زخم زندہ ہیں۔ ۔
تو آپ زندہ ہیں۔ ۔
اگر آپ زندہ ہیں۔ ۔ ۔
تو بیدار ہیں اگر بیدار ہیں۔ ۔
تو منفرد اور ہوشیار ہیں۔ ۔ ۔
اس میں کچھ برا نہیں یہ آپکی انفرادیت ہے۔ ۔ ۔انفرادیت حسن ہے۔ ۔ خوبصورتی ہے۔ ۔ ۔اور اصل خوبصورتی آپ کا اصل رہنا آپ کا اصل ہونا ہے۔ ۔ ۔اگر آپ اصل ہیں جبھی آپ تابندہ ہیں اپنی تابندگیوں کو قائم رکھنا ۔ ۔ یا کھو دینا ۔ ۔ بس ایک پل کی منافقت کا محتاج ہے ۔ ۔ ۔اس پل کو کاٹ پھینکیے۔ ۔ ۔ نور کر الگ کر دیجیے۔ ۔ ۔خود کی ایک کائینات باہر سے جو اندر اور اندر سے جو باہر کو سجی ہو یہی انسان کی اصل کمائی ہے کہ وہ وہ رہے جو ہے اور جو نہ ہو وہ نہ ظاہر نہ کرے۔ ۔ ۔
ایک پل کی خالص زندگی ضرور جیے ۔ ۔ ۔کیوں کہ اخلاص کو چکھیں تو ملاوٹ طبیعت۔ ۔ ۔ کو بوجھل اور گندہ کر دیتی ہے۔ ۔ ۔ جس سے بہت بے سکون ہوتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں ہم پر جادو ٹوٹنا ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
حالانکہ ہماری ہی کم ظرفیوں اور ہریص فکر و نگاہ اور تلخیوں کے باعث ہی منافقتوں کا جادو ٹونہ ۔ ۔ ۔ ۔
ہم پر حاوی ہوتا ہے اور ایسا الجھاتا ہے۔ ۔ ۔
کہ الجھنے سے پہلے ہی ہم منتقل کر دیے۔ ۔ ۔
جاتے ہیں جہاں سے واپسی کی کوئی منزل نہیں البتہ نتیجوں کی منزل ہماری منتظر ضرور رہتی ہے۔ ۔ ۔ اپنا نتیجہ حسین نکلے تو ضروری ہے کہ ہم بھی خوبصورت رہیں اچھے رہیں بلند رہیں سب کی جیت جب ہماری جیت ہو کسی کی جیت سے نہ ہم کو تکلیف ہو دل کا ظرف بلند ہو اور ۔ ۔احساس ذمہ داری شدید ہو محبت ہماری سرزمین اور قربانی ۔ ۔عزیز ہو نفرتوں کی کاٹ ہو زندگی نوید ہو۔ ۔ ۔
کہنے میں جو احساس حسین ترین ہوتے ہیں اگر عملا بھی ویسے وں تو دل قریب ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ اور دل قریب ہوں تو منزلیں آسان ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ رستے کٹھن بھی ہوں تب بھی سفر عزیز رہتے ہیں منزل ایک ہوتی ہے منظر حبیب رہتے ہیں ۔ ۔ ۔
محبتوں کی دنیا میں اخلاص حسن ہوتا ہے اور بے لوث جذبے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ لالچ اور مفاد جہاں سجنے لگیں وہ دشمن ، رقیب ہوتے ہیں اور روایتوں کی غلامی اور مفادات کے سفر میں محبتیں جنم نہیں لیتیں ۔ ۔ ۔
چھاوں سکون نہیں ہوتی دھوپ حرارت نہیں دیتی سب کچھ اپنا ہو کر بھی پرایا معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ انسان سایا ہوتا ہے اور ایک ہی روشن گھڑی سے سائے روٹھ جاتے ہیں ہم ڈھونڈتے رہتے ہیں اور رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ ۔ ۔ٹوٹے ہوئے رشتوں سے خون خون ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ اور زندگی کے بہت سے طویل قصے سناتے ہیں جن سبھی حصوں میں کچھ بھی جھوٹ سچ نہیں ہوتا۔ ۔ ۔بس جو سامنے آجائے وہ سب کچھ سب ہی ہوتا ہے۔ ۔ ۔زندگی عزیز نہیں رہتی کوئی درد قریب نہیں ہوتا۔ ۔ ۔کوئی چھن آنسو نہیں دیتی کوئی تھپڑ عجیب نہیں لگتا۔ ۔ ۔
ہم مطلب بہت نکالتے ہیں اور معنی کھو جاتے ہیں اور بے معنی لفظوں سے کب دل ہی جیت پاتے ہیں۔ ۔ ۔!
فائزہ عباس













