حُسین شناسی کا سفر۔25۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
732

قسط پچیسیویں

رحلت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد
امیرالمومنین علی علیہ السلام کی زندگی کے سخت اور دشوار ایام شروع ہوگئے
انہوں نے
مصلحت کی رعایت کرتے ہوئے اپنے حقوق چھوڑ دیئے
جو یقیناً امام علی ع کیلئے بہت سخت تھا
ایک ایسے عظیم انسان کے لئے جو جانتا ہو
کہ
وہ صاحب حق اور صاحب قدرت ہے
پر ۔۔۔ امام علی ع نے تمام چیزوں سے صرف نظر کیا
اور مصلحت کی رعایت کرتے ہوئے
حکومت خلفائے ثلاثہ میں 25 سال خاموشی سے گزار دیئے
صرف اس لیئے
کہ
کہیں دین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطرے میں نہ پڑ جائے
امام عالی مقام علی ع کہہ سکتے تھے
کہ
آپ ع ہی حق خلافت رکھتے ہیں
لیکن
امام علی ع نے ایسا نہ کیا
بلکہ خلفائے ثلاثہ کی مدد کی
ایک امین مشیر بن کر ہمیشہ ان کے ساتھ رہے
اسی لئے حضرت عمر رضی تعالی عنہا نے فرمایا تھا
” ‌اگر علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا “‌
اس کے ساتھ ساتھ
مسلمانوں کی
تربیت، علمی اور سماجی امور میں امت کی خدمت جاری رکھی
تاکہ
اسلام کا رنگ باقی رہے
قتل عثمان رضی تعالی عنہا کے بعد
وہ وقت بھی آیا
کہ
لوگوں نے آپ کو مسند خلافت پر بیٹھنے پر مجبور کیا
امام علی علیہ السلام نے فرمایا
” مجھے چھوڑو، کسی اور کی تلاش میں جاؤ “
لیکن لوگوں کے اصرار پر
امام علی ع نے خلافت کو قبول کیا
اور خلافت الہی کو
دینوی سلطنت سے نکال کر
سلطنت کو الٰہی نظام خلافت میں بدل دیا
روز اول سے عدالت کا پرچم لہرایا
امیرالمومنین علی ع کو ایسے افراد کا سامنا تھا
جو کسی بھی صورت
آپ ع جیسی عظیم شخصیت اور کھری عدالت کے خواہاں نہ تھے
وصال رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلافت امیرالمومنین کے درمیان
پچیس برسوں کے فاصلے نے تمام چیزوں کو بدل ڈالا تھا
امیرالمومنین علی علیہ السلام نے اپنے درد کو یوں بیان کیا
“ آج وہ تمام مصائب پلٹ آئے ہیں
جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں تھے
یعنی مکتب اسلام فراموش کر دیا گیا ہے
ایمان کا رنگ پھیکا پڑ گیا ہے
ذخیرہ اندوزی لوگوں کا پیشہ بن گیا ہے
اور اسلام لوگوں کے لئے فقط ایک لفظ بن کر رہ گیا ہے “
وہ وقت بھی آپ علی ع نے دیکھا
جب
انسانیت دم توڑ رہی تھی
ربذہ میں جناب ابوذر رض کا جاں بلب ہوکر شہید ہو جانا
۔ مسجد میں حق کا ساتھ دینے پر
عبداللہ بن مسعود کے دانت اور سینے کی ہڈیوں کا توڑے جانا
یہ سیاہ داستان
تاریخ کے صفحوں پر رقم ہے
امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے
چار سال 10 ماہ مشکلات سے نپٹتے حکومتی ایام گزارے
ایسے مشکل اور دشوار حوادث کا سامنا کیا
جو کسی
ضعیف الایمان اور سطحی سوچ کے حامل انسان کے ایمان کو بہا لے جاتا
لیکن ۔۔۔۔
مولا علی علیہ السلام جیسے صاحب فکر و تدبر نے ہر فتنے کا مقابلہ کیا
امیرالمومنین علی ع کے دور کی
سب سے بڑی مصیبت
وہ “ فتنہ “ تھا
جو تاریک بادل کی طرح لوگوں کے دلوں پر چھایا ہوا تھا
ایسا فتنہ
جس میں دل و نظر
حق و باطل میں تمیز نہیں کر پاتے
