نعیم الحق کینسر سے بہادری کیساتھ لڑے۔
فردوس عاشق نے کہا وزیراعظم کے معاون خصوصی کےانتقال سے پیدا ہونے والاخلا پر نہیں ہو گا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نعیم الحق کی وفات کو بڑا نقصان قراردیا۔ وزیرداخلہ بریگیڈئر اعجاز شاہ ،،کہا مشکل کی گھڑی میں مرحوم کے خاندان کے ساتھ ہیں۔ فواد چودھری نے کہا، بڑے بھائی کی طرح تھے، ہمیشہ یاد رہیں گے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم دیرینہ دوست سے محروم ہو گئے، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےاہل خانہ سے تعزیت کی اور نماز جنازہ میں شرکت کیلئے کراچی جائیں گے۔
معاون خصوصی کے انتقال پر گورنر چودھری سرور، چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الہیٰ، سابق گورنر سندھ محمد زبیر، شفقت محمود سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
………………….
وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست اور معاون خصوصی برائے سیاست نعیم الحق انتقال کرگئے۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے نعیم الحق کے انتقال کی تصدیق کی اور اس حوالے سے افسوس کا اظہار کیا۔
ایک بیان میں گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ نعیم الحق کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، نعیم الحق وزیراعظم کے قریبی دوست اور پارٹی کا اثاثہ تھے۔
وزیراعظم کی نعیم الحق کی رہائشگاہ پر آمد، عیادت بھی کی
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بھی نعیم الحق کے انتقال کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام جاری کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نعیم الحق میرے دوست، ساتھی اور بڑے بھائی ہمیشہ یاد رہیں گے، وہ کینسر کے مرض سے بڑی بہادری کے ساتھ لڑے۔
نعیم الحق گزشتہ کئی روز کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے،جہاں آج وہ انتقال کرگئے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ کراچی میں نعیم الحق سے ان کے گھر پر جاکر ملاقات کی اور ان سے خیریت دریافت کی تھی۔
وزیراعظم کے ہمراہ گورنر سندھ عمران اسماعیل،پارٹی رہنما عون چوہدری اور شہباز گل بھی موجود تھے۔
حالات زندگی پر ایک نظر
نعیم الحق 11جولائی 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، وہ پیشے کے اعتبار سے بینکر اور کاروباری شخصیت تھے۔
نعیم الحق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے بانی رکن سمجھے جاتے تھے ، انہوں نے جامعہ کراچی سے انگلش لٹریچرمیں ماسٹرز،ایس ایم لاء کالج سے ایل ایل بی کیا۔
نعیم الحق نیویارک کے یو این پلازہ میں نیشنل بینک کی شاخ قائم کرنےوالی ٹیم کا حصہ رہے۔انہوں نے نے 1980ء میں بطور مرچنٹ بینکر لندن میں رہائش اختیارکی ۔
نعیم الحق نے 1984ء میں ایئرمارشل اصغرخان کی تحریک استقلال جوائن کی اور کراچی آگئےاور 1988 میں تحریک استقلال کے ٹکٹ پر اورنگی سے الیکشن بھی لڑا۔
نعیم الحق نے1996 میں عمران خان کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی، 2012 میں نعیم الحق تحریک انصاف چیئرمین کے چیف آف اسٹاف بن کر اسلام آباد منتقل ہوگئے ، وہ پارٹی کی کور کمیٹی کا حصہ اور انفارمیشن سیکریٹری بھی رہے۔
جنوری 2018ء میں نعیم الحق کو خون کےسرطان کا مرض تشخیص کیا گیا۔












