بلال حشر میں مجھ سے حقیر انساں پر

0
273

سجی ہے بزم. مودت غدیر کے صدقے
ہوئی ہے رب کی عنایت غدیر کے صدقے

یہ غوث و قطب و قلندر ادب سے کہتے ہیں
ملی ہے ہم کو ولایت غدیر کے صدقے

بچے گی روز. جزا بارگاہ. مولا میں
مرے نسب کی شرافت غدیر کے صدقے

جو ہم علی کی ولایت پہ آج یکجا ہیں
ہے اصل میں یہ اخوت غدیر کے صدقے

میں عسکری کے پسر سے ادب سے کہتا ہوں
لگے گی تیری عدالت غدیر کے صدقے

جو معتبر ہیں صحابہ میں جابر و سلمان
ہے سب یہ ان کی فضیلت غدیر کے صدقے

منافقت سے بچایا اسی نے دنیا کو
ہے نور دین و شریعت غدیر کے صدقے

کہا تھا حضرت. سلماں نے اک خلیفہ سے
ٹلے ہے تجھ سے ہلاکت غدیر کے صدقے

بلال حشر میں مجھ سے حقیر انساں پر
ہوئی حضور کی رحمت غدیر کے صدقے

بلال رشید

SHARE

LEAVE A REPLY