فقط دقیق تدبر و تفکر ہی ایک واحد راستہ تھا
جو انسان کو حق و باطل کی تمیز بتا سکتا تھا
لیکن
یہ کوئی آسان راستہ نہیں تھا
غبار فتنہ میں حق و باطل کو پہچاننا
ان لوگوں کیلئے
جنہوں نے حدود اسلام میں تازہ قدم رکھا تھا
بہت بہت مشکل تھا
ہر انقلاب اور نظام کی بربادی اس لمحے سے مشروط ہے
جب اس نظام حکومت میں حق و باطل مخلوط ہو جائے
رسول اکرم صلہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں
مومنین
جس طرف کافر اور مشرکین کو پاتے، ان کے مقابل کھڑے ہو جاتے
لیکن
امیرالمومنین ع کا زمانہ ایسا تھا
جہاں غبار فتنہ نے حق وباطل کو ملا دیا تھا
لوگوں کا ایک طرف ہونا بہت مشکل تھا
فقط ان افراد نے امام کا ساتھ دیا
جن کے ایمان نے غبار کو چھانٹ کر رکھا تھا
جن میں جناب عمار بن یاسر رض لائق تحسین ہیں
جنہوں نہ صرف امام علی ع کا ساتھ دیا
بلکہ
جب کبھی فساد کی آنچ امام تک پہنچتی آپ امام کی سامنے کھڑے ہو جاتے
امام علی علیہ السلام کے دور میں
نہ صرف حق و باطل مخلوط تھے
بلکہ باطل، حق کا چولا پہنے ہوئے تھا
سو امیر المومنین علی ع
ہر جنگ سے پہلے خطبہ دیتے
تاکہ
لوگ اس مکر و فریب سے بچ جائیں
ان کے وہ تمام خطبات دفتر تاریخ میں ثبت ہیں
امیرالمومنین علی ع کے تقریباً پانچ سالہ دور حکومت میں
لوگوں کے سیاسی تجربات بہت ضعیف تھے
غلط تحلیل وتجزیہ ، فرق وامتیاز کی بناء پر
امام کے خلاف جنگ جمل لڑی گئی
یعنی کچھ منافق حضرات
اسلام کے نام پر اسلام سے جنگ کر رہے تھے
قرآن کے ذریعے معارف قرآن سے جنگ
نام نہاد مسلمانوں کے ذریعے مسلمانوں سے جنگ
کیا اس سے بڑھ کر
امام علی علیہ السلام کیلئے اس سے بڑی اور کوئی مصیبت کیا ہوسکتی تھی
کہ
امام علی علیہ السلام
اس میدان میں جنگ کر رہے تھے
جہاں دونوں طرف نمازیں پڑھی جا رہی تھیں
جہاں دونوں طرف اسلامی پرچم لہرایا جا رہا تھا
ان تمام مشکلات میں سب سے اہم جو مسئلہ تھا
وہ لوگوں کی سطحی فکر تھی
خوارج اسی بیماری کا شکار تھے
حقیقت سے نا آشنا معارف سے دور
جن کا اصل ہدف
ظواہر دین پر سطحی طور پر عمل کرنا تھا
لیکن
ان تمام مشکلات کے باوجود
امام علی علیہ السلام کےحکومتی ایام
تاریخ میں ایک نمایاں خصوصیت کے حامل ہیں
امام کا ہر حکم مرضی الٰہی کے موافق تھا
جس وقت
حضرت علی ع نے
مالک اشتر کو مصر کا گورنر مقرر کیا
تو انہیں ہدایت فرمائی
“تمام لوگوں کے ساتھ چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم
مہربانی، خوش اخلاقی اور انسانی سلوک سے پیش آیئں “
اس کے باوجود
امیرالمومنین علی ع کو
اپنی مختصر حکومت کے عرصے میں
تین سنگین داخلی جنگیں
جمل، صفین اور نہروان کا سامنا کرنا پڑا
ان جنگوں کا بنیادی کردار شام کی حکومت پر قابض معاویہ کا تھا
معاویہ نے
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی حکومت گرانے
اور ۔۔
آپ ع کی شخصیت کو
مسخ و متنازعہ کرنے کے لئےاس دور کے ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال کیا
آپ کے خلاف ہر قسم کا پروپیگنڈہ کیا گیا
اس زمانے کے ذرائع ابلاغ میں
خطباء، منبر، نماز جمعہ کے خطبات، حکومتی نمائندے اور راوی حدیث شامل ہیں
جن کے ذریعہ سے
حکومتیں اپنے مقاصد حاصل کرتی تھیں
شامی حکومتی مشینری نے
اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ دو بہت ہی خطرناک کام انجام دیئے
ایک یہ
کہ
خطیبوں کے ذریعے
منبروں سے امیرالمومنین علی علیہ السلام کو لعن کرنا
اور ۔۔ دوسرا
راویان حدیث کے ذریعہ سے
بنی امیہ کی فضیلت میں جعلی حدیثیں گھڑنا تھا
حضرت علی علیہ السلام پر
لعن طعن کی ابتدا معاویہ بن ابی سفیان کے حکم سے ہوئی
اس حکم کے تحت
امام علی بن ابی طالب اور ان کے خاندان کو
اموی حکومت کی تمام مساجد میں
جمعہ کے خطبات میں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا
جبکہ
امام علی علیہ السلام نے
اپنے اصحاب کو
جنگ صفین میں معاویہ کو لعن کرنے اور برا بھلا کہنے سے منع فرمایا
امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی فوج میں
حجر بن عدی اور عمرو بن حمق نے مُعاویہ اور اہل شام پر لعنت کی
مولا علی ع نے اُنہیں ایسا کرنے سے روکا تو
انہوں نے پوچھا کہ کیا ہم حق پر نہیں؟
آپ نے جواب دیا
“ ہاں ہم حق پر ہیں
لیکن ۔۔ میں
تمہارے لعن و تشنیع کرنے کو پسند نہیں کرتا ہوں“
معاویہ نے
اپنے زمانے کے میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے
امیرالمومنین اور اہل بیت علیہم السلام پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے
آپ کی فضیلتوں کا انکار کیا
یہاں تک
کہ
اگر آپ کے چاہنے والوں میں سے کوئی آپ پر لعن نہ کرتا
تو اسے شہید کر دیا جاتا
معاویہ نے
کئی بزرگ صحابہ اکرام کو اسی لئے شہید کروا دیا
کہ
انہوں نے حضرت علی پر لعن نہ کی
ان میں حجر ابن عدی بھی شامل ہیں
جن کو ان کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا
معاویہ کے کہنے پر
ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا دیا جاتا ہے
سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جاتا
حق کو باطل اور باطل کو حق کے طور پر پیش کیا جاتا
یہ بھی ہوتا
کوئی مسلہ نہ بھی ہوتا تو اسے مسلہ بنا دیا جاتا
اور جو کبھی کوئی مسلہ ہوتا توسمجھا نہ جاتا
آج بھی ایسا ہی ہو رہا ہے
انٹرنیشنل میڈیا کام کر رہا ہے
استعماری اور طاغوتی طاقتیں
اسلام فوبیا اور مسلمانوں کو دست و گریبان کرتی ہیں
تاکہ
دنیا پر ان کی حکومت قائم و دائم رہے
میڈیا اور اس کی پروپیگنڈہ مشینری نے
آج کئی اسلامی ممالک کو تباہ و برباد کر دیا ہے
شام ، یمن ، ایران ، کشمیر اور فلسطین
ہر جگہ تباہی پھیلائی جا رہی ہے
اور مسلمان ہیں
کہ
بے خبر ۔۔ جہالت کے اسیر ۔۔ برباد ہو رہے ہیں
میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی اہمیت کا اندازہ یوں لگایئے
کہ
زمانے کے ولی خدا اور امام وقت حضرت علی علیہ السلام کو
اکیس رمضان 40 ہجری میں
مسجد کوفہ میں شہید کر دیا جاتا ہے
اور ۔۔ ایک شامی مسلمان ، دوسرے مسلمان سے سوال کرتا ہے
کہ
علی کا مسجد سے کیا تعلق تھا ؟
کیا علی نماز بھی پڑھتا تھا ؟
تاریخ اور تحقیق سے اعتراف کرتی ہے
بلاشبہ
مولا علی علیہ السلام کا پر آشوب دور امامت و خلافت میں
اور ۔۔ لوگوں کو گمراہ کرنے میں
اموی و شامی زرائع ابلاغ کا کلیدی کردار تھا
امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY